2014ء سے نریندر مودی کے امیج کو بڑھانے کے لئے ہر طرح کی صحیح اور غلط کوششیں کی گئیں ۔ اربوں روپئے اشتہار اور پرچار میں خرچ کئے گئے۔گودی میڈیا روز و شب اس کارِ خیر میں سرگرم عمل رہی۔ بی جے پی کا آئی ٹی سیل بھی اس پرچار میں برابر کا شریک رہا۔ ان تمام ذرائع اور ابلاغ کی مدد سے مودی کی شخصیت کا لوہا منوانے کی کوشش کی گئی۔ مودی نے از خود اپنی شخصیت پرستی کے لئے ہر قسم کی جدو جہد کی۔ یہاں تک کہ اپنے آپ کو Non Biological (غیر حیاتیاتی) بھی قرار دیا۔ پھر کہیں یہ نعرہ ’ایک مودی سب پر بھاری‘ مکمل ہوا۔ لیکن 2024ء سے مودی کی شخصیت میں گراوٹ ہوتی رہی اور اسی رفتار سے راہل گاندھی کی شخصیت و مقبولیت بڑھتی گئی۔ راہل گاندھی اب حقیقت میں ’’ایک اکیلا سب پر بھاری‘‘ ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس کے لئے انھوں نے یا ان کی پارٹی نے کوئی مصنوعی طریقہ نہیں اپنایا بلکہ راہل گاندھی حقیقی جدوجہد اور اپنی غیر معمولی صفات کے بل بوتے پر اپنی شخصیت کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے بارے میں اگر لکھا جائے کہ اس نہج تک کیسے پہنچے اور کتنے خطرات، مصائب، مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود یہاں تک کا سفر کیا، اس پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کی راہ میں اتنے روڑے ڈالے، اتنی الجھنیں پیدا کیں اس کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔ اب تک ان کے خلاف 36مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ ای ڈی نے 55گھنٹے ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔ نچلی اور ہائی کورٹ کی عدالتوں نے پارلیمنٹ کی ان کی رکنیت بھی ختم کردی تھی۔ ان پر کئی حملے بھی ہوئے۔ ان کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ ان طوفانوں سے گزرتے ہوئے راہل گاندھی کے عزائم اور حوصلوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ہندستان میں کوئی ایک ایسا لیڈر نہیں ملتا ہے جس نے چار ہزار کیلو میٹر کا پیدل سفر کیا ہو۔
کوئی ایسا لیڈر ہندستان کی تاریخ کے صفحات میں نظر نہیں آتا جو ملک کے غریب سے غریب ترین لوگوں سے بڑی تعداد میں ملاقاتیں کی ہوں۔ کسان ہو، موچی ہو، قلی ہو، مزدور ہو، گاؤں اور بستی کا معمولی آدمی ہو ، طالب علم ہو یا کسی بھی شعبۂ حیات میں زندگی گزارتا ہو راہل گاندھی نے سب سے جاکر اجتماعی طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ صرف ملاقاتیں نہیں کیں بلکہ ان کے مسائل سنے ، اس کو نیک مشورے دیئے، ان کے دکھوں کا مداوا کیا۔ بہتوں کو اپنے گھر بلائے، ناشتے اور کھانے میں شریک کیا۔ دہلی کے قابل قدر مقامات کی سیر کرائی۔ ایک گاؤں میں راہل گاندھی پہنچے تو گاؤں کی ساری خواتین جو لگ بھگ 100کی تعداد میں تھیں سب کا حال سنا۔ ایک ضعیف العمر عورت کی آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی تھی اس سے انھوں نے کہاکہ اس کا آپریشن کرانا ہوگا اور انھیں دہلی آنے کی دعوت دی۔ جب راہل گاندھی نے ساری عورتوں کے شوق کو دیکھا تو سب کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ سب کے ساتھ مل جل کر اپنے خاندان کے ساتھ کھانے میں شریک کیا۔ سب کو دہلی کی سیر کرائی۔ اس طرح کی بہت سی خوبیاں ہیں جو اس انوکھے لیڈر میں پائی جاتی ہیں۔ راہل گاندھی کے نانا جواہر لعل نہرو کے قد کے لیڈر تو نہیں کہے جاسکتے لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو پنڈت جواہر لعل نہرو میں بھی نہیں پائی جاتی تھیں۔ مثلاً آر ایس ایس کے زہریلے اور نفرتی نظریے کے خلاف جس واضح انداز سے راہل گاندھی حملے کر رہے ہیں اس کے خطرات اور دہشت گردانہ انداز اور ملک کے لئے شدید نقصانات پیش کر رہے ہیں اس طرح ہندستان میں بشمول پنڈت جواہر لعل نہرو کسی نے بھی پیش نہیں کیا۔
آج راہل گاندھی کسی ایک طبقہ کے ہیرو نہیں ہیں بلکہ ملک کے سارے طبقات میں ان کی مقبولیت نریندر مودی سے کہیں زیادہ بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ طلبا و طالبات اور نوجوانوں میں ان کی مقبولیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ مودی راہل گاندھی کی نقل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، لیکن مودی ایک غیر تعلیم یافتہ شخص ہیں جن کی ڈگری کا بھی اتہ پتہ نہیں ہے۔ انگریزی وہ صحیح طریقے سے بول نہیں سکتے۔ وہ بغیر پرچی یاTele Prompter (فلم کیمرہ ) کے بغیر تقریر نہیں کرسکتے۔کئی بار انھیں اسے پڑھنے میں بھی دقت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس راہل گاندھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، مشہور و معروف کالجز اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہیں۔انگریزی زبان میں اچھی خاصی مہارت ہے۔ لب و لہجہ بھی جدید اور دلکش ہے۔ راہل گاندھی اسٹیج پر ایک کونے سے دوسرے کونے تک گھوم گھوم کر مخاطب کرتے ہیں۔ ان کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ سائل کو اسٹیج پر بلاتے ہیں ، ان کے مسائل کو سنتے ہیں اور صحیح اور مناسب مشورے دیتے ہیں۔ مودی اسٹیج پر راہل گاندھی کی نقل کرتے ہوئے گھومنے تو لگے ہیں مگر نقل کے لئے بھی عقل چاہئے وہ عقل ان کے پاس نہیں ہے اور نہ وہ جدید لب و لہجہ ہے۔ نہ ہی وہ کسی کے سوالوں کا جواب دے سکتے ہیں اور نہ اسٹیج پر دعوت دے کر کسی کو بلا سکتے ہیں۔ نوجوان اور طالب علموں کا طبقہ راہل گاندھی کو اپنا دوست، بھائی اور لیڈر قرار دینے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ جب کہ مودی میں بھائی بہنوں کے الفاظ سے خطاب کرنے کے بجائے دوست کے لفظ سے طلبا و طالبات اور نوجوانوں کو خطاب کرنا چاہا، مگر وہ جن کو خطاب کرر ہے تھے ان پر وہ لاٹھی برساچکے ہیں،پیلیٹ گن سے زخمی کر چکے ہیں۔ پیپر لیک کے ذریعے ان کے مستقبل کو تاریک بنا چکے ہیں جس کی وجہ سے وہ دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے صاف انکار کر رہے ہیں۔ نریندر مودی در اصل تگڑم سے وزیر اعظم ہوئے ہیں اور تگڑم ہی سے ملک کو چلانا چاہتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم چندر شیکھر نے کہا تھا کہ ’’تگڑم سے پارٹی تو چلائی جاسکتی ہے مگر تگڑم سے نہ حکومت چلائی جاسکتی ہے اور نہ ملک چلایا جاسکتا ہے۔‘‘
آج جو صورت حال ہے جس سے ملک معاشی بحران کا شکار ہے۔ آج ملک بھر میں ہنگامی صورت حال ہے۔ عدل و انصاف سے لوگ محروم ہیں۔ ملک میں نظم و ضبط ندارد ہے۔ ہر طبقہ پریشان حال ہے۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ نہ مودی کی سمجھ میں آرہا ہے اور نہ ان کے دست راست امیت شاہ سمجھ پا رہے ہیں کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ ’بریکس ‘ (Bricks)کے نام پر آدھی دنیا کے لیڈران دہلی آئے تھے۔ مودی نے فرقہ پرستوں کو خوش رکھنے کے لئے ان کے کھانے کا انتظام کچھ ایسا کیا کہ مہمان نوازی کا حق ادا نہیں ہوا۔ مانساہاری (Non-Vegetarian) کے بجائے غیر مانساہاری کھانے کا نظم کیا۔ محض اس لئے تاکہ فرقہ پرستوں کی خوشنودی حاصل کی جاسکے، مگر یہ چیز الٹی ثابت ہوئی۔ مہمانوں میں سے بہتوں نے کھانا نہیں کھایا اور ہوٹل جاکر کھانا کھایا۔ اس سے مودی کی ہی نہیں ملک کی بدنامی ہوئی۔ جب کہ ملک میں بقول راہل گاندھی 80فیصد لوگ مانساہاری کا استعمال کرتے ہیں۔ پہلے بھی مودی نے جو کچھ کیا اس کی وجہ سے لوگوں کو سہولت کے بجائے پریشانیاں لاحق ہوئیں۔ شہریت کے لئے ایک کے بعد ایک کاغذوں یا دستاویزات بنانے کے لئے کہا گیا اور ابھی تک کوئی ایسی دستاویز نہیں تیار ہوئی کہ جس کی بنیاد پر شہریت کی شناخت کی جاسکے۔ کسی بھی ملک کے لئے اتنی بڑی بدنصیبی اور کیا ہوسکتی ہے؟ مودی جی نے جتنے وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ اب تو لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ مودی کے اچھے دن کی ضرورت نہیں ہے بلکہ 2014ء سے پہلے کے پرانے دن ہی لوٹا دیئے جائیں۔ اس طرح مودی کی شخصیت قعر مذلت میں گرتی چلی جارہی ہے جس کے اٹھنے کا اب کوئی امکان نہیں ہے۔
اس کے برعکس راہل گاندھی کی شخصیت روز بروز اونچائی کی طرف بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اب لوگ راہل گاندھی کو مستقبل کا وزیر اعظم ہند کہنے لگے ہیں۔ ملک میں لوک سبھا کا الیکشن 2029ء میں ہے ۔ 2029ء میں راہل گاندھی یقینا ملک کے وزیر اعظم ہوں گے اور اس سے پہلے بھی ہوجائیں تو کوئی حیرت اور تعجب کی بات نہیں ہوگی، کیونکہ طالبعلموں اور نوجوانوں کا قافلہ رواں دواں ہے۔ سبھی لوگ چاہ رہے ہیں جو اندھ بھکت نہیں ہیں کہ راہل گاندھی ملک کی باگ ڈور جلد سے جلد سنبھالیں تاکہ لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوں۔ ملک کا بحران ختم ہو اور دو وقت کی روٹی آسانی سے میسر ہو۔ یہ بات کہی جانے لگی ہے کہ ایک مودی ہی ملک کی حالت کو استعفیٰ دے کر بدل سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ 2029ء سے پہلے اپنے عہدہ سے مستعفی ہوتے ہیں یا نہیں؟