اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسانوں کے درمیاں جتنے رشتے بنائیں ہیں ان تمام رشتوں میں سب سے اہم ترین ، مقدس ترین اور محبت سے لبریز وبھر پور میاں بیوی کارشتہ ہے،اس رشتہ میں نزدیکی وقربت ہے ،لاڈ وپیار ہے،ناز و نخرے ہیں ، دلداری ودل جوئی ہے اور ایک دوسرے کے لئے سکون واطمینان ہے،میاں بیوی کا رشتہ ایک طرف سب سے مضبوط ترین رشتہ ہے تو دوسری طرف انتہائی نازک ترین رشتہ بھی ہے ،مضبوط اس قدر ہے کہ اسے بڑی سے بڑی طاقت جنبش دے نہیں سکتی ہے اور نازک ایسا کہ شوہر کا’’ طلاق‘‘ والا ایک لفظ اچھے خاصے گھر کو اجاڑ دیتا ہے اور آن واحد میں ازواجی زندگی مضبوط ترین محل زمین دوس ہوجاتا ہے، عقل وفہم رکھنے والوں نے بڑی عقلمندی کی بات کہی ہے کہ گھر بنانا تو آسان ہے لیکن گھر بسانا آسان نہیں ہے ، شادی کرنا تو سہل ہے مگر ازواجی زندگی خوشگوار بنائے رکھنا آسان نہیں ہے ، بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ محل کی دیواریں تو باہر سے مضبوط نظر آرہی ہیں لیکن اندر سے محل والے ٹوٹے ہوئے ہیں، نکاح کے ذریعہ دو اجنبی تو ایک ہوگئے مگر ان کے تلخ مزاجوں نے انہیں ایک ہونے نہیں دیا ، یہی وجہ ہے کہ بہت سےمکانات خوبصورت نظر آتے ہیں اور لوگ مالکان مکان کو ظاہری طور پر اکٹھے دیکھ کر رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ، اکھٹے رہنے کے باوجود ان کے درمیان دوریاں عروج پر ہوتی ہیں ،جس مثال اہل فہم ودانش نے سنترے سے دی ہے کہ وہ باہر سے متحد نظر آتا ہے مگر اندر سے اس کی ہر شاخ اور کلی جدا جدا ہوتی ہے ، وہ لوگ ہر لمحہ سکون کے متلاشی ہوتے ہیں اور جب انہیں سکون میسر نہیں آتا تو پھر سکون کی تلاش میں دربدر بھٹک رہے ہوتے ہیں ، ان کا معاملہ بڑا تعجب میں ڈالتا ہے ،دولت مند ہیں مگر دل غنی نہیں ،مکان ہے مگر سکون نہیں،دن ہے مگر زندگی تاریک اور آبادی کے باوجود ویرانے کی وحشت برقرار ہے ، سچ یہ ہے کہ جو ازاواجی زندگی کی مسرتوں سے محروم رہتا ہے وہ بہت بڑی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے ،اس خطرناک اور مہلک ترین حالات سے باہر نکلنے اور زندگی کی خوشحالی پانے کے لئے ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے رسول اللہؐ کی مبارک تعلیمات اور خصوصاآپؐ کی گھریلو زندگی جسے اپنا کر اور جسے مشعل راہ بناکر ہی انساناپنی گھریلو زندگیوں کو پُر سکون وپُر مسرت بنا سکتا ہے اور گھر کی خوبصورتی میں چار چاند لگا سکتا ہے ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہؐ کی مبارک زندگی کو قیامت تک تمام انسانوں کے لئے بہترین نمونہ قرار دیا ہے ، ارشاد ہے: (لقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب: ۲۱) بلاشبہ تمہارے لئے رسول اللہؐ کی زندگی میں ایک بہترین نمونہ موجود ہے ‘‘،اس آیت مبارکہ میں صاف طور پر بتادیا گیا کہ حقیقی طور پر کامیاب زندگی وہی ہے جو رسول اللہؐ کے نقش قدم پر ہو،جس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ رسول اللہؐ کی مبارک زندگی ترک کرتے ہوئے کوئی بھی شخص نہ کامیاب زندگی گزار سکتا ہے اور نہ ہی پُر سکون انداز سے زندگی جی سکتا ہے ،ازواجی زندگی کی کامیابی اور گھریلو حالات کو پُر سکون بنانے کے لئے اسوہ نبویؐ کا اپنانا لازمی ہے اور اس کے لئے رسول اللہؐ کے گھریلو زندگی کے پہلووں سے واقفیت ضروری ہے ،اس وقت مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ سیرت نبویؐ سے ناواقف ہے اور اس میں بھی ایک بڑا طبقہ رسول اللہؐ کی گھریلو زندگی سے تو بالکل ہی ناواقف ہے حالانکہ سیرت کی کتابوں میں جلی عنوان کے ذریعہ رسول اللہؐ کی گھریلو زندگی کا ذکر موجود ہے اور اس کے ذریعہ قارئین کو رسول اللہؐ کی گھریلو زندگی سے واقف کروا نے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے ،رسول اللہؐ کی زندگی کا ہر پہلو انتہائی خوبصورت ہے اور گھریلو زندگی کا پہلو تو خوبصورت ترین ہے ،رسول اللہؐ گھر کے باہر اور باہر والوں کے ساتھ جس اخلاق کا مظاہرہ فرمایا کرتے تھے ایسے ہی اخلاق کا معاملہ اپنے افراد خانہ کے ساتھ بھی فرمایا کرتے تھے ،آپؐ نے اس شخص کو اخلاقی حیثیت سے بہترین قرار دیا ہے جس کے اخلاق گھروالوں کے ساتھ عمدہ ہوں کیونکہ عموماً لوگ گھر کے باہر بااخلاق بنتے ہیں اور گھروالوں کے ساتھ انتہائی بداخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہیں ، جو شخص اس طرح کا دوہرا معیار رکھنے والا ہو وہ کس طرح با اخلاق ہو سکتا ہے ، نہیں ہو سکتا ہے اور اس کا یہ عمل نبوی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے ، ایک موقع پر رسول اللہؐ نے اچھے اخلاق والے اور عورتوں کے ساتھ اخلاق ومروت سے پیش آنے والے کو کامل مومن قرار دیا ہے، ارشاد فرمایا: اکمل المؤمنین ایمانا أحسنھم خلقا وخیارکم خیارکم لنسائھم خلقا ( ترمذی: ۱۱۶۲) ’’ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو، اور تم سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو‘‘، ایک دوسری حدیث میں آپؐ نے ارشاد فرمایا: خیرکم خیرکم لأھلہ وانا خیرکم لأھلی ( ابن ماجہ: ۱۹۷۷) ’’ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھروالوں کے لئے بہترین ہے اور میں اپنے گھر والوں کے حق میں سب سے بہترین ہوں‘‘، اس حدیث مبارکہ میں آپؐ نے اس شخص کو بہترین آدمی ہونے کی سند دی ہے جو اپنے گھروں کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہے اور اپنی ذات مبارکہ کو لوگوں کے لئے نمونہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ میں تمام لوگوں میں بہتر ہوں کیونکہ میں اپنے گھروالوں کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہوں۔
شمائل ترمذی میں سیدنا حسین ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے رسول اللہؐ کے شب وروز کی مصروفیات کے بارے میں دریافت کیا تو سیدنا علیؓ نے بتایا کہ رسول اللہؐ اپنے گھر کے اوقات اور معمولات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھاتھا(۱) ایک حصہ اپنے زاتی کاموں پر صرف فرماتے تھے (۲) دوسرا حصہ گھر والوں کے لئے مخصوص تھا اور(۳) تیسرا حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے ہوتا تھا ،بخاری کی روایت کے مطابق ایک مرتبہ چند نوجوان صحابہؓ باہمی مشورہ کرکے رسول اللہؐ کے گھر کے اندر کے معمولات معلوم کرنے کے لئے امہات المؤمنین کی خدمت میں باری باری حاضر ہوئے اور دریافت کیا کہ رسول اللہؐ کے گھر میں معمولات کیا ہوتے ہیں ؟ ازواج مطہراتؓ میں سے ہر ایک کا جواب یہ تھا کہ آپؐ کے گھر میں معمولات کم وبیش وہی ہوتے ہیں جو ہر گھر کے سربراہ کے ہوتے ہیں ،آپؐ آرام فرماتے ہیں،گھروالوں کو وقت دیتے ہیں ،گھرکے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں اور اپنے ضروری کام خود انجام دیتے ہیں، سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہؐ اپنے کپڑے سی لیا کرتے تھے اور اپنے جوتے گانٹھ لیا کرتے تھے اور عام طور پرمرد حضرات گھروں میں جو کام کرتے ہیں وہ بھی کرتے تھے ( ابن حبان: ۵۶۷۷)، رسول اللہؐ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جملہ گیارہ شادیاں کی تھیں جن میں بیک وقت نو(۹) ازواج مطہرات آپؐ کے ساتھ تھیں ،آپؐ باری باری ان کے یہاں قیام فرماتے تھے اور ہر ایک کی باری کا سختی سے اہتمام فرماتے تھے ، رسول اللہؐ نماز عصر سے فارغ ہوکر اپنی ازواج کے پاس جاتے تھے اور ان کی خیرخیریت دریافت کرتے تھے،رسول اللہؐ کو ازواج مطہرات کے درمیان عدل وانصاف کا احساس اتنا شدید تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے ،آپؐ کا معمول تھا کہ جب سفر پر روانہ ہوتے تو ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے اور جس زوجہ کا نام قرعہ میں نکل آتا ان کو ساتھ لے جاتے تھے، رسول اللہؐ نماز عشاء سے فارغ ہوکر اپنے گھروالوں میں جن کے پاس قیام ہوتا تشریف لاتے تھے اور سونے اذکار کرکے سوجاتے تھے ،وضو کا پانی اور مسواک آپؐ کے سرہانے ہوتی تھی( ابوداؤد : ۱۳۴۶)،رسول اللہؐ اپنے ازواج کے ساتھ بے تکلف رہتے تھے اور ان کی دلجوئی بھی فرماتے تھے، سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ عیدالفطر کے موقع پر چند حبشی نوجوانیزوںسے کھیل کر کرتب دکھارہے تھے ،میں نے دیکھنے کی خواہش کی تو رسول اللہؐ میرے آگے کھڑے ہوگئے اور میں آپؐ کے مونڈھے اور گردن کے درمیان سے کھیل دیکھتی رہی ،سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہؐ ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے(ابن ماجہ: ۳۷۶) اور فرماتی ہیںکہ ایک مرتبہ میرے اور رسول اللہؐ کے درمیان دوڑ کا مقابلہ بھی ہوا میں دبلی پتلی تھی آگے بڑھ گئی اور آپؐ پیچھے رہ گئے پھر کچھ وقت کے بعد دوبارہ مقابلہ ہوا تو اس موقع پر رسول اللہؐ نے سبقت حاصل کرلی اور آپؐ نے فرمایا : یہ اس کا بدلہ ہوگیا۔
رسول اللہؐ مزاج شناس تھے ،آپؐ اپنے گھروالوں کے مزاج کی مکمل رعایت بھی فرماتے تھے،ایک موقع پر آپؐ نے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا: عائشہ! تم مجھ سے خوش ہوتی ہو یا ناراض ہوتی ہو تو مجھے اس کا پتہ چل جاتا ہے،سیدہ عائشہؓ سے عرض کیا وہ کیسے؟ آپؐ نے فرمایا : جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو ’’ محمدؐ کے رب کی قسم‘‘ اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو’’ ابراہیمؑ کے رب کی قسم‘‘ ،یہ سن کر سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: لاأھجر الا اسمک یعنی ناراض گی کے وقت میں فقط نام چھوڑ تی ہو مگر دل میں آپؐ کی محبت برقرار رہتی ہے۔
رسول اللہؐ کو بچوں سے بہت محبت تھی ،راستے میں بچے کھیلتے ہوئے ملتے تو آپؐ بچوں کو سلام کرتے اور انہیں گود میں اٹھا کر ان سے پیار فرماتے تھے،سیدنا اسامہؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپؐ حسن وحسینؓ کو اٹھائے ہوئے تھے اور فرمارہے تھے کہ یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں ،اے اللہ! ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت رکھ اور اس شخص سے بھی جو ان سے محبت رکھے،رسول اللہؐ جب گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے گھروالوں کو سلام کرتے تھے ،سلام کرتے ہوئے ایسا انداز اپناتے تھے کہ سونے والا ہوتا تو اس کی نیند میں خلل نہ ہوتا تھا اور جو جاگ رہے ہوتے تھے تو وہ جواب دے سکتے تھے ،گھر میں جو کچھ کھانا تیار ہوتا تھا تو اسے پیش کردیا جاتا تھا ،کھانے کی مرغوب چیز ہوتی تھی تو آپؐ اسے تناول فرماتے تھے ورنہ خاموشی اختیار فرماتے تھے لیکن کھانے میں عیب نہیں لگاتے تھے،دوپہر میں کھانا تناول فرمانے کے بعد کچھ دیر قیلولہ فرماتے تھے، آپ ؐرات میں عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد غیر ضروری جاگنے کو سخت ناپسند فرماتے تھے،آپؐ معمولی قسم کا بستر استعمال فرماتے تھے،بساوقات چمڑے کا بستر ہوتا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی ہوتی تھی( شمائل ترمذی: ۳۳۰)۔
رسول اللہؐ گھر میں اپنے ضروری کام کاج سے فارغ ہوتے اور گھر والوں کے کام میں ہاتھ بٹاتے تھے اس کے علاوہ گھر میں نفل نمازیں بھی ادا فرماتے تھے،رات کے وقت میں نماز تہجد ادا فرماتے تھے،نیز فجر کی سنتیں بھی اکثر گھر میں ہی ادا کرتے تھے (بخاری: ۶۲۶)،رسول اللہؐ رات میں نماز تہجد میں دیر تک دعائیں کرتے تھے ،اپنے لئے اور امت کے لئے بھی ،دوران قرأت آیات رحمت پر رحمت کی دعا اور آیات عذاب پر عذاب سے پناہ کی دعا کیا کرتے تھے،دعا میں اتنا روتے تھے کہ داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہوجاتی تھیں( مسلم: ۷۷۲)۔