احتجاج، احتجاج ہوتا ہے۔ اس کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ جلسوں کے لیے اجازت کا تصور سمجھ میں آتا ہے، مگر جب کسی فیصلے، قانون یا ناانصافی کے خلاف عوام اپنے جمہوری حق کے طور پر آواز بلند کرنا چاہیں تو اسے محض اجازت نامے سے مشروط کرنا ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے۔یہ سوال ملک کی خود ساختہ مسلم نمائندہ تنظیم مسلم پرسنل لاء بورڈ پر اٹھانا واجب ہے کیونکہ انہوںنے یو سی سی کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن آخری وقت میں یہ کہہ دیا کہ انہیں اجازت نہیں ملی جسکی وجہ سے احتجاج کو ملتوی کردیا گیا ہے ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے احتجاج کے لئے اعلان کرنا پھر ملتوی کرنے کا معاملہ نیا نہیں ہے ، اس سے قبل بھی بورڈ نے کئی احتجاجات کو ملتوی کیا تھا اور یہ حوالہ دیا گیا تھاکہ انہیں اجازت نہیں ملی ہے ۔ ذرا 1947 سے پہلے کا ہندوستان تصور کیجیے۔ اگر ہمارے بزرگ جنگ آزادی کے دوران ہر احتجاج اور ہر تحریک کے لیے انگریز سرکار سے اجازت مانگتے پھرتے تو شاید آزادی کی جدوجہد اس مقام تک نہ پہنچ پاتی نہ ہی ملک آزاد ہوتاہے۔ تحریکیں اجازت سے نہیں، عزم سے آگے بڑھتی ہیں۔آج صورتِ حال یہ ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے احتجاج کو بار بار اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ملتوی کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟۔بار بار اجازت نہ ملنے کو بنیاد بنا کر احتجاج مؤخر کرتے رہنا عوام کے درمیان یہ تاثر پیدا کر سکتا ہے کہ ایک بڑی نمائندہ تنظیم بھی اپنے بنیادی احتجاجی حق کے استعمال میں انتظامیہ کی اجازت کی محتاج ہوچکی ہے۔ یہ کیفیت اس بچے جیسی محسوس ہوتی ہے جو روتا رہا اور آخرکار اسے لالی پاپ دے کر خاموش کرا دیا گیا۔مسلم پرسنل لاء بورڈ جو ملک کے مسلمانوں کی نمائند ہ تنظیم کہلاتی ہے جسکے پیچھے کروڑوں مسلمانوں کا ساتھ ہونے کا دعویٰ کیا جاتاہے ، جسکے اراکین و عہدیداران اپنے آپ میں تنظیمیں کہلاتے ہیں انکی جانب سے اس طرح کا حوالہ دینا بالکل نامناسب ہے ۔ مثال اگر شاہین باغ کی لیں تو یہ با ت واضح ہے کہ اس وقت خواتین نے پولیس کے ظلم وستم کو جھیلتے ہوئے بھی احتجاج کی شمع جلائے رکھی اور پولیس کو مجبور ہونا پڑا تھا۔ اسکے بعد تازہ مثال یہ لی جاسکتی ہے کہ جس میں دہلی کے ہی جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بینر تلے لاکھوں طلباء نے احتجاج کیا ۔ ان طلباء نے نہ تو اجازت کا انکار کیا ، نہ پولیس کی بربریت سے اپنے قدم پیچھے ہٹائے ۔ انہوںنے جو مطالبہ کیا تھا اس مطالبے کو پورا ہونے تک اپنے آپ کو احتجاج میں قائم رکھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی نمائند ہ تنظیم احتجاج کے لئے اجازت مانگ رہی ہے ۔ یہاںبات یہ بھی ہے کہ اگر احتجاج کے لئے اجازت نہیں ملتی ہے تب بھی احتجاج کیا جائے تو کیا فرق پڑتاہے ؟۔ زیادہ سے زیادہ مقدمے درج ہونگے ، عدالتی کارروائی ہوگی اور آخر میں سزا سنائی جاتی بھی ہے تو محض 6 ماہ کی جیل ہوگی یا پھر 2500 روپئے کا جرمانہ ادا کرنا پڑیگا ۔ ویسے بھی مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دوسری تنظیموں نے 1992 سے عدالت اور حکومت کا حکم مانتے ہوئے مسلمانوں کو خسارے میں ہی ڈال رکھا ہے ۔ قانون کے پاسدار کہتے کہتے آج قانون کے کٹ پتلیاں بن چکے ہیں ۔ آخر کب تک مسلمانوں کے لیڈران اور تنظیمیں خوف کو حکمت کا نام دینگے ؟۔ اگر انتظامیہ اجازت نہیں دیتی تو قانونی راستے موجود ہیں۔ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے، اجازت نہ دینے کے فیصلے کو قانونی طور پر چیلنج کیا جا سکتا ہے، اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔لیکن اگر ہر بار جواب یہی ہو کہ "اجازت نہیں ملی، اس لیے احتجاج ملتوی کردیا گیا” تو پھر عوام یہ سوال ضرور کریں گے کہ کیا احتجاج واقعی حق ہے یا اجازت ملنے تک ایک درخواست؟
مسلمانوں کی مختلف تنظیموں کے سامنے بھی یہی سوال ہے۔ احتجاج صرف اعلان کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے مؤقف کے لیے آئینی اور قانونی دائرے میں مؤثر جدوجہد کرنے کا نام ہے۔کیونکہ جمہوریت میں سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "احتجاج کی اجازت ملی یا نہیں؟” سوال یہ ہونا چاہیے کہ "اپنی آواز اٹھانے کے حق کو استعمال کرنے کے لیے ہم نے قانونی اور جمہوری راستوں میں کیا قدم اٹھایا؟۔اگر ایسا کیا جاتاہے تبھی جاکر مسلمان اپنےوجود کا ثبوت دے سکتے ہیں ورنہ ہماری قیادت صرف بیان بازی ، مذمتی بیان اور پریس کانفرنس تک محدود رہ جائیگی ۔یہ حالات صرف مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نہیں ہیں بلکہ ملک کے مختلف ملی تنظیمو ں کے بھی ہیں ، اکثر و بیشتر تنظیمیں یا تو حکومت کی کٹ پتلیاں ہیں یا پھر سیاستدانوں کے اشاروں پر کام کرنے والوں میں سے ہیں ۔ جب بھی مسلمانوں کے حقو ق کے لئے احتجاج کرنے کی بات آتی ہے تو کچھ لوگ کمشنر و یس پی آفس پہنچ جاتے ہیں اور اجازت دینے یا لینے کا مطالبہ کربیٹھتے ہیں ۔ ان میں سے چند ایک تو پولیس کے ہی لوگ ہوتے ہیں اور پولیس کی ہاں میں ہاں ملاکر احتجاج کے منصوبے پر ہی پانی پھیر دیتے ہیں اور لوگوں کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ یس پی صاحب نے ساتھ دینے کا تو وعدہ کیا ہے لیکن احتجاج فی الحال کرنے سے روکا ہے ۔ مانو کہ مسلمانوں کے حقیقی قائد پولیس اہلکار اور سیاستدان ہیں ۔ اگر مسلمانوں کی تنظیمیں اب بھی آئوبھگت کرتی رہینگی تو آنے والےدنوں میں انہیں کھانا کھانے کے لئے بھی اجازت لینی پڑیگی ۔