جب خواہش شریعت پر غالب آنے لگے!

جب خواہش شریعت پر غالب آنے لگے!

جب خواہش شریعت پر غالب آنے لگے!

✍️ افتخاراحمدقادری

انسان کے باطن میں ایک ایسی دنیا آباد ہے جس کا شور بسا اوقات خارجی دنیا کے ہنگاموں سے کہیں زیادہ شدید ہوتا ہے۔ وہاں عقل اور خواہش، ضمیر اور نفس، حق اور پسند، آخرت اور دنیا کے درمیان ایک مسلسل کشمکش برپا رہتی ہے۔ بسا اوقات انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ کون سا راستہ درست ہے اور کون سا غلط، اسے حلال و حرام کا امتیاز بھی معلوم ہوتا ہے، نیکی اور بدی کے انجام سے بھی واقف ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ غلط راستے پر قدم رکھ دیتا ہے۔ یہاں مسئلہ علم کی کمی نہیں رہتا، بلکہ خواہش کی حکمرانی بن جاتا ہے۔ انسان جانتا کچھ ہے، مگر کرتا وہ ہے جو اس کا نفس چاہتا ہے۔ زبان پر حق ہوتا ہے مگر عمل پر خواہش غالب آجاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں توحید محض ایک نظری عقیدہ نہیں رہتی بلکہ انسان کی عملی زندگی کا سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ گناہ کے بعد یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’’مجھ سے غلطی ہوگئی‘‘ ’’مجھے اندازہ نہیں تھا‘‘ ’’میں آئندہ احتیاط کروں گا‘‘۔ یہ باتیں بعض مواقع پر حقیقت ہوسکتی ہیں لیکن ہر مرتبہ نہیں۔ کبھی انسان کو پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام غلط ہے۔ اس کے دل میں اس کی قباحت کا احساس بھی موجود ہوتا ہے، ضمیر اسے روکتا بھی ہے، مگر نفس اسے دھکیلتا رہتا ہے۔ وہ اپنے اندر اٹھنے والی اس ممانعت کو خاموش کرنے کے لیے بہانے تراشتا ہے اور بالآخر خواہش کو دلیل کا لباس پہنا دیتا ہے۔ یہی وہ خطرناک مرحلہ ہے جہاں انسان گناہ سے پہلے اپنے ضمیر کے ساتھ جنگ کرتا ہے اور پھر گناہ کے بعد اپنی ہی عقل کو اس کا وکیل بنا لیتا ہے۔ خواہش انسانی وجود کا لازمی حصہ ہے۔ بھوک، پیاس، محبت، انس، آرام، عزت، کامیابی، مال اور حسنِ زندگی کی طلب انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے۔ اسلام خواہش کے وجود کو جرم قرار نہیں دیتا، بلکہ اس کی تہذیب اور تنظیم کا حکم دیتا ہے۔ بھوک ہو تو حلال رزق کھایا جائے، محبت ہو تو نکاح کا پاکیزہ راستہ اختیار کیا جائے، مال کی خواہش ہو تو حلال تجارت اور جائز محنت کی جائے، عزت کی تمنا ہو تو کردار کو بلند کیا جائے۔ خرابی خواہش میں نہیں، خواہش کے حاکم بن جانے میں ہے۔ جب انسان یہ سوال کرنا چھوڑ دے کہ ’’میرے رب کا حکم کیا ہے؟‘‘ اور اس کے بجائے یہ پوچھنے لگے کہ ’’میرے دل کی مرضی کیا ہے؟‘‘ تو اس کے اندر غلامی کی ایک ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جسے وہ آزادی سمجھنے لگتا ہے۔
قرآنِ مجید نے انسان کو خواہشات کی اندھی پیروی سے بارہا متنبہ کیا ہے۔ ارشادِ ربانی کا مفہوم ہے: ’’اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ (الانعام: 150) اس ارشاد میں خواہشِ نفس کے خطرے کی طرف نہایت بلیغ انداز میں متوجہ کیا گیا ہے۔ خواہش جب وحی کے تابع ہو تو انسان کے لیے نعمت بن سکتی ہے، لیکن جب وحی کو خواہش کے تابع بنانے کی کوشش شروع ہو جائے تو یہی خواہش انسان کو حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔ پھر آدمی حق کو اس لیے قبول نہیں کرتا کہ وہ حق ہے، بلکہ اس لیے تلاش کرتا ہے کہ وہ اس کی خواہش کے موافق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان بعض اوقات فیصلہ پہلے کرلیتا ہے اور دلیل بعد میں تلاش کرتا ہے۔ دل کہتا ہے کہ یہ کام کرنا ہے، پھر عقل اس کے جواز کے لیے راستے تلاش کرنے لگتی ہے۔ ’’سب لوگ تو کرتے ہیں‘‘، ’’اتنی سی بات سے کیا فرق پڑے گا‘‘، ’’اللہ تعالیٰ بہت غفور و رحیم ہیں‘‘، ’’میرا دل صاف ہے‘‘، ’’بعد میں توبہ کرلیں گے‘‘، ’’فلاں شخص بھی تو یہی کرتا ہے‘‘۔ بظاہر یہ جملے دلیل معلوم ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ اکثر نفس کی تسکین کے لیے تیار کیے گئے پردے ہوتے ہیں۔ انسان اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اسے اپنے عمل کی قباحت محسوس نہ ہو۔ جب یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے تو گناہ کی ہیبت کم ہونے لگتی ہے اور نفس کو اس بات کی عادت پڑ جاتی ہے کہ ہر خواہش کے سامنے کوئی نہ کوئی جواز پیدا کرلیا جائے۔ سب سے خطرناک غلامی وہ ہے جس کا احساس غلام کو نہ ہو۔ ہاتھوں میں پڑی ہوئی زنجیر دکھائی دیتی ہے، مگر خواہشات کی زنجیر بسا اوقات نظر نہیں آتی۔ ایک شخص بظاہر آزاد ہے، اپنی مرضی سے اٹھتا بیٹھتا ہے، اپنی مرضی سے بولتا ہے، اپنی مرضی سے خرچ کرتا ہے، اپنی مرضی سے موبائل استعمال کرتا ہے، لیکن اگر وہ اپنی خواہش کو روکنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے تو اس کی آزادی محض ظاہری ہے۔ جسے ہر چند منٹ بعد موبائل دیکھنے کی طلب بے چین کردے، جسے حرام منظر سے نگاہ ہٹانا دشوار معلوم ہو، جسے غصہ آئے تو زبان پر قابو نہ رہے، جسے تعریف نہ ملے تو نیکی میں لذت محسوس نہ ہو، جسے خریداری کی خواہش روک نہ سکے، جسے تنہائی میں اپنے آپ کو گناہ سے بچانا مشکل لگے، اسے اپنے باطن کی غلامی کا جائزہ لینا چاہیے۔ توحید اسی باطنی غلامی کے خلاف انسان کو سب سے بڑی آزادی عطا کرتی ہے۔ جب بندہ یقین کے ساتھ یہ سمجھتا ہے کہ حقیقی مالک، معبود، حاکم اور مقتدر صرف اللہ تعالیٰ ہے تو وہ اپنی خواہش کو آخری اتھارٹی تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ خواہش کا حکم قطعی نہیں اور اللہ کا حکم قطعی ہے۔ نفس کہتا ہے: ’’یہ کرلو‘‘، شریعت کہتی ہے: ’’اس سے بچو‘‘؛ مومن کے لیے فیصلہ واضح ہوجاتا ہے۔ دنیا کہتی ہے: ’’یہ راستہ زیادہ منفعت بخش ہے‘‘، مگر اگر اس میں حرام شامل ہو تو بندہ اپنے رب کی رضا کو ترجیح دیتا ہے۔ تنہائی میں نفس کہتا ہے: ’’کوئی دیکھ نہیں رہا‘‘، مگر ایمان جواب دیتا ہے: ’’میرا رب دیکھ رہا ہے۔‘‘ یہی احساس تقویٰ کی بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا اصل امتحان مجمع میں نہیں بلکہ خلوت میں ہوتا ہے۔ لوگوں کے سامنے نماز پڑھنا آسان ہے، جب سب نیکی کی بات کررہے ہوں تو نیک بات کرنا بھی دشوار نہیں لیکن جب انسان ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں کوئی آنکھ اسے دیکھنے والی نہ ہو، وہاں اس کا ایمان کس قدر بیدار ہے، اصل حقیقت وہیں ظاہر ہوتی ہے۔ بند دروازے، تنہا کمرہ، ہاتھ میں موبائل، سامنے گناہ کا موقع اور دل میں یہ اطمینان کہ کوئی انسان خبر نہیں پائے گا؛ پھر اگر انسان رک جاتا ہے تو وہ محض لوگوں کے خوف سے نہیں رکا، بلکہ اپنے رب کی نگرانی کے یقین سے رکا ہے۔ یہی باطنی توحید ہے، یہی تقویٰ ہے اور یہی ایمان کی عملی حرارت ہے۔ نفس ہمیشہ انسان کے سامنے بڑے گناہ کو ہی پیش نہیں کرتا۔ اس کی حکمتِ عملی کبھی نہایت تدریجی ہوتی ہے۔ وہ کہتا ہے: ’’بس پانچ منٹ اور‘‘، پھر پانچ منٹ آدھے گھنٹے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ’’آج نماز کچھ دیر سے پڑھ لیں گے‘‘، پھر تاخیر معمول بن جاتی ہے۔ ’’آج قرآن نہیں پڑھتے، کل زیادہ پڑھ لیں گے‘‘، پھر کل کبھی نہیں آتا۔ ’’صرف ایک نظر‘‘، ’’صرف ایک ویڈیو‘‘، ’’صرف ایک مرتبہ‘‘، ’’صرف آج‘‘؛ یہی چھوٹے چھوٹے جملے کبھی بڑی عادتوں کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ گناہ ہمیشہ دروازہ توڑ کر داخل نہیں ہوتا، کبھی وہ انتہائی شائستگی سے دستک دیتا ہے اور کہتا ہے: ’’صرف ایک بار اجازت دے دو۔‘‘ اسی لیے نفس کی تربیت ایک دن کا کام نہیں۔ انسان کو اپنے اندر ضبط، احتیاط اور مراقبہ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ اسلام خواہش کو کچلنے کا نہیں، اسے مہذب بنانے کا دین ہے۔ روزہ اسی تربیت کا ایک عظیم مدرسہ ہے۔ انسان بھوکا اور پیاسا ہوتا ہے، پانی سامنے ہوتا ہے، کھانا موجود ہوتا ہے، مگر وہ صرف اس لیے ہاتھ روک لیتا ہے کہ اس کا رب اسے روزے کی حالت میں اس سے منع فرماتا ہے۔ یہ تربیت انسان کو بتاتی ہے کہ ’’میں چاہتا ہوں‘‘ اور ’’میں کرسکتا ہوں‘‘ کے باوجود ’’میں نہیں کروں گا‘‘ کہنا بھی ایمان کی قوت ہے۔ طاقت کا مفہوم بھی ہمیں ازسرِنو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ طاقتور وہ ہے جو اپنی ہر خواہش پوری کرسکے، جو غصے کا اظہار کرسکے، جو جسے چاہے جواب دے، جو دولت ملتے ہی خرچ کردے اور جس چیز کی طرف دل مائل ہو اسے حاصل کرلے۔ لیکن نبوی تعلیم انسان کو طاقت کا دوسرا مفہوم عطا کرتی ہے۔ حدیثِ مبارک کا مفہوم ہے کہ حقیقی طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ (صحیح البخاری، کتاب الادب؛ صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب) اس تعلیم میں نفس پر غلبے کو جسمانی غلبے سے بلند قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ دوسرے کو زیر کرنا آسان ہوسکتا ہے، مگر اپنے اندر اٹھنے والے طوفان کو روک لینا بڑی مجاہدہ طلب کیفیت ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو نفس کی بے لگام پیروی سے بچاتے ہوئے یہ حقیقت بھی سمجھاتا ہے کہ خواہش اگر حق کے تابع نہ رہے تو انسان اپنے لیے معیارِ حق قائم کرنے لگتا ہے۔ قرآن کا مفہوم ہے: ’’کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟‘‘ (الجاثیہ: 23) یہ آیت انسان کے سامنے ایک نہایت سنگین باطنی حقیقت رکھتی ہے۔ خواہش کو معبود بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان زبان سے اسے خدا کہتا ہے، بلکہ یہ کہ جب خواہش اور اللہ کے حکم میں ٹکراؤ پیدا ہو اور انسان مسلسل خواہش کو ترجیح دیتا رہے تو عملی زندگی میں خواہش اس کے فیصلوں کی حاکم بن جاتی ہے۔
یہاں توحید کی فکری معنویت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ توحید صرف یہ ماننے کا نام نہیں کہ اللہ ایک ہے بلکہ اس یقین کا عملی تقاضا یہ بھی ہے کہ بندہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرے۔ عبادت گاہ میں اللہ کو ماننا آسان ہے، لیکن بازار میں الله کے حکم کو ماننا، تجارت میں اللہ کے حکم کو ماننا، تنہائی میں اللہ کے حکم کو ماننا، غصے میں اللہ کے حکم کو ماننا، شہوت کے موقع پر اللہ کے حکم کو ماننا، مال کے معاملے میں اللہ کے حکم کو ماننا اور شہرت کے وقت اللہ کی رضا کو مقدم رکھنا توحید کے عملی ثمرات ہیں۔
آج کے عہد میں یہ امتحان مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ اسمارٹ فون کی ایک چھوٹی سی اسکرین انسان کے سامنے خواہشات کی ایک وسیع دنیا کھول دیتی ہے۔ ایک تصویر نگاہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے، ایک اشتہار خریداری کا شوق پیدا کرتا ہے، کسی دوسرے کی آسائش بھری زندگی دیکھ کر حسد جنم لیتا ہے، کسی کے ہزاروں پیروکار دیکھ کر شہرت کی پیاس بڑھتی ہے، کسی کی کامیابی دیکھ کر انسان اپنی نعمتوں کو بھولنے لگتا ہے۔ یوں انسان کی خواہشات کو بیدار رکھنے کے ذرائع اس کے ہاتھ میں ہر وقت موجود ہیں۔ اس صورتِ حال میں نفس کی تربیت محض درس گاہ یا مسجد کا موضوع نہیں رہی موبائل کی اسکرین بھی انسان کے باطن کی تربیت یا تخریب میں شریک ہوگئی ہے۔ انسان کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے، کس کو دیکھ رہا ہے، کس چیز کو بار بار دیکھ رہا ہے اور کون سی چیزیں اس کے دل میں بے جا خواہشات پیدا کررہی ہیں۔ نگاہ محض ایک حسی عمل نہیں، اس کے اثرات دل تک پہنچتے ہیں۔ اسی لیے قرآن نے اہلِ ایمان کو نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ قرآنِ کریم کا مفہوم ہے: ’’ایمان والے مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔‘‘ (النور:30) نگاہ کی حفاظت دراصل خواہش کی حفاظت بھی ہے، کیونکہ بہت سی خواہشات پہلے نگاہ میں داخل ہوتی ہیں، پھر خیال بنتی ہیں، پھر میلان پیدا کرتی ہیں اور آخرکار عمل کا تقاضا کرنے لگتی ہیں۔ اسی طرح غصہ بھی نفس کی ایک بڑی آزمائش ہے۔ آدمی کو کوئی بات ناگوار گزرتی ہے، نفس کہتا ہے کہ فوراً جواب دو، اپنی برتری ثابت کرو، سامنے والے کو خاموش کردو، سخت الفاظ استعمال کرو۔ مگر مومن رک جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر قدرت کے استعمال کا مطلب یہ نہیں کہ اسے استعمال کرنا ضروری بھی ہے۔ قرآنِ کریم اہلِ تقویٰ کی صفات بیان کرتے ہوئے غصہ پی جانے اور لوگوں سے درگزر کرنے کا ذکر کرتا ہے۔ (سورۂ آلِ عمران، آیت 134) اس میں انسان کے لیے یہ درس ہے کہ اصل کامیابی دوسروں پر اپنی قوت آزمانا نہیں بلکہ اپنی قوت کو الله کے حکم کے تابع رکھنا ہے۔ اسی طرح مال کی خواہش بھی انسان کو آزما سکتی ہے۔ ضرورت اور حرص کے درمیان ایک باریک مگر بنیادی فرق ہے۔ ضرورت پوری ہونے کے بعد بھی اگر انسان کے اندر ’’مزید‘‘ کی ایسی پیاس پیدا ہوجائے جو اسے حلال و حرام کی تمیز بھلا دے تو مال نعمت کے بجائے آزمائش بن جاتا ہے۔ بعض لوگ حرام کمائی کے مواقع کو اس لیے قبول کرتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ ’’موقع دوبارہ نہیں ملے گا‘‘۔ یہاں بھی اصل مسئلہ علم کی کمی نہیں، ترجیح کا ہے۔ بندہ جانتا ہے کہ حرام حرام ہے، لیکن وقتی منفعت اس کے لیے آخرت کے نقصان سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ انسان کو اپنے نفس کے ساتھ ایک اور دھوکے سے بھی بچنا چاہیے: ’’میرا دل صاف ہے۔‘‘ دل کی صفائی ایک عظیم نعمت ہے، مگر صاف دل کا دعویٰ عمل کی اصلاح سے بے نیاز نہیں کرسکتا۔ اگر زبان دوسروں کو زخمی کررہی ہو، نگاہ حرام کی طرف جارہی ہو، معاملات میں خیانت ہورہی ہو، عبادت میں سستی ہو اور حقوق العباد پامال ہورہے ہوں تو محض دل کی صفائی کا دعویٰ کافی نہیں۔ ایمان انسان کے باطن کو سنوارتا ہے اور اس کے آثار کردار میں ظاہر ہوتے ہیں۔
انسان کو اپنے نفس سے نفرت کرنے کے بجائے اسے تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ مسلسل اپنے آپ کو برا کہتے رہنا اصلاح نہیں۔ ’’میں بہت خراب ہوں‘‘، ’’میں کبھی نہیں بدل سکتا‘‘، ’’میرا نفس ناقابلِ اصلاح ہے‘‘؛ یہ خیالات انسان کو مایوسی میں مبتلا کرسکتے ہیں۔ بندے کو اپنی کمزوری تسلیم کرنی چاہیے، مگر اسے اپنی شناخت اور تقدیر نہیں بنا لینا چاہیے۔ قرآن کا مفہوم ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ (الزمر:.53) گناہ کے بعد واپسی کا دروازہ کھلا ہے، لیکن واپسی کے لیے انسان کو اپنے نفس کے بہانوں سے نکل کر سچی توبہ کی طرف آنا ہوگا۔ نفس کی تربیت بڑے بڑے دعووں سے نہیں، چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے ہوتی ہے۔ غصہ آئے اور انسان چند لمحے خاموش ہوجائے، حرام منظر سامنے آئے اور نگاہ پھیر لے، فضول خریداری کا شوق پیدا ہو اور آدمی ایک دن انتظار کرلے، موبائل ہاتھ میں ہو اور انسان غیر ضروری اسکرولنگ روک دے، غیبت شروع ہو اور گفتگو کا رخ بدل دے، تعریف کی خواہش پیدا ہو اور انسان کوئی نیکی ایسی کرلے جس کا علم صرف اللہ کو ہو؛ یہ بظاہر معمولی فیصلے ہیں، مگر یہی فیصلے شخصیت کے اندر ضبط پیدا کرتے ہیں۔ ہر مرتبہ نفس کی بات مان لینے سے نفس مزید جری ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنے آپ کو مسلسل یہ سکھاتا رہے کہ ’’دل نے چاہا تو میں نے کرلیا‘‘ تو نفس کو یقین ہو جاتا ہے کہ وہ جب چاہے گا انسان کو اپنے پیچھے چلائے گا۔ اس کے برعکس جب انسان کبھی جائز خواہش کو بھی نظم و ضبط میں رکھتا ہے تو اس کے اندر ارادے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنے نفس کو بتاتا ہے کہ تم میری زندگی کے مالک نہیں، تمہیں اللہ کے حکم کے تابع رہنا ہوگا۔ یہاں ایک نہایت اہم سوال سامنے آتا ہے: ’’اگر مجھے اپنی خواہش اور اللہ کی رضا میں سے ایک کو ترجیح دینی پڑے تو میں کس کو ترجیح دوں گا؟‘‘ اس سوال کا جواب ہماری تقریروں سے نہیں، ہماری خلوتوں سے ملے گا۔ ہماری خریداری سے، ہماری نگاہ سے، ہماری زبان سے، ہمارے موبائل سے، ہمارے غصے سے، ہماری کمائی سے، ہماری پوشیدہ عادتوں سے اور ان فیصلوں سے جنہیں دنیا نہیں دیکھتی۔ انسان کا اصل تعارف اس وقت ہوتا ہے جب اسے اختیار حاصل ہو اور کوئی دوسرا انسان اس کے عمل کا نگران نہ ہو۔ اصلاح کا آغاز دوسروں کو بدلنے سے نہیں بلکہ اپنے نفس کو پہچاننے سے ہوتا ہے۔ ہم معاشرے کی خرابیوں کا ذکر کرسکتے ہیں، دوستوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کرسکتے ہیں، سوشل میڈیا کو موردِ الزام ٹھہرا سکتے ہیں، زمانے کی خرابیوں پر گفتگو کرسکتے ہیں، لیکن اگر ہم نے اپنے نفس کی نگرانی نہیں کی تو یہ ساری گفتگو محض خارجی تنقید رہ جائے گی۔ انسان پورے معاشرے کو اپنے مطابق نہیں ڈھال سکتا، مگر اپنی نگاہ، اپنی زبان، اپنی صحبت، اپنے وقت، اپنی ترجیحات اور اپنے فیصلوں کو ضرور سنوار سکتا ہے۔ توحید کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں ایک ہی حاکم کو تسلیم کرے۔ مسجد میں اللہ، بازار میں نفس؛ یہ تقسیم مومن کی زندگی کے شایانِ شان نہیں۔ عبادت میں اللہ کی رضا اور معاملات میں خواہش کی حکمرانی ایک داخلی تضاد ہے۔ حقیقی توحید اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب بندہ اپنی خواہش کے خلاف بھی اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کردے۔ اسے معلوم ہو کہ جو چیز الله نے منع کی ہے وہ خواہ اسے کتنی ہی پسند کیوں نہ ہو، اس کے لیے چھوڑنا ضروری ہے اور جو چیز الله نے پسند فرمائی ہے وہ خواہ نفس پر کتنی ہی گراں کیوں نہ ہو، اسے اختیار کرنا ہی بندگی ہے۔ انسان کو آج سے اپنے اندر ایک چھوٹی سی مشق شروع کرنی چاہیے۔ اپنی ہر خواہش کو فوراً پورا کرنے کے بجائے کبھی خود سے کہنا چاہیے: ’’میں چاہتا ہوں، مگر ضروری نہیں کہ میں اسے کروں۔‘‘ غصے کے وقت کہنا چاہیے: ’’میں جواب دے سکتا ہوں، مگر ضروری نہیں کہ دوں۔‘‘ موبائل اٹھاتے وقت پوچھنا چاہیے: ’’کیا مجھے واقعی اس کی ضرورت ہے؟‘‘ خریداری سے پہلے سوچنا چاہیے: ’’یہ ضرورت ہے یا محض خواہش؟‘‘ تنہائی میں اپنے آپ سے کہنا چاہیے: ’’اگر کوئی انسان مجھے نہیں دیکھ رہا تو بھی الله مجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ یہ جملے محض الفاظ نہیں، نفس کی تربیت کے ابتدائی مراحل ہیں۔
آخرکار انسان کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ دنیا میں سب سے بڑی فتح دوسروں کو شکست دینا نہیں، اپنے نفس کو الله کی بندگی میں لے آنا ہے۔ جس شخص نے غصے کے باوجود اپنے ہاتھ روک لیے، حرام کے باوجود اپنی نگاہ جھکا لی، مال کے باوجود حرام سے اجتناب کیا، بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود عفو و درگزر اختیار کیا، شہرت کے امکان کے باوجود اخلاص کو ترجیح دی اور تنہائی میں بھی اپنے رب کی نگرانی کو یاد رکھا، اس نے اپنے نفس پر ایک بڑی فتح حاصل کی۔ خواہش اگر حاکم بن جائے تو انسان کو وہاں لے جاتی ہے جہاں اس کا علم اسے جانے سے روکتا ہے؛ اور اگر خواہش اللہ کے حکم کی تابع بن جائے تو یہی انسانی قوت زندگی کو پاکیزہ، متوازن اور بامقصد بنادیتی ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے اندر خواہشات کیوں ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری خواہشات کا حاکم کون ہے؟ کیا ہم اپنی خواہش کو چلا رہے ہیں یا خواہش ہمیں چلا رہی ہے؟ کیا ہم اپنے نفس کو حکم دے رہے ہیں یا ہمارا نفس ہمیں حکم دے رہا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب اللہ کا حکم اور نفس کی خواہش آمنے سامنے آجائیں تو ہماری زندگی کس کے سامنے جھکتی ہے؟ کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو اپنے نفس کو پاکیزہ بنائے اور ناکامی اس کے لیے ہے جو اسے آلودہ کردے۔ (الشمس: 9-10) پس نفس کی تربیت کوئی ثانوی موضوع نہیں، بلکہ انسان کی روحانی تعمیر کا بنیادی مسئلہ ہے۔ توحید اسی تعمیر کی بنیاد ہے، تقویٰ اس کی حفاظت ہے اور مجاہدہ نفس اس کا عملی راستہ۔ شاید ہمیں اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ یہ سوال پوری دیانت داری سے کرنا چاہیے کہ میں الله کا بندہ ہوں یا اپنی خواہش کا؟ زبان شاید فوراً جواب دے دے لیکن زندگی کا ہر گوشہ اس جواب کی تصدیق کرتا ہے یا تردید۔ اگر ہم اس سوال کے سامنے چند لمحے خاموش کھڑے ہوجائیں تو ممکن ہے ہمیں اپنے اندر ایسی غلامیاں دکھائی دینے لگیں جنہیں ہم مدتوں سے آزادی کا نام دیتے آئے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں توحید محض عقیدہ نہیں رہتی بلکہ انسان کے باطن میں انقلاب کا آغاز کرتی ہے۔
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے