دینی تعلیمی بورڈ حلقہ ۶، زون ۱ کے مکتب فیضِ طاہر میں پندرہ روزہ دینی و اصلاحی اجتماع،
ایمان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے قیمتی نعمت ہے اور ایمان کی بنیاد عقیدۂ توحید پر قائم ہے۔ توحید کی امانت اللہ تعالیٰ کی عظیم امانت ہے، جو ایک مسلمان کے دل و سینے میں محفوظ ہوتی ہے۔ اس امانت کی حفاظت، اس کی صحیح معرفت اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہر مسلمان کی اہم دینی ذمہ داری ہے۔
اسلام ایک پاکیزہ اور کامل دین ہے جو انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کی تعلیمات سچائی، عدل، پاکیزگی اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی دعوت کا مرکز ہمیشہ توحید کو بنایا اور انسانوں کو ایک اللہ کی عبادت، اس کی اطاعت اور شرک و باطل سے اجتناب کی دعوت دی۔
توحید کی دعوت کی راہ ہمیشہ آسان نہیں رہی۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام پہنچانے کے لیے بے شمار مصائب و آلام برداشت کیے۔ بنی اسرائیل کے متعدد انبیاء علیہم السلام کو توحید کی دعوت کی پاداش میں سخت اذیتیں دی گئیں، بعض کو آروں سے چیر دیا گیا اور بعض کو سولی دی گئی، لیکن انہوں نے عقیدۂ توحید پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اسی طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی ایمان و توحید کی خاطر اپنے مال، جان، گھر، وطن اور آرام و آسائش تک قربان کردیے، مگر ایمان کی اس عظیم امانت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
موجودہ دور میں ایمان و عقائد کے حوالے سے پیدا ہونے والے مختلف فکری، تہذیبی اور معاشرتی اثرات کے پیش نظر عقیدۂ توحید کی حفاظت کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ نئی نسل مختلف افکار اور نظریات سے متاثر ہورہی ہے۔ ایسے ماحول میں والدین اور خصوصاً خواتین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی تربیت پر خصوصی توجہ دیں، انہیں قرآن و سنت سے جوڑیں اور بنیادی اسلامی عقائد سے مضبوط طور پر وابستہ کریں۔
اسی اہم موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے مفتی محمد مجیب الرحمن تمیم قاسمی، استاد ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد نے فرمایا کہ توحید کی امانت ہمارے سینوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ عظیم نعمت ہے۔ ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے فرمایا کہ اسلام وہ پاکیزہ مذہب ہے جو ہر مسلمان کی زندگی کے ہر موقع پر رہنمائی کرتا ہے۔ اس دین میں سچائی ہے، پاکیزگی ہے اور اس کی تعلیمات عقل و فطرت کے قریب ہیں۔ عقیدۂ توحید صرف ایک نظری عقیدہ نہیں بلکہ مسلمان کی پوری زندگی کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کو واحد معبود ماننا، اسی کے سامنے جھکنا، اسی سے مدد طلب کرنا اور اسی کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا توحید کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔
مفتی محمد مجیب الرحمن تمیم قاسمی نے موجودہ حالات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ جب ایمان کی حالت دن بہ دن کمزور ہورہی ہو اور مختلف فکری و معاشرتی عوامل انسان کے عقائد کو متاثر کررہے ہوں، ایسے وقت میں اپنے ایمان کی حفاظت اور عقیدۂ توحید کو محفوظ رکھنا ہمارا دینی و اخلاقی فرض بن جاتا ہے۔ انہوں نے والدین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی اولاد کی دینی تعلیم و تربیت سے غفلت نہ برتی جائے اور بچوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت، عظمت اور توحید کا یقین مضبوط کیا جائے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایمان کی حفاظت صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ یہ عظیم امانت ہماری آنے والی نسلوں تک صحیح صورت میں پہنچنی چاہیے۔ گھر دینی تربیت کا پہلا مدرسہ ہے اور مائیں بچوں کی ابتدائی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر گھروں میں دینی ماحول، نماز، قرآن، ذکر اور اسلامی آداب کو فروغ دیا جائے تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوسکتے ہیں۔
ایسے دور میں دینی و اصلاحی اجتماعات کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ مجالس انسان کو اپنے اصل مقصدِ زندگی کی طرف متوجہ کرتی ہیں، ایمان کی تجدید کا موقع فراہم کرتی ہیں اور معاشرے میں دینی شعور و اصلاح کی فکر پیدا کرتی ہیں۔ بالخصوص خواتین کے لیے اس نوعیت کے پروگرام اس لیے اہم ہیں کہ وہ خاندان اور نسل کی دینی و اخلاقی تربیت میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اسی دینی و اصلاحی ضرورت کے پیش نظر دینی تعلیمی بورڈ حلقہ نمبر ۶، زون نمبر ۱ کے مکتب فیضِ طاہر میں پندرہ روزہ دینی و اصلاحی اجتماع کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجتماع میں شریک خواتین نے مفتی محمد مجیب الرحمن تمیم قاسمی کے خطاب سے استفادہ کیا اور عقیدۂ توحید، ایمان کی حفاظت اور اولاد کی دینی تربیت کے حوالے سے اہم رہنمائی حاصل کی۔
یہ پروگرام دینی تعلیمی بورڈ، حلقہ نمبر ۶، زون نمبر ۱ کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، جس کا مقصد خواتین میں دینی شعور بیدار کرنا، اسلامی عقائد و تعلیمات سے وابستگی پیدا کرنا اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے دینی فکر کو عام کرنا تھا۔
پروگرام کے انعقاد میں جناب صفدر جانی صاحب کی میزبانی بھی شامل رہی، جن کے زیرِ میزبانی یہ دینی و اصلاحی اجتماع منعقد ہوا۔
اجتماع کے اختتام پر مفتی احمد عبید اللہ یاسر قاسمی، ناظم مکتب فیضِ طاہر اور انچارج مکتب فیضِ طاہر مولوی شیخ مبشر اشرفی، مفتی محمد وسیم اکرم قاسمی نے اجتماع میں تشریف لانے والی تمام خواتین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خواتین کی بھرپور شرکت کو باعثِ حوصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دینی و اصلاحی مجالس کی کامیابی میں خواتین کی شرکت اور تعاون نہایت اہم ہے۔ انہوں نے تمام شرکاء، منتظمین اور تعاون کرنے والے احباب کا بھی شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی دینی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور اسلامی تربیت کے ایسے پروگراموں میں اسی جذبے کے ساتھ تعاون اور شرکت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
الحمدللہ، مکتب فیضِ طاہر میں منعقد ہونے والا یہ پندرہ روزہ دینی و اصلاحی اجتماع نہایت کامیابی اور خوش اسلوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اجتماع کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ ایمان و توحید کی حفاظت کی جائے، اپنی اولاد کی دینی تربیت کی فکر کی جائے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس عظیم امانت کو مضبوطی کے ساتھ آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جائے۔