20؍ سال قبل معاشی تعاون کی خاطر برکس کی داغ بیل ڈالی گئی لیکن سیاست اور معیشت میں چولی دامن کا ساتھ ہے اس لیے انہیں الگ کرنا ممکن نہیں ہے۔ ابتداء میں یہ اتحاد صرف چار ممالک برازیل ، روس ، ہندوستان اور چین پر مشتمل تھا ۔ اس وقت ہندوستان کے اندر منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے اور ان میں یہ جرأت تھی کہ انہوں نے ایران سے تیل خریدنے کے معاملے میں امریکہ سے صاف کہہ دیا تھا کہ اس بابت ہم کسی کے دباو میں نہیں آئیں گے اور اپنے قومی مفاد میں آزادانہ فیصلے کریں گے ۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ یک قطبی عالمی سیاسی بساط پر یہ ایک امریکہ مخالف یا امریکی تسلط سے آزاد تنظیم تھی۔ ا س میں چار سال بعد جنوبی افریقہ کو بھی شامل کیا گیا جو اب بھی امریکی اثر و رسوخ سے آزاد ملک ہے ۔ جنوبی افریقہ کی شمولیت سے برکس میں آسٹریلیا کے علاوہ ایشیا، یوروپ، امریکہ اور افریقہ جیسے چار بڑے براعظم کے ممالک کی نمائندگی ہو گئی ۔ اس میں مزید توسیع ہوئی تو مصر ، ایتھوپیا ، ایران ، متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور انڈونیشیا کی شمولیت سے کچھ امریکہ نواز ممالک بھی اس اتحاد میں داخل ہوگئے۔
گردشِ زمانہ وزیر اعظم نریندر مودی کو برسرِ اقتدار لے آیا تو ہندوستان پوری طرح امریکہ کا وفادار اور تابعدار ہوگیا۔ایران کے بعد روس کے سستے تیل کی خرید سے اجتناب ، امریکہ کا حکم ملتے ہی چابہار بندرگار میں کروڈوں کی سرمایہ کاری سے دستبردار ہوجانا ۔ ایران کی جنگ کے فوراً پہلے اسرائیل کا دورہ اور دوران جنگ اسلحہ کی فراہمی نے ہندوستانی پوزیشن کو بری طرح متاثر کیا ۔ غزہ کی نسل کشی پر خاموشی اور ایران پر حملے کے بعد مکمل سناٹے نے مودی سرکار کے احساسِ جرم کو ظاہر کردیا ۔ اس کے بعد مودی جی ایران کے سارے پڑوسی ممالک کو فون کرکے ہمدردی جتانا اسرائیل نوازی کے زمرے میں چلا گیا۔ امریکہ کی خوشنودی کے لیے برکس میں شامل ایران سے فاصلہ رکھا گیا۔ اس خارجہ پالیسی نے نہ صرف ہندوستان کے وقار بلکہ مودی جی کے کردار کو مشکوک بنادیا اور یہی وجہ ہے کہ ایران و امریکہ سفارتکاری میں پاکستان نے ہندوستان کو مات دے دی کیونکہ ایران کے لیے ہندوستان پر اعتماد کرنا ممکن نہیں تھا ۔ اس تناظر ایرانی صدر پزشکیان کی دہلی میں آمد اور مودی کے ساتھ ان کی تصویر غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوگئی۔
برکس کے درجن بھر ممالک میں سے آدھا درجن ہم سایہ ہیں اور بدقسمتی سے ان سب کے بیچ تنازع ہے۔ اتفاق سے روس، برازیل ، جنوبی افریقہ اور انڈونیشیا کے پڑوس میں کوئی برکس اتحاد کا ملک نہیں ہے اس لیے وہ سرحدی تنازعات سے محفوظ ہیں ۔ چین اور ہندوستان کے درمیان سرحدی تنازعات بھوٹان سے لے کر اروناچل پردیش تک پھیلے ہوئے ہیں۔ گلوان گھاٹی میں ہونے والے تصادم کے بعد یہ تعلقات ایسے بگڑے کہ چینی صدر شی جن پنگ نےسات برس بعد دہلی کا پہلا دورہ کیا۔ 2020 کے سرحدی تنازعے کے بعد سے چین اورہندوستان کے درمیان گہرا عدم اعتماد موجود رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شی جن پنگ اور نریندر مودی کے درمیان دوستانہ مصافحہ تو ہوا مگر گرمجوشانہ اندازمیں معانقہ نہیں ہوا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ شی جن پنگ نے دہلی 24 گھنٹے سے بھی کم وقت قیام کیا ۔ انہوں نے شب میں مودی کی جانب سے دئیے جانےوالے عشائیے میں بھی شریک ہونے سے گریز کیا ۔ اس کے باوجود یہ اچھی بات ہے کہ سرکاری اعلامیوں کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تجارتی روابط اور نقل و حمل کے رابطوں کو مضبوط بنانے اور ترکاوٹوں کو دور کرنے پر اتفاق کیا۔ دریاِئے نیل کے پانی کی تقسیم پر ایتھوپیا اور مصر میں بھی کشیدگی برقرار ہے اس کے باوجود یہ دونوں ممالک دہلی میں ایک ساتھ باہمی خیر سگالی کا مظاہرہ کررہے تھے ۔ ایسے میں ندا ٖاضلی کا مشہور شعر یاد آتا ہے؎
دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے
متحدہ عرب امارات ایک ایسا ملک ہے جس کی سرحدیں دو برکس ممالک سعودی عرب اور ایران کے ساتھ مشترک ہیں ۔ ایک زمانے میں ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے سب سے بڑے دشمن تھے لیکن گردش زمانہ نے حالات یکسر بدل دئیے ۔ اس کے پیچھے کئی عوامل ہیں ، سب سے پہلا تو یہ ہے کہ ایرانی انقلاب کے حوالے سے سعودی حکومت کے اندر عدم تحفظ کے اندر کمی واقع ہوئی ہے ۔ چین نے اپنی کاوش سے دونوں ممالک کو ایک میز پر لانے کی کامیاب کوشش کی اور اسرائیل نے قطر پر حملہ کرکے اسرائیل اور امریکہ کے اوپر سے اعتماد ختم کردیا ۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ سعودی عرب سے توایران کے تعلقات بہتر ہوگئے مگر جو امارات اور سعودی عرب ایک دوسرے کہ یارِ غار تھے اب آپس میں دشمن بن گئے ہیں۔ ابوظبی اور سعودی عرب کے درمیان بے شمار چیزیں مشترک ہیں مگر حالیہ برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ان دونوں ممالک کی مشترکہ نشست غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے ۔ ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان کے ساتھ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا دونوں فریقین کا ماضی کو پس پشت ڈال کر مستقبل کی طرف دیکھنے پر اتفاق کرنا نہایت خوش آئند ہے۔
مغربی ایشیا میں فوجی کشیدگی کے بعد ایران اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی براہِ راست ملاقات تھی ۔ فی الحال مشرق وسطیٰ کے گلے کی ہڈی آبنائے ہر مز ہے اور امریکہ کے پاس اس علاقے میں اپنا وجود باقی رکھنے کا یہی ایک ذریعہ ہے۔ اس بابت صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ عمان نے اسٹریٹجک آبنائے کے ذریعے جہاز رانی کے راستے کھولنے کے لیے ایک فریم ورک کو قبول کیا ہے۔صدر مسعود پیزشکیان اور ولی عہد شہزادہ خالد کے درمیان ہونے والی ملاقات کو خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان بتدریج بات چیت کے امکان کے اشارے کے طور پر دیکھاگیا ۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی مقاصد کو نشانہ بنانے والے فوجی حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا۔ ایران پر امریکی-اسرائیل کے حملے کے بعدامریکی اتحادیوں کو نشانہ بناتے ہوئے جو جوابی کارروائی کی اس کا خمیازہ متحدہ عرب امارات کو اٹھانا پڑا اور تعلقات میں جو کشیدگی آئی تھی اس کو کم کرنے میں برکس کے اجلاس نے اہم کردار ادا کیا۔
دبئی، متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا شہر، ایک طویل عرصے سے قائم ایرانی کمیونٹی کا گھر ہے اور ایران کے لیے ایک اہم اقتصادی وسیلہ بھی ہے۔ اس تناظر میں شیخ خالد اور مسعود پزشکیان کا متعدد علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کے بعد کشیدگی کم کرنے، حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے اور خطے میں استحکام مضبوط بنانے کی کوششوں کی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دینا اس کانفرنس کا ایک بڑا ماحصل ہےکیونکہ دونوں رہنماوں نے خطے کے عوام کی خاطر امن اور ترقی کے مواقع کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان دونوں ہم سایہ ممالک نے تو کہہ دیا کہ ہماری آپس میں کوئی لڑائی نہیں ہے لیکن ہندوستان یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس کا ہر پڑوسی ناراض ہے۔ اس کی دوستی دور دراز کے اسرائیل اور امریکہ سے ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں ایران یا کسی عرب ملک کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ مشرقِ وسطی میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے فریقین ’’ تحمل ‘‘ سے کام لیں۔ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا بلاواسطہ ذکر کچھ یوں کیا گیا کہ ہمیں سویلین جوہری تنصیبات پر جانے بوجھے حملوں پر تشویش ہے۔یوکرین روس جنگ کے بارے میں کسی فریق کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ ’’ بین الاقوامی تنازعات کو اقوام ِ متحدہ کے چارٹر کے تحت بات چیت اور سفارت کاری ‘‘ سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔امریکہ کا نام لیے بغیر من مانے عالمی ٹیرف نافذ کرنے کی پالیسیوں کی بھی مذمت کی گئی۔
مشترکہ اعلامیہ میں جہاں تمام مسائل میں اخفاء کا رویہ اختیار کیا گیا وہیں فلسطین کے بارے میں قدرے کھل کے بات کی گئی کہ یہ اجلاس مقبوضہ فلسطین کے جغرافیہ و آبادی میں پرتشدد تبدیلی اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔ اس کا سب سے اہم اعلان یہ ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی روکے اور انسانی امداد کی بلارکاوٹ ترسیل کے لیے بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کو آزادانہ کام کرنے دے۔اجلاس نے فلسطینی اتھارٹی کو اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دینے اور دو ریاستی حل کو عملی شکل دینے کا بھی متفقہ مطالبہ کیا۔اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے سفارتی سطح پر کھل کر فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت نے برکس کے دہلی اجلاس کو یادگار بنا دیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کیونکہ دنیا کی نصف آبادی برکس ممالک میں رہتی ہے۔ عالمی معیشت میں برکس کا حصہ لگ بھگ چالیس فیصد اور تجارت میں پچیس فیصد ہے۔ چالیس فیصد تیل برکس ممالک میں پیدا ہوتا ہے۔بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں جبکہ ’’ مغربی استعمار ‘‘ انتشار کا شکار ہے۔ یورپ اور امریکہ کے روایتی اتحاد میں دراڑ پڑ چکی ہے، برکس جیسی تنظیموں کا کردار بہت اہم ہوجاتا ہے اور مستقبل میں طاقت کےتوازن کی ازسرِ نو تشکیل کی جانب ایک اہم قدم قرار پاتا ہے۔