اعلیٰ تعلیم بیرونِ ملک.ملّتِ اسلامیہ کے لیے نعمت ہے یا زحمت؟

اعلیٰ تعلیم بیرونِ ملک.ملّتِ اسلامیہ کے لیے نعمت ہے یا زحمت؟

اعلیٰ تعلیم بیرونِ ملک.
ملّتِ اسلامیہ کے لیے نعمت ہے یا زحمت؟

 

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

 

علم انسان کی سب سے بڑی قوت، تہذیبوں کی روح اور اقوام کی حقیقی دولت ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے علم، تحقیق اور فکر کو اپنا شعار بنایا، انہوں نے دنیا کی قیادت کی، اور جنہوں نے علم سے بے اعتنائی برتی، وہ زوال اور پسماندگی کا شکار ہو گئیں۔ اسی حقیقت کو قرآنِ مجید نے اپنے اوّلین پیغام "اِقْرَأْ” کے ذریعے ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا کہ اُمّتِ مسلمہ کی سربلندی، عزت اور قیادت کا راستہ علم، تحقیق، تدبر اور فکری بیداری سے ہو کر گزرتا ہے۔ اسلام نے علم کو محض انفرادی فضیلت یا عبادت کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اسے انسانی فلاح، عدلِ اجتماعی، اخلاقی تعمیر، تہذیبی ارتقاء اور اللّٰہ کی زمین پر خیر و اصلاح کے قیام کا بنیادی وسیلہ قرار دیا ہے۔

اسی آفاقی تصورِ علم کا نتیجہ تھا کہ مسلمان صدیوں تک دنیا کی علمی، فکری اور تہذیبی قیادت کرتے رہے۔ بغداد، دمشق، قرطبہ، قاہرہ اور سمرقند جیسے علمی مراکز، عظیم جامعات، رصدگاہیں، کتب خانے اور تحقیقی ادارے پوری انسانیت کے لیے مینارۂ نور بنے۔ مسلمان سائنس، طب، ریاضی، فلکیات، فلسفہ، قانون اور سماجی علوم کے ایسے معمار بنے جن کی تحقیقات نے جدید دنیا کی علمی بنیادوں کو استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم عصرِ حاضر میں علم کے ذرائع، تعلیمی نظام اور عالمی علمی مراکز کا جغرافیہ بڑی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ جدید سائنس، ٹیکنالوجی، طب، مصنوعی ذہانت، معاشیات اور دیگر تخصصی علوم کے حصول کے لیے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی جامعات عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔ چنانچہ ہر سال ہزاروں مسلم نوجوان، بالخصوص باصلاحیت طلبہ و طالبات، اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور بہتر پیشہ ورانہ مواقع کی امید میں بیرونِ ملک کا رخ کرتے ہیں۔

بظاہر یہ رجحان علمی ترقی، عالمی تجربات اور جدید مہارتوں کے حصول کی ایک خوش آئند علامت محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی فکری، تہذیبی، اخلاقی اور دینی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ کیا یہ تعلیمی ہجرت ملّتِ اسلامیہ کے لیے ایک مضبوط علمی سرمایہ ثابت ہو رہی ہے، یا رفتہ رفتہ اس کے نتیجے میں ہماری دینی شناخت، تہذیبی اقدار، خاندانی نظام اور اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ رہی ہیں؟ کیا ہم جدید علم حاصل کر رہے ہیں یا غیر محسوس انداز میں ایک ایسے طرزِ فکر اور طرزِ زندگی کو بھی قبول کرتے جا رہے ہیں جو ہماری اسلامی اقدار سے ہم آہنگ نہیں؟ اور بالخصوص مسلم طالبات کے تناظر میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ کہیں تعلیم کے نام پر بے دینی، تہذیبی بے سمتی اور حیا و عصمت کے تحفّظ کو خطرات تو لاحق نہیں ہو رہے؟

یہ ایسے سنجیدہ سوالات ہیں جن کا جواب نہ جذباتی نعروں میں پوشیدہ ہے، نہ اندھی مخالفت میں اور نہ ہی مغرب کی بے چون و چرا تقلید میں، بلکہ ایک متوازن، حقیقت پسندانہ، علمی اور تحقیقی تجزیے میں مضمر ہے۔ یہی اس مضمون کا بنیادی مقصد ہے کہ اس حساس مسئلے کے مختلف پہلوؤں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، تاکہ اُمّتِ مسلمہ علم کے حصول اور اپنی دینی و تہذیبی شناخت کے تحفّظ کے درمیان ایک متوازن اور حکیمانہ راستہ اختیار کر سکے۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ عصرِ حاضر میں دنیا کی متعدد ممتاز جامعات جدید سائنس، طب، انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، معاشیات، قانون، سماجی علوم اور تحقیق کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان اداروں میں طلبہ کو نہ صرف جدید ترین علمی وسائل، تحقیقی سہولیات اور بین الاقوامی معیار کی تدریس میسر آتی ہے، بلکہ انہیں مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور علمی روایات سے براہِ راست استفادہ کرنے کا موقع بھی حاصل ہوتا ہے۔ یہی تنوع ان کی فکری وسعت، تحقیقی صلاحیت، تنقیدی شعور اور مسائل کو عالمی تناظر میں سمجھنے کی استعداد کو جِلا بخشتا ہے۔

بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان جب جدید علوم، سائنسی مہارتوں، انتظامی تجربات اور تحقیقی بصیرت سے آراستہ ہو کر واپس آتے ہیں تو وہ اپنے معاشروں میں مثبت تبدیلی، علمی ترقی، صنعتی خود کفالت، طبی خدمات، تعلیمی اصلاحات اور معاشی استحکام کے مؤثر معمار بن سکتے ہیں۔ آج مسلم دنیا کو ایسے ہی باصلاحیت اور باکردار ماہرین کی ضرورت ہے جو عالمی معیار کی مہارت کے ساتھ اپنی دینی و اخلاقی شناخت کو بھی برقرار رکھیں۔

اگر یہ نوجوان اپنی علمی صلاحیتوں اور حاصل شدہ تجربات کو محض ذاتی ترقی یا معاشی آسودگی تک محدود رکھنے کے بجائے امت، وطن اور پوری انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیں تو وہ ملّتِ اسلامیہ کا قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسے افراد صرف اعلیٰ ڈگریوں کے حامل نہیں ہوتے، بلکہ وہ علم کو خدمت، تحقیق کو اصلاح، اور مہارت کو انسانیت کی فلاح کا ذریعہ بنا کر حقیقی معنوں میں اپنی تعلیم کا حق ادا کرتے ہیں۔ یہی وہ علمی قیادت ہے جس کی آج مسلم دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے بے شمار فوائد اپنی جگہ مسلم ہیں، لیکن اس پورے موضوع کا سب سے اہم اور بنیادی پہلو یہ ہے کہ تعلیم اور تربیت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ علم اگر کردار کی تعمیر، ایمان کی مضبوطی اور اخلاقی بالیدگی سے محروم ہو جائے تو وہ محض معلومات کا انبار بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسی تعلیم انسان کو پیشہ ورانہ مہارت تو عطا کر سکتی ہے، لیکن اسے صالح، باکردار اور باوقار انسان نہیں بنا سکتی۔

ڈگریاں انسان کو ایک کامیاب ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، وکیل یا منتظم تو بنا سکتی ہیں، مگر عظمتِ کردار، دیانت، احساسِ ذمّہ داری اور اخلاقی قیادت کسی جامعہ کی سند سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ اوصاف مضبوط دینی تربیت، صالح ماحول اور اعلیٰ اقدار کی آبیاری سے پروان چڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونِ ملک جانے والے بہت سے نوجوان علمی اور پیشہ ورانہ اعتبار سے نمایاں کامیابیاں حاصل کر لیتے ہیں، لیکن بعض اوقات ایک ایسے فکری اور سماجی ماحول سے بھی متاثر ہو جاتے ہیں جہاں مذہب کو محض ایک ذاتی معاملہ، اخلاقی حدود کو نسبتی اقدار، اور آزادی کو ہر قسم کی پابندی سے بے نیاز تصور کیا جاتا ہے۔ اگر ان کی دینی بنیادیں مضبوط نہ ہوں تو رفتہ رفتہ ان کی اسلامی شناخت، تہذیبی وابستگی، اخلاقی حساسیت اور روحانی تعلق کمزور پڑنے لگتا ہے۔

یہیں سے وہ بنیادی سوال جنم لیتا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: کیا ہم جدید علم حاصل کرتے ہوئے اپنی فکری و تہذیبی شناخت کو بھی غیر محسوس انداز میں کھو رہے ہیں؟ اگر تعلیم انسان کے علم میں اضافہ کرے مگر اس کے ایمان، کردار اور اسلامی تشخص کو کمزور کر دے، تو ایسی ترقی کا ازسرِنو جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس لیے اصل چیلنج بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنا نہیں، بلکہ جدید علم اور مضبوط دینی و اخلاقی تربیت کے درمیان ایسا متوازن رشتہ قائم رکھنا ہے جو شخصیت کو ہر اعتبار سے مضبوط، باوقار اور اُمّت کے لیے مفید بنا سکے۔

بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کا ایک اہم مگر اکثر نظر انداز ہونے والا پہلو "برین ڈرین” (Brain Drain) ہے، جس کے اثرات صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری ملّت اور مسلم معاشروں کے علمی، معاشی اور تہذیبی مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں ذہین، باصلاحیت اور محنتی مسلم نوجوان اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے بیرونِ ملک جاتے ہیں، مگر ان میں سے ایک بڑی تعداد بہتر معاشی مواقع، تحقیقی سہولیات اور پُرکشش طرزِ زندگی کے باعث وہیں مستقل سکونت اختیار کر لیتی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی ذہانت، تحقیق، اختراعات اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے دوسری قومیں اور ترقی یافتہ ممالک مستفید ہوتے ہیں، جب کہ مسلم ممالک اپنی بہترین افرادی قوت، علمی سرمایہ اور مستقبل کے قائدین سے محروم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یوں یہ صرف افراد کی ہجرت نہیں، بلکہ ذہانت، تحقیق، قیادت اور تخلیقی صلاحیتوں کی خاموش منتقلی ہے، جس کی قیمت پوری اُمّت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

یہ خسارہ محض معاشی نہیں بلکہ فکری، سائنسی اور تہذیبی بھی ہے۔ جب کسی قوم کے بہترین اذہان اس کی تعلیمی، تحقیقی اور صنعتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے دوسری اقوام کی ترقی کا ذریعہ بن جائیں تو اس قوم کے اندر تحقیق کا ماحول، علمی خود اعتمادی اور ترقی کی رفتار متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم ممالک اور ملی ادارے ایسے تعلیمی، تحقیقی اور معاشی نظام تشکیل دیں جو اپنے باصلاحیت نوجوانوں کو صرف بیرونِ ملک بھیجنے تک محدود نہ رہیں، بلکہ انہیں وطن واپس آ کر اپنی صلاحیتوں کو ملّت، معاشرے اور انسانیت کی تعمیر و ترقی کے لیے بروئے کار لانے کی ترغیب بھی دیں۔ حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب ہمارے نوجوان عالمی معیار کا علم حاصل کریں، مگر ان کا علم، تجربہ اور تحقیق بالآخر اپنی قوم و ملّت کی فکری خود کفالت، سائنسی ترقی اور تہذیبی استحکام کا سرمایہ بنے۔

بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے موضوع میں سب سے زیادہ حساس اور توجہ طلب پہلو مسلم طالبات کی تعلیم، تربیت، تحفّظ اور دینی و تہذیبی شناخت کا ہے۔ یہ مسئلہ محض تعلیمی نہیں بلکہ دینی، اخلاقی، خاندانی اور معاشرتی جہات کا بھی حامل ہے، اس لیے اس پر جذبات کے بجائے بصیرت، توازن اور ذمّہ داری کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اسلام نے عورت کو علم سے کبھی محروم نہیں رکھا۔ بلکہ علم کا حصول مرد و عورت دونوں کے لیے باعثِ شرف اور موجبِ فضیلت قرار دیا ہے۔ اسلامی تاریخ اس بات کی روشن گواہ ہے کہ بے شمار عظیم محدثات، فقیہات، معلمات، مفسرات اور محققات نے علم و تحقیق کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ امہات المؤمنین، بالخصوص حضرت عائشہؓ، کے علمی مقام سے لے کر بعد کے ادوار کی جلیل القدر عالمات تک، مسلم خواتین نے دین کی حفاظت، تعلیم و تربیت اور علمی روایت کے استحکام میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ اس لیے اسلام عورت کی تعلیم کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی تعلیم کا داعی ہے جو علم کے ساتھ کردار، حیا، تقویٰ اور معاشرتی ذمّہ داری کو بھی پروان چڑھائے۔

اسی لیے اصل سوال تعلیم کا نہیں بلکہ تعلیم کے ماحول، اس کے مقاصد اور اس کے اثرات کا ہے۔ اگر تعلیمی ماحول علمی ارتقاء کے ساتھ دینی و اخلاقی اقدار کے احترام، شخصیت کے تحفّظ اور فکری توازن کو بھی فروغ دیتا ہو تو وہ یقیناً باعثِ خیر ہے۔ لیکن اگر یہی ماحول آہستہ آہستہ اسلامی شناخت، حیا، خاندانی اقدار اور دینی وابستگی کو کمزور کرنے لگے، تو پھر اس کے اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ مسلم طالبات کے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے مسئلے کو صرف تعلیمی کامیابی یا پیشہ ورانہ ترقی کے زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اس کے ساتھ ان کے ایمان، کردار، حیا، تہذیبی شناخت، نفسیاتی تحفّظ اور خاندانی وابستگی کو بھی یکساں اہمیت دینا ہوگی۔ یہی وہ متوازن نقطۂ نظر ہے جو اسلام کی روح سے ہم آہنگ بھی ہے اور ملّتِ اسلامیہ کے روشن مستقبل کے لیے ناگزیر بھی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے بعض تعلیمی اداروں اور معاشرتی ماحول میں مذہب کو زیادہ تر ایک ذاتی یا نجی معاملہ تصور کیا جاتا ہے، جب کہ زندگی کے اجتماعی، سماجی اور تعلیمی شعبوں کو مذہبی اقدار سے الگ رکھنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ اسی طرح بعض معاشروں میں حیا، عفت اور خاندانی اقدار کو روایتی تصورات سے تعبیر کیا جاتا ہے، جب کہ شخصی آزادی کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ اخلاقی حدود و قیود کی اہمیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ ایسے فکری اور تہذیبی ماحول سے متاثر ہوئے بغیر رہنا ہر طالب علم کے لیے آسان نہیں ہوتا۔

خصوصاً جب ایک کم عمر مسلم طالبہ اپنے خاندان، معاشرے اور دینی ماحول سے دور کسی اجنبی ملک میں تعلیم کے لیے جاتی ہے تو وہ صرف نصابی علوم ہی حاصل نہیں کرتی، بلکہ غیر محسوس طور پر وہاں کے سماجی رویوں، ثقافتی اقدار، طرزِ فکر اور طرزِ زندگی سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ اگر اس کی شخصیت مضبوط دینی تربیت، صحیح علمی شعور اور اسلامی اقدار کی بنیاد پر استوار نہ ہو تو وقت کے ساتھ اس کے افکار، ترجیحات اور طرزِ زندگی میں ایسی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں جو اس کی دینی وابستگی، عبادت گزاری، حجاب، اسلامی شناخت، خاندانی اقدار اور اخلاقی حساسیت کو متاثر کریں۔ تاہم یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ یہ صورتِ حال ہر طالبہ کے ساتھ پیش نہیں آتی۔

بہت سی مسلم طالبات مضبوط ایمان، اعلیٰ کردار اور پختہ دینی شعور کے ساتھ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرتی ہیں، اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھتی ہیں اور علمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے کے ساتھ اپنے دین اور تہذیب کی بہترین نمائندگی بھی کرتی ہیں۔ اس لیے مسئلہ بیرونِ ملک تعلیم کا نہیں، بلکہ اس فکری و تہذیبی ماحول میں اپنی دینی شناخت، اخلاقی استقامت اور اسلامی اقدار کو محفوظ رکھنے کا ہے۔ لہٰذا اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم طالبات کو بیرونِ ملک روانہ کرنے سے پہلے انہیں مضبوط عقیدے، صحیح دینی فہم، اخلاقی تربیت، فکری بصیرت اور اسلامی تشخص کے تحفّظ کے لیے اس قدر تیار کیا جائے کہ وہ جدید علم حاصل کرتے ہوئے بھی اپنے ایمان، حیا، کردار اور تہذیبی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ یہی وہ توازن ہے جو علم کو حقیقی معنوں میں اُمّت کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔

یہ سوال محض جذباتی اپیل نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ سماجی، اخلاقی اور تربیتی حقیقت سے متعلق ہے، جسے نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں۔ جب کسی طالبہ کے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے فیصلے پر غور کیا جائے تو صرف اس کی تعلیمی کامیابی یا پیشہ ورانہ مستقبل ہی نہیں، بلکہ اس کی شخصیت، کردار، دینی وابستگی اور ہر پہلو سے تحفّظ کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بعض ممالک اور بعض تعلیمی و سماجی ماحول میں اختلاط، آزادانہ شخصی تعلقات، شبانہ معاشرت، شراب و منشیات کا استعمال اور ایسے طرزِ زندگی کو معمول سمجھا جاتا ہے جو اسلامی معاشرتی اقدار سے مختلف ہو سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں رہنے والے ہر فرد پر یکساں اثرات مرتب نہیں ہوتے، لیکن ایک نوخیز عمر کی طالبہ، جو اپنے خاندانی اور دینی ماحول سے دور ہو، فکری، نفسیاتی اور سماجی دباؤ کا زیادہ سامنا کر سکتی ہے، خصوصاً اگر اس کی دینی تربیت مضبوط نہ ہو اور اسے مناسب خاندانی، تعلیمی یا سماجی معاونت میسر نہ ہو۔

اسلام کے نزدیک عصمت کا مفہوم صرف جسمانی حفاظت تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ایمان کی پختگی، حیا و عفت، پاکیزہ کردار، عزّتِ نفس، اخلاقی استقامت اور اسلامی شناخت کا تحفّظ بھی شامل ہے۔ اسی لیے ایک مسلمان طالبہ کی حقیقی کامیابی صرف اعلیٰ ڈگری حاصل کر لینے میں نہیں، بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ وہ جدید علم کے حصول کے دوران اپنے دین، اپنے وقار اور اپنی اخلاقی شخصیت کو محفوظ رکھ سکے۔ لہٰذا بیرونِ ملک تعلیم کا فیصلہ محض کسی جامعہ کی عالمی درجہ بندی، تعلیمی شہرت یا روشن معاشی امکانات کو سامنے رکھ کر نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ اس کے ساتھ طالبہ کی دینی و اخلاقی تربیت، نفسیاتی آمادگی، محفوظ رہائش، مثبت تعلیمی ماحول، قابلِ اعتماد سرپرستی اور معاون اسلامی سماجی روابط جیسے عوامل کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ جب علم کے ساتھ ایمان، کردار اور حیا کا تحفّظ بھی یقینی بنایا جائے، تبھی بیرونِ ملک تعلیم حقیقی معنوں میں فرد، خاندان اور ملّت کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کا فیصلہ صرف ایک تعلیمی یا معاشی منصوبہ نہیں، بلکہ ایک ایسی امانت ہے جس کا تعلق اولاد کے ایمان، کردار، مستقبل اور اسلامی شناخت سے بھی ہے۔ اس لیے اس مرحلے پر والدین کی ذمّہ داری محض مالی وسائل فراہم کرنے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ان کی دور اندیشی، تربیت اور مسلسل رہنمائی بھی نہایت اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین یونیورسٹی کی عالمی درجہ بندی، تعلیمی معیار، وظائف، فیس، ویزا اور رہائش جیسے معاملات پر تو غیر معمولی توجہ دیتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ جاننے کی کم کوشش کرتے ہیں کہ وہاں دینی ماحول کیسا ہے، نماز اور عبادت کے مواقع کس حد تک میسر ہیں، حلال غذا کی سہولت موجود ہے یا نہیں، اسلامی طلبہ کی تنظیمیں یا معاون حلقے ہیں یا نہیں، رہائش کا ماحول محفوظ اور باوقار ہے یا نہیں، اور ان کی اولاد کو مثبت صحبت اور اخلاقی رہنمائی کس حد تک حاصل ہو سکے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ایک اچھا تعلیمی ادارہ علمی ترقی کے لیے ضروری ہے، اسی طرح صالح ماحول اور مسلسل دینی و اخلاقی رہنمائی شخصیت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر والدین صرف تعلیمی کامیابی کو مقصد بنا لیں اور تربیتی و دینی پہلوؤں سے غفلت برتیں تو اس کے منفی اثرات وقت گزرنے کے ساتھ نمایاں ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات ایک شاندار تعلیمی کامیابی بھی اس نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتی جو ایمان، کردار اور اسلامی شناخت کی کمزوری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ لہٰذا والدین کی اصل ذمّہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بیرونِ ملک بھیجنے سے پہلے ان کی دینی بنیادوں کو مضبوط کریں، ان میں خود اعتمادی، تقویٰ، اخلاقی استقامت اور صحیح اسلامی شعور پیدا کریں، اور دورانِ تعلیم بھی ان سے مسلسل رابطہ، خیرخواہانہ رہنمائی اور فکری و روحانی سرپرستی کا سلسلہ قائم رکھیں۔ جب والدین تعلیم کے ساتھ تربیت کو بھی اپنی ذمّہ داری سمجھیں گے، تبھی بیرونِ ملک حاصل کیا جانے والا علم فرد، خاندان اور ملّتِ اسلامیہ کے لیے حقیقی سرمایہ بن سکے گا۔

بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے ہوئے رجحان نے صرف والدین ہی نہیں، بلکہ مسلم تعلیمی اداروں، ملّی تنظیموں، دینی مراکز اور سماجی اداروں کی ذمّہ داریوں کو بھی پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ اگر یہ ادارے اپنی ذمّہ داری کا مؤثر احساس کریں تو وہ ہزاروں نوجوانوں، بالخصوص طالبات، کو فکری انتشار، تہذیبی دباؤ اور اخلاقی تنہائی سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم جامعات، ملّی تنظیمیں اور سماجی ادارے بیرونِ ملک جانے والے طلبہ و طالبات کے لیے ایک جامع سرپرستی کا نظام قائم کریں، جس میں دینی رہنمائی، علمی معاونت، اخلاقی تربیت، نفسیاتی مشاورت اور مسلسل رابطے کا مؤثر انتظام شامل ہو۔ اس کے ساتھ مختلف ممالک میں مقیم مسلم طلبہ کے درمیان مضبوط اسلامی نیٹ ورک، رہنمائی مراکز، تعلیمی و تربیتی حلقے، بااعتماد سرپرست خاندانوں سے رابطے، اور مساجد و اسلامی مراکز سے وابستگی کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ طلبہ خود کو اجنبیت، تنہائی اور تہذیبی دباؤ کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دیں۔

خصوصاً مسلم طالبات کے لیے محفوظ رہائش، قابلِ اعتماد مشاورتی مراکز، دینی و اخلاقی رہنمائی اور ہنگامی معاونت کے ایسے انتظامات ناگزیر ہیں جو انہیں ہر مرحلے پر اعتماد، تحفّظ اور رہنمائی فراہم کر سکیں۔ یہ ذمّہ داری صرف خاندان کی نہیں، بلکہ پوری ملّت کی اجتماعی ذمّہ داری ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو جدید علم کے حصول کے ساتھ ایک ایسا معاون ماحول بھی فراہم کرے جو ان کے ایمان، کردار اور اسلامی تشخص کی حفاظت کا ذریعہ بنے۔ درحقیقت ایک زندہ اور باشعور ملّت کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو صرف اعلیٰ تعلیمی اداروں تک پہنچانے پر اکتفا نہیں کرتی، بلکہ ان کی فکری، روحانی اور اخلاقی آبیاری کا اہتمام بھی کرتی ہے۔ جب تعلیمی کامیابی کے ساتھ دینی بصیرت، اخلاقی استقامت اور ملّی وابستگی کو بھی یکساں اہمیت دی جائے گی، تبھی بیرونِ ملک حاصل ہونے والا علم اُمّتِ مسلمہ کی حقیقی قوت اور مستقبل کی تعمیر کا سرمایہ بن سکے گا۔

اعلیٰ تعلیم اور بیرونِ ملک سفر کے اس پورے موضوع میں اسلام کا مزاج اعتدال، حکمت اور توازن کا ہے۔ اسلام نہ علم کے دروازے بند کرتا ہے اور نہ ہی انسان کو دنیا کے جائز وسائل، ترقی اور تجربات سے کٹ جانے کی تعلیم دیتا ہے۔ بلکہ اسلام تو ایسا علم چاہتا ہے جو انسان کو شعور، بصیرت اور خدمتِ خلق کا جذبہ عطا کرے، اور ایسی ترقی چاہتا ہے جو اخلاق، انسانیت اور روحانی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اسی طرح اسلام یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ علم اور ترقی کے حصول میں انسان اپنی اصل شناخت، ایمان، حیا، تہذیبی اقدار اور کردار کی بنیادوں کو کمزور کر دے۔ ایسی کامیابی جس میں انسان اپنی روحانی دولت کھو بیٹھے، بظاہر ترقی نظر آ سکتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک بڑا خسارہ بھی بن سکتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے نوجوان بیرونِ ملک جائیں تو وہ صرف ڈگری، روزگار اور مادی کامیابی کا خواب لے کر نہ جائیں، بلکہ اپنے ساتھ قرآنِ مجید کی روشنی، سیرتِ نبویﷺ کی رہنمائی، اسلامی تہذیب کا وقار، اخلاقِ حسنہ اور اپنی دینی شناخت کا شعور بھی لے کر جائیں۔ وہ جہاں بھی رہیں، اپنے علم، کردار، دیانت اور حسنِ اخلاق کے ذریعے اسلام کی خوبصورت تعلیمات کے عملی ترجمان بنیں۔ ایک مسلمان طالب علم یا طالبہ کا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی عالمی ادارے سے سند حاصل کر لے، بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ وہ علم کو انسانیت کی بھلائی، اپنی ملّت کی تعمیر اور خیر کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔ وہ اپنی صلاحیتوں سے دنیا کے مسائل حل کرے، مگر اپنے اصولوں سے دستبردار نہ ہو؛ وہ جدید علوم میں آگے بڑھے، مگر اپنی روحانی بنیادوں سے وابستہ رہے۔ حقیقی کامیابی یہی ہے کہ انسان دنیا کی بہترین جامعات سے علم حاصل کرے، لیکن اس کے دل میں ایمان کی روشنی، اس کے کردار میں حیا و دیانت، اور اس کے عمل میں خدمتِ انسانیت کا جذبہ زندہ رہے۔ یہی وہ توازن ہے جو بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کو ملّتِ اسلامیہ کے لیے ایک حقیقی نعمت بنا سکتا ہے۔

اعلیٰ تعلیم بذاتِ خود نہ مکمل طور پر نعمت ہے اور نہ زحمت؛ بلکہ اس کی حقیقت کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ اسے کس مقصد، کس ماحول، کس فکر اور کس کردار کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے۔ علم ایک قوت ہے، لیکن اس قوت کا رخ انسان کی نیت، تربیت اور اقدار متعین کرتی ہیں۔ یہی علم اگر خیر، اصلاح اور خدمت کے لیے استعمال ہو تو انسان اور معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بنتا ہے، اور اگر اخلاقی و روحانی بنیادوں سے کٹ جائے تو یہی علم بعض اوقات فکری انتشار اور تہذیبی کمزوری کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اگر علم ایمان کی روشنی سے وابستہ ہو، تحقیق اخلاقی ذمّہ داری کے احساس کے ساتھ ہو، ترقی حیا و وقار کی حدود میں ہو، اور کامیابی کا مقصد صرف ذاتی مفاد نہیں بلکہ اُمّت، معاشرے اور پوری انسانیت کی خدمت ہو، تو بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم یقیناً ملّتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم نعمت، علمی سرمایہ اور ترقی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر اسی تعلیم کے نتیجے میں انسان اپنی دینی شناخت سے دور ہو جائے، تہذیبی وابستگی کمزور پڑ جائے، خاندانی اقدار متاثر ہوں، حیا و اخلاقی شعور ماند پڑ جائے اور شخصیت کی روحانی بنیادیں کمزور ہونے لگیں، تو ایسی ظاہری کامیابی درحقیقت ایک گہرے نقصان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ کیونکہ حقیقی کامیابی صرف دنیاوی مقام حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنی اصل، اپنے اصول اور اپنے کردار کو محفوظ رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا نام ہے۔

ملّتِ اسلامیہ کو ایسے علمبرداروں اور معماروں کی ضرورت ہے جو دنیا کی بہترین جامعات، مثلاً آکسفورڈ، ہارورڈ، کیمبرج، ٹورنٹو یا ملبورن جیسے علمی مراکز سے جدید علوم و فنون حاصل کریں، لیکن ان کے دل ایمان کی حرارت، مدینہ کی محبت اور انسانیت کی خیر خواہی سے روشن ہوں۔ ان کی پیشانیاں عبادت کے نور سے منور ہوں، ان کے کردار اسلامی اخلاق کا آئینہ دار ہوں، اور ان کا علم اللّٰہ کی رضا، مخلوقِ خدا کی خدمت اور اُمّت کی تعمیر کے لیے وقف ہو۔ کیونکہ علم کی اصل منزل صرف روزگار کا حصول نہیں بلکہ کردار کی تعمیر ہے؛ صرف دنیاوی ترقی نہیں بلکہ تقویٰ اور ذمّہ داری کا شعور ہے؛ صرف کامیابیِ دنیا نہیں بلکہ دنیا و آخرت دونوں کی فلاح ہے۔ یہی وہ متوازن راستہ ہے جس پر چل کر بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم فرد کی کامیابی کے ساتھ ساتھ ملّتِ اسلامیہ کی سربلندی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے