مادرِ علمی اشرف العلوم حیدرآباد کے محسن اساتذہ کے نام. پچیس سالہ تدریسی خدمات پر خراجِ تحسین — ایک شاگرد کے دل کی آواز

مادرِ علمی اشرف العلوم حیدرآباد کے محسن اساتذہ کے نام.  پچیس سالہ تدریسی خدمات پر خراجِ تحسین — ایک شاگرد کے دل کی آواز

مادرِ علمی اشرف العلوم حیدرآباد کے محسن اساتذہ کے نام
پچیس سالہ تدریسی خدمات پر خراجِ تحسین — ایک شاگرد کے دل کی آواز

از قلم: احسان شاہ قاسمی نرمل

ادارے صرف اینٹ، پتھر اور دیواروں سے نہیں بنتے؛ بل کہ وہ اخلاص، قربانی، علم، تربیت اور بزرگوں کی دعاؤں سے وجود میں آتے ہیں۔ اور بعض اساتذہ صرف سبق نہیں پڑھاتے، بلکہ نسلیں بناتے ہیں، کردار تراشتے ہیں، دلوں میں ایمان کی شمع روشن کرتے ہیں اور اپنی پوری زندگی کو قوم و ملت کی علمی و دینی تعمیر کے لیے وقف کردیتے ہیں۔
ریاست تلنگانہ کی معروف دینی درسگاہ ادارہ اشرف العلوم میرے لیے محض ایک دینی ادارہ نہیں، بلکہ میرا مادرِ علمی ہے؛ وہ مقدس درسگاہ جہاں سے علم کی روشنی، دین کی محبت، اکابر سے نسبت اور خدمتِ خلق کا جذبہ لے کر ہزاروں فضلاء دنیا کے مختلف گوشوں میں دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ جب کبھی مادرِ علمی ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد کی نورانی فضاء، رحابِ مدرسہ میں اکابر علماء دیوبند کے نفوسِ قدسیہ کی آمد ورفت، روحانی سرگرمیاں، تعلیمی وتربیتی جولانیاں اور حضرت ناظم ناظم صاحب کی امت کے تئیں فکر وکڑھن تصور کی اسکرین پر گھوم جاتی ہیں تو ذہن کے نقارخانے میں کلامِ نفیس کے یہ زمزمے گونجنے لگتے ہیں اور بے اختیار یہ اشعار قلم کی نوک پر رقص کرنے لگتے ہیں….
یہاں اک نِگار ہے خیمہ زن، یہ حریم حسن نگار ہے
یہاں محو جلوہۂ سرمدی، وہ ہزار رشکِ بہار ہے
یہاں قُدسیوں کا نزول ہے یہ دلیل حُسنِ قبول ہے
کہ نفَس نفَس کو جو ہے سکون تو نظَر نظَر کو قرار ہے

آج جب اسی مادرِ علمی کی سرزمین پر اُن عظیم اساتذۂ کرام کی 25 سالہ طویل، مسلسل اور قابلِ قدر تدریسی خدمات کے اعتراف میں تہنیتی تقریب منعقد ہورہی ہے، تو دل بے اختیار ماضی کی اُن یادوں میں کھو جاتا ہے جب ہم طالب علم تھے، اور ہمارے سامنے ہمارے اساتذہ علم و عمل کے چراغ بن کر کھڑے تھے۔
یہ پچیس سال محض ایک عدد نہیں؛ یہ ہزاروں اسباق، لاکھوں الفاظ، بے شمار راتوں کی محنت، طلبہ کی اصلاح، ان کی تربیت، ان کے سوالات کے جوابات، ان کی لغزشوں کی اصلاح اور نہ جانے کتنے دلوں کو علم و ہدایت سے جوڑنے کی ایک عظیم داستان ہے۔
میرے اساتذہ! آپ نے صرف ہمیں پڑھایا نہیں، ہمیں بنایا ہے
اس موقع پر بالخصوص ادارے کے روحِ رواں، صاحبِ علم و فضل، مربی و محسن حضرت مولانا محمد عبدالقوی صاحب مدظلہ اور اُن کے ساتھ اپنی زندگی کے قیمتی 25 سال تدریس و تربیت کے لیے وقف کرنے والے محترم اساتذہ: حضرت مولانا مفتی عبدالعزیز لحجی صاحب مدظلہ
حضرت مولانا کبیرالدین صاحب قاسمی مدظلہ
حضرت مفتی اسعداللہ صاحب قاسمی مدظلہ
حضرت مولانا مفتی عبدالرحمٰن صاحب کرنول
حضرت مولانا محمد عباس صاحب قاسمی مدظلہ بہرائج
حضرت مولانا مفتی لقمان صاحب مظاہری مدظلہ
حضرت مولانا محمد احسان الحق صاحب قاسمی گورکھپوری مدظلہ
حضرت مولانا اشفاق احمد صاحب مدظلہ
حضرت مولانا مشتاق احمد صاحب مدظلہ
حضرت مولانا محمد شریف احمد مظاہری صاحب ثم القاسمی مدظلہ
حضرت مولانا محمد مصدق القاسمی صاحب مدظلہ
ان کے علاوہ تمام خدامِ مدرسہ کی خدمت میں دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین و عقیدت پیش کرتا ہوں۔
یقینا آپ حضرات کی خدمات کو الفاظ میں سمیٹنا ایسا ہی ہے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی جائے۔
آپ نے کتابیں پڑھائیں، مگر اس سے بڑھ کر زندگی جینے کا سلیقہ سکھایا۔
آپ نے مسائل سمجھائے، مگر اس سے بڑھ کر دین کی روح سے آشنا کیا۔
آپ نے عبارتیں پڑھائیں، مگر اس سے بڑھ کر کردار کی تعمیر کی۔
آپ نے صرف ذہنوں کو نہیں، دلوں کو بھی روشن کیا۔

آج ادارہ اشرف العلوم کے ہزاروں فضلاء کا اجتماع دراصل آپ حضرات کی اُن خاموش قربانیوں کی زندہ تصویر ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں دین کی خدمت انجام دینے والے بے شمار علماء، ائمہ، خطباء، مدرسین اور خدامِ دین آپ کی اسی شبانہ روز محنت کے ثمرات ہیں۔
ایک استاد کی اصل کامیابی اُس وقت سامنے آتی ہے جب اُس کا شاگرد اُس کے علم کو آگے پہنچاتا ہے؛ اور آج اشرف العلوم کے ہزاروں فضلاء آپ حضرات کی علمی میراث کے امین ہیں۔

کاش! آج میں بھی وہاں ہوتا…اس پُرنور اور یادگار تقریب میں شریک نہ ہو پانا میرے لیے ایک گہرے قلبی افسوس کا باعث ہے۔ دل چاہتا تھا کہ مادرِ علمی کی اُس سرزمین پر حاضر ہوتا، اپنے محسن اساتذہ کی خدمت میں سلامِ عقیدت پیش کرتا، اُن کے سامنے بیٹھ کر اُن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا، اور اُن ہزاروں فضلاء کے درمیان کھڑے ہوکر یہ کہتا: "ہم آپ کے شاگرد ہیں، آپ کی محنتوں کے گواہ ہیں، آپ کے احسانات کے مقروض ہیں اور آپ کی دعاؤں کے محتاج ہیں۔”مگر بیماری کے باعث اس عظیم اور بابرکت تقریب میں شرکت سے محرومی نے دل کو واقعی افسردہ کردیا ہے۔
جسم وہاں نہ پہنچ سکا، مگر دل آج بھی اشرف العلوم کی اُن مقدس درسگاہوں میں موجود ہے۔
میری غیر حاضری کو محض غیر حاضری نہ سمجھا جائے؛ یہ ایک ایسے شاگرد کی مجبوری ہے جس کا دل اپنے اساتذہ کے درمیان حاضر ہونے کے لیے بے قرار تھا۔
اے میرے محسن اساتذہ!
آپ نے جو چراغ جلائے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں قیامت تک روشن رکھے۔آپ کی زبان سے نکلنے والا علم، آپ کے قلم سے لکھی ہوئی تحریر، آپ کی کلاس میں دیا گیا ہر سبق، کسی طالب علم کی کی گئی ہر اصلاح اور کسی نوجوان کے دل میں پیدا کیا گیا دین کا ہر جذبہ—اللہ تعالیٰ کے یہاں آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بنے۔
اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی عمر، صحت، علم، عمل اور اخلاص میں برکت عطا فرمائے، آپ کی خدمات کو شرفِ قبول بخشے، آپ کے درجات بلند فرمائے، اور آپ کو دنیا و آخرت کی بے شمار نعمتوں سے نوازے۔

اشرف العلوم ہمیشہ آباد رہے، علم کے یہ چشمے ہمیشہ جاری رہیں، فضلاء کی یہ کہکشاں ہمیشہ روشن رہے، اور ہمارے اساتذۂ کرام کا فیض نسل در نسل منتقل ہوتا رہے۔
آخر میں اپنے تمام محسن اساتذۂ کرام کی خدمت میں دل کی گہرائیوں سے عرض ہے:
آپ ہمارے لیے صرف استاد نہیں؛
ہماری علمی زندگی کے معمار ہیں۔
آپ صرف ماضی کی یاد نہیں؛
ہماری موجودہ شناخت اور مستقبل کی روشنی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ کے حقوق ادا کرنے، اُن کی قدر پہچاننے اور اُن کے علمی و تربیتی مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

بارک اللہ فیکم، وجزاکم اللہ عنا وعن جمیع طلاب العلم خیر الجزاء۔

دعاگو و ممنون: مفتی احسان شاہ قاسمی نرمل

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے