آر ایس ایس کے سر سنگھ چالک(سربراہ) موہن بھاگوت کی امریکہ کے اندر اونچی اونچی ہانک کو ملیا مٹ کرنے کا کام خود بی جے پی کی ڈبل انجن سرکار کا انتظامیہ کررہا ہے۔ ایک طرف تو انہوں نے ’کثرت میں وحدت‘ کو ہندوستان کا حسن بتا یا اور مسلمانوں کی بابت یہاں تک کہہ دیا کہ جو ان کو ملک سے نکالنا چاہتا ہے وہ ہندو نہیں ہے۔دوسری جانب 4 پی ایم نیوز نیٹ ورک کی مسلم صحافیہ شاہین خان اور اس کی ساتھی نفیسہ خان کے ساتھ جنوبی دہلی کے ساکیت تھانے میں حراست کے دوران دہلی کی پولیس نے بدسلوکی کرکے بھاگوت کے دعویٰ کو جھوٹا ثابت کر دیا ۔ اس طرح یہ حقیقت سامنے آگئی کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور ہوتے ہیں ۔ بیرون ملک جاکر خوبصورت دانتوں کی نمائش کی جاتی ہے جو کسی کام کے نہیں ہوتے اور اندرونِ ملک اصلی دانتوں سے لوگوں کو چبا کر نگلنے کی سعی کی جاتی ہے۔ موہن بھاگوت کے مطابق تو شاہین خان اور نفیسہ خان پر کی جانے والی زیادتی نہ صرف ’کثرت میں وحدت ‘ کے حسین چہرے پر بدنما داغ ہے بلکہ اس کا ارتکاب کرنے والے پولیس اہلکاروں سمیت ان کے آقاوں کو غیر ہندو بنا دیتا ہے مگر منو سمرتی کے پیروکار وں کی تو یہ قدیم روایت رہی ہے اور اس کا شکار سیتا سے لے کر دروپدی تک سبھی ہوئی ہیں ۔ سیتا کو اغوا کرنے والا ایک عالم فاضل شیو بھگت برہمن تھا اور دروپدی کو گرو درونا چاریہ کے سامنے ان کے شاگردوں نے بھری محفل میں بے لباس کرنے کی کوشش کی تھی ۔
والمیکی رامائن تو سنسکرت میں ہے اس لیے اسے کم لوگ پڑھ پاتے ہیں مگر کالی داس کی رام چرت مانس کھلے عام خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی ترغیب دیتی ہے۔ اس میں صاف لکھا ہے ’’ ڈھول گنوار سورد پسو ناری سکل تاڈنا کے ادھیکاری‘‘ یعنی جاہل دیہاتی، شودر، جانور اور عورت ذات ڈھول کی طرح پٹائی کے حقدار ہوتے ہیں۔ دہلی کی پولیس نے ثابت کیا کہ کوئی خاتون اگرچہ صحافیہ ہو تب بھی اس کے ساتھ پولیس تھانے کے اندر رام چرت مانس پر عمل کیا جائےگا۔ صحافی کا کام سرکار کی گود میں بیٹھ اس کے تلوے چاٹنا نہیں بلکہ رہنماوں سے سوالات کرنا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا جب شاہین باغ سے قریب ساکیت میں میکس اسپتال کا دورہ کرنے کے لیے آئیں تو ۴؍ پی ایم کی نامہ نگار شاہین خان اور ان کی ساتھی صحافی نفیسہ نے ان سے انتظامات کے تعلق سے تلخ سوالات پوچھنے کی کوشش کی بس پھر کیا تھا ، وزیر اعلیٰ اعتراض کرنے والوں کی سزا دینے کی ذمہ داری پولیس اہلکاروں کو سونپ کر وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئیں ۔ اپنے آقا کی خوشنودی حاصل کرنے لیے پولیس نے شاہین اور نفیسہ کو پکڑ کر زبردستی اپنی گاڑی میں ڈالا اور ساکیت تھانے لے گئی ۔ تھانے کے اندر موجود عقوبت خانےمیں لے جا کر ان کی پٹائی کی گئی۔
پولیس والوں نےتفتیش کے دوران جب نام پوچھا اورانہوں نے اپنی کنیت "خان” بتائی تو یہ سنتے ہی وہاں موجود خاتون پولس اہلکار کی نسوانیت پر فرقہ وارانہ منافرت غالب ہوگئی اور تشدد کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔متشدد پولیس والی نے کہا مسلمان ہے دو ڈنڈے اور مارو۔ مودی جی کے دورِ اقتدار میں اس طرح کے واقعات ملک میں عام ہوگئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پہلگام سانحہ کے بعد جب مذہب کی بنیاد پر سیاحوں کو الگ کرکے ہلاک کیا گیا تو دنیا بھر کے لوگوں کو اس پر بالکل حیرت نہیں ہوئی کیونکہ وطن عزیز میں تو یہ ہوتا ہی رہتا ہے۔ ایسا کرنے والوں کو سرکاری تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ ان کو بہ آسانی ضمانت مل جاتی ہے اور وہ چھوٹ جاتے ہیں۔وطن عزیز میں پہلا مشہور ترین ہجومی تشدد کا واقعہ محمد اخلاق کا تھا۔ اس معاملے میں بھی یوگی سرکار کسی مجرم کو سزا نہیں دلا پاتی الٹا بڑی بے حیائی کےساتھ سارے ملزمین کوباعزت بری کرنے کا مطالبہ کردیا۔ خوش قسمتی سے عدالت نے انہیں دھتکا ر دیا۔موب لنچنگ کے مجرم جب رہا ہوتے ہیں تو کمل چھاپ مرکزی و ریاستی وزراء ان کی گلپوشی کرکے پذیرائی کرتے ہیں۔ اس کی ویڈیو بنا کر پھیلائی جاتی ہے تاکہ اہل خانہ سمیت سارے غنڈے اور بدمعاش اپنی احسانمندی کے تحت کمل پر مہر لگائیں ۔ ایسے میں جو پہلگام جو ہواتو اس میں نیا صرف یہ تھا کہ وہاں مسلمانوں کے بجائے بے قصور ہندو وں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہندووں پر تحفظ فراہم کرنے کا احسان کرکے ان سے ووٹ لینے والی موجودہ سرکار کے لیے یہ بڑا جھٹکا تھا مگر دیگر ممالک کے لوگوں کی نظر میں تو سارے ہندو مسلم اس ملک کے یکساں شہری ہیں ۔ اس لیے دنیا کے کسی ملک نے آپریشن سیندور کی حمایت نہیں کی ۔ انہیں سمجھانے کے لیےارکانِ پارلیمان پر مشتمل وفود کو پچاس ممالک میں بھیجا گیا مگر وہ دوسرےاپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہے کیونکہ مودی سرکار نے اپنی شبیہ اس قدر خراب کررکھی تھی کہ اس کا سدھارنا ناممکن تھا ۔ اس ناکامی پر اگر مودی سرکار غور کرتی تو اسے ابن انشا کا یہ شعر ضرور یاد آتا؎
اس دل کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا
۴؍ پی ایم کی شاہین خان کے ساتھ زیادتی کودہلی پولیس نے حسبِ عادت مسترد کردیا ۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ خواتین وی وی آئی پی (VVIP) روٹ میں رکاوٹ پیدا کر رہی تھیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔ پولیس والے بھول گئے کہ یہ ویڈیو کا دور ہے اس میں تمام شواہد کیمرے کی آنکھ سے قید کرلیے جاتے ہیں اس لیے پہلے کی طرح ان کی تردید ممکن نہیں ہے۔ اس سانحہ کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے جسم پر آنے والی چوٹوں کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہوگئیں اور ساری دنیا کے سامنے پولیس کا جھوٹ کھل گیا ۔ اس گھناونی سفاکی نےصحافتی تنظیموں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ پریس کلب آف انڈیا (Press Club of India)، انڈین ویمنز پریس کور (IWPC) سمیت دیگر بڑی صحافتی تنظیموں نے اس واقعے کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے اس میں ملوث پولیس افسران بشمول ایس ایچ او (SHO) کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ ‘۴؍ پی ایم نیوز’ نے تھانے کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج کو محفوظ کر کے آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ۔ اس معاملے کو چونکہ عدالت میں آگے بڑھانا ہے اس لیے اپنے الزامات کی تائید کے لیے دونوں متاثرہ نامہ نگاروں نے دہلی کے ایمز (AIIMS) اسپتال جا کر اپنا میڈیکل معائنہ کروایا اور میڈیکو لیگل رپورٹ بھی بنوائی کیونکہ بی جے پی کے بے حیا رہنما تو پیلیٹ گن چلوانے کے بعد بھی اس کا انکار کردیتے ہیں مگر متاثر کے جسم میں پیوست چھرےسچ کی گواہی دیتے ہیں۔
شاہین خان اور نفیسہ کے ساتھ کیے جانے والے ظلم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے مگر اس تاریکی میں ایک امید کی کرن بھی ہے۔ یہ اس عزم و حوصلے کا تسلسل ہے کہ جس کا مظاہرہ جنتر منتر کے احتجاج سے جاری و ساری ہے۔ وہاں پر مظاہرین زبردست تشدد کے بعد بھی نہیں گھبرائے بلکہ ان کا غم و غصہ بڑھ گیا۔ وہ ڈرے نہیں بلکہ اگلے دن پہلے سےبڑی تعداد میں احتجاج کے لیے جمع ہوگئے۔ اس منظرنے حکومت کے اوسان خطا کردئیے ۔ مظاہرین نے اب وزیر تعلیم کے ساتھ ساتھ وزیر داخلہ کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ شروع کردیا کیونکہ تشدد کرنے والی پولیس تو انہیں کے تحت کام کرتی ہے۔ بس پھر کیا تھا اپنے دست راست امیت شاہ کو بچانے کی خاطر وزیر اعظم نے دھرمیندر ادھیکاری کی بلی چڑھا دی۔ اس کو ناک دبا کر منہ کھلوانا کہتے ہیں ۔ اس وقت مودی جی کو یہ خوف لاحق ہوگیا تھا کہ اگر امیت شاہ گئے تو اگلا نمبر انہیں کا ہوگا۔ شاہین خان اور نفیسہ پر جبر و ظلم کے پہاڑ توڑ کر حکومت چاہتی تھی کہ ان کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ وہ اپنا مائک پھینک کر کمل کی پناہ میں آجائیں۔ بی جے پی کا پول کھولنا بند کرکے گودی میڈیا کی مانند سرکار کے تلوے چاٹنے لگیں لیکن اس مقصد کے حصول میں زعفرانی انتظامیہ پوری طرح ناکام ہوگیا۔ شاہین خان نے پولیس تھانے کے اندر ببانگ دہل اپنی آواز بلند کی ۔ پولیس نہ تو اس سے مائک چھین سکی اورنہ اس کا کیمرا توڑ سکی ۔ وہ جس وقت پولیس کا کریہہ چہرا بے نقاب کررہی تھی پیچھے ایک لاچارافسر سر جھکائے بیٹھا تھا۔ اس کےچہرے پر شکست کا اعتراف چسپاں تھا ۔ اس طرح شاہین خان نے اپنی جرأتمندی سے ریکھا گپتا کی پولیس کے تھانے میں گھس کرمار گرایا۔ اس نے ثابت کردیا کہ مسلمان اپنی شناخت کے ساتھ سر اٹھاکر جینا جانتے ہیں۔ ان کو ڈرا دھمکا کر یا زدوکوب کرکے جھکانا یا دبانا ممکن نہیں ہے بلکہ ایسا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے سر خود شرم سے جھک جاتے ہیں۔