بارود کی زد میں خلیج: سعودی عرب اور انصار اللہ کے تصادم کا نیا دور
(امن کی نازک امیدیں خاک میں: فائر بندی کا خاتمہ اور وسیع تصادم کا ڈر)
ازقلم: اسماء جبین فلک
یمن کی انصار اللہ تحریک نے 8 ستمبر 2026 کو سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران پر وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں سعودی حکام کے مطابق 73 افراد زخمی ہوئے۔ انصار اللہ کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ تحریک نے درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ارامکو کی تنصیبات، جازان پرائمری اینڈ ڈاؤن اسٹریم انڈسٹریز اور خمیس مشیط کے نزدیک شاہ خالد ایئربیس کو نشانہ بنایا ہے۔ ادھر سعودی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ متعدد توانائی تنصیبات اور عوامی خدمات کے مراکز میں آتشزدگی کے باعث کام عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔ سعودی زیرِ قیادت عسکری اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ان حملوں کو "خطرناک اشتعال انگیزی” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اتحاد آئندہ ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات عمل میں لائے گا۔
یہ حملے یمن کے اندر جاری خونریز جھڑپوں کے تناظر میں کیے گئے، جہاں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی افواج تعز، الحدیدہ اور الجوف کے صوبوں میں انصار اللہ کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ سریع کے مطابق یہ کارروائی سعودی عسکری کارروائیوں کی "شدید جارحیت” کا جواب تھی، اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران انصار اللہ کے زیرِ نگیں علاقوں پر 121 فضائی حملے کیے گئے۔ انہوں نے الجوف کے صوبائی دارالحکومت الحزم کی ایک جیل پر پیر کے روز ہونے والی اس فضائی بمباری کا حوالہ بھی دیا، جس میں انصار اللہ کے حکام کے مطابق قیدی اور زائرین لقمۂ اجل بنے۔
یمن کے موجودہ تنازعے کی جڑیں 2004 تک پھیلی ہوئی ہیں، جب حسین بدرالدین الحوثی کی قیادت میں حوثی بغاوت کا آغاز ہوا تھا۔ سال 2014 میں انصار اللہ نے صنعاء کا کنٹرول سنبھالا، جس کے بعد 2015 میں سعودی زیرِ قیادت اتحاد کی باقاعدہ عسکری مداخلت شروع ہوئی۔ اپریل 2022 میں اقوامِ متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی، جو اکتوبر 2022 میں رسمی توسیع کے بغیر بظاہر ختم ہو گئی، مگر عملی طور پر ایک غیر مستحکم فائر بندی قائم رہی۔ تاہم یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے خبردار کیا ہے کہ 2022 کی فائر بندی کے بعد اب یمن کو دوبارہ بڑے پیمانے پر خونریز تصادم کا سب سے سنگین خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔
اس تصادم کی ایک نئی اور حساس جہت سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین مبینہ انٹیلی جنس تعاون کی اطلاعات ہیں۔ ‘دی یروشلم پوسٹ’ کے مطابق علاقائی سفارت کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی وساطت سے ریاض اور تل ابیب کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں تاکہ ریاض کو انصار اللہ کے خلاف انٹیلی جنس معلومات فراہم کی جا سکیں۔ روزنامہ ‘اسرائیل ہیوم’ کے مطابق، سفارتی اور سیکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ رابطے سینٹ کام کے ذریعے جاری ہیں، جن کا موجودہ دائرہ کار صرف انٹیلی جنس امداد تک محدود ہے تاکہ سعودی عرب کے اہم بنیادی ڈھانچے اور تزویراتی اہداف کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، سعودی درخواست کا بنیادی مقصد انصار اللہ کی فوجی تعیناتیوں کا جامع نقشہ تیار کرنا اور ان کے مستقبل کے جنگی منصوبوں کی بروقت نشاندہی کرنا تھا۔
تاہم سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ میں سے کسی نے بھی اس امر کی باضابطہ تصدیق نہیں کی کہ ریاض نے اسرائیلی انٹیلی جنس معاونت طلب کی ہے۔ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور دونوں ممالک کے مابین کوئی سفارتی تعلقات بھی موجود نہیں ہیں۔ یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انصار اللہ کے خلاف براہِ راست عسکری مداخلت کی درخواست مسترد کر دی۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، فوج نے ملکی سیاسی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انصار اللہ پر قبل از وقت حملے یا اسرائیل کو محاذ آرائی میں جھونکنے سے گریز کرے اور اس کے بجائے بین الاقوامی و علاقائی اتحاد کی تشکیل پر توجہ مرکوز رکھے۔
پاکستان نے انصار اللہ کے تازہ حملوں کے بعد اپنے دفاعی معاہدوں کے تحت فوری براہِ راست عسکری کارروائی سے گریز کی راہ اختیار کی ہے۔ 7 اگست 2026 کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کی رو سے تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع کا طریقہ کار طے پایا اور کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا گیا۔ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے مطابق: "بغیر کسی اشتعال کے جارحیت کی صورت میں، یا یمن کی جنگ سعودی حدود تک پھیلنے پر، یہ معاہدہ بلاشبہ فعال ہو جائے گا”۔ البتہ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی بنیاد "مشترکہ دفاعی مزاحمت” پر ہے اور اس کے پسِ پشت کوئی علاقائی عزائم کارفرما نہیں ہیں۔
11 ستمبر 2026 کو سعودی عرب نے تصدیق کی کہ عراق کی حدود سے داغے گئے ڈرونز نے مشرقی مغربی پائپ لائن کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تیل کی فراہمی عارضی طور پر روکنی پڑی۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے ریاض اور مدینہ منورہ کے علاقوں میں مشرقی مغربی پائپ لائن پر عراقی سمت سے کیے گئے ان حملوں کی شدید مذمت کی، جن میں جانی و مالی نقصان بھی ہوا۔ یہ پائپ لائن ابقیق کے آئل پروسیسنگ پلانٹ کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے متبادل راستے کے طور پر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ عراقی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے میسان صوبے کے کمانڈر کو فوری طور پر معطل کر دیا کیونکہ حملے کے لیے عراقی سرزمین استعمال ہوئی تھی۔ البتہ یہ حقیقت واضح رہے کہ پائپ لائن پر یہ حملہ انصار اللہ کے کھاتے میں نہیں جاتا، بلکہ عراقی حدود سے سرزد ہوا۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انصار اللہ کو "ایرانی ایجنٹ اور نمائندہ” قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس ساری کارروائی کی پشت پناہی واضح طور پر تہران کر رہا ہے۔ اس کے برعکس، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ مارکو روبیو کے جھوٹ حقائق کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ انصار اللہ ایک خود مختار یمنی قوت ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے؛ وہ نہ کسی کے زیرِ فرمان ہے اور نہ کسی کی نیابت کرتی ہے۔ ایرانی ترجمان کے بقول، خطے میں جاری عدم استحکام کا اصل محرک امریکہ کی فوجی مداخلت اور تسلط پسندانہ پالیسیاں ہیں، لہٰذا یمن میں پائیدار امن کے لیے بمباری اور دباؤ کے بجائے حقیقی مذاکرات ناگزیر ہیں۔
انسانی المیے کے اعتبار سے یمن کی صورتِ حال بدترین تباہی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر کی رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2026 کے ابتدائی ایام سے اب تک جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 125,000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ یکم سے 14 ستمبر کے دوران 40 عام شہری جاں بحق ہوئے، جن میں نصف سے زائد خواتین اور بچے شامل تھے۔ اس وقت یمن میں 18.3 ملین افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جب کہ 2.2 ملین سے زائد بچے بھوک کی تباہ کاریوں کے نرغے میں ہیں۔ اوچا کے مطابق، سال 2026 کے دوران یمن کی 22 ملین سے زائد آبادی کو فوری انسانی امداد اور تحفظ درکار ہے، جن میں 5.2 ملین اندرونِ ملک بے گھر ہونے والے افراد شامل ہیں۔
15 ستمبر 2026 کو سعودی اتحاد نے دعویٰ کیا کہ اس نے مکہ مکرمہ کے جنوبی رخ پر فضا میں ایک ڈرون کو اس وقت تباہ کر دیا جب وہ مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے والا تھا۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے خبردار کیا کہ حرمین شریفین اور زائرین کا تقدس و تحفظ وہ "سرخ لکیر” ہے جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ تاہم انصار اللہ کے سیاسی شعبے کے رکن حازم الاسد نے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے اسے ایک فرسودہ، بےبنیاد الزام اور پروپیگنڈہ قرار دیا اور کہا کہ مکہ مکرمہ کو ہدف بنانے کے بے بنیاد بیانات دراصل عوام کو گمراہ کرنے کا پرانا حربہ ہیں۔
سعودی عرب اور انصار اللہ کے تازہ تصادم نے ایک پیچیدہ بحران کو جنم دیا ہے، جس میں عسکری، سفارتی، اقتصادی اور انسانی پرتیں باہم الجھ چکی ہیں۔ سعودی تنصیبات پر حملے، آبنائے باب المندب پر انصار اللہ کا اثر و رسوخ، ایران کی لاتعلقی، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا عملی تعطل، عراق کی حدود سے پائپ لائن پر وار اور اندرونِ یمن انسانی المیہ اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے مبینہ خفیہ رابطوں کی خبروں نے اس الجھن کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ کا یہ انتباہ اب نوشتۂ دیوار بن چکا ہے کہ خطہ 2022 کے بعد دوبارہ ایک ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اگر عالمی طاقتوں اور علاقائی فریقین نے ہٹ دھرمی چھوڑ کر فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کی راہ نہ اپنائی، تو یہ سلگتی چنگاریاں ایک ایسے وسیع علاقائی الاؤ کی شکل اختیار کر لیں گی جس پر قابو پانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔