سود کی لعنت اور اس کا علاج

سود کی لعنت اور اس کا علاج

سود کی لعنت اور اس کا علاج(۱)

شمع فروزاں
2026.09.18

ازقلم: مولانا خالد سیف الله رحمانی

اسلام نے سود کو نہایت مذموم ، حد درجہ ناپسندیدہ گناہ اور ظالمانہ فعل قرار دیا ہے ، قرآن مجید میں چار آیتوں میں سود کی مذمت اور ممانعت ہے ، ارشاد فرمایا گیا کہ سود خوار قیامت کے دن اس طرح اٹھیںگے کہ گویا وہ آسیب زدہ ہیں ، (البقرۃ : ۲۷۵) یہ بھی فرمایا گیا کہ اگر سود چھوڑنے کو تیار نہ ہو تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ ، (البقرۃ : ۲۷۸)یہودی سود خواری میں پیش پیش تھے ، ان کی اس بری حرکت کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ، (النساء : ۶۰) یہ بھی ارشاد ہوا کہ سود کا لین دین مال میں اضافہ کے لئے کرتے ہو ؛ لیکن اللہ کے نزدیک اس سے مال میں حقیقی اضافہ نہیں ہوگا اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے جذبہ سے جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ، اس میں اللہ کی طرف سے برکت ہوگی اورکئی چند اضافہ ہوگا ۔ (الروم : ۳۹)
رسول اللہ ﷺ نے سود کی اس درجہ مذمت فرمائی ہے کہ کم گناہ ہوں گے ، جن کی اس درجہ مذمت کی گئی ہوگی ، اور اس کا کم تر درجہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے ، (مستدرک حاکم : ۲؍۳۷، علی شرط الشیخین ) حضرت عبد اللہ بن حنظلہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کے ایک درہم کو چھتیس زنا سے بڑھ کر قرار دیا ہے ، (الترغیب والترہیب : ۳؍۷) عوف بن مالک ؓ راوی ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان گناہوں سے خوب بچو ، جو بخشے نہیں جائیں گے ، پھر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ سود کھانے والا قیامت کے دن مخبوط الحواس مجنون کی صورت میں اُٹھایا جائے گا ۔( مجمع الزوائد : ۴؍۱۱۰)
ایک موقع پر آپ ﷺ نے سات مہلک چیزوں کا ذکر کیا ، اور ان اُمور کو گناتے ہوئے پانچویں نمبر پر سود کھانے کا ذکر فرمایا ، (بخاری ، حدیث نمبر : ۲۷۶۶) اسلام کی نگاہ میں سود کی شناعت کا یہ حال ہے کہ آپ ﷺ نے نہ صرف سود لینے کو ؛ بلکہ سودی کاروبار میں ہر طرح کے تعاون کو بھی باعث ِلعنت قرار دیا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو سود لینے والے ، سود دینے والے ، سودی معاملہ میں گواہ بننے والے اور سودی کاروبار کو لکھنے والوں پر ۔ (دیکھئے : الترغیب والترہیب :۳؍۵)
اور بعض روایتوں میں ہے کہ وہ سب برابر ہیں ، (مسلم ، عن جابر ؓ ، حدیث نمبر : ۱۵۹۸)حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے آپ ﷺ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ جس قوم میں زنا اور سود عام ہوجائے ، اس نے اپنے آپ کو عذابِ الٰہی کا مستحق بنالیا :
ما ظہر في قوم الزنا والربوا إلا أحلوا بأنفسہم عذاب اللّٰه ۔ (مستدرک حاکم : ۲؍۳۷، الترغیب والترہیب : ۳؍۸)
اور اس دَور میں سود خوری کی جو کثرت ہے ، وہ اس پیشین گوئی کی عملی تصدیق ہے ؛ کیوںکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے قریب سود ، زنا اور شراب کی کثرت ہوجائے گی ۔ (الترغیب و الترہیب : ۳؍۹)
اسلام کی نظر میں سود کی جو شناعت ہے ، اس کے تحت آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع سے مجمع عام میں اس کی حرمت کا اعلان فرمایا ، آپ ﷺ نے فرمایا : زمانۂ جاہلیت میں جو سود کا رواج تھا ، اسے میں اپنے قدموں کے نیچے دفن کرجاتاہوں اور سب سے پہلے اپنے چچا عباس بن عبد المطلب ؓ کے سود کو کالعدم قرار دیتا ہوں ، (مسلم ، حدیث نمبر : ۱۲۱۸، عن جابر بن عبد اللہ ؓ )سود کے سلسلہ میں شریعت ِاسلامی میں جو سخت رویہ اختیار کیا گیا ہے ، اس پس منظر میں سلف صالحین نے ہمیشہ اس میں احتیاطی پہلو کو اختیار کیا ہے ، حضرت عمر ؓ تلقین فرمایا کرتے تھے کہ سود سے بھی بچو اور شبہ سود سے بھی ، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے تھے کہ اگر اسلامی حکومت میں کوئی شخص سودی کاروبار میں ملوث ہو تو امام المسلمین کی ذمہ داری ہے کہ اس سے تائب ہونے کا تقاضہ کرے اور اگر وہ تائب نہیں ہوتو اس کی گردن اُڑادے :
حق علی إمام المسلمین أن یستتیبہ فإن رجع و إلا ضرب عنقہ ۔ (شرح الترغیب والترہیب : ۳؍۱۵)
سود کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کو خود رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمادیا ہے ، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دینار کا دینار سے اس طرح تبادلہ ہونا چاہئے کہ کسی طرف سے کمی بیشی نہیں ہو ، درہم کا درہم سے تبادلہ اس طرح ہونا چاہئے کہ کمی بیشی نہ ہو : الدینار بالدینار لا فضل بینہما الخ (مسلم ، حدیث نمبر : ۱۵۸۸) کیوںکہ اس تبادلہ میں کمی بیشی ہوتو سود ہے ، دینار سونے کا سکہ تھا اور درہم چاندی کا ، موجودہ دور میں کاغذی نوٹ سونے سے مربوط ہیں ؛ اس لئے جو حکم دینار کے دینار اور درہم کے درہم سے تبادلہ کا ہے ، موجودہ دور میں روپیہ یا کسی ملک کی کرنسی کا اسی ملک کی کرنسی سے تبادلہ ہو ، اس کا بھی یہی حکم ہوگا ، اگر کسی شخص کو روپے دئے جائیں اور اس سے زیادہ روپے وصول کئے جائیں یا کسی مالی ادارہ میں روپیہ جمع کیا جائے اور جمع کردہ رقم سے زیادہ رقم وصول کی جائے تو یہ بھی یقیناً سود ہی کی ایک صورت ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی شریعت کا خطاب پوری دنیا کے مسلمانوں سے ہے ؛ اس لئے جو بھی حلال وحرام کے احکام ہیں ، اگر قوی دلیل کے ذریعہ ان میں استثناء ثابت نہ ہو تو وہ حکم پوری دنیا کے مسلمانوں سے متعلق ہوگا ، خواہ وہ کسی مسلمان ملک میں رہتاہو، یا ایسے ملک میں جس میں زمام اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہو ؛ چنانچہ امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمدؒ اور اکثر فقہاء ومحدثین کی رائے یہی ہے کہ سود جیسے دار الاسلام میں حرام ہے ، اسی طرح دار الکفر میں بھی ، (المدونۃ الکبری : ۳؍۲۷۹، شرح المہذب : ۱؍۳۹۱، المغنی : ۴؍۴۷) البتہ امام ابوحنیفہؒ اور امام محمدؒ کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ دار الحرب میں حربی کو قرض دے کر زائد رقم لینا جائز ہے ۔
مگر یہ بات قابل غور ہے کہ کیا ہندوستان دار الحرب ہے ؟ امام ابوحنیفہؒ نے کسی ملک کے دار الحرب بننے کے لئے تین شرطیں لگائی ہیں : اول یہ ہے کہ وہاں احکامِ کفر جاری ہوں ، دوسرے : اس علاقہ کا اتصال دار الکفر سے ہو ، کسی اسلامی ملک سے نہ ہو ، تیسرے : مسلمانوں کے عہدِ حکومت میں مسلمانوں کو جو امان یعنی شہریت حاصل تھی ، وہ سابقہ استحقاق کی بنیاد پر باقی نہیں رہے ، (بدائع الصنائع : ۶؍۱۱۲) اب غور کیجئے تو ہندوستان کا اتصال پاکستان ، بنگلہ دیش اوربحری اعتبار سے مالدیپ جیسے ملکوں سے ہے ، جو مسلمان ممالک ہیں ، دوسرے : اس ملک میں مسلمانوں کو مسلم عہدِ حکومت سے جو شہریت حاصل تھی ، تسلسل کے ساتھ وہی شہریت باقی ہے ، اور انگریزوں کے آنے یا انڈین یونین بننے کی وجہ سے از سرنو ان کو شہریت حاصل نہیں کرنی پڑی ، تو دوسری اور تیسری شرط تو یقینی طور پر موجود نہیں ہے ، اور جہاں تک احکامِ کفر جاری ہونے کی بات ہے ، تو یہاں جو احکام جاری ہوتے ہیں ، وہ تمام گروہوں کی نمائندگی کرتے ہیں ، خود ہندوستان میں مسلمانوں کے حق میں نکاح وطلاق ، میراث اور دوسرے عائلی مسائل میں شریعت ِاسلامی پر عمل کیا جاتا ہے ؛ حالاںکہ ہندو اکثریت پر ہندو عائلی قانون نافذ نہیں ہے ؛ اس لئے یہ بات بھی محل غور ہے کہ کیا ہندوستان میں اہل کفر کا قانون بمقابلہ مسلمانوں کے غالب ہے ؟
علامہ شامیؒ نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کسی علاقہ میں مسلمانوں کے قوانین بھی چلتے ہوں اور اہل شرک کے قوانین بھی تو اسے دار الحرب نہیں سمجھاجائے گا :
لو أجریت أحکام المسلمین وأحکام أھل الشرک لا تکون دار حرب ۔ (رد المحتار : ۶؍۲۸۸)
اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان دار الحرب نہیں ہے ؛ کیوںکہ یہاں مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے احکام جاری ہیں ۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ دار الحرب میں سود لینے کی اجازت اس ملک میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے نہیں ہے ؛ بلکہ ان مسلمانوں کے لئے ہے جو کسی مسلمان ملک کے باشندے ہوں اور ویزا لے کر وقتی طور پر دار الحرب میں آئے ہوئے ہوں ، مختلف فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے اور علامہ شہاب الدین چلپیؒ نے بہت وضاحت سے اس کو اس طرح بیان کیا ہے :
جو مسلمان دار الحرب میں امان (ویزا) لے کر داخل ہو ، دو درہم کے بدلے ایک درہم فروخت کرے یا شراب یا خیزیر یا مردار فروخت کرے یا ان کے ساتھ جوا کھیلے اور مال لے لے ، تو حلال ہے ۔ (حاشیہ شہاب الدین چلپی علی تبیین الحقائق :۴؍۹۷)
گویا اگر ہندوستان کو دار الحرب مان بھی لیا جائے تو یہ اجازت ہندوستان کے مسلمان باشندوں کے لئے نہیں ہے ۔
یہ تو ایک پہلو ہے ، دوسرا پہلو خود سودی قرض حاصل کرنے والوں سے متعلق ہے — جیسا کہ ذکر کیا گیا — جیسے سود کا لینا حرام ہے ، اسی طرح سودی قرض حاصل کرنا اور اس پر سود ادا کرنا بھی حرام ہے ، رسول اللہ ﷺنے دونوں پر لعنت فرمائی ہے ، اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ سود لینے اور دینے والا دونوں برابر ہے : … الآخذ والمعطی فیہ سواء (صحیح مسلم ، کتاب المساقاۃ ، باب الصرف وبیع الذہب بالورق نقدا ، حدیث نمبر : ۱۵۸۴) کیوںکہ اگر سود لینے والے افراد کسی سماج میں نہ ہوں ، تو سود خواروں کا کاروبار خود بخود بند ہوجائے گا ؛ اس لئے مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ آخری حد تک اپنے آپ کو سود سے بچائیں ، شادی کی فضولیات کے لئے ، عید کے کپڑوں کے لئے ، دعوتوں اور سماجی تقریبات کے لئے اوراس طرح کی دوسری چیزوں کے لئے سود پر قرض حاصل کرنا قطعا حرام ہے ؛ اس لئے اپنے آپ کو فضول خرچی سے بچائیں، اس وقت ہمارے سماج میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جو کوشش ہورہی ہے ، اس سے ہمیں اپنے آپ کو دُور رکھنا ہے ، پریشانیوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیداکریں اور محبت اور جفاکشی کے ذریعہ اپنی ضرورت پوری کریں ؛ لیکن سود خواروں کے دروازوں پر نہ پہنچیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی دنیا میں کسب ِمعاش کے مواقع بہت بڑھ گئے ہیں ، ہرشعبۂ زندگی میں افرادی وسائل کی ضرورت ہے اور بہت سے ایسے فنی کام ہیں ، جن کو سیکھنے کے لئے تعلیم کی بھی ضرورت نہیں ، اسی طرح بہت سے ایسے کام ہیں ، جن کو غیر تعلیم یافتہ خواتین بھی معمولی تربیت کے ذریعہ انجام دے سکتی ہیں ، اگر لوگوں میں محنت اور جفاکشی کا مزاج پیداہوجائے ، ہر طرح کے جائز کام انجام دینے کے لئے لوگ تیار ہوں ، آمدنی کی ایک خاص مقدار اور زندگی کے لئے ایک خاص معیار پہلے سے اپنے ذہن میں نہیں رکھیں اور اپنے پیشہ کے ساتھ پوری وفاداری برتیں اور دیانت ، امانت اور وعدہ کی پابندی کے ساتھ خدمت انجام دیں تو کسی کے بے روزگار رہنے کی نوبت نہیں آئے گی ؛ اس لئے ضرورت ہے کہ ہم معاشرہ میں محنت ، جفاکشی ، صبر و قناعت ، آمد و خرچ میں تنظیم کا مزاج پیدا کریں اور رفاہی تنظیمیں سلم آبادیوں میں ایسے ووکیشنل کورسز کا انتظام کریں ، جن کے ذریعہ ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ مرد وخواتین باعزت روز گار حاصل کرسکیں ۔ (جاری)

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے