جبرا تبدیلی مذہب، حقائق اور غلط فہمیاں
مصنف : مفتی احمد اللہ نثار قاسمی صاحب
مبصر : مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی
استاذ حدیث وادب ادارہ کہف الایمان، حیدراباد
ملنے کا پتہ : مدرسہ دار العلوم رشیدیہ ، مہدی پٹنم، حیدرآباد ۔
۔۔۔۔۔۔
اس وقت یہ بات بڑی شد ومد اور وزور وشور کے ساتھ پھیلائی جاتی ہے ، اسلام بزور طاقت، جبر واکراہ کے ذریعہ کے پھیلا یا گیا، حالانکہ اگر اسلامی تاریخ، قرآن اورسیرت نبوی اور مسلمان فاتحین عہد ناموں اور مسلمان حکمرانوں کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واشگاف ہوجائے گی ، کہ نہ مکہ میں نہ مدینہ میں نہ ملک شام، مصر،نہ افریقہ میں نہ ہندوستان میں کہیں پر اسلام کو بزور قوت وجبر اور نہ بزور شمشیر پھیلا یا گیا؛ بلکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام روئے زمین پر محض اپنی عدل وانصاف، یکسانیت ویگانگت اور انسانی طبیعت وفطرت سے ہم آہنگ تعلیمات کی بنیاد پر خطہ ارضی پر پھیلا اور اس وقت بھی پھیلتا جارہے ۔
اس لئے یہ ہرزہ سرائی کرنا کہ اسلام تلوار کے زور پر جبر وکراہ کے ذریعہ پھیلایا گیا، خصوصا ہندوستان کے پس منظر میں یہ بات عام کرنا، یہ ہر دور میں اسلام مخالفین کے اپنے منفی رویہ کا حقیقی غماز ہے ، میرے سامنے ایک شاندار ، قرآن وحدیث، سیرت، وتاریخ اور حقائق پر مشتمل ہے ، جس کا نام ” جبر ا تبدیلی مذہب ، حقائق اور غلط فہمیاں ” اپنے موضوع پر جامع مؤلف محترم مفتی احمد اللہ نثار صاحب قاسمی نقشبندی مجددی ، ناظم دار العلوم رشیدیہ، مہدی پٹنم حیدرآباد نے بڑی تگ ودو اور محنت وجستجو سے مختلف موتیوں کو پرو کر ایک ایسا قیمتی ہار تیار کیا ہے ، جو شاید اس موضوع یکتا اور منفرد کتاب ہے ، جو ہر قسم کے شبہات اور اعتراضات کا معروضی اور حقائق پر مبنی جائزہ پیش کرتی ہے ، بلکہ اس کتاب کا عصری نہج پر انگریزی میں ترجمہ کیا جائے تو اسلام کی بڑی خدمت ہوگی ۔
مؤلف نے کتاب کو چند ایک ذیلی عناوین اور ابواب پر تقسیم کیا ہے ۔
(١) جبرا تبدیلی مذہب کی حقیقت قرآن کی روشنی میں
(٢) جبرا تبدیلی مذہب کی حقیقت سیرت رسول کی روشنی میں
(٣) جبر کفار پر ہوا یا مسلمانوں پر ؟مسلمانوں پر کفار کے ظلم کی وجہ کیا تھی؟
(٤) مذہبی آزادی فہقی وہندوستانی آئین کی روشنی میں
(٥) جبرا تبدیلی مذہب بے جا اعتراضات کے جواباب
(٦) مشترقین کی تاریخ پر لکھی گئی کتابوں میں اسلام دشمنی کا زہر
(٧) ہندوستان میں اشاعت اسلام میں مسلم حکمرانوں کا کردار
(٨) بھارت میں اشاعت اسلام کے اسباب کا تجزیہ
(٩) موجودہ حالات میں مسلمانوں کی دعوتی ذمہ داری۔
پہلے عنوان جبرا تبدیلی مذہب کی حقیقت قرآن کی روشنی میں واضح کی گئی ہے کہ قرآن ببانگ دہل کہتا ہے : ”دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت اور گمراہی دونوں واضح ہیں ، پس جو شخص باطل معبودوں کا انکار کر کے ایک خدا پرایمان لے آئے، اس نے مضبوط چیز کو تھام لیا، جو جدا ہونے والی نہیں ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے ”،جور وظلم، نوک تلوار ، یا زور وجبر اور دباؤ بنا کر خوف وڈر کی کیفیت طاری کر کے جو قبول اسلام کروایا جاتا ہے ، وہ اللہ سبحانہ کے یہاں سرے سے معتبر ہی نہیں،ارشاد خداندوی ہے حضور کو خطاب کر کے”آپ کا کام صرف نصیحت کرنا ہے آپ داروغہ نہیں ہیں کہ ان کو اپنی بات ماننے پر مجبور کریں” اور یہ کہتا ہے ” وماأنت علیہم بجبار” آپ ان پر کوئی زبردستی کرنے والے نہیں اوریہ بھی کہتا ہے ” لکم دینکم ولی دین” میرا دین میرے لئے تمہارا دین تمہارے لئے،اور یہ بھی ارشاد خداوندی ہے : ” اگر آپ کے رب کو منظور ہوتا تو روئے زمین کے تمام لوگ ایمان لے آتے ، پھر کیا آپ لوگوں کو مجبورکریں گے وہ مؤمن ہوجائیں۔
دوسرے عنوان جبرا تبدیلٔ مذہب کی حقیقت کو سیرت رسول کی روشنی میں واضح کیا گیاکہ جنگ بدر کے قیدیوں کو، یہود مدینہ، بنوقیناع، نضیر، قریظہ کو میثاق مدینہ کے توڑنے کے باوجود جلاوطن تو کیا گیا؛ لیکن اسلام پر جبر نہیں، نہ تو یہود خیبر کو نہ اہل مکہ کو نہ اہل مدینہ نہ قبیلہ ہوازن کو، نہ ثمامہ بن اثال کو، نہ صفوان بن امیہ کو، نہ ہند بنت عتبہ کو، نہ زید بن سعنہ کو ، نہ عبد اللہ بن سلام کو، نہحضرت ضماد کو، نہ حضرت عکرمہ کونہ نجران وشام کے نصاری کو کسی پر قبول اسلام کے سلسلہ میں کوئی جبر نہیں کیا گیا۔
تیسرے عنوان کے تحت یہ بتلایا گیا کہ جبر تو مسلمانوں پر ہوا، قبول اسلام پر جبر وظلم کا نشانہ مسلمانوں کو بنایا گیا، حضرت بلال کو، حضرت یاسر کو، حضرت سمیہ کو، حضرت خباب کو، حضرت ابوفکیہہ کو ، حضرت زنیرہ کو، حضرت ابو ذر غفاری کو ، حضرت عثمان کو ، حضرت زبیر بن عوام کو بلکہ خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول اسلام کے بعد جبرواکراہ کیا گیا۔
چوتھے عنوان کے تحت یہ حقیقت واضح کی گئی کہ جبرا تبدیلی مذہب کی تاریخی حقیقت کیا ہے ، ہندوستان میں اسلام عرب تجار کی خوش اخلافی، ہمدردی وغمخواری کے ذریعہ پھیلا، راجہ داہر کے لوگوں نے عرب تجار کی سامان کو لوٹا، راجہ سے استدعا کیا گیا، لیکن کاروائی نہ ہونے پر محمد قاسم کے ذریعہ حملہ کیا گیا، اس طرح سندھ میں اسلام پھیل گیا، راجہ جے پال کی غلطی غزنین پر حملہ نے غزنویوں کو حملہ پر مجبور کیا، پرتھوی راج کے ملتان ، پنجاب لاہور کے غزنویوں کے زیرنگیں علاقوں پر حملہ نے شہاب الدین کو حملہ پر مجبور کیا، سرجادوناتھ، دیگر انگریزمؤرخین، ڈاکٹر ایشوری پرساد کی تحریریں اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں،اگر جبرا اسلام کو پھیلایا گیا تو آگرہ ، دلی ، اودھ ، بہار، دکن وغیرہ میں ان علاقوں کے مسلمانوں کے زیر نگیں ہونے کی وجہ سے یہاں مسلمانوں کی تعداد زائد ہونے چاہئے تھی، آٹھ برس مسلمانوں کی حکمرانی کے باوجود یہاں صرف پندرہ فیصد سے زیادہ مسلمانوں کی تعداد نہیں ہوئی، جب کہ جہاں مسلمانوں کا اقتدار مضبوط نہ تھاجیسے: سندھ، کشمیر اور بنگا ل وغیرہ میں حیرت انگیز طور پر مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی ، بلکہ کم وبیش ساری دنیا پر مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ حکمرانی کے باوجود دنیا کی مجموعی آبادی کا صرف ٢٢فیصد حصہ مسلمان ہے ، یعنی سات ارب میں سے ایک ارب ستر کروڑ، پتہ چلا کہ اسلام بزور طاقت نہیں پھیلا، کیا سمرقند میں قتیبہ کے ذریعہ، اسپین، انڈونیشیا، ملیشیا اور افریقہ میں میں کیا اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلا، دنیا ئے عرب پر مسلمانوں کی ١٤٠٠ سوسالہ حکمرانی کے باوجود دیڑھ کروڑ عربی النسل عیسائی ہیں،موجودہ یورپ کی علمی، سائنسی، معاشی، سیاسی ، ثقافتی تہذیبی بالادستی کے باوجود کیوں کر اسلام روز افزوں ہے،کیا مسلم ممالک میں جبر چل رہا ہے ۔
پانچویں عنوان کے تحت بتلایا گیا کہ مذہبی آزادی فقہی وہندوستانی آئین کی روشنی میں ہونا چاہئے ، جیسا کہ میثاق مدینہ میں چودہ سو سال پہلے ،غیر مسلم رعایا کی جان ومال عزت وآبرو اور مذہبی آزادی کی بات کہی گئی، جس کی واضح مثال اہل ایلیا اور اہل لد کو دیا گیا حضرت عمر کا عہد نامہ اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح کا اہل بعلبک کو دیا گیا عہد نامہ ہے ، تمام ائمہ فقہاء کی وضاحتیں کہ غیر مسلم رعایا بھی تمام معاملات میں مسلمانوں کے مثل سوائے ان معاملات کو جو ان کے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، بلکہ اس کے برخلاف ہندوستانی کے موجودہ حکومتوں نے انسداد جبری تبدیلی مذہب بل کا ہراساں کرنے والا پروپیگنڈہ کیا ، مذہب آزادی کی پامالی ہندوستان آئین وقانونی کی روشنی میں یہ ساری تفصیلات بتائی گئیں۔
چھٹویں عنوان : جبرا تبدیلی مذہب، بے اعتراضات کے جوابات کے جوابات دئے گئے، یہ بتلایا گیا ایمان قلبی اور دلی کیفیت کا نام ہے، جبرا قبول اسلام ہوا تو اختیار ملنے پر وہ کیوں مکر نہیں جاتا،جبرا تبدیلی مذہب ملکی حالات کے تناظر میں ممکن ہی نہیں، خود غیر فکر کریں کہ غیر مسلم مذہب کیوں چھوڑ رہیں، اسلام کیوں قبول کررہے ہیں،جزیہ یہ صرف حکومت مصارف کا بدلہ ہے ، جزیہ کے بالمقابل مسلمانوں سے زکوة،صدقات ، عشر لئے جاتے ہیں،البتہ حدود وقصاص بطور جبر نہیں بطور تادیب وتعزیز کے ہیں،ارتداد پر سزا ملک کے باغی کے سزا کے مثل ہے ، جہاد میں اولا قبول اسلام کی بات ہے ، پھر قبول جزیہ اور تابعداری پھر جہاد ہے، شمشیر کا استعمال تابعدای قبول کرنے کے لئے ہے، تمام غزوات میں مخالفین کے کل قیدی ٦٥٦٤اور کل مقتول ٧٥٩ اور مسلمانوں میں کل شہید ٢٥٠، جس میں رسول اللہ ۖ نے ٦٣٤٨ قیدیوں کو آزاد کیا،اس کے مقابل دونوں جنگ عظیم میں کروڑوں لوگ مقتول ہوئے، وطنی غیر وطنی کے معیار پر خود ہندو بھی وطنی شمار نہیں ہوتے،خود ہندو برہمن ہندوستان میں حملہ آوروں کے شکل میں آئے، مسلمان حکمرانوں کا حملہ ظالم حکمرانوں کے خلاف تھا، نہ کہ کافروں کے خلاف، مسجد منہدم کر کے مندر کون بنارہا ہے، بعض مندروں کے مسلم دور حکومت انہدام کی وجہ زناکاری اوربدکاری تھی، مسلم حکمرانوں کے دور حکومت میں بے اجازت کی مندریں ڈھائیں گئی تو مسجدیں بھی ڈھائی گئیں۔
ساتویں عنوان کے تحت بتلایا گیا کہ مستشرقین نے بعد میں ملمع سازی کر کے تاریخ میں اسلام دشمنی پر مبنی زہر افشانی کی ہے ، ہسٹری آف انڈیا اور آکسفورڈ ہسٹری آف انڈیا، الیٹ اور ڈاؤس ، ایم اے ٹائٹس کی اسلام دشمنی کو واضح کیاگیا، جرجی زیدان ، پروفیسر آرنلڈ، سرجادوناتھ ، ایشوری پرسادسری رام شرما اور آشروادی لال کی تاریخی زہرافشانی، ان کے پھیلائے کئے زہریلے اثر سے بچنے کے لئے علامہ شبلی کی حقوق الذمیین، الجزیہ، تاریخ تمدن اسلام اور سیرت النبی کے مطالعہ کی ضرورت کو بیان کیا گیا۔
آٹھویں عناوین کے تحت یہ بتلایا گیا کہ عرب تجار، صوفیاء وعلماء کرام اور ساتھ میں مسلم حکمرانوں کا تعاون نہ ہوتا تو ہندوستان میں اسلام پھیلا نہ ہوتا ۔
نویں عنوان میں بھارت میں اشاعت اسلام کے اسباب کا تجڑیہ کیاگیا: تجزیہ کے بعد وہی نتائج پیش کئے گئے کہ اسلام ہندوستان میں عرب تجار کی مساعی، سلاطین کا پے درپے حملہ ، مسلمانوں کی آمد، غیر مسلم رعایا کو اپنے سماج میں بلافرق وامتیاز جذب کرلینا، علماء کی تدریسی ، تقریری وتحریری خدمات، صوفیاء کرام کی آمد ان کی جدوجہد، ذات پات کی تفریق سے نفرت وبیزاری ان مجموعی نتائج کی روشنی میں ہندوستان میں اسلام کی اشاعت ہوئی ۔
اخیرش موجودہ حالات میں مسلمانوں کی دعوتی ذمہ داری کو سیرت کے واقعات اور صحابہ کی فتوحات ،تاتاریوں ، سلجوقیوں ، الجزائر، انڈونیشیاء ، ہندوستان،سراندیپ اور ملیبار میں قبول اسلام کی تاریخ کی روشنی میں سمجھایا گیا۔
کتاب نہایت پرمغز ، دلائل سے مزین، موضوع پر کافی وشافی ہے۔