تشدّد کی ذہنیت، ریاستی سرپرستی
اور قانون کی بے بسی
✍️مسعود محبوب خان (ممبئی)
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
معاشرہ صرف مکانوں، بازاروں، سڑکوں اور اداروں کا مجموعہ نہیں ہوتا؛ معاشرہ دراصل انسانی رویّوں، اخلاقی اقدار، قانونی اصولوں اور باہمی اعتماد کا نام ہے۔ جب کسی معاشرے میں انسان کی جان، عزّت اور آزادی کی حرمت کم ہونے لگے تو خطرہ صرف چند افراد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورا اجتماعی نظام اپنی اخلاقی بنیادیں کھونے لگتا ہے۔ آج ہمارے گرد ایک ایسی تشویش ناک ذہنیت ابھرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جس میں بعض لوگ انسانوں کے خون کو معمولی، تشدّد کو بہادری، قانون شکنی کو وفاداری اور طاقت ور کی خوشنودی کو کامیابی سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کبھی مذہب، کبھی قوم، کبھی سیاست، کبھی نظریہ اور کبھی کسی جانور یا مظلوم طبقے کی محبت کا پرچم ہوتا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ جس انسان کی جان و حرمت سب سے مقدم ہونی چاہیے، اسی انسان کے خون کو بہانے میں انہیں کوئی تامل نہیں ہوتا۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ ایسے لوگ کون ہیں؟ اصل سوال یہ ہے— ایسی ذہنیت پیدا کیسے ہوتی ہے؟ اسے سماجی قبولیت کہاں سے ملتی ہے؟ قانون کی گرفت ان تک کیوں نہیں پہنچتی؟ اور اگر کہیں انہیں سیاسی یا انتظامی طاقت کے سائے میں تحفّظ حاصل ہو تو ریاستی ادارے اس صورتِ حال کو روکنے میں ناکام کیوں رہتے ہیں؟ یہ سوالات کسی ایک فرد، جماعت یا حکومت کے خلاف الزام نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ معاشرتی اور ریاستی مسئلے کی نشان دہی ہیں۔ ہمارے عہد کا ایک عجیب تضاد یہ ہے کہ انسان بظاہر جانوروں کے حقوق، ماحول، فطرت اور مخلوقات کے تحفّظ کے بارے میں پہلے سے زیادہ حساس دکھائی دیتا ہے، لیکن دوسری طرف انسانوں کے درمیان نفرت، تشدّد، تحقیر اور خون ریزی کے واقعات بھی بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔
جانوروں سے محبت اپنی جگہ ایک قابلِ قدر انسانی جذبہ ہے۔ اسلام نے بھی جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی ہے۔ مگر یہ کیسی اخلاقی ترجیحات ہیں کہ ایک شخص جانور پر ظلم کے خلاف تو انتہائی حساس ہو، لیکن انسان کی جان لینے، اسے لہولہان کرنے یا اس کی عزّت پامال کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہ کرے؟ یہ دراصل محبت نہیں، اخلاقی ترجیحات کا بحران ہے۔ انسانی جان کی حرمت ہر مہذب معاشرے کی بنیادی قدر ہے۔ قرآن مجید نے ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مماثل قرار دے کر انسانی جان کی عظمت کو غیر معمولی انداز میں واضح کیا ہے۔ مسئلہ اس وقت سنگین ہوجاتا ہے جب تشدّد کرنے والا شخص اپنے تشدّد کو کسی بڑے مقصد کا نام دے کر جائز سمجھنے لگے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جرم، نظریہ اور طاقت ایک خطرناک مثلث تشکیل دیتے ہیں۔
ہر تشدّد اچانک جنم نہیں لیتا۔ قتل سے پہلے نفرت پیدا ہوتی ہے، نفرت سے پہلے تحقیر، تحقیر سے پہلے غیر انسانی تصور، اور غیر انسانی تصور سے پہلے کسی گروہ کو "کم تر” سمجھنے کی ذہنیت۔ جب کسی انسان کو "دشمن” کہہ کر اس کی انسانیت ہی مشکوک بنا دی جائے تو اس پر ظلم کرنا نفسیاتی طور پر آسان ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں بڑے پیمانے کی اجتماعی خون ریزیوں سے پہلے اکثر نفرت انگیز زبان، پروپیگنڈا، تعصب اور مخالف کو غیر انسانی ثابت کرنے کی مہمات سامنے آتی ہیں۔ چنانچہ مسئلے کا علاج صرف اس وقت شروع نہیں ہونا چاہیے جب ہاتھ میں ڈنڈا آچکا ہو؛ علاج اس وقت شروع ہونا چاہیے جب زبان انسان کو انسان سمجھنے سے انکار کرنے لگے۔
انسان تنہائی میں جس عمل سے گھبرا سکتا ہے، ہجوم کا حصّہ بن کر کبھی کبھی وہی عمل انتہائی آسانی سے انجام دے دیتا ہے۔ ہجوم فرد کی اخلاقی ذمّہ داری کو تحلیل کردیتا ہے۔ ایک شخص دوسرے کو اکساتا ہے، دوسرا تیسرے کو، اور چند لمحوں میں ایک ایسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے جس میں تشدّد "کارنامہ” محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایسے ماحول میں ڈنڈا صرف ڈنڈا نہیں رہتا؛ وہ طاقت کی علامت بن جاتا ہے۔ خون صرف خون نہیں رہتا؛ وہ فتح کی علامت بنا دیا جاتا ہے۔ اور قانون صرف قانون نہیں رہتا؛ اسے کمزوروں کے لیے ایک رکاوٹ اور طاقت وروں کے لیے قابلِ استعمال آلہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہیں سے معاشرے کی اخلاقی تباہی شروع ہوتی ہے۔
جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے جرم نہیں۔ پُرامن احتجاج، اجتماع اور اپنی بات حکمرانوں تک پہنچانا شہری زندگی کا بنیادی حصّہ ہیں۔ جب شہری پُرامن طریقے سے اپنے مطالبات پیش کررہے ہوں تو ان کے احتجاج کو تشدّد کے ذریعے منتشر کرنا صرف چند افراد پر حملہ نہیں ہوتا؛ یہ دراصل اختلافِ رائے کے حق پر حملہ ہوتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب احتجاج کو خراب کرنے کے لیے منظم طور پر شرپسند عناصر میدان میں اتریں، وہ پتھر، ڈنڈے یا دیگر ذرائع استعمال کریں، پُرامن افراد کو زخمی کریں اور پھر قانون کی گرفت سے بچ نکلیں۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، اگر کسی احتجاج کو خراب کرنے والے عناصر پہلے سے معلوم ہوں، ان کے خلاف شواہد موجود ہوں، ان کی شناخت ہوسکتی ہو، اور اس کے باوجود وہ بار بار قانون کی گرفت سے باہر رہیں تو کیا مسئلہ صرف چند شرپسند افراد کا ہے یا پورے نظامِ قانون کے نفاذ کا؟ یہ سوال تحقیق اور شفاف تفتیش کا تقاضا کرتا ہے۔
کیا ریاست ایسے عناصر کو پالتی ہے؟ یہ سب سے حساس سوال ہے، اور اسی لیے اسے جذباتی الزام نہیں بلکہ تحقیقی سوال کے طور پر اٹھایا جانا چاہیے۔ دنیا کی سیاسی تاریخ میں مختلف ادوار میں ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں ریاستی طاقت، سیاسی مفادات اور غیر ریاستی عناصر کے درمیان خطرناک تعلقات پیدا ہوئے۔ کبھی کسی گروہ کو وقتی سیاسی فائدے کے لیے برداشت کیا گیا، کبھی مخالفین کو دبانے کے لیے غیر رسمی طاقتوں پر انحصار کیا گیا اور کبھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری نے ایسے عناصر کو طاقتور بنا دیا۔ لیکن ایک بنیادی اصول ہمیشہ سامنے رہنا چاہیے— ریاست کی طاقت کا کوئی حصّہ قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی حکومت کسی ایسے گروہ کو سیاسی فائدے کے لیے برداشت کرتی ہے جو شہریوں کو تشدّد کا نشانہ بناتا ہے تو بالآخر وہ گروہ حکومت کا آلہ نہیں رہتا؛ وہ خود ایک طاقت بن جاتا ہے۔ اور تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ جو طاقت کل کسی اور کے خلاف استعمال کی جاتی ہے، وہ کل اپنے سرپرستوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
"ریاستی سرپرستی” اور "ریاستی ناکامی” میں فرق، یہاں ایک علمی امتیاز ضروری ہے۔ ہر ایسا واقعہ جس میں کوئی مجرم سزا سے بچ جائے، لازماً یہ ثابت نہیں کرتا کہ حکومت نے اسے پالا ہے۔ اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں— تفتیش کی کمزوری؛ سیاسی دباؤ؛ گواہوں کا خوف؛ شواہد کا ناقص ہونا؛ مقدمات کا طویل عرصے تک زیرِ التوا رہنا؛ پولیس اور انتظامیہ کی نااہلی؛ مقامی طاقت ور افراد کا اثر؛ یا اداروں کے درمیان عدمِ تعاون۔ لیکن اگر یہی صورتِ حال مسلسل، منظم اور مخصوص لوگوں کے حق میں یک طرفہ طور پر سامنے آئے تو پھر یہ محض انتظامی ناکامی نہیں رہتی؛ یہ ایک سنجیدہ ادارہ جاتی سوال بن جاتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہر ایسے معاملے میں آزادانہ تحقیقات ہوں، شواہد سامنے آئیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ قانون کے نفاذ میں رکاوٹ کہاں پیدا ہوئی۔
معاشرے میں سب سے خطرناک احساس وہ ہوتا ہے جب عام شہری یہ سمجھنے لگے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے۔ ایک معمولی شہری کے لیے چھوٹی سی غلطی بھی سنگین قانونی کارروائی کا سبب بن سکتی ہے، لیکن بااثر شخص کھلے عام قانون شکنی کے بعد بھی محفوظ رہے، تو عوام کے دل میں قانون کے احترام کی جگہ بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔ یہ بدگمانی ریاست کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ کیونکہ ریاست صرف پولیس، عدالت اور جیل کا نام نہیں؛ ریاست دراصل قانون پر عوام کے اعتماد سے قائم رہتی ہے۔ جب شہری یہ دیکھتا ہے کہ ایک طرف معمولی جرم پر سخت کارروائی ہوتی ہے اور دوسری طرف سنگین تشدّد کے مرتکب افراد سیاسی یا سماجی اثر و رسوخ کی وجہ سے بچ نکلتے ہیں، تو اس کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: کیا انصاف سب کے لیے برابر ہے؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں محسوس ہونے لگے تو قانون کی اخلاقی حیثیت کمزور ہوجاتی ہے۔
یہاں ایک اور اہم قانونی اصول سامنے آتا ہے۔ کسی شخص کا کسی جرم کا اعتراف، الزام یا ویڈیو میں دکھائی دینا اپنی جگہ اہم ہوسکتا ہے، لیکن جرم ثابت کرنے کا اختیار قانونی اور عدالتی عمل کو حاصل ہونا چاہیے۔ ہمیں نہ ماورائے قانون قتل قبول ہے، نہ ہجوم کا انصاف، نہ سیاسی انتقام، نہ جعلی مقدمہ اور نہ طاقت ور مجرم کے لیے خصوصی رعایت۔ اصل مطلوب یہ ہے— جرم ہو تو شفاف تفتیش ہو، شواہد جمع ہوں، منصفانہ مقدمہ چلے اور جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا ہو۔ یہی قانون کی حکمرانی ہے۔ ورنہ ایک طرف اگر "انکاؤنٹر” کو انصاف کا متبادل بنا دیا جائے اور دوسری طرف طاقت ور تشدّد پسندوں کو قانونی کارروائی سے بچایا جائے تو دونوں صورتیں قانون کی روح کو مجروح کرتی ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی ایسا شخص جس پر سنگین تشدّد یا قانون شکنی کے الزامات یا ثابت شدہ کردار موجود ہوں، سماج میں عزّت، اثر و رسوخ یا سرکاری قربت حاصل کرتا دکھائی دے۔ یہ صرف ایک شخص کو عزّت دینا نہیں ہوتا؛ یہ پورے معاشرے کو ایک اخلاقی پیغام دینا ہوتا ہے۔ اور پیغام یہ ہوسکتا ہے: طاقت حاصل کرو، قانون توڑو، لوگوں کو ڈراؤ، پھر بھی تمہیں عزّت مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس ریاست اور سماج کو یہ پیغام دینا چاہیے— طاقت نہیں، قانون عزّت کا معیار ہے؛ خوف نہیں، کردار قیادت کی بنیاد ہے؛ تشدّد نہیں، انصاف ریاست کی طاقت ہے۔ ریاستی تقریبات، سرکاری اعزازات اور عوامی نمائندگی میں کردار اور قانونی حیثیت کے واضح اصول ہونے چاہئیں، تاکہ کسی متنازع یا سنگین جرائم میں ملوث شخص کی غیر ضروری پذیرائی خود قانون کے احترام کو مجروح نہ کرے۔
یہ ذہنیت کب سے پیدا ہوئی؟ اس سوال کا ایک لفظ میں جواب ممکن نہیں۔ یہ ذہنیت کسی ایک تاریخ کو پیدا نہیں ہوئی۔ اس کی جڑیں انسانی تاریخ کے اس قدیم المیے میں ہیں جس میں طاقت نے اخلاق کو تابع کرنے کی کوشش کی۔ قدیم بادشاہتوں سے لے کر جدید ریاستوں تک، ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے جو اقتدار کے قریب رہ کر طاقت کے غیر رسمی استعمال کا ذریعہ بنتے رہے۔ لیکن جدید دور میں اس مسئلے نے نئی شکلیں اختیار کی ہیں۔ اب تشدّد صرف جسمانی طاقت نہیں؛ سوشل میڈیا کی نفرت، منظم پروپیگنڈا، جعلی اطلاعات، کردار کشی، ہجوم کی ڈیجیٹل تشکیل، سیاسی پولرائزیشن، شناخت کی بنیاد پر نفرت، اور "ہم بمقابلہ وہ” کی ذہنیت بھی تشدّد کے لیے ذہنی زمین تیار کرتی ہے۔ یعنی آج کا "انسان نما درندہ” صرف ہاتھ میں ڈنڈا رکھنے والا شخص نہیں؛ کبھی وہ نفرت پھیلانے والی زبان بھی ہوسکتا ہے، کبھی جھوٹا پروپیگنڈا، کبھی طاقت کے غلط استعمال کا سیاسی نظام، اور کبھی خاموش تماشائی بن جانے والا معاشرہ۔
ہر معاشرتی بحران کے پیچھے کوئی نہ کوئی اخلاقی بحران موجود ہوتا ہے۔ اگر ایک انسان دوسرے انسان کو زخمی ہوتا دیکھ کر خاموش رہے، اگر قتل کے بعد انصاف سے زیادہ قاتل کی سیاسی وابستگی دیکھی جائے، اگر ظلم اس لیے برداشت کیا جائے کہ مظلوم "اپنا” نہیں، اور اگر قانون اس لیے تبدیل ہوجائے کہ مجرم "اپنا آدمی” ہے— تو مسئلہ صرف قاتل کا نہیں رہتا۔ معاشرہ بھی اس جرم میں اخلاقی طور پر شریک ہونے لگتا ہے۔ یہی اخلاقی بے حسی تشدّد کو معمول بناتی ہے۔
ریاست کی طاقت کا اصل حسن یہ نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو گرفتار کرسکتی ہے یا کتنے مظاہروں کو منتشر کرسکتی ہے۔ ریاست کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ طاقت ور کو بھی قانون کے سامنے کھڑا کرسکے۔ جو حکومت اپنے مخالف کو قانون کے ذریعے شکست دیتی ہے وہ مضبوط ہوتی ہے؛ اور جو حکومت اپنے مخالف کو غیر قانونی ہجوم کے ذریعے کچلنے کی کوشش کرتی ہے، وہ بظاہر طاقت ور لیکن اندر سے کمزور ہوتی ہے۔ کیونکہ غیر قانونی طاقت کے استعمال سے وقتی خاموشی تو پیدا ہوسکتی ہے، دیرپا امن نہیں۔
اگر ہم واقعی اس المیے کا علاج چاہتے ہیں تو صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ فلاں شخص نے کس کو مارا۔ یہ بھی پوچھنا ہوگا: اسے نفرت کس نے سکھائی؟ اسے طاقت کا یقین کس نے دیا؟ اسے قانون سے بے خوف کس نے کیا؟ اسے سماجی قبولیت کس نے دی؟ اسے سیاسی تحفّظ کہاں سے ملا؟ اس کے جرم کو نظر انداز کس نے کیا؟ اور اس کے بعد بھی اسے عزّت کیوں ملی؟ جب تک ان سوالات کے جواب تلاش نہیں کیے جائیں گے، ہم ہر واقعے کے بعد چند افراد کو گرفتار کرتے رہیں گے، مگر وہ ذہنیت نئے چہروں کے ساتھ دوبارہ پیدا ہوتی رہے گی۔
آج ہمیں صرف قانون کی اصلاح نہیں، اجتماعی اخلاق کی تجدید بھی درکار ہے۔ ہمیں اپنے بچّوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ مخالف ہونا دشمن ہونا نہیں۔ اختلاف کرنا جرم نہیں۔ تنقید کرنا غداری نہیں۔ احتجاج کرنا فساد نہیں۔ اور طاقت ور ہونا کسی انسان کو دوسرے انسان کی جان لینے کا حق نہیں دیتا۔ ہمیں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ انسان کی جان سیاسی وابستگی، مذہبی شناخت، طبقاتی حیثیت، زبان، علاقے یا نظریے سے پہلے انسانی جان ہے۔ ہم جس بحران سے گزر رہے ہیں، اس کا سب سے خوفناک پہلو یہ نہیں کہ کچھ لوگوں کے ہاتھ میں ڈنڈے ہیں؛ خوفناک پہلو یہ ہے کہ کچھ ذہنوں میں انسان کی حرمت ختم ہورہی ہے۔ جب انسان اپنے جیسے انسان کے خون کو دیکھ کر بے حس ہوجائے، جب ظلم کو سیاسی مفاد کے ترازو میں تولا جائے، جب قانون طاقت ور کے سامنے خاموش اور کمزور کے سامنے سخت نظر آئے، اور جب تشدّد کرنے والا شخص سماجی یا سیاسی اعزاز حاصل کرنے لگے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ بیماری جسم سے بڑھ کر روحِ معاشرہ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کا علاج بھی اسی سطح پر کرنا ہوگا۔
ہمیں ایسے معاشرے کی تعمیر کرنا ہوگی جہاں انسان کی جان، قانون کی عزّت اور انصاف کی بالادستی کسی وقتی سیاسی مصلحت کی محتاج نہ ہو۔ جہاں ریاست کسی گروہ کی سرپرست نہیں، قانون کی محافظ ہو۔ جہاں پولیس طاقت ور کی ڈھال نہیں، شہری کی محافظ ہو۔ جہاں احتجاج کو کچلنے کے لیے ہجوم نہیں، دلیل اور قانون استعمال ہو۔ جہاں قاتل کی سیاسی وابستگی نہیں، جرم دیکھا جائے۔ جہاں مظلوم کی شناخت نہیں، اس کا درد دیکھا جائے۔ اور جہاں کسی شخص کے لیے انسان کو قتل کرنا بہادری نہیں بلکہ ناقابلِ معافی اخلاقی و قانونی جرم سمجھا جائے۔ کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہلی علامت بلند عمارتیں نہیں ہوتیں؛ وہ یہ ہوتی ہے کہ وہاں ایک انسان کی جان دوسرے انسان کی طاقت سے محفوظ ہو۔ اور جب تک ہم انسان کو دوبارہ انسان سمجھنا نہیں سیکھتے، تب تک ہمارے ہاتھوں میں موجود قانون کی کتابیں بھی اس معاشرتی اندھیرے کو مکمل طور پر دور نہیں کرسکتیں۔ اصل معرکہ انسان نما درندوں سے پہلے اس ذہنیت کے خلاف ہے جو انسان کو درندہ بناتی ہے۔
🗓️ (05.09.2026)