جمعہ نامہ: آیوش کا چراغ یوگی کی پھونکوں سے نہیں بجھے گا

جمعہ نامہ:  آیوش کا چراغ یوگی کی پھونکوں سے نہیں بجھے گا

جمعہ نامہ: آیوش کا چراغ یوگی کی پھونکوں سے نہیں بجھے گا

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ارشادربانی ہے: ’’کامیاب ہوا وہ جس نے تزکیہ کیا۔‘‘ اس دنیا میں کون کامیاب ہونا نہیں چاہتا؟ کامیابی کی ایک شرط تزکیہ ہے ۔ اس لفظ کامرجع ’زک ۃ‘ ہے اور اسی سے زکوٰۃ بھی ہے۔ یہ۔ مال کی زکٰوۃ نہ نکالی جائے تو وہ ناپاک ہوجاتا اور اگر اس میں سود شامل ہوجائے تو وہ اسے ناپاک کردیتا ہے۔ فرمانِ قرآنی ہے:’’ اللہ سود کا مَٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشو ونما دیتا ہے ‘‘۔ زکٰوۃ سے بظاہر مال میں کمی واقع ہوتی ہے مگر حقیقت میں وہ نشوونما پاتا ہے اور پروان چڑھتاہے۔ قرآنی تزکیہ شخصیت کے ہمہ گیر ارتقاء پر محیط ہے ۔اس کی ابتداء تو یقیناًنفس انسانی سے ہوتی ہے مگر اس کا دائرۂ کا رافراد کے باہمی تعلقات، خاندان کی تنظیم، تشکیلِ معاشرہ ، رسوم ورواج، حکومت وسیاست، علوم و فنون تک پھیلا ہوا ہے اور ان سب کا تزکیہ مطلوب و مقصود ہے۔ ارشاد قرآنی ہے:’’(قسم ہے) نفس کی اور جیسا کچھ اس کو سنوارا!‘‘یہاں نفس انسانی اور اس کے خالق کو گواہ بنا کرکہا گیا کہ اسے صرف بنایا ہی نہیں بلکہ سنوارا بھی گیا۔ اس کے بعد :’’ پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیزگاری اُس پر الہام کر دی‘‘ یعنی حق و باطل کاامتیاز اسے ودیعت کردیا گیا ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بلاتفریق مذہب و ملت ،رنگ و نسل ، علاقہ و زمانہ بیشتر انسانی اقدار کے خیر یا شر ہونے پر اتفاق ہے۔

رب کائنات نے اپنے اس احسانِ عظیم سے نوازنے کے بعد بغرضِ آزمائش یہ آزادی بخشی کہ چاہے تو اس داخلی نظام کی نشوونما کرے تاکہ وہ خوب پھلے پھولے یا اسے کچل کر نیست و نابود کردے ۔ اپنے اس متضاد طرزِ عمل کا نتیجہ خود انسان کو بھگتنا پڑے گا ۔ اس لیے آگے خبردار کردیا گیا کہ :’’ یقیناً فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔‘‘ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر نفس کیا چیزہے؟ یہ دراصل انسان کی اندرونی خواہشات ہیں ۔ نفس انسانی کی مختلف قسموں کا کتاب الٰہی میں ذکر ہے مثلاًنفسِ عمارہ جو جبلی خواہشات کے تابع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نفسِ لوامہ بھی ہے جو الٰہی اقدار کا پاسداری کرنے کی ترغیب دیتا ہے او ان کی پامالی پر لعنت ملامت بھی کرتاہے۔ عام بول چال کی زبان میں اسے انسانی ضمیر کہا جاتا ہے۔ انسان کبھی کبھار بیرونی خوف وہراس یا داخلی حرص و ہوس کا شکار ہوکر اپنے ضمیر کا گلا گھونٹ دیتا ہے مگر اس حالت میں اس کا روحانی سکون غارت ہوجاتا ہے۔ اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ پھر سے اپنے ضمیر کی صدا پر لبیک کہہ کر اطمینانِ قلب و ذہن حاصل کرے۔

مذکورہ بالا اصول کی ایک مثال آیوش ملک ہے۔ شاملی کے اس نوجوان نے اسلام قبول کر کے چاندنی قریشی نامی دوشیزہ کے ساتھ شادی کی لیکن پھر اس کے والد نے 6؍ جون 2026ء کو شاملی پولیس اسٹیشن میں چاندنی اور ان کے رشتہ داروں کے خلاف اتر پردیش کے غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب قانون 2021ء اور بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروا دی۔اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے زبردستی کرنے والے درخواست گزاروں نے اپنی ایف آئی آر میں جھوٹ، تعصب اور آیوش کی ذاتی آزادی کو چھیننے کابے بنیاد الزام لگاکر اپنے بیٹے کو گھر میں محصور کردیا ۔ اس بیجا حراست کے خلاف آیوش کے دوست سلطان نے ہائی کورٹ میں ہیبیس کارپس رِ ٹ کے تحت درخواست دائر کی۔ درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ والد کی مرضی کے خلاف مذہب کی تبدیلی اور شادی کرنے پر، ریاستی حکام کی مبینہ مدد سے آیوش کو زبردستی ان کے والد کی تحویل میں رکھا گیا تھا۔ اس پر9؍ ستمبر کو جسٹس سندیپ جین نے اتر پردیش انتظامیہ اور آیوش کے والد دیوراج سنگھ ملک کو حکم دیا تھا کہ وہ 16؍ ستمبر کو آیوش کو ہر حال میں عدالت کے سامنے پیش کرتے ہوئےاس غیر قانونی حراست اور انتظامیہ کی شمولیت کے الزامات کو انتہائی سنگین قرار دیا ۔

آیوش ملک نے عدالت میں پیشی کے دوران بتایا کہ انہوں نے اپنی آزادانہ مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور وہ اپنی بیوی چاندنی قریشی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر ہائی کورٹ نے انتظامیہ کو ان کی حراست کے حالات پر سخت پھٹکار لگائی اور ہدایت دی کہ آیوش ملک کی ذاتی آزادی کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے یوگی کی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ اس جوڑے کے فیصلے اور آیوش کی آزادی میں دخل اندازی نہ کرے۔ یوگی کی ڈبل انجن سرکار کے باوجود جسٹس سندیپ جین کا یہ جرأتمندانہ حکم ان کے زندہ ضمیر کا غماز ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آیوش نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا اور شادی کی تھی۔ فرمانِ قرآنی ہے:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے ‘‘۔یہ حکم بظاہر اہل ایمان کے لیے مگر اسلام دین فطرت ہے۔ اس لحاظ سے اس کا اطلاق سارے انسانوں پر ہوتا ہے۔ زعفرانی سیاست چونکہ مسلمانوں سے نفرت کی بنیاد پر چل رہی ہے اس لیے اقتدار کے خوف سے عدلیہ نے بھی اپنے فرضِ منصبی کے برخلاف مسلمانوں کے جائز انسانی حقوق کو پامال کرنا شروع کردیا تھا مگر ایسا لگتا ہے کہ اب ہوا کا رخ بدلنے لگا ہے۔ آیوش ملک کی بابت عدالت کا یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے اور آگے بھی قانونی کارروائی جاری رہے گی مگر اس تبصرے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھےگا؟ الہ باد ہائی کورٹ کا یہ حکم نہ صرف دھاندلی کرنے والے اہل خانہ، اقتدار کی خوشنودی میں زیادتی کرنے والے انتظامیہ بلکہ یوگی و مودی سرکار کے گال پر کرارہ طمانچہ ہے۔ آیوش جذبۂ ایمانی اور سلطان کے جرأتمندانہ کوشش نے پھر ایک بار یہ ثابت کردیا کہ؎
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے