کہاں ایس وائی قریشی اور کہاں گیانیش کمار؟

کہاں ایس وائی قریشی اور کہاں گیانیش کمار؟

کہاں ایس وائی قریشی اور کہاں گیانیش کمار؟

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرے سے سونم وانگچوک کے اغواء ہندوستانی سیاست کا ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ وہاں سے حکومت ہند کی پے در پے شکست و ریخت کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ اب کسی صورت رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ 20؍جون) 2026)کو اپنے کٹرّ رائے دہندگان یعنی معاشی طور پر خوشحال شہری نام نہاد اونچی ذات کے بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانا بی جے پی کی سب سے بڑی سیاسی غلطی تھی ۔ اس طرح کمل چھاپ پارٹی نے اقتدار کی رعونت میں گرفتار ہوکر اسی شاخ کو کاٹ ڈالا جس پر وہ براجمان تھی اس لیے اس کا دھڑام تختہ طے ہوگیا۔ حکومت کو جب اس کا احساس ہوا کہ اس طرح تو وہ اپنے متوقع ووٹرس کی اگلی نسل کو اپنا دشمن بنارہی ہے تو تب جاکر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کو زہر کے پیالے کی مانند نگلا گیا۔ اس کے بعد حزب اختلاف کا حوصلہ اس قدر بڑھا کہ اس نے ایوان پارلیمان کے احاطے میں چندہ چوری کا نکڑ ناٹک کردیا۔ عدالتِ عظمیٰ نےاپنی طوطا چشمی نظریں پھیر کر کاکروچ جنتا پارٹی کے جلوس پر پابندی لگانے سے انکار کردیا اور حکومت پر نظم ونسق درست قائم کرنے کی ذمہ داری ڈال دی۔
پیلیٹ گن معاملے میں راہل گاندھی نے لاکھ مخالفت کے باوجود ایف آئی آر لکھنے پر مجبور کیا۔ نشو آزاد کی بات آئی تو سرکار کو جھک کر نہ صرف ایف آئی آر لکھنا پڑا بلکہ سوتنتر بھاردواج جیسے زہریلے زعفرانی ناگ کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔ہلدوانی کے معاملے میں شدھی کرن کرنے والوں کو بچانے کی خاطر راہل گاندھی تک کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی مگر بات نہیں بنی تو بالآخر ان بدمعاشوں پر شکنجہ کسنا پڑا۔مذکورہ بالا انفرادی جرائم کے بعد گیانیش کمار نے تو پوری قوم کے خلاف تھا سنگین جرائم کا ارتکاب کردیا۔۔ اس لیےیہ معاملہ کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے پہلے والے سارے معاملات سے زیادہ ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ گیانیش تو بس ایک کٹھ پتلی ہے اصلی قصور تو انہیں اپنے اشارے پر نچانے والے آقاوں کا ہے۔ گیانیش کمار کےمخالفت میں حزب اختلاف کا ہر رہنما بول رہا ہے ۔ بی جے پی اس کو ان کی سیاسی ضرورت قرار دے کر مسترد کرسکتی ہے مگر سابق چیف الیکشن کمشنر شہاب الدین یعقوب قریشی کو تو کوئی انتخاب لڑنا نہیں ہے اور وہ اس میدان کے ماہر بھی ہیں اس لیے ان کے موقف کا انکار بہت مشکل ہے۔
ایس وائی قریشی کے مطابق سب سے پہلے تو الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ ڈیڑھ سال میں لیے جانے والے سارے فیصلوں کی جانچ ہونی چاہیے اور ان میں سے ایسے تمام فیصلوں کو جو گیانیش کمار نے دیگر لوگوں کو اعتماد میں لیے بغیر یکطرفہ طور پرکیے فوری طور پر منسوخ کردینا چاہیے۔ ایس وائی قریشی نے انڈین ایکسپریس میں الیکشن کمیشن سے متعلق رپورٹ کو بجا طور پر تشویشناک اور دھماکہ خیز انکشافات سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ برس میں الیکشن کمیشن مسلسل قانون کی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ 1993 میں مرکزی حکومت نے ایک رکنی الیکشن کمیشن کے بجائے تین رکنی کمیشن تشکیل کرکے قانون میں صاف طور پر لکھ دیا کہ تمام فیصلے متفقہ طور پر کئے جائیں گے ۔ کسی اختلاف رائے کی صورت میں اکثریتی بنیاد پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ تینوں الیکشن کمشنرس کو مساوی حقوق حاصل ہےمگر گیانیش کمار نے دونوں الیکشن کمشنرس کو اعتماد میں لیےبغیر یکطرفہ طور پر فیصلے کرتے رہے ۔ اس لیے وہ سارے فیصلے غیر قانونی ہیں ۔ ایسا کرنے والا فرد سزا کا مستحق ہے اور ان فیصلوں کو فی الفور مسترد کیا جانا چاہیے بلکہ ان کی بنیاد پر ہونے والے انتخابات کو بھی کالعدم قرار دیا جانا ضروری ہے۔
عبدل پنچر والا کہہ کر مسلمانوں کا مذاق اڑانے والے ہندتوانوازوں کے لیےیہ خبر تازیانۂ عبرت ہے کہ ایس وائی قریشی نے چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے اپنی دو سالہ میعاد کے دوران تمام فیصلے ساتھی الیکشن کمشنرس ایچ آر برہما اور سمپت کے ساتھ اتفاق رائے سے کیے ۔ اس کے برعکس سڑے ہوئے ناگپوری سنترے گیانیش کمار نے آئین اور قانون سے کھلواڑ کیا ۔ایس وائی قریشی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی میں شفافیت ہونی چاہئے اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے تمام فیصلوں کی فہرست تیار کرکے اس وضاحت کےساتھ عوام کے روبرو پیش کی جائے کہ اس میں کہ کتنے فیصلے متفقہ طور پر کئے گئے اور کتنے اکثریتی بنیاد پر ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں الیکشن کمشنرس کو نظر انداز کرکے گیانیش کمار کا فیصلے کرنا غیر قانونی ہے اور ایسے تمام فیصلوں کو کالعدم کیا جانا چاہئے ۔سامبت پاترا کی اس دلیل سے ایس وائی قریشی بھی متفق ہیں کہ الیکشن کمیشن میں اختلاف فطری ہے لیکن فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر ہونا چاہئے لیکن اکثر و بیشتر چار ماہ کی مدت میں ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا اور گیانیش کمار نے تمام فیصلے یکطرفہ طور پر کئے جوکہ غیر قانونی ہے۔قریشی کی یہ منطق نہایت معقول ہے کہ جمہوریت میں الیکشن کمیشن کو زیادہ جمہوری ہونے کا مظاہرہ کرنا ہوگا ورنہ وہ دوسروں سے اس پر کیسے عمل کروا سکے گا؟
اصلاح حال کی خاطر قریشی صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ سپریم کورٹ گزشتہ دیڑھ سال کے فیصلوں کی فہرست طلب کرکے اس کی تفتیش کروائے۔ ایس وائی قریشی نے نہایت دو ٹوک انداز میں گیانیش کمارکو چیلنج کیا کہ اگر ان میں ہمت ہو تو وہ عہدیدار کے ذریعہ بیان جاری کرنے کے بجائے ساتھی الیکشن کمشنرس کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اخباری رپورٹ کی تردید کریں لیکن چور کی داڑھی میں تنکہ الیکشن کمیشن کے پیروں کی زنجیر بن گیا ہےاس لیے وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ راہل گاندھی کی طرح ایس وائی قریشی نے بھی دونوں الیکشن کمشنرس کے احتجاج کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ وہ خودبھی حالیہ دنوں میں ان دونوں کی خاموشی پر حیران تھے اور انہیں ترس بھی آتا تھا لیکن اب اختلافی نوٹ کے کا انکشاف سےخوش ہیں ان کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ گیانیش کمار کی ایک دھاندلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سابق چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت یا اخراج کا مکمل اختیار سب ڈیویژنل مجسٹریٹ رتبہ کے عہدیدار الیکٹورل ریٹرننگ آفیسر (ERO) کو ہوتا ہے ۔ اس معاملے میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ، چیف الیکٹورل آفیسر اور حتیٰ کہ چیف الیکشن کمشنر بھی ناموں کو شامل یا خارج کرنےکا مختار نہیں ہوتا۔ اس ضابطے کو بالائے طاق رکھ کر الیکشن کمیشن نے ای آر او کے اختیارات کو فراموش کرکے نئی دہلی میں کمپیوٹر سسٹم کے ذریعہ ووٹر لسٹ میں جو چھیڑ چھاڑ کی ہےاس کی تحقیقات ہونی چاہئے کیونکہ اس میں ملوث لوگ ہی اصل مجرم ہیں ۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں مذکور 14 تحریری نوٹس کے وجود، تاریخ یا مواد کی تردید نہیں کی، تاہم ان کو فیصلہ سازی کے دوران پیش کی جانے والی تجاویز اور مشاہدات قرار دیا لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں کوڑے کی ٹوکری میں کیوں ڈال دیا گیا۔الیکشن کمیشن کے اندر سے سامنے آنے والے سنگین اختلافات کے بعد بھی ڈھٹائی سے کہنا کہ کمیشن کے تمام فیصلے، بشمول SIR متفقہ طور پر دونوں الیکشن کمشنروں اور چیف الیکشن کمشنر کی منظوری سے کیا گئے سراسر جھوٹ ہے۔الیکشن کمیشن یہ اعتراف تو کرتا ہے کہ مختلف ارکان کی جانب سے تحریری نوٹس، تجاویز، تکنیکی مشورے اور داخلی جانچ پڑتال ادارے کے معمول کے فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہیں اور ان تجاویز کا مقصد انتخابی عمل کو مزید بہتر بنانا تھا تو سوال یہ ہے ان کو خاطر میں نہیں لانے کی وجہ کیا تھی؟ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کا سافٹ ویئر سخت ڈیٹا سکیورٹی پروٹوکول کے تحت کام کرنے والاایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم جو غیر مجاز مداخلت کو روکتاہے لیکن سچائی تو یہ ہے اس کے ذریعہ ایک سازش کے تحت ووٹرس کے نام ہذف کرکے انتخابات جیتے گئے۔
ایس وائی قریشی نے س اس معاملے میں یاستدانوں سے بھی زیادہ دلیرانہ موقف اختیار کرکے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ بہار و مغربی بنگال کے انتخابات کو غیر قانونی قرار دے کر دوبارہ الیکشن کی ہدایت دےکیونکہ کمپیوٹر سسٹم میں چھیڑ چھاڑ کے ذریعہ لاکھوں رائے دہندگان کو ووٹ کے دستوری حق سے محروم کیا گیا ہے۔اس دھماکہ خیز رپورٹ کے بعد ملک کے اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین کا گیانیش کمارکو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹانے اور ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار کرنے کا مطالبہ معقول نظر آتا ہے۔ اس معاملے میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس، شیو سینا اُدھو بالاصاحب ٹھاکرے، عام آدمی پارٹی، جنتادل یونائیٹڈ، نے پریس کانفرنس کرکے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے اور سپریم کورٹ آف انڈیا سےایس آئی آر کی تمام کاروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت کو ان مطالبات کے آگے آج نہیں تو کل گھٹنے ٹیکنے ہی پڑیں گے ۔ سوال یہ صرف یہ کہ مودی سرکار اپنا کتنا خسارہ کرنےکے بعد ہوش میں آئے گی؟ مودی حکومت اگر آگے بھی اپنی روایتی بے ڈھنگی چال سے گامزن رہی تو اس پر یہ شعر صادق آجائے گا ؎
سب کچھ لٹا کہ ہوش میں آئے تو کیا کیا
دن میں اگر چراغ جلائے تو کیا کیا

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے