ً۱۔ عزت :۔ میں اس سرکاری اسکول کے طلبہ میں قواعد کی کتابوں کے علاوہ اپنی تحریرکردہ کتابیں بھی تحفتاً دے آیاتھا۔ ریسٹورنٹ میں داخل ہواتو میرے قلمکارسینئر ساتھی نے مجھ سے پوچھا’’کیسارہاپروگرام ، کچھ عزت وزت ملی ؟‘‘ میں خاموش رہا۔ کچھ کہنے کودل نہیں چاہا۔ سوچ رہاتھاکہ سینئر ساتھی کیاکہناچاہ رہے ہیں۔ انھوں نے میری خاموشی کودیکھتے ہوئے کہا’’جس سرکاری اسکول میں تم گئے تھے وہاں طلبہ کوعلم ضرور ملتاہوگا لیکن مہمانوں کو حقیقی عزت ملنا مشکل ہے ‘‘ میں شاک ہوگیامگر کچھ بھی کہنا میرے لئے مناسب نہیں تھا۔ انھوں نے میری اس قدر خاموشی پر جل کرکہا’’ تم اگر شالپوشی اور گلپوشی ہی کو عزت سمجھتے ہوتو اس روئے زمین پر تم سے زیادہ احمق اور کوئی نہیں ‘‘ یہ کہہ کر وہ ریسٹورنٹ سے اٹھ کر چلے گئے مگرمیرے قدم زمین میں جمے رہ گئے تھے۔ میں اندر سے جیسے خالی ہوکر رہ گیاتھااور میرے اند رسے کوئی مجھ سے سوال کررہاتھا ’’واقعی کیاتمہیں عزت دی گئی تھی آج ، جب کہ تم نے 2000روپیوں کی کتابیں طلبہ میںمفت تقسیم کی تھیں؟ ‘‘
۲۔ برکتیں نازل کرے :۔ اس کوملنے والا رزق سب میں بٹتارہا۔ اور لوگ تھے کہ دعائیں دیتے رہے ’’رزاق ، تیرے رزق میں برکتیں نازل کرے‘‘
۳۔ کاروبارِ نسواں :۔ میں نے کہا’’جناب کاروبار کامعیار نسوانی حسن نہیں ہوسکتالہٰذا خواتین کے اس کاروبار کو خیرآباد کہیں ‘‘ وہ کہاں ماننے والاتھا۔ اپنے طئے شدہ روزگار پر وہ چلتارہا۔ سناہے کہ بیس سال بعد اس کی لڑکی ریمپ پرواک کررہی ہے اور ایک آوارہ دنیا اس کی دیوانی ہے۔
۴۔ درست کام :۔ قینچی ، چاقو سے آگے طمنچے اور ترشول کا کھیل وہ کھیل رہاتھا۔ایک دِن سادھوبابا نے اس کے ہاتھ سے ترشول چھین کرکہا’’ترشول سے کام لینا سادھوؤں کی پرمپرا ہے ۔ تم ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے ۔اور تمہیں پتہ بھی نہیں ہے کہ ترشول سے کیاکام لیاجاناچاہیے‘‘
۵۔ ماڈل :۔ اس نے ہائی اسکول پہنچ کر فیشن کو اختیار کرلیا۔ کالج میں ایک ماڈل بن گئی۔ اور چند ہی سال بعد اس کے بارے میں خبر آئی کہ اپنے بوائے فرینڈ کے فلیٹ میں مردہ پائی گئی۔والدین اس کی آخری رسومات میں بھی نہیں گئے۔وہ ان کے لئے بہت پہلے مرچکی تھی ۔