ہمارے کان کیا سن رہے ہیں؟

ہمارے کان کیا سن رہے ہیں؟

ہمارے کان کیا سن رہے ہیں؟

ازقلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ

آج کا سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟ بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ہم کیا سن رہے ہیں؟ ہماری سماعتیں دن رات مختلف آوازوں، گانوں، میوزک، ریلز، ویڈیوز اور موبائل کی بے شمار آوازوں سے گھری ہوئی ہیں۔ جو چیز آنکھ کے سامنے آتی ہے، ہم کبھی نہ کبھی اس سے نظریں ہٹا سکتے ہیں؛ مگر جو آواز کان کے راستے دل تک پہنچ جائے، وہ بسا اوقات خاموشی کے بعد بھی اندر گونجتی رہتی ہے۔ اسی لیے قرآن نے سماعت کو بھی جواب دہ قرار دیا ہے:إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًابے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں بازپرس ہوگی۔(سورۃ الإسراء)

آج کے دنوں میں بعض علاقوں میں بلند آواز سے بجنے والا میوزک اور مذہبی گیت گھروں تک پہنچتے ہیں۔ ہمسایوں کے تہوار اور ان کے مذہبی جذبات کا احترام اپنی جگہ، لیکن مسلمان کے لیے یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ اس کے اپنے گھر کے کان کیا سن رہے ہیں، اس کے بچے کیا یاد کر رہے ہیں اور ان کی زبان پر بے اختیار کون سے الفاظ آ رہے ہیں؟ کیونکہ کبھی ایک گیت صرف ایک آواز نہیں رہتی؛ مسلسل سماعت کے بعد اس کے بول ذہن میں محفوظ ہونے لگتے ہیں، بچے انہیں دہرانے لگتے ہیں اور کبھی بڑوں کی زبان بھی انجانے میں ان الفاظ کی عادی ہوجاتی ہے۔

اصل مسئلہ صرف تہوار تک محدود نہیں۔آج موبائل کی ایک اسکرولنگ میں درجنوں گانے، ریلز اور مختصر ویڈیوز ہمارے سامنے آجاتی ہیں۔ ایک گانا ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے؛ ایک دھن کان میں پڑتی ہے تو کچھ دیر بعد وہی زبان پر آجاتی ہے۔ خطرہ وہاں اور بڑھ جاتا ہے جہاں الفاظ محض موسیقی نہیں رہتے بلکہ ان میں شرکیہ تصورات، غیر اسلامی عقائد یا ایسے جملے شامل ہوتے ہیں جنہیں ایک مسلمان اپنے عقیدۂ توحید کے ساتھ جمع نہیں کرسکتا۔

بچے بالخصوص اس معاملے میں زیادہ حساس ہیں وہ ہر بات کا عقیدتی تجزیہ نہیں کرتے؛ جو چیز خوب صورت دھن، دلچسپ ویڈیو یا بار بار سنائی دینے والے الفاظ کے ساتھ ان کے سامنے آتی ہے، اسے یاد کرلیتے ہیں۔ اس لیے والدین کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ بچہ کیا دیکھ رہا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کیا سن رہا ہے، کیا دہرا رہا ہے اور کن الفاظ کو معنی سمجھے بغیر انہیں اپنی زبان پر لا رہا ہے۔

یہاں سے ہمیں اپنے گھروں کی طرف متوجہ ہونا ہوگا۔ باہر کا ہر شور ہمارے اختیار میں نہیں، مگر گھر کے اندر کیا بجے گا، بچوں کو کون سی آوازیں سنائی جائیں گی اور ان کے دل و دماغ کو کن الفاظ سے آباد کیا جائے گا، اس کا بڑا حصہ ہمارے اختیار میں ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچوں کی زبان توحید کے کلمات سے مانوس ہو، دل قرآن سے وابستہ ہو اور سماعت پاکیزہ کلام کی عادی بنے تو اس کے لیے گھر کے ماحول کو بھی ویسا ہی بنانا ہوگا۔

اپنے گھر وں کو قرآن سے آباد کرنا چاہیے؛ رسول اللہ ﷺ کی محبت اور آپ کے مبارک تذکروں سے آباد کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ سے تعلق کے مضبوطی کے تذکروں سے آباد کرنا چاہیے۔ ہمیں دوسروں کے تہوار سے دشمنی نہیں کرنی؛ ہمیں اپنے بچوں کے ایمان، اپنی زبان اور اپنے گھر کی اسلامی شناخت کی حفاظت کرنی ہے۔
کیونکہ قیامت کے دن صرف یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ ہم نے کیا کہا؛ ہمارے کان، ہماری آنکھیں اور ہمارے دل بھی سوال کے دائرے میں ہوں گے
انسان کے کان محض آوازیں نہیں سنتے، وہ بہت کچھ اپنے اندر محفوظ بھی کرتے ہیں۔ بچپن میں سنی ہوئی آوازیں، بار بار پڑھے جانے والے الفاظ اور گھر کے معمولات رفتہ رفتہ حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچے کو اگر گھر میں قرآن کی تلاوت سننے کا ماحول ملے تو قرآن اس کے کانوں سے اتر کر اس کے حافظے اور دل تک پہنچنے لگتا ہے۔
یہ بات میں بطورِ فخر لکھ رہا ہوں، اور یہ تحریر لکھتے ہوئے مجھے اس بات پر خوشی محسوس ہوتی ہے کہ میری ابتدائی زندگی میں میری والدہ محترمہ کی زبان سے قرآن کی تلاوت کی آواز ایک مستقل رفاقت کی طرح میرے ساتھ رہی۔ مدرسے میں داخلہ لینے اور نورانی قاعدہ شروع کرنے سے بھی پہلے قرآنِ کریم کی کئی سورتیں میرے ذہن میں محفوظ ہوچکی تھیں۔ سورۂ یٰسین، سورۂ واقعہ، سورۂ ملک، سورۂ مزمل، سورۂ جمعہ، سورۂ مدثر اور سورۂ کہف کا ایک بڑا حصہ مجھے اس وقت سے یاد تھا جب باقاعدہ تعلیمِ قرآن کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا۔اور آج جب بھی ان صورتوں کو دہراتا ہوں یا پھر دوران تلاوت وہ سورتیں یا پھر وہ آیات زبان پر آجاتی ہیں فوراً وہی بچپن کا منظر یاد آجاتا ہے جس ماحول میں ہم نے سن کر ان آیات کو اور ان صورتوں کو حفظ کیا تھا

اس کی کوئی غیر معمولی وجہ نہیں تھی؛ وجہ صرف یہ تھی کہ ہم نے اپنی والدہ محترمہ کو صبح و شام میں فجر کے بعد، تہجد کے اوقات میں، عصر کے بعد اور مغربب کے بعد مسلسل قرآن پڑھتے ہوئے سنا تھا اور جب بھی رمضان آتا تو ہم سب تفریح یہ کہتے تھے ( چلو اب انو قرآن لے کے بیٹھ جاتے ) قرآن کی وہ آوازیں بار بار ہمارے کانوں میں پڑتی رہیں، یہاں تک کہ جن سورتوں کو ہم نے بیٹھ کر حفظ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی، وہ بھی رفتہ رفتہ حافظے میں اترتی چلی گئیں۔ تب شاید اس حقیقت کا شعور نہیں تھا، لیکن آج سمجھ میں آتا ہے کہ گھر کی آوازیں بچے کی تربیت کا ایک خاموش مدرسہ ہوتی ہیں۔

یہی اصول آج کے ماحول میں ہمیں دوسری طرف بھی دیکھنا چاہیے۔ اگر گھر کا بچہ مسلسل گانے سنتا ہے، ریلز میں چلنے والے گیت سنتا ہے، موبائل سے نکلنے والی موسیقی سنتا ہے اور انہی آوازوں کو بار بار سنتا رہتا ہے تو اس کے الفاظ بھی حافظے میں جگہ بنائیں گے۔ بچہ پہلے دھن یاد کرتا ہے، پھر بول یاد کرتا ہے، پھر کبھی بے اختیار انہیں دہرانے لگتا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ جو الفاظ کہہ رہا ہے، ان کا مفہوم کیا ہے اور ان میں کوئی ایسا عقیدہ یا تصور تو نہیں جسے ایک مسلمان کی زبان قبول نہیں کرسکتی۔

یہاں والدین کے لیے ایک نہایت اہم نکتہ ہے: بچے کی زبان کو صرف منع کرنے سے نہیں، متبادل دینے سے بھی محفوظ کیا جاتا ہے۔ اگر ہم کہتے ہیں کہ یہ مت سنو، وہ مت سنو، تو ساتھ یہ بھی بتانا ہوگا کہ پھر کیا سنو؟ گھر میں قرآن کی تلاوت ہوگی، اچھی نعت ہوگی، ذکر واذکار ہوں گے، دینی گفتگو ہوگی، سیرت کے واقعات سنائے جائیں گے تو بچے کے کان خالی نہیں رہیں گے؛ ان کے پاس پاکیزہ اور بامقصد سماعت کا ایک خوب صورت ذخیرہ ہوگا رسول اللہ ﷺ نے موسیقی کے آلات کے بارے میں معازف کا ذکر کرتے ہوئے ان کے حلال سمجھ لیے جانے کو آنے والی خرابیوں میں شمار فرمایا ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الأشربة)

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۂ لقمان کی آیت ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ﴾ کے ضمن میں ’’غناء‘‘ کی تفسیر منقول ہے؛ یعنی ایسی لہو کی باتیں جو انسان کو حق اور خیر سے غافل کردیں۔ اس سے کم از کم یہ احساس ضرور پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان کو اپنی سماعت کے بارے میں بے پروا نہیں ہونا چاہیے۔
البتہ یہاں ایک بات سمجھنا بھی ضروری ہے: ہر سنی ہوئی آواز انسان کے اختیار اور ارادے کے برابر نہیں ہوتی۔ راستے سے گزرتے ہوئے، بازار میں، پڑوس سے یا کسی ناگزیر ماحول میں کوئی آواز کان تک پہنچ جائے تو اسے جان بوجھ کر سننے، پسند کرنے اور گنگنانے کے حکم کے برابر نہیں رکھا جاسکتا۔ اصل تربیت یہ ہے کہ انسان اپنے اختیار میں آنے والی سماعت کی حفاظت کرے اور بالخصوص ایسے کلام سے بچے جس میں باطل عقائد یا شرکیہ مضامین کی ترویج ہو۔

اسی لیے آج سوال صرف یہ نہیں کہ گھر میں ٹی وی پر کیا چل رہا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ موبائل میں کیا چل رہا ہے، ریلز میں کیا آرہا ہے، بچے ائیر فونس ایر بٹس لگا کر کیا سن رہے ہیں اور ان کی زبان پر کون سے الفاظ بار بار آرہے ہیں؟

کیونکہ جس طرح میری والدہ محترمہ کی قرآن خوانی نے میرے کانوں کو قرآن کا عادی بنایا اور ان سورتوں کو میرے حافظے میں اتار دیا جنہیں میں نے باقاعدہ طور پر حفظ کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا تھا، اسی طرح آج ہمارے گھروں کی آوازیں بھی ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں اپنا نقش ثبت کررہی ہیں۔

گھر میں جو آواز بار بار گونجے گی، ممکن ہے کل وہی بچے کی زبان پر ہوگی۔ ہم کیا چاہتے ہیں کل ہماری اولاد کی زبان پر کیا ہو؟

آج کے بچے صرف گانے نہیں سن رہے، وہ ایک پورا ڈیجیٹل ماحول سن اور دیکھ رہے ہیں۔ موبائل ہاتھ میں آیا تو ریلز شروع، ایک ریل ختم ہوئی تو دوسری سامنے، پھر تیسری، پھر چوتھی؛ اور یوں بچے کی توجہ، پسند اور تخیل آہستہ آہستہ اسی دنیا کے سانچے میں ڈھلنے لگتا ہے۔ پہلے بچہ ریل دیکھتا ہے، پھر اس کا گانا یاد کرتا ہے، پھر وہی انداز دہراتا ہے، اور کچھ عرصے بعد خود ریل بنانے کا شوق پیدا ہوجاتا ہے۔

یہ شوق صرف بچوں تک محدود نہیں رہا۔ بڑے ہونے کے بعد نوجوان ایکٹنگ دیکھ رہے ہیں، ایکٹنگ کرنے والوں کے شوز دیکھ رہے ہیں، ان کی شہرت، لباس، رہن سہن، آسائش، پروٹوکول اور مصنوعی چمک دمک دیکھ رہے ہیں۔ پردے پر نظر آنے والی چند منٹ کی زندگی انہیں ایسی حقیقت محسوس ہونے لگتی ہے جس کے پیچھے برسوں کی محنت، صنعت کی مشکلات اور بعض اوقات دکھائی نہ دینے والے نقصانات موجود ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ایک نسل کے خوابوں کا رخ بھی بدل رہا ہے؛ بہت سے بچے علم، کردار، خدمت اور ہنر کے بجائے صرف مشہور ہونے کو کامیابی کا معیار سمجھنے لگتے ہیںجس طرح ناچنے گانے والوں کو عزت مل رہی ہے جس طرح وہ مشہور ہو چکے ہیں یہ بھی اسی راستے سے شہرت اور کامیابی تلاش کریں گے۔

یہاں والدین کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ بچہ کیا کھا رہا ہے، کیا پہن رہا ہے اور کہاں جارہا ہے؛ انہیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ کن لوگوں کو اپنا آئیڈیل بنا رہا ہے اور کن زندگیوں کی نقل کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ انسان جسے مسلسل دیکھتا اور سنتا ہے، اس کے انداز، الفاظ اور ترجیحات سے متاثر ہونا فطری ہے۔ بچہ اگر ہر وقت شہرت کے مناظر دیکھے گا تو ممکن ہے اسے گمنامی اور عبادت، لغو چیز معلوم ہو گئی

اور اس دوڑ کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض نوجوان چند سیکنڈ کی ریل کے لیے اپنی پوری زندگی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ چلتی سڑک پر ویڈیو بنانا، گاڑی چلاتے ہوئے موبائل استعمال ٹرین چلنے والے گانوں پر ویڈیو بنانا خطرناک مقامات پر کرتب دکھانا، چلتی ٹرین یا گاڑی کے ساتھ ریل بنانے کی کوشش کرنا یہ سب محض تفریح نہیں؛ بعض اوقات چند لمحوں کی شہرت انسان سے اس کی زندگی چھین لیتی ہے۔ افسوس کہ کبھی ایک ریل مکمل ہوجاتی ہے، لیکن اسے بنانے والا انسان واپس نہیں آتا۔

یہاں اصل سوال پھر وہی ہے: ہماری آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں اور ہمارے کان کیا سن رہے ہیں؟ کیونکہ سماعت اور بصارت الگ الگ دروازے نہیں؛ دونوں مل کر ذہن اور دل پر اثر ڈالتے ہیں۔ قرآن نے اسی لیے فرمایا: إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ترجمہ:بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں بازپرس ہوگی۔(سورۃ الإسراء)

لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ بچے کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ تربیت مکمل ہوگئی۔ اصل کام اس سے کہیں گہرا ہے: اس کے ذوق کو سنوارنا، اس کے آئیڈیل بدلنا، اسے مقصدِ زندگی سمجھانا اور اسے یہ بتانا کہ ہر مشہور شخص قابلِ تقلید نہیں ہوتا، اور ہر وائرل چیز قابلِ قبول نہیں ہوتی۔

اگر گھر میں قرآن کی آواز ہوگی،رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کی سیرت ہوگی خلفائے راشدین کی تذکرے ہوں گے ازواج مطہرات اہل بیت کے تذکرے ہوں گے علم کی گفتگو ہوگی، نیک لوگوں کے واقعات ہوں گے، اور والدین خود موبائل کے استعمال میں نمونہ بنیں گے تو بچے کے سامنے شہرت کے علاوہ کامیابی کا ایک دوسرا اور زیادہ بامقصد تصور بھی موجود ہوگا۔

بچے صرف ہماری نصیحتیں نہیں سنتے؛ وہ ہماری زندگی بھی سنتے اور دیکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے کانوں اور آنکھوں کی حفاظت سے پہلے ہمیں اپنے گھروں کے ماحول کی حفاظت کرنی ہوگی۔

اب سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں ہم کیا کریں؟ کیا بچوں سے موبائل چھین لیں؟ کیا ہر ریل، ہر ویڈیو اور ہر آواز سے انہیں کاٹ دیں؟ مسئلہ صرف پابندی کا نہیں، تربیت کا ہے۔ بچے کے ہاتھ سے موبائل چھین لینا آسان ہے، لیکن اس کے دل سے موبائل کی کشش نکالنا تربیت چاہتا ہے۔ اسے یہ سمجھانا ہوگا کہ ہر وائرل چیز قابلِ تقلید نہیں، ہر مشہور شخص قابلِ آئیڈیل نہیں اور ہر گانا ایسا نہیں جسے زبان پر لانا مسلمان کے لیے درست ہو۔

والدین اپنے گھروں میں ایک ایسا ماحول پیدا کریں جہاں قرآن صرف الماری میں رکھا ہوا مقدس کلام نہ ہو قسم کھانے کی کتاب بند کر نہ رہ جائے لڑائی جھگڑے کے وقت ہاتھوں میں لی جانے والی کتاب بن کر نہ رہ جائے صرف جہیز میں دیے جانے والی کتاب بن کر نہ رہ جائے بلکہ گھر کی زندہ آواز ہو۔ صبح قرآن کی تلاوت، شام اذکار، کبھی سیرتِ رسول ﷺ کا تذکرہ، کبھی صحابۂ کرامؓ کے واقعات اور بچوں سے محبت کے ساتھ دین کی گفتگو—یہ سب مل کر وہ ماحول بناتے ہیں جس میں بچے کا دل خود بخود پاکیزہ چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ترجمہ:خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔‘‘ (سورۃ الرعد)

بچوں کو صرف یہ نہ کہا جائے کہ ’’یہ گانا مت سنو‘‘؛ کبھی انہیں اس گانے کے الفاظ کا معنی سمجھا کر پوچھا جائے کہ کیا یہ الفاظ ہمارے عقیدۂ توحید کے مطابق ہیں؟ جب بچے کو دلیل اور شعور کے ساتھ بات سمجھائی جائے گی تو وہ صرف والدین کے سامنے گانا چھوڑنے والا نہیں ہوگا، بلکہ تنہائی میں بھی اپنے کانوں کی حفاظت کرنا سیکھے گا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ترجمہ:تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔‘‘ (صحیح البخاری، صحیح مسلم)

اس لیے یہ ذمہ داری صرف ماں کی نہیں، صرف باپ کی نہیں، بلکہ پورے گھر کی ہے۔ والدین خود ہر وقت موبائل میں مصروف رہیں اور بچوں کو موبائل سے دور رکھنے کی نصیحت کریں تو بات دل میں نہیں اترتی۔ بچے کانوں سے نصیحت کم اور آنکھوں سے نمونہ زیادہ سیکھتے ہیں۔ گھر کے بڑوں کی اپنی سماعت، اپنی گفتگو اور اپنے موبائل کا استعمال بھی بچوں کی خاموش تربیت ہے۔

اور ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دوسروں کے تہوار یا مذہبی جذبات کی تحقیر اسلام کا طریقہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ﴾ (سورۃ الممتحنہ)۔ ہمیں اپنے غیر مسلم پڑوسیوں اور شہریوں کے ساتھ حسنِ سلوک، عدل اور شائستگی برقرار رکھتے ہوئے اپنی دینی شناخت کی حفاظت کرنی ہے۔

ہمیں کسی کے تہوار کا مقابلہ نہیں کرنا؛ ہمیں اپنے گھر کو آباد کرنا ہے۔ قرآن کی آواز کسی باہر کے گیت کو شکست دینے کے لیے نہیں، اپنے بچوں کے دل میں قرآن بسانے کے لیے ہو۔ ذکر کسی شور کا جواب نہیں، اللہ سے تعلق کا ذریعہ ہو۔ اور اسلامی تربیت کسی دوسرے مذہب کی مخالفت نہیں، اپنی نسل کے ایمان کی حفاظت ہے۔

آج ایک لمحے کے لیے اپنے گھر میں خاموشی اختیار کرکے خود سے پوچھیں: ہمارے کان کیا سن رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے بچوں کے حافظے میں وہ الفاظ محفوظ ہورہے ہیں جنہیں ہم خود ان کی زبان پر سننا نہیں چاہتے؟
جس گھر کی صبح قرآن سے آباد ہو، جس کی شام ذکر سے روشن ہو اور جس کے بچوں کے کان پاکیزہ کلام کے عادی ہوں، وہاں باہر کا شور اپنی پوری شدت کے باوجود گھر کی سمت متعین نہیں کرسکتا

چلو اب اٹھو! جو قرآن الماری میں رکھا ہوا ہے، جس پر دھول جمع ہوگئی ہے،جسے ہم نے قسم کھانے کی کتاب سمجھا ہوا ہے جسے ہم نے لڑائی جھگڑاؤں کے درمیان لا کر ہاتھوں میں اٹھانے کی کتاب سمجھا ہوا ہے جسے ہم نے صرف بیٹی کے جہیز میں دینے اور بہو کے جہیز میں مانگنے کی کتاب سمجھا ہوا ہے اسے نکالو، کھولو دھول صاف کرو اور پڑھو۔ وہ تسبیح جو گھر کی زینت بن کر کسی کونے میں پڑی ہوئی ہے، اسے اٹھاؤ اور ذکرِ الٰہی سے آباد کرو۔ اور وہ کتابیں جو کسی نے تمہیں گفٹ اور ہدیے میں دی تھیں، یا پھر کسی وقت جوش و جذبے میں تم نے خود خریدی تھیں، انہیں بھی الماریوں سے نکالو، ان سے دور ہٹنے کے بجائے ان کے قریب آؤ، انہیں پڑھو اور ان کی باتیں اپنے بچوں کے درمیان سناؤ۔

گھر کے اندر روزانہ اعمال کی فضیلت کی باتیں ہوں، منتخب احادیث کی تعلیم کا ماحول بنایا جائے، ایمان کی باتیں ہوں، اعمالِ صالحہ کا تذکرہ ہو، صبر کی بات ہو، شکر کی بات ہو، آخرت کی بات ہو؛ یہ ساری چیزیں ہمارے گھروں میں پھر سے زندہ ہوں۔ بچوں کے کانوں کو ان باتوں کا عادی بناؤ، تاکہ ان کے دل میں دین کی محبت پیدا ہو اور ان کی زبان پر بھی وہی باتیں آئیں جو ان کے ایمان کو مضبوط کریں۔

ورنہ یاد رکھو! اگر ہم نے اپنے گھروں کو قرآن، ذکر، حدیث اور دین کی باتوں سے آباد نہ کیا تو ہماری نسل بھی انہی آوازوں کے پیچھے چل پڑے گی جو آج ہر طرف سے اس کے کانوں میں پڑ رہی ہیں۔ ہماری نسل ایسے ہی بے دین ہوتی جائے گی اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔ ایک دن ہم دیکھیں گے کہ ہمارے بچوں کو دنیا کی ہر بات یاد ہے، ہر گانا یاد ہے، ہر ریل یاد ہے، ہر اداکار کا نام یاد ہے، مگر قرآن کی سورتیں، دین کی باتیں اور آخرت کی فکر ان کے لیے اجنبی ہوچکی ہے۔
اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے، اپنے بچوں کو وقت دو۔ یہ اولاد تمہاری ہے، یہ تمہارا خون ہے، تمہاری نسل ہے۔ اگر تم اپنی اولاد کو وقت نہیں دو گے، ان کے ساتھ بیٹھو گے نہیں، ان کی بات سنو گے نہیں، ان کے مشاغل سے واقف نہیں ہوگے تو باہر گمراہ کرنے والے فتنے اژدہے کی طرح منہ کھولے بیٹھے ہیں۔ شکیلی بن حنیف کا فتنہ ہو، فیاضیت کا فتنہ ہو، مذہب تبدیل کرنے کا فتنہ ہو یا طرح طرح کے دوسرے فکری و اعتقادی فتنے—سب تمہاری نسل کو تم سے، تمہارے ایمان سے اور تمہارے اسلام سے پھیرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھو، ان کی بات سنو، ان کے دوستوں، ان کے مشاغل اور ان کے موبائل کی دنیا سے بے خبر نہ رہو؛ کیونکہ جس نسل کو گھر وقت نہیں دیتا، باہر کی دنیا اسے اپنے وقت اور اپنے نظریات سے بھر دیتی ہے۔اس لیے اپنے گھروں کی آواز بدل دو۔ بچوں کو اپنے پاس بٹھاؤ اور ایمان و اعمالِ صالحہ کی باتیں ان کے درمیان زندہ کرو۔

کیونکہ باہر کی آواز ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں، مگر ہمارے گھر کی آواز ہمارے اختیار میں ہے۔ آج اپنے گھر سے قرآن کی آواز بلند کرو، تاکہ کل ہماری نسل کی زبان پر بھی قرآن، ایمان اور دین کی آواز باقی رہے۔

اور پھر ایک بار خود سے پوچھو:
ہمارے کان کیا سن رہے ہیں؟

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے