یو پی آئی پر فیس: ڈیجیٹل انڈیا کے لیے بریک یا نیا بحران؟
از قلم: ایڈوکیٹ طاہر حُسین
حکومتِ ہند اور نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) کی جانب سے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) پر چارجز سے متعلق کی گئی پالیسی اصلاحات نے جہاں بینکنگ شعبے کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، وہیں دوسری طرف ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت، عام شہری اور تاجروں کے لیے ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے۔ 2,000 روپے سے زائد کی تاجرانہ ادائیگیوں پر 0.4% مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) کا نفاذ بظاہر ایک مالیاتی اقدام ہے، لیکن اس کے منفی اور بعید الرس نتائج پر صنعتی ماہرین اور تجارتی تنظیموں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بھارت پے (BharatPe) کے سابق شریک بانی اشنیر گروور نے اس پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایکس (X) پر لکھا کہ پانچ منٹ گوگل کرنے سے سچ سامنے آ جاتا ہے۔ ان کے مطابق:
بینکوں اور حکومت کا منافع:RBI کی طرف سے حکومت کو 2.87 لاکھ کروڑ روپے کا سرپلس، بینکوں کا 4.11 لاکھ کروڑ روپے کا منافع اور NPCI کا 1,888 کروڑ روپے کا سرپلس ثابت کرتا ہے کہ UPI اس نئی پالیسی سے کس کا فائدہ ہو رہا۔
ہندوستان میں اے ٹی ایم (ATM) اور کیش لاجسٹکس پر سالانہ 30,500 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں؛ لہٰذا UPI پر چارج لگانے کے بجائے کیش کے اخراجات کم کیے جائیں۔
گروور کا کہنا ہے کہ تاجروں پر لگایا جانے والا یہ MDR دراصل ایک "ٹیکس” ہے، جس کا حتمی بوجھ گھوم پھر کر عام صارف ہی کی جیب پر پڑے گا۔
ریٹیلرز ایسوسی ایشن آف انڈیا (RAI) نے خبردار کیا ہے کہ یہ پالیسی سالوں کی محنت سے حاصل کی گئی ڈیجیٹل پیش رفت کو تباہ کر سکتی ہے۔ RAI کے سی ای او کمار راجا گوپالن کے مطابق، خاص طور پر تہواروں کے دنوں میں اکثر خریداریاں 2,000 روپیوں سے تجاوز کر جاتی ہیں، ایسے میں تاجروں کے لیے UPI پر رقم قبول کرنا دشوار ہو جائے گا۔
اگر تاجر نقد رقم کی طرف لوٹتے ہیں تو وہ رقم رسمی معیشت سے باہر ہو جائے گی، جس سے جی ایس ٹی کے نظام اور حکومت کے رسمی معیشت (Formalisation) کے مشن کو نقصان پہنچے گا۔
ریٹیل اور معاشی ماہرین کو خدشہ ہے کہ 0.4% کی فیس (جس کی زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے ہے) سے بچنے کے لیے تاجر دو آسان راستے اختیار کریں گے:
1. کیش (Cash) کی طرف واپسی: تاجر گاہکوں کو ڈیجیٹل ادائیگی کے بجائے نقد رقم دینے پر مجبور کریں گے۔
2.بل کی تقسیم (Transaction Splitting): فیس سے بچنے کے لیے تاجر ایک ہی بڑے بل کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیں گے (مثلاً 4,000 روپئے کے بل کے لیے 2,000 روپے کے دو الگ الگ اسکین کروانا)، جس سے پورا ڈیجیٹل نظام تکنیکی اور انتظامی طور پر مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔
عام آدمی اور چھوٹے تاجروں کا مستقبل:
اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ چھوٹے تاجروں اور عام صارفین کو استثنیٰ حاصل ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کم منافع (Razor-thin margins) پر کام کرنے والے تاجر اس 0.4% کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے اشیاء کی اصل قیمتیں بڑھا دیں گے۔ دیہی اور چھوٹے شہروں میں جہاں پہلے ہی ڈیجیٹل ساخداری کم ہے، وہاں اس فیس کے بعد اعتماد کا مزید بحران پیدا ہوگا۔
اگر حکومت اور NPCI نے اشنیر گروور اور RAI جیسے اداروں کی تجاویز پر غور نہ کیا اور اس فیصلے کو واپس نہ لیا، تو اندیشہ ہے کہ ہندوستان کی معیشت دوبارہ اسی نقد رقم (Cash Economy) کی طرف لوٹ جائے گی جس سے نکلنے کے لیے اتنی بڑی اصلاحات کی گئی تھیں۔