سیما شکور :
اصلاحی مضامین کا مجموعۂ
’’دستک‘‘ کا تجزیاتی و تنقیدی جائزہ.
✍🏻از قلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
ُاردو ادب میں اصلاحی مضمون نگاری کی روایت نہایت قدیم اور مضبوط ہے۔ اصلاحی ادب کا بنیادی مقصد محض نصیحت کرنا نہیں بلکہ انسان کو اس کے باطن، کردار، رویّوں، تعلقات اور معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس دلانا بھی ہے۔ ایک کامیاب اصلاحی مضمون وہی ہوتا ہے جو قاری کو وعظ و تلقین کے بوجھ تلے دبانے کے بجائے اس کے دل و دماغ میں سوال پیدا کرے، اسے اپنے طرزِ زندگی پر غور کرنے کی دعوت دے اور بالآخر اسے بہتر انسان بننے کی طرف متوجہ کرے۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی مضمون نگار سیما شکور کے اصلاحی مضامین کا مجموعۂ ’’دستک‘‘ کو اسی اصلاحی روایت کے تسلسل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مجموعے کے مضامین زندگی کے روزمرہ تجربات، انسانی تعلقات، محبت، دوستی، تربیت، تنہائی، کردار، فیصلوں اور اخلاقی اقدار کو موضوع بناتے ہیں۔ ’’دستک‘‘ کا عنوان بھی اپنے اندر ایک گہری معنویت رکھتا ہے۔ یہ دستک دراصل قاری کے دروازے پر نہیں بلکہ اس کے ضمیر، شعور اور احساس کے دروازے پر ہے۔ مصنفہ کا مقصد قاری کو چونکانا، سوچنے پر مجبور کرنا اور زندگی کے ان پہلوؤں کی طرف متوجہ کرنا ہے جنہیں انسان روزمرہ مصروفیات میں اکثر نظرانداز کر دیتا ہے۔
سیما شکور کی اصلاحی مضمون نگاری کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ بڑے بڑے فلسفیانہ مسائل کو زندگی کے معمولی اور مانوس تجربات سے جوڑ دیتی ہیں۔ ان کے ہاں اصلاح کا تصور کسی خشک اخلاقی درس کی صورت میں سامنے نہیں آتا بلکہ انسانی زندگی کے جذباتی اور معاشرتی تجربات سے پھوٹتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’دستک‘‘ کے مضامین میں قاری کو اپنی زندگی، اپنے تعلقات اور اپنے فیصلوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ مصنفہ زندگی کے چھوٹے واقعات اور عام مشاہدات سے بڑے اخلاقی نتائج اخذ کرتی ہیں۔ ان کا انداز اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے دعووں سے نہیں بلکہ اس کے رویّوں سے ہوتی ہے۔ محبت صرف لفظ نہیں، دوستی صرف تعلق کا نام نہیں، عزت صرف معاشرتی مقام نہیں اور تربیت صرف تعلیم حاصل کرنے کا عمل نہیں؛ ان تمام تصورات کی اصل قدر انسان کے عمل میں ظاہر ہوتی ہے۔
’’لمحۂ موجود‘‘ جیسے مضمون کے عنوان سے ہی سیما شکور کے فکری رویّے کا اندازہ ہوتا ہے۔ انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ موجودہ لمحہ ہے، لیکن انسان اکثر یا تو ماضی کے دکھوں میں گرفتار رہتا ہے یا مستقبل کے اندیشوں میں۔ مصنفہ کا اصلاحی نقطۂ نظر انسان کو حال کی قدر پہچاننے کی دعوت دیتا ہے۔ ماضی ہمیں تجربہ دیتا ہے اور مستقبل ہمیں امید، منصوبہ اور مقصد فراہم کرتا ہے، مگر زندگی حقیقتاً اسی لمحے میں واقع ہوتی ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہوتے ہیں۔ ’’لمحۂ موجود‘‘ کے فکری پس منظر میں یہ احساس نمایاں ہوتا ہے کہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے موجودہ رویّوں کا جائزہ لے۔ جو شخص آج اپنے تعلقات کو سنوارنے، اپنی غلطیوں کو درست کرنے اور اپنے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے، وہی مستقبل کی بہتر بنیاد رکھ سکتا ہے۔
سیما شکور کے اصلاحی مضامین میں محبت ایک اہم اور بنیادی موضوع کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’’پھر محبت کے شجر سوکھ جاتے ہیں‘‘ ایک نہایت بامعنی عنوان ہے۔ شجر زندگی، نمو، سایہ، تسلسل اور ثمر کی علامت ہے، جب کہ محبت بھی ایک ایسے ہی شجر سے مشابہ ہے جسے مسلسل توجہ، خلوص، اعتماد اور قربت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر تعلقات میں بے اعتنائی، خود غرضی، بدگمانی، تلخی اور عدم توجہی پیدا ہو جائے تو محبت کا شجر آہستہ آہستہ خشک ہونے لگتا ہے۔ اس مضمون کے عنوان میں مصنفہ نے ایک پورا معاشرتی فلسفہ سمو دیا ہے۔ محبت محض جذبات کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اسے زندہ رکھنے کے لیے انسان کو اپنے رویّوں پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔ محبت کا دعویٰ آسان ہے لیکن محبت کے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل ہے۔
اس مضمون کے حوالے سے سیما شکور کا اصلاحی شعور خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں رشتوں کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم محبت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر محبت دینا نہیں چاہتے۔ ہم توجہ چاہتے ہیں مگر دوسروں کی ضرورتوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم عزت چاہتے ہیں مگر دوسروں کی عزت کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے جذبات کو سمجھا جائے، لیکن دوسرے کے جذبات کو سمجھنے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔ مصنفہ ایسے ہی رویّوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ محبت کا شجر صرف بڑے بڑے الفاظ سے سرسبز نہیں رہتا بلکہ چھوٹی چھوٹی توجہ، معافی، برداشت، خلوص اور اعتماد کے پانی سے پروان چڑھتا ہے۔
’’جب دوستی کے پھول اپنی مہک کھونے لگے‘‘ بھی انسانی تعلقات کے زوال کی ایک خوب صورت علامت پیش کرتا ہے۔ دوستی انسانی زندگی کا ایک قیمتی رشتہ ہے۔ سچی دوستی انسان کو حوصلہ دیتی ہے، اس کی کمزوریوں کو برداشت کرتی ہے، اس کی کامیابی پر خوش ہوتی ہے اور مشکل وقت میں اس کا سہارا بنتی ہے۔ لیکن جب دوستی میں مفاد، مقابلہ، حسد، خود غرضی یا غلط فہمی داخل ہو جائے تو اس کی خوشبو کم ہونے لگتی ہے۔ پھول کا استعارہ اس مضمون کو جمالیاتی حسن عطا کرتا ہے۔ پھول صرف خوب صورتی کی علامت نہیں بلکہ خوشبو، تازگی اور زندگی کی علامت بھی ہے۔ دوستی کے پھول کی مہک کا کھونا دراصل اعتماد اور خلوص کے کم ہونے کی علامت ہے۔
سیما شکور کی خوبی یہ ہے کہ وہ انسانی تعلقات کو یک طرفہ انداز سے نہیں دیکھتیںی، ان کے اصلاحی مضامین میں یہ احساس موجود ہے کہ تعلقات کی مضبوطی دونوں جانب کی ذمہ داری ہے۔ اگر دوستی کمزور ہو رہی ہے تو صرف دوسرے کو الزام دینا مناسب نہیں؛ انسان کو اپنے حصے کا احتساب بھی کرنا چاہیے۔ کیا ہم نے دوست کی بات سنی؟ کیا اس کی مشکل میں اس کے ساتھ کھڑے ہوئے؟ کیا اس کی کامیابی کو دل سے قبول کیا؟ کیا اختلاف کے باوجود احترام قائم رکھا؟ ایسے سوالات قاری کو اپنے تعلقات کا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہی اصلاحی مضمون نگاری کی اصل کامیابی ہے کہ وہ دوسروں کی اصلاح سے پہلے انسان کو اپنی اصلاح کی طرف لے جائے۔
’’عزت کے دو بول تمہاری تربیت کا پتا دیتے ہیں‘‘ میں سیما شکور نے تہذیب، اخلاق اور تربیت کے تعلق کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ انسان کی تربیت کا اندازہ صرف اس کی ڈگری، لباس، عہدے یا معاشرتی حیثیت سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے گفتگو کرنے کے طریقے اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے ہوتا ہے۔ کسی انسان کے منہ سے نکلنے والے چند الفاظ اس کی شخصیت کا پورا تعارف بن سکتے ہیں۔ احترام کے دو الفاظ کبھی کسی کے دل میں امید پیدا کر دیتے ہیں اور کبھی ایک سخت جملہ برسوں کا تعلق توڑ دیتا ہے۔
اس مضمون کا مرکزی پیغام ہمارے موجودہ معاشرے کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جدید زندگی میں معلومات اور تعلیم میں اضافہ ہوا ہے، مگر اخلاقی تربیت کے سوالات آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ انسان نے گفتگو کے ذرائع بڑھا لیے ہیں، لیکن ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کا حوصلہ بعض اوقات کم ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں ایک جملہ ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے، اس لیے زبان اور الفاظ کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سیما شکور کا یہ اصلاحی زاویہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تہذیب کا اصل حسن انسان کے الفاظ اور رویّوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
تربیت کے حوالے سے ’’دستک‘‘ کے مضامین کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مصنفہ تربیت کو صرف بچوں کی تربیت تک محدود نہیں کرتیں بلکہ اسے پورے معاشرتی رویّے سے جوڑتی ہیں۔ والدین، اساتذہ، دوست، رشتہ دار اور معاشرے کے ہر فرد کے رویّے نئی نسل کی تربیت میں حصہ لیتے ہیں۔ بچے صرف نصیحت سے نہیں بلکہ بڑوں کے عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر ہم بچوں کو احترام، سچائی، برداشت اور محبت کا درس دیں لیکن خود اپنے معاملات میں ان اصولوں کی خلاف ورزی کریں تو ہماری تربیت بے اثر ہو جائے گی۔ اس اعتبار سے سیما شکور کی اصلاحی فکر فرد سے معاشرے کی طرف سفر کرتی ہے۔
’’سچے لوگ تنہائیوں کی راہ گزر پہ گزر چلتے ہیں‘‘ ایک اور گہرا اور فکر انگیز عنوان ہے۔ سچائی اکثر انسان کو آسان راستے سے ہٹا کر مشکل راستے پر لے جاتی ہے۔ مصلحت، چاپلوسی اور مفاد پرستی کے ماحول میں سچ بولنے والا شخص بعض اوقات تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن تنہائی ہمیشہ شکست کی علامت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی یہ اپنے اصولوں پر قائم رہنے کی قیمت بھی ہوتی ہے۔ سیما شکور کے اس عنوان میں سچائی کے ساتھ وابستگی، کردار کی مضبوطی اور اصول پسندی کا تصور پوشیدہ ہے۔
یہاں مصنفہ کا اصلاحی پیغام بہت واضح محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو صرف اس لیے اپنے اصول نہیں چھوڑ دینے چاہئیں کہ معاشرہ اسے فوری طور پر قبول نہیں کر رہا۔ سچے انسان کے راستے میں مشکلات آ سکتی ہیں، لیکن اس کی اصل طاقت اس کا باطن اور ضمیر ہوتا ہے۔ جھوٹا شخص بظاہر لوگوں کے درمیان مقبول ہو سکتا ہے، مگر اندر سے وہ بے سکون رہتا ہے۔ اس کے برعکس سچا انسان بعض اوقات تنہا ہو کر بھی اپنے آپ سے مطمئن رہتا ہے۔ اس طرح تنہائی یہاں منفی کیفیت نہیں بلکہ کردار کی آزمائش بن جاتی ہے۔
سیما شکور کے ہاں سچائی کا تصور محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ عملی زندگی کی ضرورت ہے۔ خاندان، دوستی، کاروبار، تعلیم، صحافت اور سماج کے تمام شعبوں میں اعتماد کی بنیاد سچائی پر قائم ہوتی ہے۔ جب جھوٹ عام ہو جائے تو اعتماد کمزور ہوتا ہے اور جب اعتماد کمزور ہو تو معاشرتی رشتے بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔ اس لیے سچائی فرد کی ذاتی خوبی ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرتی ضرورت بھی ہے۔ ’’دستک‘‘ کے اصلاحی مضامین اس اجتماعی پہلو کی طرف بھی قاری کو متوجہ کرتے ہیں۔
’’اپنی زندگی کی کہانی ہم اپنے فیصلوں سے لکھتے ہیں‘‘ سیما شکور کے فکری مضامین میں اختیار، ذمہ داری اور خود احتسابی کے تصور کو نمایاں کرتا ہے۔ انسان کی زندگی میں حالات کا کردار ضرور ہوتا ہے، لیکن اس کے فیصلے بھی اس کی شخصیت اور مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان ہر موقع پر حالات کا انتخاب نہیں کر سکتا، لیکن اپنے ردِعمل اور اپنے فیصلوں کا انتخاب بڑی حد تک کر سکتا ہے۔ یہی شعور انسان کو اپنی زندگی کا ذمہ دار بناتا ہے۔
اس مضمون کا مرکزی خیال نوجوان نسل کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ زندگی میں کامیابی یا ناکامی کے بہت سے اسباب ہوتے ہیں، مگر اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنا شخصیت کی پختگی کی علامت ہے۔ غلط فیصلہ ہو جائے تو اس سے سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ناکامی انسان کو ختم نہیں کرتی بلکہ اگر اسے تجربے میں تبدیل کیا جائے تو وہ مستقبل کی کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ سیما شکور کا اصلاحی انداز انسان کو دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے کردار اور فیصلوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
’’دستک‘‘ کے مضامین کا ایک نمایاں وصف ان کے عنوانات کی معنویت ہے۔ مصنفہ کے عنوانات محض موضوع کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ مضمون کے فکری دروازے کی کنجی بن جاتے ہیں۔ ’’پھر محبت کے شجر سوکھ جاتے ہیں‘‘ میں شجر اور خشکی کا استعارہ، ’’دوستی کے پھول اپنی مہک کھونے لگے‘‘ میں پھول اور خوشبو کا استعارہ، ’’تنہائیوں کی راہ گزر‘‘ میں راستے اور تنہائی کی علامت اور ’’زندگی کی کہانی ہم اپنے فیصلوں سے لکھتے ہیں‘‘ میں کہانی اور تحریر کا استعارہ قاری کے ذہن میں ایک تصویری کیفیت پیدا کرتا ہے۔ یہ استعاراتی انداز اصلاحی مضمون کو ادبی حسن عطا کرتا ہے۔
سیما شکور کی زبان کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے موضوعات کی طرح ان کا اسلوب بھی قاری سے قربت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاحی مضمون نگاری میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ مضمون محض نصیحت نامہ بن جائے۔ سیما شکور اس خطرے سے بڑی حد تک اس لیے محفوظ رہتی ہیں کہ وہ انسانی جذبات اور روزمرہ زندگی کی زبان کو بنیاد بناتی ہیں۔ ان کے موضوعات عام انسان کے تجربے سے وابستہ ہیں، اس لیے قاری ان میں اپنے حالات کی پرچھائیں دیکھ سکتا ہے۔
ان مضامین میں جذبات اور فکر کا امتزاج بھی قابلِ ذکر ہے۔ اگر صرف جذبات ہوں تو مضمون جذباتی تحریر بن کر رہ جاتا ہے اور اگر صرف فکر ہو تو اس میں خشکی پیدا ہو سکتی ہے۔ ’’دستک‘‘ میں محبت، دوستی، تنہائی، سچائی، عزت اور فیصلوں جیسے موضوعات جذباتی بھی ہیں اور فکری بھی۔ مصنفہ ان موضوعات کے ذریعے قاری کے احساس کو بیدار کرتی ہیں اور پھر اسے غور و فکر کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہی امتزاج ان کے اصلاحی اسلوب کی بنیادی قوت ہے۔
سیما شکور کے مضامین میں عورت، خاندان اور معاشرتی تعلقات کے حوالے سے بھی کئی امکانات دکھائی دیتے ہیں۔ حیدرآباد کی ادبی فضا سے وابستہ ایک خاتون مضمون نگار کی حیثیت سے ان کی تحریروں میں معاشرتی زندگی کے قریب سے مشاہدے کی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ وہ انسانی رشتوں کو محض نظری سطح پر نہیں دیکھتیں بلکہ ان میں جذبات، احترام، قربت اور فاصلے کی نفسیات کو محسوس کرتی ہیں۔ ان کے اصلاحی مضامین اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خاندان کسی عمارت کا نام نہیں بلکہ احساس، اعتماد اور احترام سے تشکیل پانے والا ادارہ ہے۔
’’دستک‘‘ کا ایک اہم فکری پہلو خود احتسابی ہے۔ مصنفہ بار بار قاری کو اپنے اندر جھانکنے کی طرف مائل کرتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اصلاحی تحریر اکثر دوسروں کی خامیوں کی فہرست بن جاتی ہے، لیکن سیما شکور کے مضامین میں یہ احساس نمایاں ہے کہ اصل تبدیلی انسان کے اپنے اندر سے شروع ہونی چاہیے۔ اگر ہم محبت چاہتے ہیں تو محبت دیں، اگر عزت چاہتے ہیں تو عزت کریں، اگر سچائی چاہتے ہیں تو خود سچ بولیں اور اگر اچھی دوستی چاہتے ہیں تو خود اچھے دوست بنیں۔ یہ اصول سادہ ضرور ہے مگر انسانی زندگی میں اس کی معنویت بہت گہری ہے۔
ان کے مضامین کا ایک اور اہم پہلو امید ہے۔ تنہائی، رشتوں کی کمزوری، محبت کا سوکھ جانا یا زندگی کے غلط فیصلے بظاہر مایوسی کے موضوعات ہیں، مگر ان کے اندر اصلاح اور تبدیلی کی گنجائش بھی موجود ہے۔ اگر محبت کا شجر سوکھ سکتا ہے تو اسے دوبارہ پانی بھی دیا جا سکتا ہے۔ اگر دوستی کی خوشبو کم ہو سکتی ہے تو خلوص سے اسے دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر انسان غلط فیصلے کر سکتا ہے تو نئے فیصلوں کے ذریعے اپنی زندگی کا رخ بھی بدل سکتا ہے۔ یہی امید ’’دستک‘‘ کو محض شکوے اور دکھ کی کتاب بننے سے بچاتی ہے۔
ادبی اعتبار سے اصلاحی مضمون کی کامیابی کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ مصنف قاری کو براہِ راست مخاطب کیے بغیر اس کے ساتھ مکالمہ قائم کر سکے۔ سیما شکور کی تحریروں کے عنوانات ہی مکالماتی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مصنفہ قاری کے سامنے بیٹھ کر اس سے زندگی کے کسی اہم مسئلے پر بات کر رہی ہوں۔ یہی قربت ان کی تحریروں کو اثر انگیز بناتی ہے۔ ان کا مقصد قاری کو مرعوب کرنا نہیں بلکہ متوجہ کرنا ہے۔
تنقیدی اعتبار سے دیکھا جائے تو ’’دستک‘‘ کے اصلاحی مضامین میں جذباتی اور اخلاقی پہلو زیادہ نمایاں ہیں، جو ان کی خوبی بھی ہے اور بعض مقامات پر ایک ممکنہ حد بھی۔ اصلاحی مضمون جب بہت زیادہ جذبات پر انحصار کرے تو بعض اوقات سماجی مسائل کی پیچیدہ وجوہات پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ محبت، دوستی، سچائی اور فیصلوں جیسے موضوعات کے سماجی، معاشی اور نفسیاتی پہلو بھی ہوتے ہیں۔ تاہم اگر ان مضامین کو بنیادی طور پر اخلاقی اور انسانی اصلاح کے زاویے سے دیکھا جائے تو مصنفہ کا مقصد واضح اور مؤثر نظر آتا ہے۔ ان کی تحریروں کی اصل طاقت پیچیدہ نظری بحث نہیں بلکہ انسانی احساس کو بیدار کرنا ہے۔
سیما شکور کے اصلاحی مضامین میں لفظ ’’انسان‘‘ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ انسان کو ایک ایسے وجود کے طور پر دیکھتی ہیں جو غلطیاں بھی کرتا ہے، محبت بھی کرتا ہے، ٹوٹتا بھی ہے، تنہا بھی ہوتا ہے اور پھر خود کو سنبھالنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اسی انسانی کمزوری اور امکان کے درمیان ان کی اصلاحی فکر تشکیل پاتی ہے۔ وہ انسان سے فرشتہ بننے کا مطالبہ نہیں کرتیں بلکہ بہتر انسان بننے کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہی حقیقت پسندانہ انداز ان کے مضامین کو قاری کے قریب لاتا ہے۔
مجموعۂ ’’دستک‘‘ کو اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس میں زندگی کے بنیادی اخلاقی سوالات کی ایک زنجیر دکھائی دیتی ہے۔ ہم محبت کو کیسے زندہ رکھیں؟ دوستی کو کیسے نبھائیں؟ عزت کا اصل معیار کیا ہے؟ تربیت کی پہچان کیسے ہوتی ہے؟ سچ بولنے کی قیمت کیا ہے؟ تنہائی کو شکست کے بجائے کردار کی قوت کیسے بنایا جائے؟ اپنی زندگی کے فیصلوں کی ذمہ داری کیسے قبول کی جائے؟ یہ سوالات کسی ایک فرد کے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے سوالات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’’دستک‘‘ کا اصلاحی پیغام فرد سے آگے بڑھ کر معاشرتی سطح اختیار کرتا ہے۔
موجودہ دور میں جب انسانی تعلقات تیزی سے بدل رہے ہیں، مادّی کامیابی کو زندگی کا اہم معیار سمجھا جا رہا ہے، مصروفیات نے باہمی گفتگو کم کر دی ہے اور ڈیجیٹل رابطوں کے باوجود حقیقی قربت کا مسئلہ بڑھتا محسوس ہوتا ہے، ایسے میں سیما شکور کی اصلاحی تحریریں خاص معنویت اختیار کرتی ہیں۔ آج انسان کے پاس رابطے کے بے شمار ذرائع ہیں لیکن دل کی بات سننے والا وقت کم ہے۔ دوستی کے دائرے وسیع ہیں مگر حقیقی اعتماد کے رشتے محدود ہو سکتے ہیں۔ معلومات بہت ہیں مگر حکمت کی ضرورت بھی اتنی ہی ہے۔ ’’دستک‘‘ اسی انسانی ضرورت کو سامنے لاتی ہے کہ ترقی کے ساتھ اخلاقی اور جذباتی تربیت بھی ضروری ہے۔
صحافتی اور ادبی تناظر میں بھی سیما شکور کے مضامین قابلِ توجہ ہیں۔ ان کا انداز قاری کو فوری طور پر موضوع کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ عنوانات میں خبر کی سی کشش، مضمون میں انسانی تجربے کی گرمی اور اختتام میں اصلاحی نتیجے کی طرف اشارہ، ان کی تحریر کو عام قاری کے لیے قابلِ فہم بناتا ہے۔ اگرچہ یہ مضامین خالص صحافتی کالم نہیں، تاہم ان میں کالم نگاری کی وہ خصوصیت موجود ہے جس میں روزمرہ زندگی کے واقعات سے سماجی اور اخلاقی معنی اخذ کیے جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے ’’دستک‘‘ ادب اور صحافت کے درمیان ایک مفید رابطے کی مثال بھی بن سکتی ہے۔
سیما شکور کی مضمون نگاری میں سب سے زیادہ متاثر کرنے والی بات یہ ہے کہ وہ معمولی محسوس ہونے والے موضوعات میں غیر معمولی انسانی معنی تلاش کرتی ہیں۔ عزت کے دو بول، دوستی کی خوشبو، محبت کا شجر، تنہائی کی راہ گزر اور زندگی کی کہانی جیسے تصورات بظاہر سادہ ہیں، مگر ان کے اندر انسانی زندگی کی بڑی حقیقتیں پوشیدہ ہیں۔ یہی فن ایک اچھے مضمون نگار کو محض لکھنے والے شخص سے ممتاز کرتا ہے۔ مضمون نگار کا کام صرف واقعات بیان کرنا نہیں بلکہ واقعات کے اندر چھپے ہوئے معنی کو دریافت کرنا بھی ہے۔
مجموعۂ ’’دستک‘‘ کے مطالعے سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ سیما شکور کے نزدیک اصلاح کا آغاز زبان سے نہیں بلکہ دل سے ہوتا ہے۔ جب دل میں خلوص پیدا ہوگا تو زبان میں مٹھاس آئے گی، جب کردار میں سچائی ہوگی تو تعلقات میں اعتماد بڑھے گا، جب تربیت میں احترام ہوگا تو معاشرے میں تہذیب پیدا ہوگی، جب فیصلوں میں شعور ہوگا تو زندگی کا راستہ بہتر ہوگا۔ اس طرح ان کے مضامین ایک دوسرے سے جدا موضوعات ہونے کے باوجود ایک مشترک اخلاقی فکر میں باہم جڑ جاتے ہیں۔
اختتام :- سیما شکور کا مجموعۂ ’’دستک‘‘ اصلاحی مضمون نگاری کے میدان میں انسانی تعلقات اور اخلاقی اقدار کو موضوع بنانے والی ایک قابلِ توجہ کاوش ہے۔ ’’لمحۂ موجود‘‘ انسان کو حال کی قدر کا احساس دلاتا ہے، ’’پھر محبت کے شجر سوکھ جاتے ہیں‘‘ محبت کی حفاظت کی ضرورت اجاگر کرتا ہے، ’’جب دوستی کے پھول اپنی مہک کھونے لگے‘‘ دوستی میں خلوص اور اعتماد کی اہمیت بیان کرتا ہے، ’’عزت کے دو بول تمہاری تربیت کا پتا دیتے ہیں‘‘ اخلاق اور تربیت کے رشتے کو واضح کرتا ہے، ’’سچے لوگ تنہائیوں کی راہ گزر پہ گزر چلتے ہیں‘‘ سچائی اور اصول پسندی کی قیمت کا احساس دلاتا ہے، جبکہ ’’اپنی زندگی کی کہانی ہم اپنے فیصلوں سے لکھتے ہیں‘‘ فرد کو اپنی زندگی کی ذمہ داری قبول کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یوں ’’دستک‘‘ محض مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کے مختلف دروازوں پر دی جانے والی فکری اور اخلاقی دستک ہے۔ اس کی اصل قدر اسی میں ہے کہ یہ قاری کو دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے اندر جھانکنے، اپنے رشتوں کو پرکھنے، اپنے الفاظ کی ذمہ داری سمجھنے اور اپنے فیصلوں کا احتساب کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہی اصلاحی ادب کا بنیادی مقصد ہے اور یہی سیما شکور کی مضمون نگاری کی سب سے نمایاں ادبی و اخلاقی خوبی قرار دی جا سکتی ہے۔