مکہ ڈرون تنازعہ: عسکری حقیقت یا تزویراتی بیانیہ؟

مکہ ڈرون تنازعہ: عسکری حقیقت یا تزویراتی بیانیہ؟

مکہ ڈرون تنازعہ:
عسکری حقیقت یا تزویراتی بیانیہ؟

 

ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین
——–

تاریخ شاہد ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ایوانِ اقتدار میں جب بھی داخلی سیاسی جواز لڑکھڑانے لگیں اور خارجی اتحاد بکھرنے کے دہانے پر پہنچ جائیں، تو مذہبی تقدس کی پناہ گاہ ہی سب سے کارگر سفارتی اور تزویراتی دفاعی حصار ثابت ہوتی ہے۔ حالیہ فضائی واقعے نے، جس میں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے روحانی مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے لایا گیا، ریاض کے مقتدر ایوانوں سے لے کر واشنگٹن اور تل ابیب کے سکیورٹی مراکز تک ایک نئی تزویراتی ہلچل برپا کر دی ہے۔ تاہم اس سنسنی خیز بیانیے کے پردے کے پیچھے جو پیچیدہ حقائق روپوش ہیں، وہ نہ تو محض حوثی قیادت کے اعلانیہ عسکری اہداف سے مطابقت رکھتے ہیں اور نہ ہی خطے میں ابھرتے ہوئے بیجنگ مصالحتی معاہدے کی سفارتی منطق سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں، بلکہ یہ ایک ایسے کثیر الجہتی بحران کی بازگشت معلوم ہوتے ہیں جس کے پس منظر کو جانے بغیر موجودہ جغرافیائی سیاست کی نبض پر ہاتھ رکھنا ناممکن ہے۔

اسی تناظر میں منگل کی شام مقامی وقت کے مطابق تقریباً 6:50 بجے مشرقِ وسطیٰ کے پہلے سے کشیدہ عسکری تھیٹر میں اس وقت اچانک شدید ارتعاش پیدا ہوا جب سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود کے جنوبی دہانے پر ایک مسلح ڈرون کو اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے فضا ہی میں تباہ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ مشترکہ افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اپنے سرکاری بیان میں واضح کیا کہ نشانہ بنایا جانے والا یہ فضائی ہدف حوثی عسکری صلاحیتوں کے ذریعے داغا گیا تھا، جسے انہوں نے جولائی 2017 کے بیلسٹک میزائل واقعے کے بعد حرمین شریفین کی سلامتی پر براہِ راست ضرب لگانے کی دوسری مبینہ کوشش قرار دیا۔ ترجمان نے سخت سفارتی و عسکری لہجہ اختیار کرتے ہوئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کو ریاض کے تزویراتی دفاع کی ایک غیر متزلزل ‘سرخ لکیر’ گردانا اور انصار اللہ کے خلاف ہر قسم کے تعزیری و تدارکی اقدامات اٹھانے کا کھلا عندیہ دیا۔ اس عسکری پیش رفت کے فوراً بعد سعودی شہری دفاع کے ادارے نے مکہ، جدہ اور طائف کے وسیع جغرافیائی دائرے میں پہلی مرتبہ ایک غیر معمولی ہنگامی انتباہ جاری کیا، جس نے خطے کے عسکری اور سیاسی حلقوں میں اس تشویش کو ازسرِنو گہرا کر دیا ہے کہ خلیج کی کشیدگی اب روایتی جنگی اڈوں اور تجارتی راہداریوں سے نکل کر عالمِ اسلام کے حساس ترین روحانی و علامتی مراکز کی فضاؤں تک سرایت کر چکی ہے۔

دوسری جانب صنعا کی عسکری و سیاسی قیادت نے کسی تاخیر کے بغیر اس الزام کو یکسر مسترد کر دیا۔ حوثی پولیٹ بیورو کے رکن محمد الفراح نے حوثیوں کے زیرِ انتظام خبر رساں ایجنسی "سبا” کے توسط سے اس الزام کو صریح جھوٹ قرار دیا، جبکہ حوثی رہنما حازم الاسد نے اسے پرانا اور گھسا پٹا جھوٹ کہا جسے ماضی میں بھی آزمایا جا چکا ہے۔ حوثی عسکری ذرائع نے صراحت کی کہ ان کی تمام عسکری کارروائیاں صرف سعودی عسکری اڈوں اور تیل کی تنصیبات تک محدود ہیں، مقدس مقامات ان کا ہدف ہرگز نہیں ہو سکتے۔ یمنی وزیرِ خارجہ نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مقدس شہر کو بدنام کرنے اور نشانہ بنانے کی ایک دہشت گردانہ کوشش قرار دیا۔

اس متضاد صورتِ حال کا ایک اہم سفارتی پہلو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ردِعمل رہا جس نے 57 مسلم ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اس مبینہ حملے کی سخت مذمت کی۔ او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ نے اپنے مراسلے میں واضح کیا کہ ایسے حملے پرامن شہریوں میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں، شعائرِ اسلام اور مساجد کی حرمت پامال کرتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق مقدس مقامات کا احترام ہر حال میں لازم ہے اور ان کی بے حرمتی ناقابلِ قبول اور ناقابلِ برداشت ہے۔ پاکستان نے بھی اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جبکہ امریکی سفارت خانے نے سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے” سطح تین کا الرٹ "دیا جس میں ایرانی ساختہ ڈرونز اور میزائل حملوں کے خطرات کا حوالہ دیا گیا۔ اس بین الاقوامی ردِعمل کے باوجود واقعے کو محض سرکاری بیانات کی بنیاد پر جانچنے کے بجائے زمینی شواہد، ڈرون و میزائل ٹیکنالوجی کے فنی پہلوؤں اور خطے کے تزویراتی مفادات کی روشنی میں دیکھنا ناگزیر ہے۔

اس تنازعے کی جڑیں ماضی کے تلخ واقعات سے جڑی ہیں۔ جولائی 2017 میں سعودی اتحادی افواج نے دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں نے مکہ مکرمہ کی سمت بیلسٹک میزائل داغا ہے، تاہم حوثیوں کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سبا” نے واضح کیا تھا کہ داغا گیا "برکان 1” میزائل دراصل طائف کے شاہ فہد ایئر بیس کو ہدف بنا رہا تھا اور اس نے کامیابی سے اپنے عسکری ہدف کو نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے نے خطے میں یہ حقیقت آشکار کر دی تھی کہ میدانِ جنگ سے زیادہ بیانیے کی تشکیل سازی میں مقدس مقامات کو کس طرح بطور ڈھال استعمال کیا جاتا ہے۔ عصرِ حاضر میں یہ صورتِ حال مزید گھمبیر ہو چکی ہے، کیونکہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیجِ عدن میں بحری نقل و حرکت کو نشانہ بنا کر اسرائیل کی معیشت کی رگِ جاں پر کاری ضرب لگائی ہے۔ ان کی علاقائی ساکھ کا دار و مدار مظلوم فلسطینیوں کی غیر مشروط حمایت، اسرائیلی معیشت کی ناکابندی اور امریکی بحری تسلط کو چیلنج کرنے پر قائم ہے۔

اس تناظر میں انصار اللہ کے تزویراتی مقاصد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل کی جنوبی ترین بندرگاہ ایلات، حوثیوں کے مسلسل بحری حملوں کے نتیجے میں شدید معاشی بدحالی کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ دسمبر 2023 سے قبل ایلات بندرگاہ کی سالانہ آمدنی قریباً 240 ملین شیکل (تقریباً 79 ملین ڈالر) تھی، مگر حملوں کے آغاز کے بعد درآمد میں 75 فیصد سے زائد کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ اب اس بندرگاہ پر ماہانہ بمشکل ایک مال بردار جہاز لنگر انداز ہوتا ہے جو اس کے روزمرہ کے انتظامی اخراجات پورے کرنے سے بھی قاصر ہے، جسے خود اسرائیلی معاشی ماہرین تاریخ کا بدترین تجارتی بحران قرار دے رہے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ حوثیوں نے یمن کے مغربی ساحل پر باب المندب کے دہانے پر واقع جزیرۂ پریم پر عسکری کنٹرول حاصل کر کے عالمی بحری گزرگاہوں کی چابیاں اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں، جس نے تل ابیب کو معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

یہاں صیہونی ریاست کا روایتی دفاعی نظریہ بھی کھل کر سامنے آتا ہے۔ ڈیوڈ بن گوریان کے وضع کردہ "پیریفرل ڈاکٹرین” کا بنیادی مقصد ہی یہ رہا ہے کہ عالمِ اسلام کی بڑی ریاستوں کو باہمی تنازعات، فرقہ واریت اور داخلی انتشار میں الجھا کر اسرائیل کو ایک پرامن اور محفوظ خطہ ثابت کیا جائے۔ موجودہ عہد میں جب اسرائیل کو غزہ میں کھلی جارحیت کے باعث عالمی عدالتِ انصاف، سفارتی تنہائی اور بحیرۂ احمر میں معاشی محاصرے کا سامنا ہے، تل ابیب کی تمام تر کوشش یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی صورت سعودی عرب کو دوبارہ یمن کی دلدل میں گھسیٹ لائے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب نے حالیہ ڈرون حملوں کے بعد اسرائیل سے خفیہ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر بات چیت کی ہے۔ نیوز ویب سائٹ "واللا” اور "یروشلم پوسٹ” کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی وساطت سے دونوں ممالک کے مابین یمنی فورسز کے ٹھکانوں کی نشان دہی کے لیے مشترکہ مشاورتی اجلاس ہوئے ہیں۔ درحقیقت اسرائیل چاہتا ہے کہ "ابراہیمی معاہدات” کی توسیع کر کے ایک نام نہاد مشترکہ فضائی دفاعی اتحاد تشکیل دیا جائے جس میں اس کے جدید راڈار، بارک میزائل اور آئرن ڈوم سسٹم خلیجی ریاستوں میں نصب کیے جائیں۔ جب تک ریاض کو یمن کی جانب سے کسی بڑے اور ناقابلِ تلافی خطرے کا خوف نہ دلایا جائے، تب تک سعودی قیادت کے لیے عوامی سطح پر تل ابیب سے عسکری و دفاعی گٹھ جوڑ کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔

جدید عسکری ٹیکنالوجی کے فنی شواہد بھی اس معاملے میں کئی شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں۔ دورِ حاضر میں ڈرونز کے طے شدہ راستوں اور ریڈار کے سگنلز میں خاموشی سے تحریف کرنا (الیکٹرانک مینیپولیشن) قطعی ناممکن نہیں رہا۔ مشرقِ وسطیٰ کی پرآشوب فضائی حدود میں ڈرون کے ٹرانسپونڈر ڈیٹا کو ہیک کرنا یا راڈار کی اسکرین پر اس کے مبینہ راستے کو اس رخ پر موڑ کر دکھانا جس سے یہ شبہ ہو کہ وہ کسی حساس مذہبی یا سویلین مرکز کی طرف بڑھ رہا ہے، ایک جانا پہچانا سائبر و الیکٹرانک حربہ ہے۔ بین الاقوامی دفاعی جرائد نے بارہا انکشاف کیا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم میں وسیع پیمانے پر جی پی ایس اسپوفنگ کے حربے آزمائے گئے ہیں تاکہ حریفوں کے ڈرونز اور گائیڈڈ ہتھیاروں کو ان کے اصل راستوں سے بھٹکایا جا سکے۔ اگرچہ مکہ کے مبینہ واقعے میں فوری طور پر ایسے کسی تکنیکی عمل کا حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا، تاہم جدید الیکٹرانک جنگ میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ کسی بھی فضائی پرواز کا رخ علامتی طور پر مکہ کی سمت دکھا کر تشہیری میدان مار لیا جائے۔

اس سارے بیانیے کے پسِ پردہ کارفرما مقاصد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مکہ مکرمہ پر حملے کی سنسنی خیز اطلاعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے عالمی سطح پر ایک ایسی جذباتی فضا پیدا کی جاتی ہے جس سے مسجدِ اقصیٰ، یروشلم اور غزہ میں ڈھائے جانے والے مظالم ثانوی حیثیت اختیار کر جائیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ اسی پروپیگنڈے کو بنیاد بنا کر یہ تاثر اجاگر کرتے ہیں کہ عالمِ اسلام کو درپیش اصل خطرہ صیہونی توسیع پسندی نہیں بلکہ خود مسلمانوں کے اندرونی اختلافات اور عسکریت پسندی ہیں۔ حالانکہ انصار اللہ کا اپنا فکری و نظریاتی ڈھانچہ اس مفروضے کی نفی کرتا ہے۔

انصار اللہ بنیادی طور پر ایک نظریاتی اسلامی تحریک ہے جس کا منشور قرآنی اصولوں اور شعائرِ اسلام کے تحفظ سے عبارت ہے۔ کعبۃ اللہ اور مکہ مکرمہ کی حرمت کسی بھی سچے صاحبِ ایمان کی طرح ان کے عقیدے کا اٹوٹ انگ ہے جس پر کوئی بھی سیاسی یا عسکری مصلحت غالب نہیں آ سکتی۔ جس جماعت کی تمام تر جدوجہد کا محور ہی قبلۂ اول کی آزادی اور اسلامی مقدسات کا دفاع ہو، اس کے بارے میں یہ تصور کرنا بھی قرینِ قیاس نہیں کہ وہ خود اپنے مرکزِ توحید اور قبلۂ عالم کی سمت بارود بھیجنے کی جسارت کرے گی۔ یمنی عوام کے لیے حرمین شریفین کا تقدس جان و مال سے زیادہ محترم ہے؛ چنانچہ ان پر اس قسم کا الزام دھرنا محض مذہبی ہمدردیاں سمیٹنے اور زمینی حقائق سے توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہی دکھائی دیتا ہے۔

سعودی قیادت اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں کسی بھی جذباتی لغزش کا خمیازہ دہائیوں کے عدم استحکام کی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کا معاشی منصوبہ "ویژن 2030” سراسر خطے کے امن، بحری راستوں کی سلامتی، سیاحت کے فروغ اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد سے مشروط ہے۔ جرمن جریدے "فرینکفرٹر رنڈشاؤ” اور کینیڈین اخبار "لا پریس” کے مطابق یمن کی جانب سے ممکنہ محاذ آرائی اس معاشی منصوبے کے لیے ایک سنگین دھچکا ثابت ہو سکتی ہے جس سے بیرونی سرمایہ کاری تیزی سے سمٹ سکتی ہے۔ اگر ریاض مغربی حلقوں یا اسرائیلی ترغیبات میں آ کر دوبارہ یمن کے ساتھ جنگ چھیڑتا ہے تو نیوم سٹی، ریاض اور بحیرۂ احمر کے ساحلی ترقیاتی منصوبے براہِ راست خطرے کی زد میں آ جائیں گے۔ طویل جنگ و جدل کے بعد یمن کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا، جبکہ سعودی معیشت کے کھربوں ڈالرز کے خواب داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔

اس حساس موڑ پر بیجنگ معاہدے کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ مارچ 2023 میں چین کی ثالثی سے سعودی عرب اور ایران نے سات سالہ سفارتی تعطل کو ختم کرتے ہوئے باہمی تعلقات کی بحالی کا ایک تاریخ ساز معاہدہ طے کیا تھا۔ اس سمجھوتے میں دونوں ریاستوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور، باہمی خودمختاری کے احترام اور ایک دوسرے کے داخلی امور میں عدم مداخلت کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ چینی وزارتِ خارجہ نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ کے دیرپا امن کی کلید قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ خطے کا مستقبل یہاں کے باسیوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ یہ معاہدہ دراصل یمن کے بحران کے پائیدار حل کی جانب ایک بنیادی قدم تھا اور حالیہ ڈرون تنازع اسی امن عمل کا ایک کڑا امتحان بن کر سامنے آیا ہے۔

تمام زمینی، عسکری اور سیاسی محرکات کا غیر جانبدارانہ جائزہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مکہ پر ڈرون حملے کا واویلا عسکری حقیقت سے زیادہ خوف کی نفسیات پر مبنی ایک منظم بیانیہ ہو سکتا ہے۔ تاہم مکمل تحقیق و تفتیش کے بغیر اسے حتمی طور پر "فالس فلیگ آپریشن” قرار دینا بھی قبل از وقت ہو گا۔ اس پورے قضیے کا بنیادی تزویراتی ہدف مسلم دنیا کے اتحاد کو زک پہنچانا، بحیرۂ احمر میں اسرائیل کے معاشی محاصرے کو توڑنا اور خلیجی ممالک کو مکمل طور پر صیہونی دفاعی چھتری تلے لانا معلوم ہوتا ہے۔ خطے کے پائیدار امن اور حرمین شریفین کی پاسداری کا تقاضا ہے کہ خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب، تل ابیب یا واشنگٹن کے خوف پر مبنی تجزیوں پر انحصار کرنے کے بجائے بیجنگ معاہدے کی روح کے مطابق تہران، صنعا اور برادر مسلم ریاستوں کے ساتھ براہِ راست اور شفاف مکالمت کی راہ اپنائیں۔ جب تک یہ دور اندیشی اور بصیرت اختیار نہیں کی جائے گی، تب تک مقدسات کے نام پر بپا کی جانے والی یہ مخفی جنگیں خطے کے امن کو نگلتی رہیں گی اور اس کا تمام تر فائدہ صیہونی منصوبہ سازوں کو پہنچتا رہے گا جو مسلمانوں کے انتشار میں ہی اپنی بقا تلاش کرتے ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے