یمن کے حوثی کون ہیں

یمن کے حوثی کون ہیں

ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی

یمن کے حوثی، جو باضابطہ طور پر انصاراللہ کہلاتے ہیں، ایک مسلح تحریک ہے جو شیعہ زیدی مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ یمن میں ایک تہائی کے قریب لوگ شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، باقی سنی ہیں۔ دو ہزار چودہ میں اس گروہ نے یمنی دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا۔ انہیں ایران کی باضابطہ طور پر مدد حاصل ہے، یہ ایران کی خارجہ پالیسی کے تحت ہے۔ ایران اسی طرح لبنان میں حزب اللہ، فلسطین میں حماس اور عراق میں شیعہ گروپس کو بھی عرصے سے باضابطہ مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ اب یہ سب ایران کی مدد کر رہے ہیں دو ہزار چودہ کے بعد سے یہ گروہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے خلاف برسرِ پیکار ہے، جبکہ ایران کے ساتھ اس گروہ کے قریبی تعلقات اسے خطے میں ہونے والی کشیدگی اور جنگ کا حصہ بنا چکے ہیں۔ ابھی حوثیوں نے باب المندب کی جزوی ناکہ بندی کر دی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ خلیج عدن، جو بحیرہ عرب کی ایک شاخ ہے، کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے، اور یہیں سے جہاز آگے نہر سوئز کی طرف جاتے ہیں۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو جہازوں کو پورے افریقہ کا چکر لگانا پڑتا ہے، جس سے سفر میں عموماً دس سے چودہ دن کا اضافی وقت لگ جاتا ہے۔ یعنی اب خلیج کی آبی گزرگاہوں پر ایران اور اُس کے حلیف جنگجوؤں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے، یعنی ایران کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی اور دنیا بھر کی معیشت پر تیل کے دام بڑھنے اور سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے کساد بازاری کا خطرہ بڑھنے لگا ہے۔ سردیاں قریب ہیں اور دنیا بھر میں تیل اور ڈیزل کے دام بڑھے ہوئے ہیں۔ کئی ممالک میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ آبی گزرگاہوں کے متاثر ہونے کے باعث بہت سی چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں، خلیج فارس کے ممالک میں کھانے پینے کی چیزیں کافی مہنگی ہو گئی ہیں۔
ستمبر دو ہزار چھبیس میں یہ کشیدگی اور بڑھ گئی ہے۔ حوثی جنگجوؤں نے یمن کے مغربی ساحلی علاقوں، خاص طور پر بندرگاہی شہر مخا اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل باب المندب کے قریب واقع جزیرے پیریم پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے قریبی ہنیش جزائر پر بھی اپنا کنٹرول قائم کر لیا، جس سے دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہونے والے باب المندب آبنائے پر ان کی گرفت اور مضبوط ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش قدمی سے فی الحال بین الاقوامی جہاز رانی کو براہ راست خطرہ لاحق نہیں ہوا، لیکن حوثی اب اس بحری گزرگاہ پر مزید کنٹرول حاصل کرنے کی مضبوط پوزیشن میں آ چکے ہیں۔ اسی دوران تعز کے صوبے میں، جو ساحلی علاقوں کو اندرون ملک سے ملانے والا ایک اہم گزرگاہ ہے، حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان شدید زمینی جھڑپیں جاری ہیں۔ یمنی حکومت کی انسانی حقوق کی وزارت کے مطابق تین ستمبر سے اب تک ہونے والی لڑائی میں تقریباً ڈیڑھ سو عام شہری ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ہزاروں خاندان تعز اور اس سے ملحقہ علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، اور امدادی تنظیموں کے مطابق بہت سے متاثرین کے پاس خوراک اور پانی تک کی کمی ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے بعد سعودی عرب مشرق سے مغرب جانے والی تیل کی پائپ لائن کے ذریعے تیل برآمد کر رہا تھا، اب ان پائپ لائنوں پر عراق کے شیعہ جنگجو حملے کر رہے ہیں اور اب یہ راستہ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے تیل کی تنصیبات پر بھی حملے تیز کر دیے ہیں۔ ایک حالیہ حملے میں تہتر افراد زخمی ہوئے اور کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جس سے بعض تنصیبات کا کام روکنا پڑا۔ اس کے جواب میں سعودی زیرقیادت اتحاد نے سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے۔ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں سے سعودی شہروں خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں بھی شہری زخمی ہوئے اور کئی گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جس پر سعودی اتحاد نے سختی سے جواب دینے کا عزم دہرایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے دو بار رابطہ کر کے حوثیوں کے خلاف براہ راست حملوں کی درخواست کی، تاہم امریکی انتظامیہ نے فی الحال یہ درخواست مسترد کر دی ہے۔ امریکہ میں آئندہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں، اور اس سے پہلے ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہونے کا اشارہ خود نیتن یاہو نے دیا تھا، لیکن جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، سارے اندازے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ اب امریکی صدر نئی جنگ میں پھنسنا نہیں چاہتے، کیونکہ ایران کے حملوں سے خلیج فارس میں امریکی اڈوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی مرمت پر اربوں ڈالر خرچ ہونے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ اسی دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ستمبر میں ایک امریکی طیارہ بردار جنگی جہاز اور ایک ڈسٹرائر پر میزائل داغنے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ یہ دونوں جہاز نقصان اٹھانے کے بعد علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ امریکی فوج نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور اس واقعے کی آزادانہ تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی، تاہم اس نوعیت کے حملوں نے خطے میں فوجی توازن کو یقیناً متاثر کیا ہے۔ شاید امریکہ اب پہلے والی پوزیشن میں نہیں رہا، اسی لیے وہ یمن میں ایک نئی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔
سعودی عرب ترکی اور پاکستان کے بیچ مکہ سمجھوتہ ہوا ہے اور اصولی طور پر سعودی عرب ترکی سے پاکستان سے مدد مانگ سکتا ہے مگر معاملہ جتنا پیچیدہ نظر آتا ہے اس سے زیادہ پیچیدہ ہے جنگجوؤں کے خلاف پوری فوجی طاقت استعمال کرنے سے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھ جائینگے ایسا اندازہ تینوں ممالک نے شاید لگا لیا ہے اسی لیے شاید دونوں حلیف ممالک شاید اس معاملے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرینگے پاکستان پہلے ہی اپنے ملک میں خانہ جنگی کا شکار ہے ترکی کو اسرائیل سے براہ راست خطرہ ہے تینوں ممالک آنے والے وقت کے لیے اپنی توانائی اور فوجی قوت بچ کر انتہائی دانش مندی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ ایران نے پچھلے چالیس سالوں میں اپنی ترقی پر دھیان دیا اپنا تعلیمی صحت صنعت اور دفاعی صنعت کو مضبوط کیا ریسرچ کے نظام کو مضبوط کیا اپنے قریبی دوستوں کی مدد کی اور مستقبل کی جنگ کے لیے خود کو تیار کیا آج ایران کو اُسکا فائدہ مل رہا ہے خلیجی ممالک حالات کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکے دفاع اور تعلیم میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے امریکا کے جھوٹے وعدے پر بھروسہ کرتے رہے اپنی فوجی طاقت جیسی بڑھانی چاہیے تھی نہیں بڑھا سکے اپنی افواج کو لڑنے لائق بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اب پتہ چلا کوئی دوسرا آپ کی جنگ نہیں لڑے گا کوئی آپ کی حفاظت نہیں کرنے والا اپنی مدد آپ کرنی ہوگی ممکن ہے اب آنے والے وقت میں ہم کچھ تبدیلی دیکھیں۔
حوثیوں کی پیش قدمی سے ایران کو خطے کی دو اہم آبی گزرگاہوں پر بالواسطہ اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے، جو اس کے لیے ایک اہم فوجی کامیابی ہے۔ اس جنگ نے عالمی توانائی کی تجارت پر شدید اثر ڈالا ہے، دنیا کے سبھی ممالک اس جنگ سے کم یا زیادہ متاثر ہو چکے ہیں۔ اس کشیدگی کے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکہ میں ڈیزل کی قیمتیں چھ ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہیں، جو ایک پریشان کن بات ہے کہ مشرق وسطیٰ کی یہ کشیدگی محض علاقائی نہیں رہی بلکہ عالمی توانائی منڈی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر حوثی باب المندب پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرتے ہیں یا وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے لگتے ہیں، تو عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ مجموعی طور پر یمن کی صورتحال ایک پیچیدہ بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں مقامی خانہ جنگی، علاقائی سعودی ایرانی رقابت، عالمی بحری راستوں کی سلامتی اور عام یمنی شہریوں کی انسانی بحران زدہ زندگیاں سب آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ حوثیوں کی حالیہ عسکری کامیابیاں انہیں خطے میں ایک مضبوط اور فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھار رہی ہیں، جبکہ سعودی عرب اور بین الاقوامی برادری کے لیے یہ صورتحال ایک نازک اور غیر یقینی صورتحال بن چکی ہے۔ عالمی توانائی کے بحران کے مزید بڑھنے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے