ظریفانہ: مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن ترپاٹھی نے کلن سنگھ سے پوچھا یار آج کل ہم لوگ اتنا ڈرنے کیوں لگے ہیں ؟
کلن بگڑ کر بولا ڈرتے ہیں ہمارے دشمن ! کس کی مجال ہے کہ ہمیں ڈرائے ؟؟ تم سے کس نے یہ کہہ دیا کہ ہم ڈرتے ہیں ؟؟؟
کسی کے کہنے کی ضرورت نہیں کلن ۔ حالات و واقعات پر ہمارا ردعمل چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ فی الحال ہم ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں ۔
بھائی آج کل تم مخالفین کی ویڈیوز تو نہیں دیکھنے لگے؟ وہ لوگ اس طرح کی جعلی ماحول سازی کرتے ہیں ۔
یہ تمہارا ڈر بول رہا ہےکلن ورنہ بیانیہ چلانے کی خاطر تو ہم نے آئی ٹی سیل بنا رکھا ہے ۔ میڈیا ہماری گود میں ہے پھر بھی تم مجھے بچنے کی تلقین کررہے ہو۔
نہیں سمجھے۔ میں تمہیں اپنے اورملک کے وفادار میڈیا سے بچنے کے لیے تھوڑی نا کہہ رہا ہوں ۔ میرا مطلب تھا رویش کمار جیسوں کے چکر میں نہ پڑجانا۔
کیوں ؟ ان سے بچنے کی کیا ضرورت ؟؟ کیا وہ مجھے کھا جائیں گے؟؟؟
ایسی بات نہیں ۔ وہ دماغی نکسل لوگ ہیں۔ ان سے دور رہنا ضروری ہے کیونکہ وہ برین واش کردیتے ہیں۔
یار کلن میں نے سنا تھا واشنگ مشین تو ہمارے پاس ہے جس میں ہم لوگ ہیمنتابسوا اور سویندو جیسوں کو زعفرانی گنگا جل میں دھو کر پوِتر کردیتے ہیں ۔
ارے بھائی اوپر اوپر سےتو خالی بدعنوانی کے داغ دھُلتے ہیں مگر ہمارے مخالفین تو قلب و ذہن کے اندر اپنا وائرس گھسا دیتے ہیں ۔
اچھا ! یہ تمہیں کیسے پتہ چل گیا؟ کوئی نئی مشین ایجاد ہوئی ہے کیا؟؟
بھائی یہ جاننے کے لیے کسی مشین کی ضرورت نہیں ۔ یہ جو کاکروچ ہماری نیند حرام کیے ہوئے ہیں ۔ ان کے پیچھے اسی متبادل میڈیا کا ہاتھ ہے ۔
بھائی مجھے تو یہ کاکروچ خود کفیل نظر آتے ہیں ۔ الٹا متبادل میڈیا ان کے طفیل اپنی دوکان چمکا رہا ہے ۔ ان چینلس پر ناظرین کی کثیر تعداد اس کی گواہ ہے۔
ہاں یار یہ تو ہے کہ پچیس سال میں کروڈوں روپئے پھونک کر پردھان جی نے جو اپنی شبیہ بنائی تو اسے ’چھپن انچ کا چھوٹا بندر‘ نے یکلخت منہدم کردیا۔
یار میرے بس میں ہوتا تو میں اس لڑکی کا قتل کردیتا ۔
دیکھو ایسی باتیں نہ کرنا ۔ آج کل عدالت کے اوپر سے ہماری دھاک ختم ہوچکی ہے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ کس طرح کے فیصلے ہورہے ہیں ؟
ارے بھیا نیچے جو بھی ہو۔ سب سے اوپر تو ہمارا نیکر دھاری سوریہ کانت بیٹھا ہے۔ وہ سب سنبھال لے گا کیا سمجھے ؟
دیکھو بھائی جسٹس سوریہ کانت نے بھی گرگٹ کی مانند رنگ بدلنا شروع کردیا ہے ۔ یہ کل یُگ ہے یہاں کوئی کسی کا احسانمند نہیں ہوتا ۔
اچھا مگر سوریہ کانت ہم سے غداری نہیں کرسکتا ۔ اپنے شاہ جی ان کا تبادلہ کرکےنڈمان نکو بار بھیج دیں گے۔
بھیا اب وہ شاہ جی تو دور پردھان جی کے بھی اختیار سے باہر ہوچکا ہے۔
یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ مجھے یقین نہیں ہوتا ۔
بھیا جب کاکروچ کےمجوزہ احتجاج کی ہم نے مخالفت کی تو سوریہ کانت نے الٹاہمیں نصیحت کردی کہ نظم و نسق ہماری ذمہ داری اور احتجاج ان کا حق ہے۔
یار اس نے تو ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ۔ قسم سے ایسی نمک حرامی کی امید نہیں تھی اور وہ بھی ابھی سے ۔ کل اقتدار نہ رہا تو ۰۰۰۰۰۰
للن بولا دیکھو پھر یہ تمہارا ڈر بولنے لگا ۔ تم ایک ڈرے ہو ئے چیف جسٹس سے خوفزدہ ہوگئے ہو۔ یہی تو میں کہہ رہا تھا۔
لیکن یار اپنی سابقہ بدزبانی کا کفارہ ادا کرنے کے لیے سی جی آئی نے وہ کہہ دیا ہوگا مگر وہ ہمارے خلاف کبھی نہیں جاسکتے ۔
یہ خوش فہمی ہے۔زعفرانی جین زی کےسپراسٹار سوتنتر بھارتی کے خلاف نشو آزاد سپریم کورٹ گئی تو اس کے تحفظ کی خاطر سرکار کو نوٹس دے دیا ۔
اچھا یہ تو یار الٹا ہوگیا مگر گھبراو نہیں ۔ بہت جلد اپنے یوگی دہلی جائیں گے اور سب کو ٹھیک کردیں گے۔ ان سے ہر کوئی کانپتا ہے۔
بھیا کلن یہ اگلے وقتوں کی بات ہے۔ سماجوادیوں نے یوگی کے خلاف ایک چھوڑ دو اے آئی کی ویڈیو بناکر چلادی ہے۔ تم نے چھوٹا فانٹا والی دیکھی یا نہیں؟
دیکھو بھائی خود اپنی واٹس ایپ یونیورسٹی میں اتنا کچھ دیکھنے کے لیے آتا رہتا ہے کہ باہر جھانکنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔
یہی تو ہماری مشکل ہے ۔ ہم لوگ اپنے کنویں کے مینڈک بن گئے اور اس کے باہر ہمارے خلاف سمندر ٹھاٹھیں مارنےلگا مگر ہمیں خبر ہی نہیں ہوئی ۔
یار للن سچ بتاوں آج تمہاری یہ بہکی بہکی باتیں سمجھ میں نہیں آر ہی ہیں۔ لگتا ہے تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔
للن بولا میرا نہیں تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ بھلائی اسی میں ہے کہ ہوش کے ناخون لو ورنہ بہت دیر ہوچکی ہوگی۔
خیر ممکن ہے دونوں کا دماغ خراب ہوگیا ہو مگر مجھے پھر بھی یوگی بابا پر اعتماد ہے ۔ وہ دہلی آکر سب کچھ سنبھال لیں گے ۔
ارے بھیا ان سے لکھنو تو سنبھل نہیں رہا ہے۔ دہلی آکر کیا اکھاڑ لیں گے؟
یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو للن ۔ میں نہیں مان سکتا۔
مت مانو لیکن سچائی یہ ہے کہ پچھلے دنوں دیویا سریواستو نامی ایک نوجوان صحافیہ کے سوالات کا جواب نہیں دے سکے اور ڈر کر وہ بھاگ گئے ۔
کیا بکواس کرتے ہو ۔ میں تو ویڈیو میں اسے روتے ہوئے دیکھا۔ وہ نہایت خوفزدہ حالت میں اپنے تحفظ کی دہائی دے رہی تھی ۔
وہی تو ۔ اس نے سوال کیا یوگی جی جواب دئیے بغیر نکل گئے پھر ہمارے لوگوں نے اسے ملازمت سے نکلوا دیا ۔ یہ کون سی بہادری ہے؟
کلن بولا یہ تو بدتمیز ی کی سزا ہے۔ اب تو اس کے گھر پر بلڈوزر چلے گا اور وہ اگر کھلے عام رہے گی تو اس کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
کچھ بھی کاکیا مطلب ؟ کیا ہم ایک ہندو خاتون کے ساتھ بدسلوکی کریں گے ۔ ہماری ان کرتوت نےنئی ہندو نسل کو ہم سے دور کردیا ہے ۔
ارے بھائی لیکن اگر کوئی گستاخی کرنے لگے تو اس کا کیا کریں۔ اسے سر پر بیٹھا کر ناچیں؟
یہ کون کہہ رہا ہے؟ مگر یہ نہ بھولو کہ سوال پوچھنا اس کی گستاخی نہیں صحافتی ذمہ داری ہے اور جواب سے بھاگنا ہمارا خوف ہے ۔
تم پھر وہیں پہنچ گئے۔ ارے بھیا ہم نہیں،دیویا ڈری ہوئی ہے۔ تم سمجھتے کیوں نہیں؟
بھیا وہ ڈرپوک ہوتی تو سوال پوچھنے کی جرأت نہ کرتی ۔ ہم ڈرے ہوئے ہیں اس لیے اس کی آڑ میں پوری صحافتی برادری کو ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں
کلن بولا ہاں یار ان لوگوں کی زبان بہت لمبی ہورہی ہے اس لیے تھوڑا بہت ڈرانا دھمکانا ضروری ہوگیا ہے۔
ہاں مگر دوست آج کل ہم سے کوئی ڈرتا ہی نہیں ورنہ دھمکی دینے کی نوبت ہی نہیں آتی ۔
یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ کیا تم کو نہیں لگتا کہ ہم نے مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر سیدھا کردیا ہے؟
اچھا یہ بتاو کہ ہماری دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے سوال پوچھنے والی شاہین اور نفیسہ خان کو ہم نےڈرایا دھمکایا مگر کیا وہ ڈری؟
اور نہیں تو کیا ؟ ہماری پولیس والیوں نے دھنائی کرکے ان کا دماغ درست کردیا۔
میرا سوال یہ ہے کہ اس مارپیٹ کے باوجود کیا وہ ڈر گئی؟ اگر ایسا ہوتا تو وہ ساکیت پولیس تھانے سے ویڈیو بناکر نشر نہیں کرتی ۔
ہاں یار میں نے وہ ویڈیو دیکھی ۔ پولیس تھانے کے اندر ایسی کمال جرأتمندی کا مظاہرہ میں نے پہلی بار دیکھا۔ اس نے دل جیت لیا قسم سے۔
وہی تو میں کہہ رہا ہوں ۔ بہادری دل جیت لیتی ہے اور بزدل انسان جنگ ہار جاتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ ۰۰۰۰
کلن بیچ میں بول پڑا۔ اب چپ رہو للن ۔ اشبھ مت بولو۔ ہمارے بابا سب ٹھیک کردیں گے۔
کیا خاک ٹھیک کریں گے ؟ ہم نے شاہین خان کی ایف آئی آر تک نہیں لکھی اورنوح زری والا کو گرفتار کرلیا۔ اب تم ہی بولو لوگ کیا سوچیں گے؟
یہ نوح کہاں سے آگئی؟ میں نہیں جانتا یہ کون ہے؟
یہ بھی ایک نڈر صحافیہ ہے جس نے سہارنپور مسجد کی شہادت پر ویڈیو بنائی تو وہ وائرل ہوگئی تو اس کو یوگی سرکارگرفتار کرلیا بتاو۔ کیا ویڈیو بنانا جرم ہے؟
ارے بھائی ویڈیو بنانا جرم نہیں ہے مگر اس میں ہمارے خلاف اوٹ پٹانگ بولنے کو کیسے برداشت کرسکتے ہیں۔
سوال کا جواب نہیں دے سکتے، تنقید برداشت نہیں ہوتی تو سیاست میں کیا کررہے ہو؟ جاو اپنے مٹھ میں گھنٹا بجاو وہاں نہ سوال ہوگا اور نہ تنقید ہوگی۔
یار کبھی کبھی انسان کے برے دن آجاتے ہیں فی الحال اپنے یوگی بابا کے ساتھ یہی ہورہا ہے لیکن الیکشن تک سب ٹھیک ہوجائے گا۔
مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کوئی چمتکار ہوگا۔ میرے دل میں تو یہ ڈر بیٹھ گیاہے کہ اس بار کمل چھاپ چھوٹے فانٹا کو سائیکل والا بگ ِکولا ہرانہ دے ۔
یہ ناممکن ہے للن ایسا نہیں ہوگا ۔ ہم نے رام مندر بنایا۔ ریاست کے عوام ہمارا یہ احسان کبھی نہیں بھولیں گے۔
بھیا عوام کو رام مندر کے اندر چندہ چوری کا بھی علم ہوگیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں جو ایک مندر نہیں سنبھال سکتے ان سے ملک کیا چلے گا ؟
یار سوال تو واجب ہے۔ ہمارے لوگ جب مندر میں چوری کرسکتے ہیں تو ملک کو کیسے چھوڑیں گے؟
وہی تو ۔ عوام اس حقیقت کو جان چکی ہے۔ اسی لیے ہمارے رہنما ڈرے ہوئے ہیں اور خوفزدہ سپہ سالار جنگ نہیں جیت سکتا۔
جی ہاں للن مگر اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟
بھائی میں نے کہیں پڑھا تھا’’ قوتِ فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے۰۰۰ پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے‘‘ ہم پر یہ شعر صادق آرہا ہے۔
یار للن اب تو تم نے مجھے بھی ڈرا دیا۔ میں چلتا ہوں ۔