ظریفانہ: نیویارک سے تاشقند تک صدمہ ہی صدمہ

ظریفانہ: نیویارک سے تاشقند تک صدمہ ہی صدمہ

ظریفانہ: نیویارک سے تاشقند تک صدمہ ہی صدمہ

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

للن مشرا نے کلن شرما سے کہا یار بہت ہوچکا اب انہیں نکل لینا چاہیے۔
نکل لینا چاہیے؟ کسے نکل لینا چاہیے؟؟ ہر طرف توہم ہی ہم ہیں۔کیا تم اپنے اس جملے کا مطلب جانتے ہو؟؟؟
اچھا تو اب تم مجھے اپنے جملے کا مطلب بتاوگے ؟ مجھے پتہ ہے کہ گجرات سے بنگال تک ہمارا پرچم لہرا رہا ہے مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ لہرا کیسے رہا ہے؟
کیسے لہرا رہا ہے ؟ کیا مطلب؟؟ جیسے لہرانا چاہیے ویسے لہرا رہا ہے۔ یہ تو ہمارے چانکیہ کی چتورائی اور سنگھ کی محنت و دلیری کا پھل ہے۔
جی نہیں کلن بھیا یہ ہمارے گیانیش کمارکی کے ہاتھ کی صفائی اور فریب کی کمائی ہے۔ اسے عام زبان میں چوری کہتے ہیں ۔
کلن بولا بابو جی آپ بہک گئے۔ جانے سے بات شروع کرکے آنے پر آگئے۔
ارے بھیا یہی تو ہماری مہارت ہے کہ ہم مخاطب کو اس کے ایجنڈے سے ہٹا کر اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں ۔ تم نے میرے ساتھ بھی وہی داوں چلا۔
اچھا خیر ممکن ہے میں نے تمہاری بات کا غلط مطلب سمجھا ہو کیونکہ میں تو یہ توقع ہی نہیں کررہا تھا۔ اس لیے تم ہی بتاو کہ کس کو کہاں جانا چاہیے؟
میں تو بھیا یہی چاہتا ہوں کہ اپنے یہ دونوں بزرگ جو دنیا کی سیر کو نکلے ہوئے ہیں وہ واپس نہ آئیں۔
واپس نہ آئیں؟ تمہارا دماغ خراب ہے کیا ؟؟ وہ واپس نہیں آئیں گے تو کہاں رہیں گے؟؟؟
ارے بھیا کروڈوں ہندوستانی دنیا بھر میں رہتے ہیں ۔ ان کی طرح یہ بھی جہاں چاہیں گے رہیں گے۔ وجئے ملیا، نیرو مودی اورللت مودی وغیرہ۰۰۰
یار کن چوروں کے ساتھ تم اپنے رہنماوں کو جوڑ رہے ہو۔ وہ تو بھگوڑے ہیں ۔ تمہیں شرم آنی چاہیے ۔
ارے بھیا شرم کی کیا بات ہے؟ ویسے ان کو کس نے بھگایا اور واپس لانےکے بلند بانگ دعووں کے باوجود کیوں نہیں لاسکے ؟ یہ توبتاو؟؟
یار آج تم کچھ زیادہ ہی غصے میں ہو ۔آخر تم کیوں اپنے بزرگ رہنماوں سے اس قدر نالاں ہو ؟
دیکھو کلن یہ سوال تم کو سب سے پہلے پوچھنا چاہیے تھا مگر تم اِدھر اُدھر بہک گئے خیر دیر آید درست آید۔
ارے بھیا للن جب بھٹکنے کے بعد راہِ راست پر آہی گیا ہوں تو میری تعریف توصیف کرنے کے بجائے وجہ تو بتاو۔
کیا تم نے سرسنگھ چالک اور پردھان جی کی نیویارک و تاشقند کی ویڈیوز نہیں دیکھی جو یہ سوال کررہے ہو؟ اس میں تمہارے سوالات کاجواب چھپا ہے۔
میں تو اسے کئی بار دیکھا لیکن میرے ذہن میں نہ سوال آیا اور نہ جواب ملا۔
للن بولا یہی تو مسئلہ ہے کہ ہمارے دماغ میں نہ تو سوال آتا ہے اور نہ جواب تک ہماری رسائی ہوپاتی ہے۔
یار تم تو اب میرے ساتھ ساتھ اپنے پورے سنگھ پریوار کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہو۔ کیا یہ کچھ زیادہ نہیں ہوگیا؟
یہ زیادہ نہیں ہے۔ میں بہت غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ تمہارا ذاتی نہیں بلکہ اپنے تربیتی نظام کا عیب ہے۔
یار سنگھ کے تربیتی نظام کا لوہا تو ہمارے دشمن بھی مانتے ہیں۔
اچھا تو وہ ہمارے ساتھ کیوں نہیں آجاتے؟
اس لیے کہ انہیں ہم سے فکری اختلاف ہےمگر نظریات مختلف ہونے کے باوجود ہماری تعریف کرتے ہیں ؟
اس لیے کہ اندر کی بات نہیں جانتے لیکن اب وہ حقیقت باہر آنے لگی ہے۔ اس لیے جلد ہی جان جائیں گے۔
یار آج تمہیں نہ جانے کیا ہوگیا ہے؟ ہر بات کو جلیبی کی مانند گول گول گھما دیتے ہو اور مجھ جیسے سیدھے سادے آدمی کو اس کا کوئی سرا ہی نہیں ملتا۔
کلن تم واقعی سیدھے سادے انسان ہو ۔ میں بھی تھا مگر سرسنگھ چالک کے دورے نے میری آنکھیں کھول دیں ،پھر پردھان جی کو دیکھ کر چندھیا گئیں۔
یار اب سیدھے صاف بتاو کہ آخر ہمارے تربیتی نظام میں کیا خرابی ہے؟ تم پر ایسا کون سا انکشاف ہوگیا کہ بالکل بغاوت پر اتر گئے۔
دیکھو کلن یہ دو الگ الگ سوالات ہیں۔ ان میں سے کس کا جواب پہلے اور کون سا بعد میں چاہتے ہو؟
ارے بھائی پہلے کا پہلے اور بعد کا بعد میں۔ اس طرح سیدھی سادی بات کا بتنگڑ کیوں بنارہے ہو؟
دیکھوشاکھا کا یہ تربیتی نظام ہماری عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ ہم سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے۔ ہمارے احساسات و جذبات کو کچل دیتا ہے۔
یار اتنے سے کام کے لیے اتنی محنت کی جاتی ہے ۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔
دیکھو کلن یہ انسانی جبلت ہے جو ہر فردِ بشر میں موجود رہتی ہے۔ اس کو اس کے اندر نکال پھینکنا بہت دقت طلب کام ہے اس لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔
چلو مان لیا مگر اس کی ضرورت کیا ہے؟
بھیا اپنی تنظیم کوسوچنے والا انسان نہیں بلکہ ایسےروبوٹ درکار ہیں جو بلا چوں چرا آنکھ موند کر پیروی کریں ۔ احکامات پر نہ غور کریں اور نہ سوال پوچھیں
سمجھ گیا، مگر اس کے لیے احساسات و جذبات کو کچلنے کی کیا ضرورت ؟
انسانی حساسیت اندھی تقلید کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ ایسے میں نہ وہ سفاکی کا مظاہرہ کرسکتا ہےاور نہ مظلوم کی فریادرسی میں نافرمانی کرسکتا ہے۔
یار کیا بات ہے!آج تم بہت گہری باتیں کررہے ہو لیکن اس اندھ بھگتی کا فائدہ کیا ہے؟
اس بیماری میں مبتلا انسان نہایت موقع پرست، ابن الوقت، بزدل اور سفاک ہوجاتا ہے۔
تمہاری باتیں تو معقول لگ رہی ہیں مگر اس کا احساس تمہیں سر سنگھ چالک کے نیویارک دورے اور پردھان جی کے تاشقند جانے سے کیسے ہوا؟
بھیا کیا بتاوں ۔ میں نے جب میڈیسن اسکوائر پر اپنے قومی پرچم کی بے حرمتی دیکھی تو میرا دل دہل گیا۔
وہ تو میں نے بھی دیکھی مگر ایسا ہمارے لوگوں نے نہیں بلکہ خالصتانیوں نے کیا ۔ اس میں ہمارا کیا قصور؟
یہ بات درست نہیں ہے۔ میں نے سوچا کہ اگر یہی سانحہ ہندوستان میں ہوتا تو ہم کیا کرتے؟ کیا ہم لوگ اسے برداشت کرلیتے؟
جی نہیں ہم تو خون پی جاتے۔ کس کی مجال ہے کہ مودی سرکار کے ہوتے ایسا کرجائے۔ ہم تو وندے ماترم نہیں پڑھنے والے کو بھی غدارِقوم کہتے ہیں ۔
وہی تو ،ہماری دلیری کی بنیادسرکار کی سر پرستی اور پولیس کا سہارا ہے۔ یہ نہ ہو تو ہم شیر سے بھیگی بلی بن جاتے ہیں کیونکہ ہمیں بزدل بنا دیا گیا ہے۔
ہاں یار میں تو صرف خالصتانیوں پر کھول رہا تھا مگر یہ نہیں سوچا کہ کیا ہال کے اندر ۵؍ہزار لوگوں نے چوڑیاں پہن رکھی ہیں ۔ وہ مزاحمت تو کرسکتے تھے۔
نہیں بھائی وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے کیونکہ ان سے کہا نہیں گیا ۔
مگر وہ خود بھی تو سوچ سکتے تھے؟
وہی تو میں کہہ رہا تھا ، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین کر ہمیں بزدل اور ابن الوقت بنا دیا گیا ہے ۔ اسی لیے ناگپور اور نیویارک میں لب و لہجہ بدل جاتا ہے۔
یار للن تم نے تو میری آنکھیں کھول دیں ۔سمجھ میں آگیا کہ تم سر سنگھ چالک کی واپسی کیوں نہیں چاہتے مگر پردھان جی کا کیا قصور ان سے کیوں نالاں ہو؟
للن بولا لگتا ہے تم نے ان کی تاشقند والی ویڈیو نہیں دیکھی ۔ ورنہ یہ سوال نہیں کرتے۔
بھائی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں وہ نہ دیکھوں۔ جب بھی اس کا نوٹیفکیشن آتا ہے سب سے پہلے وہی کام کرتا ہوں۔ اس سے بڑا پونیہ کا کام کون سا ہے؟
اچھا یہ بتاو کہ تم نے کیا دیکھا؟
وہی جو سب نے دیکھا۔ فلم نیادور کے نغمے ’اڑے جب جب زلفیں تیری کنواریوں کا دل مچلے‘ پر بچے ناچ رہے ہیں اور پردھان جی جھوم رہے ہیں ۔
یہی دیکھ کر تو میرا خون کھول گیا۔ نیپال کے سیلاب کی بھیانک خبریں آرہی تھیں مگر ان سے بے نیاز وہ تفریح لے رہے تھے۔ یہ کوئی انسانیت ہے۔
کلن بولا بھیا وہ سیلاب پردھان جی کی وجہ سے تھوڑی نا آیا؟ وہ بیچارے اس میں کیا کرسکتے ہیں؟ کیا اپنا سارا کام کاج بند کرکے بیٹھ جائیں ؟؟
میں نے یہ کب کہا لیکن پڑوس میں ایسا حادثہ ہوگیا جس میں 939 لوگ ہلاک ہوگئے اس میں 280ہندوستانی اور 4200 لاپتہ ہیں۔ ان کا کوئی خیال نہیں
ارے بھیا تعزیت کردی۔ امداد کا اعلان کردیا اور کیا چاہیے؟
اچھاً یہ بتاو کہ اگر پردھان جی یہ کہہ دیتے میں صرف معاہدوں پر دستخط کروں گا مگر رقص و سرود کی محفل کو ملتوی کردیا جائے تو کیا ہوجاتا؟
ہاں یار وہ اتنا تو کرہی سکتے تھے۔ ویسے بھی بیرونِ ملک اپنے لوگوں سے ملنے رسم انہوں نے ہی چلائی ہے۔ ایک آدھ بار نہیں ہوتا تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جی ہاں مگر اس کے لیے انسان کے پاس ایک حساس دل چاہیے جو ہم سے شاکھا کی تربیت کے دوران چھین لیا جاتا ہے۔
تو کیا ہمارے پاس دل ہی نہیں ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو دھڑکن کہاں سے آتی ہے؟
بھیا ہمارے پاس حساس دل نہیں بلکہ جسم میں خون پہنچانے والاایک پمپ ہے۔ احساس سے عاری دل کو سیلاب زدگان کی چیخیں نہیں سنائی پڑتیں۔
لیکن پھر پرچم کی بے حرمتی کا کیا؟
اس کا بھی ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ پردھان جی کا جھولا ان کے پاس بھیج کر کہہ دو کہ اب وہ وہیں رہیں۔
تو کیا یہاں ان کی ضرورت نہیں ہے۔
میرے خیال میں تو ان دونوں کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں کہنا چاہیے بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے