حسن کمال کا شفقت بھرا ہاتھ.
صحافت، ادب، فلم اور انسان دوستی کی ایک یاد
ازقلم:جاوید جمال الدین
کچھ لوگ زندگی میں صرف ملتے نہیں، اپنی موجودگی کا ایسا نشان چھوڑ جاتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مٹنے کے بجائے اور گہرا ہوجاتا ہے۔ ان کی گفتگو، حوصلہ افزائی کے چند الفاظ، ایک مسکراہٹ یا شفقت کا کوئی معمولی سا اظہار برسوں بعد بھی یادوں کے دریچے کھول دیتا ہے۔
حسن کمال صاحب میرے لیے ایسی ہی شخصیت ہیں۔
ایک پرانے اخبارکے صفحہ 11 پر ’’فلموں میں اردو/ادب‘‘ کے کالم میں ان کا ذکر پڑھا تو ماضی کے کئی دروازے ایک ساتھ کھل گئے۔ بلٹز کا دفتر، فورٹ کی گلیاں، اردو اخبارات سے بھری لائبریری، انقلاب کا تاردیو دفتر اور پھر روزنامہ راشٹریہ سہارا کے وہ دن جب ہمیں ایک ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
یہ تحریر حسن کمال کی مکمل سوانح نہیں، بلکہ ایک ایسے بزرگ صحافی، قلم کار، شاعر، نغمہ نگار اور محسن کی یاد ہے، جس سے میں نے پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ انسانوں سے تعلق نبھانے کا ہنر بھی سیکھا۔
اخبار پڑھنے والے لڑکے سے صحافی تک
حسن کمال سے میری شناسائی اس زمانے کی ہے جب میں ایک طالب علم تھا،انجمن اسلام فورٹ میں زیر تعلیم تھا۔فورٹ میں رہنے کی وجہ سے ایشیاٹک سوسائٹی کی سینٹرل لائبریری جانا معمول تھا اور وہاں آنے والا شاید ہی کوئی اردو اخبار ہو جسے میں نہ پڑھتا تھا۔
اخبار پڑھنے کے ساتھ لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ 1980 کی دہائی میں فلسطین کے مسئلے پر ایک مضمون لکھا اور اسے لے کر بلٹز کے دفتر، کاؤس جی پٹیل اسٹریٹ، فاؤنٹین، فورٹ پہنچ گیا۔
حسن کمال صاحب سے اس روز ملاقات نہ ہوسکی۔ نائب مدیرمرحوم ہارون رشید مل گئے۔ انہوں نے میرا مضمون نائب مدیر محمود ایوبی کے حوالے کردیا۔
مجھے اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ مضمون کا یہ معمولی سا سفر میری زندگی کے ایک بڑے سفر کا آغاز بن جائے گا۔
محمود ایوبی کی رہنمائی میں میں اردو ٹائمز پہنچا اور پھر صحافت سے وابستہ ہوگیا۔ تقریباً دو برس بعد 1989 کے وسط میں روزنامہ انقلاب میں رپورٹر بننے کا موقع ملا اور یوں اخبارات میری زندگی کا مستقل حصہ بن گئے۔
حسن کمال سے میری براہِ راست ملاقات اس زمانے میں نہیں ہوئی، لیکن ان کی صحافت اور تحریریں ہماری نسل کے لیے اردو صحافت کی ایک اہم روایت ضرور تھیں۔
بلٹز سے فلمی دنیا تک
حسن کمال کی اپنی زندگی بھی صحافت، ادب اور فلم کے درمیان ایک خوب صورت سفر ہے۔ 1965 میں وہ بلٹز ویکلی کے نائب مدیر بنے اور 1974 میں اداکار شاہد کپور کے ناناانورعظیم کے بعد اردو بلٹز کی ادارت سنبھالی۔ مختلف اخبارات و رسائل کے لیے کالم لکھے اور ان کی تحریروں کے دوسری زبانوں میں تراجم بھی ہوئے۔
صحافت کے ساتھ شاعری اور ادب سے ان کا رشتہ قائم رہا اور پھر فلمی دنیا نے ان کے لفظوں کو ایک وسیع میدان فراہم کیا۔
فلم ’’نکاح‘‘ کے لیے ان کا گیت ’’دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے‘‘ ایسی مقبولیت حاصل کرگیا جسے کئی دہائیوں بعد بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔ ’’آج کی آواز‘‘ کے لیے انہیں فلم فیئر ایوارڈ ملا، جبکہ ’’طوائف‘‘ سمیت دیگر فلموں کے لیے بھی انہوں نے نغمے لکھے۔
ان کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں تھی کہ انہوں نے مقبول گیت لکھے، بلکہ یہ تھی کہ وہ لفظ کے مزاج کو سمجھتے تھے۔ یہی صلاحیت صحافت، کالم نگاری، شاعری اور فلمی نغمہ نگاری میں ان کے کام آئی۔
اخبار کے صفحے سے میرے سامنے تک
برسوں تک حسن کمال صاحب میرے لیے ایک معروف نام تھے جسے میں اخبار میں پڑھتا تھا۔ پھر تقریباً 2011 کے آس پاس وہ روزنامہ راشٹریہ سہارا سے بحیثیت صلاح کاروابستہ ہوئے،نئی دہلی جانے کے بجائے۔انہوں ممبئی میں رہنے کا فیصلہ کیاتھا۔
اس وقت سعید حمید ریزیڈنٹ ایڈیٹر تھے اور میں بیورو چیف۔ بعد میں سعید حمیداخبارسے الگ ہوگئے اور مجھے ریزیڈنٹ ایڈیٹر کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔
یوں حسن کمال اور مجھے تقریباً تین، ساڑھے تین برس ایک ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
یہ میرے صحافتی سفر کا ایک اہم اور یادگار دور تھا۔
’’کمال اور جمال‘‘
حسن کمال کے ساتھ کام کرنا صرف ایک سینئر صحافی کے ساتھ کام کرنا نہیں تھا۔ وہ صحافت، زبان اور ادب کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھتے تھے۔
وہ ایک واقعہ کے بعد اپنے مضامین اور اداریے دہلی دفتر بھیجنے سے پہلے مجھےپڑھنے دیتے۔میں انہیں توجہ سے پڑھتا،ضرورت پڑنے پر مشورہ دیتا اور بعض سیاسی و سماجی معاملات پر وہمجھ سے بھی معلومات لیتے۔
یہ ان کی شخصیت کا خوب صورت پہلو تھا کہ تجربے کے باوجود سیکھنے کا دروازہ بند نہیں کیا۔
دفتر میں رفتہ رفتہ ہماری جوڑی ’’کمال اور جمال‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئی۔
ہماری کوشش تھی کہ ممبئی کا سہارا اپنے قارئین کی توقعات سے جڑا رہے۔ خبر کے ساتھ شہر کی نبض، قارئین کے مسائل اور اردو بولنے والے معاشرے کی ترجیحات کو بھی صفحات میں جگہ ملے۔
حسن کمال صاحب کم عمر ساتھیوں سے بے تکلف رہتے، ان کے مسائل سنتے اور ضرورت پڑنے پر ان کی مدد کرتے۔ سہارا کے مشکل دنوں میں وہ اور ڈاکٹر اسد رضا کئی ساتھیوں کے مالی مسائل میں بھی مددگار ثابت ہوئے۔
یہ وہ خدمات ہیں جو شاید کسی اخبار کے ریکارڈ میں درج نہ ہوں، مگر لوگوں کی یاد میں محفوظ رہتی ہیں۔تنخواہ میں تاخیر ہونے پر عملی کے چند افراد کی مدد کرتے اوران میں سے کچھ نے انہیں رقم واپس بھی نہیں کی۔
غلط فہمی اور پھر اعتماد
ہر تعلق میں آزمائش کا ایک مرحلہ آتا ہے۔ ہمارے درمیان بھی کچھ لوگوں کی باتوں سے عارضی غلط فہمی پیدا ہوئی۔ کچھ عرصے کے لیے فاصلہ محسوس ہوا، مگر حقیقت زیادہ دیر پوشیدہ نہ رہ سکی۔
غلط فہمیاں دور ہوئیں اور اعتماد بحال ہوگیا۔دراصل روزنامہ صحافت میں ذمہ داری نبھاتے ہوئے انہیں روزنامہ راشٹریہ سہارا سے ایڈوائزر کی پیشکش ہوئی اور ان کی تقرری کے بعدسہاراکے کئی ساتھی خوشامد کے لیے ان سے ملاقات کے لیے صحافت کے دفتر پہنچ گئے۔میں نے ایسا نہیں کیا،کیونکہ میں آفیشل اعلان کا منتظر رہا اور ایک دن حسن کمال دفتر آگئے۔کچھ عرصہ بعد ایک دن انہوں کسی کی باتوں میں آکر اس کاذکر کیاکہ "جاوید تم میرے سہارا آنے سے سے خوش نہیں ہو،کیونکہ تم مجھ سے صحافت میں ملنے نہیں آئے تھے۔” میں نے مدلل جواب دے دیااور وہ مطمئن ہوگئے۔
اس تجربے نے مجھے یہ سکھایا کہ مضبوط تعلقات کے لیے صرف قربت کافی نہیں، اعتماد بھی ضروری ہے۔
سہارا سے رخصتی
2014 کے بعد سہارا کے مالی حالات متاثر ہوئے اور چھٹنی کا سلسلہ شروع ہوا۔ اکتوبر2015 کے اواخر میں حسن کمال کو بھی ادارے سے رخصت ہونا پڑا۔
مارچ 2016 میں میں نے بھی سہارا چھوڑ دیا۔ مجھے دہلی منتقل ہونے کے لیے کہا گیا تھا، لیکن میں دہلی منتقل نہیں ہونا چاہتا تھا۔
ایک مشترکہ پیشہ ورانہ سفر ختم ہوگیا، مگر تعلق باقی رہا۔
’’جاوید اس کے لیے ڈیزرو کرتے ہیں‘‘
جون 2016 میں مجھے روزنامہ صحافت، ممبئی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر کی ذمہ داری ملی۔
ایک پروگرام میں ایک صحافی نے میری اس ذمہ داری کو منفی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ حسن کمال صاحب نے اسی موقع پر میری حمایت کرتے ہوئے کہا:
’’جاوید اس کے لیے ڈیزرو کرتے ہیں، یہ ان کا حق ہے۔ ان کی صحافتی خدمات کو تم نہیں جانتے ہو۔‘‘
یہ چند الفاظ میرے لیے بہت معنی رکھتے تھے۔
کسی سینئر کا آپ کے کام کو تسلیم کرنا ایک بات ہے، لیکن کسی موقع پر آپ کے حق میں کھڑے ہوجانا دوسری بات۔ حسن کمال نے اس دن میرے عہدے سے زیادہ میری برسوں کی محنت کا دفاع کیا تھا۔
’’میں صرف جاوید کو جانتا ہوں‘‘
مجھے سہارا کا ایک اور منظر بھی یاد ہے۔
حسن کمال صاحب پہلی مرتبہ دفتر آئے تو اسٹاف کے درمیان کھڑے ہوکر کہا:
’’میں آپ سب میں سے صرف جاوید کو جانتا ہوں، باقی سب میرے لیے نئے ہیں۔‘‘
یہ جملہ میرے لیے اعتماد کا اظہار تھا۔
ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے محسوس ہوتا تھا کہ وہ عہدے کی دیوار کے پیچھے رہنے کے بجائے لوگوں کے درمیان رہنا پسند کرتے ہیں۔ کھانے کا شوق، افطار کا اہتمام اور ساتھیوں سے بے تکلفی ان کی شخصیت کا حصہ تھا۔
اردو صحافت کا وسیع تر کردار
حسن کمال کے صحافتی سفر کو دیکھتے ہوئے اردو صحافت کے کردار پر بھی غور ہوتا ہے۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ اردو اخبارات ایکسکلوسیو خبریں کم دیتے ہیں، مگر اردو صحافت کو صرف خبر توڑنے کی دوڑ سے سمجھنا مناسب نہیں۔ اس کا ایک سماجی، تہذیبی اور تاریخی کردار بھی ہے۔
اردو اخبار اپنے قارئین کی زبان میں ان کے مسائل، ترجیحات اور معاشرتی زندگی کو محفوظ کرتا ہے۔ وہ صرف خبر نہیں دیتا، ایک معاشرے کی دستاویز بھی مرتب کرتا ہے۔
حسن کمال صاحب اسی وسیع تر صحافتی روایت کا حصہ تھے، جہاں زبان اور قاری سے تعلق خبر کی طرح اہم سمجھا جاتا تھا۔
لفظ، فلم اور انسان
حسن کمال کی شخصیت کا منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے صحافت اور فلم کے درمیان ایک مضبوط پل قائم کیا۔
صحافت نے انہیں مشاہدہ دیا، ادب نے زبان اور فلم نے ان دونوں صلاحیتوں کو وسیع عوامی سطح تک پہنچایا۔
ایک اچھے فلمی نغمے کے لیے صرف شاعری کافی نہیں ہوتی۔ کردار، صورت حال، موسیقی اور ناظر کے جذبات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ حسن کمال نے یہ ہنر حاصل کیا اور اسی لیے ان کے بعض گیت فلم سے نکل کر عوامی حافظے کا حصہ بن گئے۔
لیکن میرے نزدیک ان کی سب سے نمایاں خوبی ان کی انسان دوستی تھی۔
کسی نوجوان کی حوصلہ افزائی کرنا، کسی کے اچھے کام کو تسلیم کرنا، ضرورت مند ساتھی کی مدد کرنا اور کسی کی کامیابی کو کھلے دل سے قبول کرنا—یہ وہ اوصاف ہیں جو کسی عہدے یا ایوارڈ کے محتاج نہیں۔
وہ شفقت بھرا ہاتھ
اور پھر ایک یاد ہے جو باقی سب یادوں پر غالب آ جاتی ہے۔
حسن کمال صاحب کا شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرنا۔
لمحہ بہت مختصر تھا، مگر اس میں ایک پوری کیفیت سمٹی ہوئی تھی۔ جیسے کوئی بزرگ بغیر کچھ کہے اپنے چھوٹے کو یقین دلا رہا ہو:
’’پریشان نہ ہو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘
زندگی میں بعض باتیں الفاظ کے ذریعے نہیں، لمس کے ذریعے یاد رہ جاتی ہیں۔
آج جب حسن کمال کا ذکر آتا ہے تو میرے ذہن میں ان کے فلمی گیت، ایوارڈ یا صحافتی عہدے ضرور آتے ہیں، مگر سب سے پہلے وہ ہاتھ یاد آتا ہے۔
شاید اس لیے کہ کامیابیاں وقت کے ساتھ تاریخ بن جاتی ہیں، مگر محبت یاد بن کر ہمارے اندر زندہ رہتی ہے۔
کچھ رشتے وقت سے بڑے ہوتے ہیں
سہارا سے حسن کمال کی رخصتی کو کئی برس گزر گئے۔ ادارے بدل گئے، ہماری ذمہ داریاں بدلیں، صحافت کا ماحول بھی بدلتا گیا۔
لیکن تعلق باقی رہا۔
کیونکہ بعض رشتے ملازمت کے کاغذ پر نہیں لکھے جاتے، دل میں لکھے جاتے ہیں۔
حسن کمال صاحب نے میری زندگی میں کوئی ایک بڑا واقعہ نہیں چھوڑا؛ انہوں نے چھوٹے چھوٹے بے شمار لمحے چھوڑے ہیں—حوصلہ افزائی کے جملے، کام کی تعریف، مشکل وقت میں ساتھ، اعتماد اور شفقت۔
آج جب ماضی کے صفحات پلٹتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ صحافت نے مجھے بہت سے لوگوں سے ملوایا، مگر چند ہی لوگ ایسے ملے جنہوں نے صحافت سے آگے بڑھ کر انسان کو چھوا۔
حسن کمال انہی میں سے ایک ہیں۔
آپ نے فلموں کے لیے گیت لکھے، اخباروں کے لیے کالم لکھے، ادب کے لیے لفظ دیے اور بہت سے لوگوں کو حوصلہ دیا۔
مگر میری یادوں میں آپ کا سب سے خوب صورت کام وہ ہے جو کسی کاغذ پر درج نہیں:
وہ شفقت جو آپ نے ایک نسبتاً کم عمر صحافی کے ساتھ کی۔
وقت اخباروں کے صفحے بدل دیتا ہے، ادارے بدل دیتا ہے، عہدے بدل دیتا ہے۔ مگر کچھ یادیں وقت کے ساتھ خاموش نہیں ہوتیں۔
میرے لیے حسن کمال صاحب بھی ایسی ہی ایک زندہ یاد ہیں۔
اور ان کی سب سے روشن تصویر وہی ہے—
ایک بزرگ کا ہاتھ،
جو محبت سے میرے سر پر رکھا گیا تھا۔
شاید یہی ان کی طرف سے میری زندگی کے نام سب سے خوب صورت تحریر تھی۔
کچھ تحریریں کاغذ پر نہیں لکھی جاتیں،
وہ دل پر لکھی جاتی ہیں۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں، لیکن کچھ لوگ گزر جانے کے بعد بھی ہمارے اندر کہیں موجود رہتے ہیں۔ ان کی آواز کبھی کسی خاموش لمحے میں سنائی دیتی ہے، ان کے کہے ہوئے چند لفظ اچانک یاد آجاتے ہیں اور کبھی ان کی ایک معمولی سی شفقت برسوں بعد بھی دل کو اسی طرح چھو لیتی ہے جیسے وہ لمحہ ابھی گزرا ہو۔
زندگی میں محبت کے اظہار کے لیے ہمیشہ بڑے الفاظ ضروری نہیں ہوتے۔ کبھی ایک نظر کافی ہوتی ہے، کبھی حوصلہ دینے والا ایک جملہ اور کبھی بزرگ کا شفقت سے سر پر رکھا ہوا ہاتھ۔ ایسا ہاتھ جو صرف سر کو نہیں چھوتا، دل کو سہارا دیتا ہے؛ جس میں ایک خاموش یقین ہوتا ہے کہ ’’فکر نہ کرو، تم اکیلے نہیں ہو۔‘‘
حسن کمال صاحب کی یاد میرے لیے کچھ ایسی ہی کیفیت کا نام ہے۔ایک اخباری کالم میں ان کا ذکر پڑھا تو ایسا محسوس ہوا جیسے وقت نے اچانک کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا ہو۔ بلٹز کا وہ دفتر، فورٹ کی گلیاں، اردو اخبارات پڑھنے کا شوق، صحافت میں قدم رکھنے کے ابتدائی دن، انقلاب کا دفتر اور پھر راشٹریہ سہارا میں ساتھ گزارے ہوئے وہ برس—سب کچھ ایک ایک کرکے آنکھوں کے سامنے آنے لگا۔
حسن کمال صاحب کو یاد کرتے ہوئے ان کی شہرت، صحافتی خدمات، ادبی مقام اور فلمی نغمہ نگاری کا ذکر تو کیا ہی جائے گا، لیکن میرے لیے ان کی سب سے بڑی پہچان ان کا انسان ہونا ہے۔ وہ ایک ایسے بزرگ تھے جن کی موجودگی میں ایک نوجوان صحافی کو اپنے ہونے کا احساس ہوتا تھا، جس کی حوصلہ افزائی اعتماد پیدا کرتی تھی اور جس کی شفقت مشکل وقت میں خاموش سہارا بن جاتی تھی۔
یہ تحریر ان کی مکمل سوانح یا تحقیقی مضمون نہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کی یاد ہے جس نے اپنے لفظوں سے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا، مگر اپنی ذات کی محبت اور شفقت سے میرے دل میں ایک الگ جگہ بنائی۔
اور شاید حسن کمال کو یاد کرنے کا میرے لیے سب سے خوب صورت طریقہ یہی ہے کہ ان کی کامیابیوں کے ہجوم میں اس ایک لمحے کو تلاش کروں، جب انہوں نے محبت سے میرے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔
وہ ہاتھ چند لمحوں کے لیے تھا،
مگر اس کی گرمی آج بھی یاد ہے۔