ارشادِ ربانی ہے:’’ بیشک فرمانبردار مرد ہوں یا فرمانبردار عورتیں،مومن مرد ہوں یا مومن عورتیں ، عبادت گذار مرد ہوں یا عبادت گذار عورتیں ، سچے مرد ہوں یا سچی عورتیں ، صابر مرد ہوں یا صابر عورتیں ، دل سے جھکنے والے مرد ہوں یا دل سے جھکنے والی عورتیں، صدقہ کرنے والے مرد ہوں یا صدقہ کرنے والی عورتیں ، روزہ دار مرد ہوں یا روزہ دار عورتیں ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد ہوں یا حفاظت کرنے والی عورتیں ، اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد ہوں یا ذکر کرنے والی عورتیں ، ان سب کے لیے اللہ نے مغفرت اور شاندار اجر تیار کر رکھا ہے‘‘ ۔ یہاں مردو و عورت کا تکرار ظاہر کرتی ہے کہ صفاتِ عالیہ کے حصول اور اس کے انعام و اکرام میں کوئی تفریق و امتیاز نہیں ہے ۔ دین اسلام کا مساواتِ مردو زن درجہ و فضیلت اور اجر و ثواب میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ دنیوی اعزازو تکریم میں بھی سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت سے ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کو نوازہ گیا تو پہلی شہادت کا مقامِ بلند حضرت سمیہ بنت خبابؓ کے حصے میں آیا ۔یہ عظمت و سربلندی خواتین کو راہِ خیر کا پیش رو بناتی ہے۔
تاریخِ اسلام میں ہجرتِ مدینہ کے ایمان افروز واقعات میں جہاں حضرت صہیب رومیؓ نے اللہ کی محبت میں اپنا گھربار اورمال و دولت لٹا کر قربانی کی مثال قائم کی وہیں حضرت ام سلمہ ؓ نے تمام رشتہ و پیوندداوں پر لگا کر صبرو استقامت اور سچی بندگی کی بے مثال شمع روشن فرمائی ۔حضرت صہیب رومیؓ جب ہجرت کے لیے نکلے تو مکہ کے کافروں نے راستہ روک کر کہا: "تم ہمارے پاس غریب آئے تھے، یہاں مالدار بنے، اب سارا مال ساتھ لے کر جانا چاہتے ہو، یہ نہیں ہو سکتا۔”حضرت صہیبؓ نے مسکرا کر فرمایا: "اگر میں اپنا سارا مال تمہیں بتا دوں تو تم مجھے جانے دو گے؟” کافروں نے حامی بھرلی۔ حضرت صہیبؓ نے اپنے تمام مال و دولت کا ٹھکانہ انہیں بتا دیا اور خالی ہاتھ مدینہ روانہ ہو گئے۔ وہ جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو آپ ﷺ نے خوش ہو کر ارشاد فرمایا:’’صہیب کا سودا نفع میں رہا، صہیب کا سودا نفع میں رہا!‘‘ حضرت ابو سلمہؓ نے جب اپنی زوجہ حضرت ام سلمہؓ اور شیرخوار بچے کے ساتھ مدینہ کا قصد کیا تو ام سلمہؓ کے قبیلے بنو مغیرہ نے بیوی کو زبردستی روک لیا اور ابو سلمہؓ اکیلے مدینہ جاناپڑا۔ ام سلمہؓ سے شوہر کے رشتہ دار (بنو عبد الاسد) نے بچے کو زبردستی چھین لیا۔ ایک سال تک وہ روتی بلکتی رہیں ۔ آخر کار جانے کی اجازت ملی تو وہ اکیلی ہی اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ روانہ ہوگئیں۔ اس پر خطر سفرپر خالق کائنات نے حضرت عثمان بن طلحہؓ کے ذریعہ ان کے حفاظت کی سبیل فرمائی ۔
وطن عزیز میں جہاں شاملی کے محمد علی( آیوش ملک) کا خوب چرچا ہے جو حکومت، پولیس، ہندوتوانواز تنظیموں، خاندان اور باپ کے دباو و دولت کو ٹھکرا کر اسلام میں لوٹ آیا وہیں آگرہ کی آمنہ (انشو بھاٹیہ ) بھی پیچھے نہیں ہے۔ انہوں نے اترپردیش میں تبدیلیٔ مذہب کے ظالمانہ قانون (2021)کی چولیں ہلا ڈالیں ۔ الہ باد ہائی کورٹ کے جسٹس سندیپ جین نے 6 ؍اگست کو نہ صرف انہیں پانچ سال کی نظر بندی سے آزاد کیا بلکہ یوگی حکومت اور گھر والوں کو پچیس لاکھ روپیہ ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ آمنہ بھاٹیہ 35 سالہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ انہوں نے حیوانیات میں ایم ایس سی اور ایم فل کے علاوہ بی ایڈ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ ایک انٹر کالج میں لیکچرر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ انہوں نے 2020 میں اپنی آزاد مرضی سےذہنی سکون، روحانی اطمینان اور باطنی تسکین کے لیےبلا کسی جبر، دھوکے، دباؤ، لالچ یا ترغیب کے اسلام قبول کیا۔ا ن کے والدانیل کمار بھاٹیہ نے اس فیصلے کے خلاف انہیں زبردستی گھر میں محصورکردیا۔ دین اسلام سے سے دستبردار ہوکر دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے لیے انہیں نہ صرف دھمکایا گیا بلکہ ذہنی اذیت دی گئی۔
اس دوران آمنہ نہ صرف اپنے دین پر جمی رہیں بلکہ ان کی ابتلا و آزمائش کے درمیان ان کی چھوٹی بہن دیا بھاٹیہ بھی اسلام قبول کرکے زویا بن گئی۔ صبرو استقامت کی پیکر یہ دونوں بہنیں پچھلے ۶؍سالوں سے محض اسلام قبول کرنے کے سبب والدین کی جبری حراست میں تھیں مگر ان کے پائے استقلال متزلزل نہیں ہوئے بالآخر انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہوکر انہوں نے بتایا کہ بالغ ہونے کے باوجود انہیں اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ آئین کے تحت بالغ خواتین کو اپنی پسند کے مذہب کو اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔خواتین نے یہ بھی بتایا کہ ان کے والد نے ان کے پاسپورٹ، تعلیمی اسناد، شناختی دستاویزات، بینک پاس بکس، چیک بکس، مذہب کی تبدیلی سے متعلق دستاویزات اور دیگر ذاتی سامان اپنے قبضے میں رکھا ہوا تھا۔یوگی سرکار اور والد کی جانب سے درج ایف آئی آر میں جبری اور دھوکے سے مذہب تبدیل کرانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
یوگی سرکار نےاس مذہبی تبدیلی کوکسی منظم سازش کا حصہ اور قومی سلامتی، خودمختاری، اتحاد، سالمیت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بھی بتادیاتاہم عدالت کو جبر یا غیر ضروری دباؤ کا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔اس لیےعدالت نے والد اور سرکار کے دلائل کو مسترد کر کے کہا کہ والدین کا اختیار وہاں ختم ہو جاتا ہے جہاں ایک بالغ فرد کی آئینی آزادی شروع ہوتی ہے۔عدالت کے مطابق آئینی حقوق کو والدین کے اختیار، سماجی اخلاقیات یا اکثریتی جذبات کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس سندیپ جین نے والد سمیت اتر پردیش حکومت کوبھی غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کامشترکہ طور پر ذمہ دارقرار دےکر دونوں کو مجموعی طور پر25 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت دی۔ اس طرح یوگی کے ہوتے آمنہ اور زویا کے حق میں یہ عدالتی فیصلہ اسلام قبول کرنے والی خواتین کی مذہبی آزادی اور مبینہ غیر قانونی حراست سے متعلق ایک غیر معمولی نذیر بن گیا۔اس واقعہ میں آمنہ اور زویا کا صبر و ثبات شاملی کے محمد علی سے کم نہیں ہے اور یہ عصرِ حاضر میں بھی مردو زن کے اسلامی مساوات کی زندہ علامت ہے۔