نیپال میں سیلاب زدگان کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہاں سب کی حفاظت فرمائے: محمد آفاق

نیپال میں سیلاب زدگان کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہاں سب کی حفاظت فرمائے: محمد آفاق

لکھنؤ، 29 اگست (پریس ریلیز): راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا سنگٹھن کے کنوینر محمد آفاق نے اپنے جاری بیان میں نیپال میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور وہاں کے عوام کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا کے ذریعے نیپال میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بارے میں جو خبریں اور مناظر سامنے آ رہے تھے، انہیں دیکھ کر دل میں بے چینی پیدا ہو رہی تھی۔ سیلاب نے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور متعدد خاندان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔محمد آفاق نے کہا کہ نیپال میں رہنے والے کئی لوگوں سے جب میری بات ہوئی تو انہوں نے صرف دعا کی درخواست کی اور کہا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ ہی حامی و مددگار ہے۔ ہر وقت یہ خوف اور تشویش بنی ہوئی ہے کہ کہیں پانی کی سطح مزید نہ بڑھ جائے اور حالات مزید سنگین نہ ہوجائیں۔ ایسے مشکل وقت میں متاثرین کو ہماری دعاؤں، ہمدردی اور ہر ممکن تعاون کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جب دریائے ترشولی بازار میں قائم درسہ دارالقرآن کے بارے میں سیلاب کی خبر سنی تو مجھے بہت تشویش ہوئی، کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ دل میں فوراً یہ خیال آیا کہ مدرسے میں موجود طلبہ اور اہلِ مدرسہ کا کیا حال ہوگا اور وہ اس اچانک آنے والی قدرتی آفت سے کس طرح محفوظ رہ سکے ہوں گے۔محمد آفاق نے بتایا کہ بعد میں واٹس ایپ کے ذریعے اطلاع ملی کہ الحمدللہ مدرسے کے تمام طلبہ اور اہلِ مدرسہ محفوظ ہیں، تاہم مدرسہ سیلاب کی شدید زد میں آکر تباہ ہوگیا ہے۔ مدرسے کے مہتمم صاحب کے مطابق 12 ربیع الاول کی چھٹی تھی اور مدرسے کے بچے مدرسے سے باہر کھیل رہے تھے۔ اسی دوران اچانک سیلاب آنے کی اطلاع ملی۔ اطلاع ملتے ہی تمام طلبہ اور اہلِ مدرسہ نے بغیر وقت ضائع کیے تقریباً 200 فٹ بلند مقام کی طرف منتقل ہوکر ایک عمارت میں پناہ لے لی۔انہوں نے کہا کہ اگر سیلاب کی اطلاع ملنے میں صرف ایک منٹ کی بھی تاخیر ہوجاتی تو صورتحال انتہائی خطرناک ہوسکتی تھی اور بڑا جانی نقصان ہونے کا خدشہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ بروقت اطلاع ملنے کی وجہ سے مدرسے کے تمام طلبہ اور اہلِ مدرسہ محفوظ مقام پر پہنچ گئے۔محمد آفاق نے واضح کیا کہ طلبہ کے مفقود ہونے سے متعلق جو خبریں گردش کر رہی تھیں وہ درست نہیں ہیں۔ الحمدللہ تمام طلبہ محفوظ ہیں۔ البتہ مدرسہ سیلاب کی شدید زد میں آیا ہے اور عمارت و دیگر سامان کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے ایسے مواقع پر بغیر تصدیق کے خبریں پھیلانے سے لوگوں میں مزید خوف و ہراس پیدا ہوتا ہے، اس لیے تمام افراد کو چاہیے کہ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔انہوں نے کہا کہ نیپال میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ہم سب کو انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت ان کے لیے دعا کرنی چاہیے اور جو لوگ کسی بھی طرح متاثرین کی مدد کرسکتے ہیں، انہیں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مشکل کی اس گھڑی میں انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم مذہب، قوم اور سرحد کی تفریق سے بالاتر ہوکر مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا اظہار کریں۔محمد آفاق نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نیپال کے تمام سیلاب متاثرین کی حفاظت فرمائے، ان کے جان و مال کی حفاظت فرمائے، جو لوگ اپنے گھروں اور کاروبار سے محروم ہوگئے ہیں ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، امدادی کارروائیوں میں مصروف تمام افراد کو کامیابی عطا فرمائے اور متاثرین کو جلد از جلد معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔انہوں نے مزید دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ سیلاب میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی مغفرت فرمائے، ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحت عطا فرمائے، لاپتہ افراد کو بحفاظت ان کے اہل خانہ تک پہنچائے اور تمام متاثرہ خاندانوں کے لیے مدد و آسانی کے دروازے کھول دے۔محمد آفاق نے آخر میں کہا کہ اس وقت سب سے اہم چیز متاثرین کے لیے دعا، درست معلومات کی ترسیل اور انسانیت کے ناطے ہر ممکن تعاون ہے۔ اللہ تعالیٰ نیپال کو اس مشکل گھڑی سے جلد نجات عطا فرمائے اور مستقبل میں ایسے حادثات سے سب کی حفاظت فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

جاری کنندہ:محمد آفاق موبائل: 9721786572

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے