ڈالر سے آگے کی دنیا؟ (ایران، برکس بینک اور اُمّتِ مسلمہ کا معاشی مستقبل)

ڈالر سے آگے کی دنیا؟  (ایران، برکس بینک اور اُمّتِ مسلمہ کا معاشی مستقبل)

ڈالر سے آگے کی دنیا؟
(ایران، برکس بینک اور اُمّتِ مسلمہ کا معاشی مستقبل)

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

دنیا کی بڑی تبدیلیاں ہمیشہ توپوں کی گھن گرج، ایوانوں کی تقریروں اور سفارتی معاہدوں کے شور میں نہیں آتیں۔ بعض اوقات عالمی طاقت کا نقشہ کسی خاموش بینک، کسی نئی کرنسی، کسی متبادل ادائیگی نظام یا کسی ایسے مالیاتی ادارے کے ذریعے بدلنا شروع ہو جاتا ہے جس کی خبر عام آدمی کے لیے شاید چند سطروں سے زیادہ اہم نہ ہو۔ ایران کا نیو ڈیولپمنٹ بینک، جسے عام طور پر برکس بینک کہا جاتا ہے، میں شامل ہونے کا اعلان بھی بظاہر ایک مالیاتی خبر ہے، لیکن ذرا گہرائی میں جاکر دیکھیے تو اس کے پس منظر میں عالمی سیاست، اقتصادی پابندیوں، ڈالر کی بالادستی، ابھرتی ہوئی طاقتوں کی صف بندی اور ترقی پذیر دنیا کی معاشی خودمختاری کا ایک بڑا سوال کھڑا نظر آتا ہے۔ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے حالیہ برکس مالیاتی اجلاس کے موقع پر کہا ہے کہ ایران جلد نیو ڈیولپمنٹ بینک کا رکن بن جائے گا۔ انہوں نے برکس تعاون کے اہم ترین نتائج میں NDB کے قیام کو شمار کرتے ہوئے قومی کرنسیوں میں باہمی تجارت اور دوطرفہ و سہ فریقی مالیاتی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ تاہم قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس اعلان کے وقت خود بینک کی طرف سے ایران کی رکنیت کی حتمی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ یہ فرق معمولی نہیں۔ خبر اور حتمی فیصلہ دونوں کو الگ الگ رکھنا ہی سنجیدہ تجزیے کا تقاضا ہے۔

ایران برسوں سے امریکی اور دیگر بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کررہا ہے۔ پابندیوں کا اثر صرف یہ نہیں ہوتا کہ کسی ملک کی چند مصنوعات کی خرید و فروخت مشکل ہوجائے؛ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بین الاقوامی بینکاری، سرمایہ کاری، ادائیگی، بیمہ، قرض اور غیر ملکی زرمبادلہ تک رسائی بھی محدود ہوجائے۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی ملک متبادل مالیاتی راستوں کی تلاش کرے گا۔ ایران نے 2024ء میں برکس کی رکنیت حاصل کی اور اس کے بعد سے NDB میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کرتا رہا ہے۔ اب تہران کی کوشش یہ ہے کہ برکس کی رکنیت کو محض سیاسی یا سفارتی تعلق تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے حقیقی اقتصادی تعاون میں تبدیل کیا جائے۔ NDB کا بنیادی مقصد ترقی پذیر ممالک میں انفراسٹرکچر اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ بینک کی رکنیت اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے لیے کھلی ہے اور اس میں قرض لینے والے اور غیر قرض لینے والے دونوں ممالک شامل ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ ایران کے لیے یہ رکنیت صرف ایک بینک کی رکنیت نہیں؛ یہ ممکنہ طور پر متبادل سرمایہ، نئے تجارتی راستوں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ زیادہ گہرے مالیاتی روابط کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

یہاں ایک بنیادی غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ ایران یا برکس ممالک جب ڈالر پر انحصار کم کرنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ کل صبح سے دنیا ڈالر چھوڑ کر کوئی نئی عالمی کرنسی اختیار کرلے گی، حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ دنیا کی تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اس لیے کسی ایک کرنسی کو چند برسوں میں مکمل طور پر اس کی جگہ لے آنا آسان نہیں۔ اصل کوشش انحصار کم کرنے کی ہے۔ اگر ایران اور دوسرے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اپنی قومی کرنسیوں میں تجارت کرسکیں، مقامی ادائیگی نظام استعمال کرسکیں اور ایسے مالیاتی اداروں سے سرمایہ حاصل کرسکیں جو مکمل طور پر مغربی مالیاتی نظام پر منحصر نہ ہوں تو ان کے پاس بحران کے وقت کچھ اضافی راستے موجود ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ برکس ممالک مالیاتی تعاون، قومی کرنسیوں میں تجارت اور ادائیگی کے نظاموں کو باہم مربوط کرنے کے امکانات پر غور کررہے ہیں۔ حالیہ برکس مذاکرات میں تیز رفتار ادائیگی کے نظام اور مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسیوں کے باہمی ربط پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔ یعنی جنگ صرف "ڈالر بمقابلہ کوئی دوسری کرنسی” کی نہیں؛ اصل جنگ مالیاتی اختیار اور متبادل راستوں کی ہے۔

اس سوال کا جواب جلد بازی میں "ہاں” دینا بھی درست نہیں اور "نہیں” کہنا بھی۔ برکس کے اندر خود مختلف ممالک کی ترجیحات مختلف ہیں۔ بھارت، چین، روس، برازیل، ایران اور خلیجی ممالک کے اپنے اپنے معاشی مفادات اور جغرافیائی ترجیحات ہیں۔ اس لیے برکس کو ایک مکمل یکساں سیاسی و معاشی اتحاد سمجھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ دنیا کی متعدد بڑی ابھرتی ہوئی معیشتیں اب عالمی تجارت اور مالیاتی نظام میں زیادہ تنوع چاہتی ہیں۔ یہی تبدیلی اصل خبر ہے۔ دنیا شاید ڈالر سے فوری طور پر آزاد نہیں ہورہی، مگر دنیا کے کچھ اہم ممالک یہ ضرور چاہتے ہیں کہ ان کی اقتصادی زندگی صرف ایک مالیاتی دروازے کی محتاج نہ رہے۔

ایران کے لیے NDB کی رکنیت ایک ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے جب تہران کو شدید اقتصادی اور جغرافیائی دباؤ کا سامنا ہے۔ چنانچہ اگر اسے رکنیت ملتی ہے تو ایران کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک اضافی مالیاتی پلیٹ فارم مل سکتا ہے۔ توانائی، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، صنعتی منصوبوں اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں اس سے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی حقیقت پسندی ضروری ہے۔ NDB کی رکنیت ایران پر عائد تمام پابندیوں کو ختم نہیں کرے گی۔ نہ ہی مقامی کرنسی میں تجارت خود بخود ایران کو عالمی مالیاتی پابندیوں سے باہر نکال دے گی۔ یہ زیادہ سے زیادہ مالیاتی راستوں کو متنوع بنا سکتی ہے۔ یعنی یہ باہر نکلنے کا مکمل دروازہ نہیں، بلکہ ایک اضافی دروازہ ضرور ہوسکتا ہے۔

ایران کی NDB رکنیت کے معاملے میں روس کی حمایت بھی اہم ہے۔ مئی 2026ء میں روسی وزیر خزانہ انتون سیلوانوف نے ایران کی رکنیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو اس سلسلے میں دیگر رکن ممالک سے مشاورت کرے گا۔ اس حمایت کو صرف ایران روس تعلقات کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ روس خود مغربی پابندیوں اور مالیاتی دباؤ کا سامنا کررہا ہے۔ چنانچہ ماسکو کے لیے بھی ایسے نظام اہم ہیں جو عالمی تجارت میں متبادل راستے پیدا کرسکیں۔ یہاں ایک نیا عالمی معاشی منظرنامہ سامنے آتا ہے: جن ممالک پر مغربی پابندیاں زیادہ ہیں، وہ متبادل مالیاتی نظاموں کی طرف زیادہ تیزی سے متوجہ ہورہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ممالک بھی ان نظاموں میں دلچسپی لے رہے ہیں جو پابندیوں کا شکار نہیں، مگر مستقبل میں کسی ایک طاقت پر ضرورت سے زیادہ انحصار کو خطرناک سمجھتے ہیں۔

یہاں سے اصل سوال شروع ہوتا ہے۔ ایران کا معاملہ ایران تک محدود نہیں۔ اس سے مسلم دنیا کے لیے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا اُمّتِ مسلمہ اپنے معاشی مستقبل کے بارے میں کوئی مشترکہ اور طویل المدت تصور رکھتی ہے؟ مسلم دنیا کے پاس دنیا کی بڑی منڈیاں ہیں، توانائی کے وسیع ذخائر ہیں، نوجوان آبادی ہے، جغرافیائی اہمیت ہے، قدرتی وسائل ہیں، سرمایہ رکھنے والے ممالک ہیں اور محنت و افرادی قوت رکھنے والے ممالک بھی۔ لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود مسلم دنیا عالمی اقتصادی فیصلہ سازی میں اپنی مجموعی قوت کے مطابق مؤثر کردار ادا نہیں کرپارہی۔ مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ وسائل کے باہمی ربط کی کمی کا ہے۔ ایک ملک کے پاس سرمایہ ہے، دوسرے کے پاس افرادی قوت؛ ایک کے پاس توانائی ہے، دوسرے کے پاس منڈی؛ ایک کے پاس صنعت ہے، دوسرے کے پاس خام مال؛ مگر یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ مربوط اقتصادی حکمتِ عملی کے تحت کام نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے مسلم ممالک اپنے ہی وسائل کی عالمی زنجیر میں کم قیمت والے حصے پر کھڑے ہیں۔

اسلامی معاشی تصور میں دولت بذاتِ خود مذموم نہیں۔ تجارت، سرمایہ، صنعت اور منافع سب جائز دائرے میں اہم معاشی ذرائع ہیں۔ لیکن اسلام دولت کو مقصدِ زندگی نہیں بناتا بلکہ اسے انسانی فلاح، عدل اور اجتماعی ذمّہ داری کے تابع رکھتا ہے۔ قرآن مجید کا ایک نہایت اہم اصول ہے "دولت صرف تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش کرتی نہ رہ جائے”۔ یہ اصول آج کی عالمی معیشت کے لیے بھی ایک گہرا سوال ہے۔ کیا عالمی دولت صرف چند طاقتور مالیاتی مراکز میں مرتکز ہوتی جائے؟ کیا ترقی پذیر ممالک ہمیشہ قرض، امداد اور بیرونی سرمایہ کے محتاج رہیں؟ کیا غریب ممالک اپنی معدنیات، توانائی اور خام مال کم قیمت پر دیں اور تیار شدہ مصنوعات مہنگی قیمت پر خریدیں؟ اور کیا معاشی ترقی کا مطلب صرف مجموعی قومی پیداوار کا بڑھنا ہے، یا اس کا مقصد عام انسان کی زندگی میں آسانی، عزت اور خوش حالی بھی ہونا چاہیے؟ اسلامی فکر ان سوالات کو محض معاشی نہیں بلکہ اخلاقی سوالات بھی سمجھتی ہے۔

یہاں ایک بات بہت صاف سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی ملک ڈالر کے بجائے کسی دوسری کرنسی میں تجارت شروع کردے، لیکن اس کے پاس اپنی صنعتی پیداوار نہ ہو، ٹیکنالوجی نہ ہو، تحقیق کا نظام نہ ہو، برآمدات نہ ہوں، مضبوط ادارے نہ ہوں اور انسانی سرمایہ کمزور ہو تو وہ حقیقی معاشی خودمختاری حاصل نہیں کرسکتا۔ معاشی آزادی کی بنیاد مضبوط پیداوار ہے۔ جو قوم علم پیدا کرتی ہے، وہ ٹیکنالوجی پیدا کرسکتی ہے۔ جو ٹیکنالوجی پیدا کرتی ہے، وہ صنعت پیدا کرسکتی ہے۔ جو صنعت پیدا کرتی ہے، وہ برآمدات پیدا کرتی ہے۔ جو برآمدات پیدا کرتی ہے، وہ زرمبادلہ پیدا کرتی ہے۔ اور جس کے پاس مضبوط معیشت ہو، وہ عالمی مالیاتی نظام میں زیادہ باوقار اور خودمختار مقام حاصل کرسکتی ہے۔ اس لیے اُمّتِ مسلمہ کو صرف یہ سوچنے سے آگے بڑھنا ہوگا کہ "ڈالر کا متبادل کیا ہے؟”۔ اسے پوچھنا ہوگا ہماری اپنی پیداوار کیا ہے؟ ہماری اپنی ٹیکنالوجی کہاں ہے؟ ہماری اپنی تحقیق کہاں ہے؟ ہماری باہمی تجارت کتنی ہے؟ ہماری اپنی عالمی مالیاتی حکمتِ عملی کہاں ہے؟

یہ تصور ابھی شاید بہت دور دکھائی دے، مگر مسلم دنیا اگر حقیقت پسندانہ انداز میں سوچے تو ایک وسیع اسلامی اقتصادی تعاون کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ فوراً کوئی مشترکہ کرنسی بنائی جائے۔ ابتداء کہیں زیادہ بنیادی چیزوں سے ہوسکتی ہے باہمی تجارت میں سہولت، مقامی کرنسیوں میں محدود تجارت، مشترکہ سرمایہ کاری فنڈز، اسلامی ترقیاتی بینکوں کا باہمی تعاون، خوراک اور توانائی کا مشترکہ تحفّظ، ٹیکنالوجی کی شراکت، مشترکہ صنعتی منصوبے، تعلیمی و تحقیقی مراکز، اور نوجوانوں کے لیے مشترکہ روزگار کے مواقع۔ اگر مسلم ممالک اپنے باہمی اقتصادی روابط کو مضبوط بنالیں تو یہ کسی طاقت کے خلاف محاذ نہیں ہوگا؛ بلکہ اپنی اجتماعی ضرورت پوری کرنے کی ایک فطری کوشش ہوگی۔ یہاں اسلامی اور ملی نقطۂ نظر سے ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ اُمّتِ مسلمہ کا مستقبل صرف اس بات سے نہیں بنے گا کہ وہ مغرب سے کتنی دور ہوگئی۔ اسلام ہمیں کسی قوم سے محض اس کی قومیت یا طاقت کی وجہ سے دشمنی نہیں سکھاتا۔ اصل اصول عدل ہے۔

قرآن کہتا ہے "انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے”۔ اس لیے مسلم دنیا کی اقتصادی بیداری کا مقصد کسی دوسرے کے اقتصادی غلبے کی جگہ اپنا غلبہ قائم کرنا نہیں ہونا چاہیے؛ مقصد ایسا منصفانہ عالمی اقتصادی نظام ہونا چاہیے جس میں ترقی پذیر اقوام کو اپنی ترقی کے فیصلے خود کرنے کا زیادہ حق حاصل ہو۔ آنے والی دنیا شاید صرف ان ممالک کی نہیں ہوگی جن کے پاس بڑی فوجیں ہیں۔ وہ ان ممالک کی بھی ہوگی جن کے پاس علم ہوگا، ٹیکنالوجی ہوگی، سرمایہ ہوگا، توانائی ہوگی، غذا ہوگی، مضبوط ادارے ہوں گے، اور سب سے بڑھ کر اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ ایران کا NDB میں شمولیت کا ارادہ اسی بڑی تبدیلی کی ایک علامت ہے۔ ممکن ہے کہ یہ قدم ایران کی تمام معاشی مشکلات حل نہ کرے۔ ممکن ہے ڈالر کی بالادستی بھی جلد ختم نہ ہو۔ ممکن ہے برکس کے اندر ہی مختلف ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف رہیں۔ لیکن ایک چیز واضح ہے؛ دنیا اب مالیاتی تنوع کے سوال کو پہلے کی نسبت زیادہ سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اور مسلم دنیا کے لیے یہ لمحہ محض تماشائی بننے کا نہیں۔

ایران کا برکس بینک کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہمیں ایک ایسے سوال کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے جس سے اب فرار ممکن نہیں؛ کیا اُمّتِ مسلمہ اپنی اقتصادی تقدیر کی مالک بننے کے لیے تیار ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو راستہ صرف نعروں سے نہیں بنے گا۔ اس کے لیے مدرسوں میں دینی علم کے ساتھ معاشی شعور بھی چاہیے، جامعات میں تحقیق کے ساتھ صنعتی ربط بھی چاہیے، صنعت میں سرمایہ کے ساتھ اخلاق بھی چاہیے، حکومت میں اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی چاہیے اور تجارت میں منافع کے ساتھ انسانیت بھی چاہیے۔ اسلامی تاریخ نے دنیا کو صرف عبادت گاہیں نہیں دیں؛ اس نے بازار، علمی مراکز، ہسپتال، وقف، تجارتی راستے اور معاشرتی فلاح کے ادارے بھی دیے تھے۔ آج ضرورت اس تاریخی روح کو جدید دنیا کے تقاضوں کے ساتھ جوڑنے کی ہے۔ ڈالر سے آزادی کا خواب اپنی جگہ؛ لیکن اس سے بھی بڑا خواب یہ ہونا چاہیے کہ مسلمان علم میں آزاد ہوں، فکر میں آزاد ہوں، پیداوار میں خودکفیل ہوں، تجارت میں مضبوط ہوں اور معاشی فیصلوں میں باوقار ہوں۔ کیونکہ قومیں صرف کرنسی بدلنے سے خودمختار نہیں ہوتیں۔

قومیں اس وقت خودمختار ہوتی ہیں جب وہ اپنی تقدیر کے فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیتی ہیں۔ اور شاید ایران کی NDB کی طرف پیش قدمی کا سب سے بڑا سبق بھی یہی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ ڈالر کے بعد کون سی کرنسی آئے گی؟ اصل سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے بعد ان کی اپنی اقتصادی بصیرت، خود اعتمادی اور اجتماعی حکمتِ عملی کب آئے گی؟ دنیا کے بدلتے ہوئے مالیاتی منظرنامے نے اُمّتِ مسلمہ کے سامنے ایک ایسا موقع رکھا ہے جسے محض سیاسی نعروں یا جذباتی بیانات سے نہیں، بلکہ علم، تدبر، اتحاد اور مسلسل عملی جدوجہد سے سمجھنا ہوگا۔ اسلام ہمیں معاشی خودمختاری کے ساتھ اخلاقی خودمختاری بھی عطا کرتا ہے۔ قرآن مجید کا اصول ہے— "تاکہ مال صرف تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے”۔ یہ صرف تقسیمِ دولت کا اصول نہیں، بلکہ ایک عادلانہ معاشی نظام کا بنیادی تصور ہے۔ اسلام ایسی معیشت چاہتا ہے جس میں تجارت ہو مگر استحصال نہ ہو، سرمایہ ہو مگر اجارہ داری نہ ہو، منافع ہو مگر انسانیت قربان نہ ہو، ترقی ہو مگر کمزور انسان روندے نہ جائیں۔

آج اگر دنیا اپنے مالیاتی نظام میں نئے راستے تلاش کررہی ہے تو مسلم دنیا کو بھی اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ ہمیں کسی ایک طاقت کے خلاف صف بندی نہیں کرنی، بلکہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔ ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ مسلمان صرف خام مال پیدا کرنے والی منڈیاں اور صارفین کی بڑی تعداد نہیں، بلکہ علم، تحقیق، صنعت، ٹیکنالوجی، تجارت، زراعت، توانائی اور انسانی صلاحیتوں کے میدان میں بھی قیادت کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم ممالک باہمی اختلافات سے بلند ہوکر اپنے مشترکہ مفادات کو پہچانیں؛ باہمی تجارت بڑھائیں، مشترکہ تحقیقی مراکز قائم کریں، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو جوڑیں، خوراک و توانائی کے تحفّظ کے لیے مشترکہ منصوبے بنائیں، سرمایہ کاری کے نئے ذرائع پیدا کریں اور اسلامی مالیاتی اداروں کو محض روایتی بینکاری کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ عدل، کفالت اور پائیدار ترقی کے عالمی ماڈل کے طور پر پیش کریں۔

لیکن اس سفر کی پہلی منزل کسی مشترکہ کرنسی کا اجرا نہیں؛ مشترکہ شعور کا بیدار ہونا ہے۔ جب تک ہم علمی طور پر دوسروں کے محتاج، صنعتی اعتبار سے کمزور، ٹیکنالوجی میں پیچھے، تحقیق میں کمزور اور باہمی تجارت میں محدود رہیں گے، محض کرنسی بدلنے سے ہماری معاشی تقدیر نہیں بدلے گی۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہوگی جو قرآن سے ہدایت، سنّت سے کردار، علم سے بصیرت اور جدید سائنس سے قوت حاصل کرے؛ جو مسجد کی روحانیت اور لیبارٹری کی تحقیق، مدرسے کے علم اور یونیورسٹی کی جستجو، بازار کی دیانت اور صنعت کی مہارت کو ایک دوسرے سے جدا نہ سمجھے۔ یہی اسلامی تہذیب کی اصل جامعیت ہے۔

رسول اللّٰہﷺ نے مدینہ میں صرف ایک عبادت گزار معاشرہ قائم نہیں کیا تھا؛ آپﷺ نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں عبادت کے ساتھ تجارت، مواخات کے ساتھ معیشت، عدل کے ساتھ ریاست، علم کے ساتھ کردار اور حقوق کے ساتھ ذمّہ داریاں وابستہ تھیں۔ اسلامی تاریخ میں بازار، بیت المال، اوقاف، علمی مراکز، تجارتی راستے اور رفاہی ادارے اسی جامع تصور کے مظاہر تھے۔ آج ہمیں اسی روح کو نئے زمانے کے تقاضوں کے ساتھ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا ڈالر سے آگے کی دنیا کا خواب کسی نئی عالمی کرنسی کا خواب نہیں؛ یہ ایک ایسی دنیا کا خواب ہونا چاہیے جہاں قومیں اپنی معاشی تقدیر کے فیصلے زیادہ خودمختاری سے کرسکیں، جہاں ترقی کا ثمر صرف طاقتور طبقات تک محدود نہ رہے، جہاں کمزور اقوام کو اپنے وسائل پر زیادہ اختیار حاصل ہو، اور جہاں عالمی تجارت طاقت کے بجائے انصاف، باہمی احترام اور انسانی فلاح کے اصولوں پر آگے بڑھے۔

اُمّتِ مسلمہ کے لیے اصل چیلنج ڈالر کو شکست دینا نہیں؛ اپنی کمزوری کو شکست دینا ہے۔ اصل آزادی کسی کرنسی سے جان چھڑانے میں نہیں، بلکہ جہالت، پسماندگی، بدعنوانی، نااہلی، انتشار اور دوسروں پر غیر ضروری انحصار سے نجات حاصل کرنے میں ہے۔ اگر اُمّت علم میں مضبوط، کردار میں بلند، صنعت میں خودکفیل، تجارت میں منظم، تحقیق میں آگے، حکمرانی میں جواب دہ اور باہمی تعلقات میں متحد ہو جائے تو پھر دنیا کی کوئی کرنسی اس کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرسکتی۔ اور شاید یہی اس بدلتی ہوئی عالمی معیشت کا سب سے بڑا پیغام ہے؛ دنیا صرف ڈالر سے آگے نہیں بڑھ رہی؛ دنیا ایک نئے معاشی توازن کی تلاش میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس نئے توازن میں اُمّتِ مسلمہ صرف ایک تماشائی ہوگی یا اپنے علم، کردار، وسائل اور اتحاد کے ساتھ ایک مؤثر کردار ادا کرے گی؟ فیصلہ آنے والی دنیا نہیں کرے گی؛ فیصلہ آج ہماری فکری ترجیحات، تعلیمی پالیسیوں، معاشی حکمتِ عملی، اجتماعی اتحاد اور عملی جدوجہد کرے گی۔

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ایسی بصیرت عطا فرمائے جو بدلتے ہوئے حالات کو سمجھ سکے، ایسی حکمت دے جو جذبات کے بجائے اصولوں کی رہنمائی میں فیصلے کرے، ایسا کردار دے جو دنیا کے سامنے اسلام کی عدل و رحمت کی تصویر بنے، اور ایسی اجتماعی قوت عطا فرمائے کہ اُمّتِ مسلمہ اپنی معاشی، علمی اور تہذیبی ذمّہ داری کو پھر سے پہچان سکے۔ کیونکہ اصل خودمختاری یہ نہیں کہ ہمارے پاس اپنی کرنسی ہو؛ اصل خودمختاری یہ ہے کہ ہمارے پاس اپنی فکر، اپنا علم، اپنی صلاحیت، اپنی اخلاقی قوت اور اپنی تقدیر کے فیصلے کرنے کا شعور ہو۔ اور یہی وہ سفر ہے جو ڈالر سے آگے کی دنیا میں اُمّتِ مسلمہ کو ایک باوقار مستقبل کی طرف لے جاسکتا ہے۔
🗓️ (30.08.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے