اولیاء اللّٰہ کی تعلیمات کی پیروی ان سے سچی عقیدت و محبت کا تقاضہ.
مسجد قبا میں مولانا حافظ طاہر قاسمی کا خطاب
شادنگر،3اکٹوبر(پریس نوٹ)
پریس نوٹ : مولانا حافظ طاہر قاسمی بانی و ناظم دارالعلوم سبیل الہدی و مدرسہ نسواں جامعۃ الہدی نے مسجد قبا میں نماز جمعہ سے پہلے اپنے خطاب میں کہا : قرآن مجید میں اولیاء اللّٰہ کی دو صفات خاص طور پر بیان کی گئی ایک ایمان اور دوسرے تقویٰ ، ایمان کی بنیادتوحید پر ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات کے اعتبار سے بھی ایک ماننا اور صفات و اختیارات کے اعتبار سے بھی ، کہ اللہ ہی رزق عطا فرماتے ہیں ، وہی اولاد دیتے ہیں ، کامیابی و ناکامی ، جیت اور ہار اللّٰہ ہی کے ہاتھ میں ہے ، توحید ہی کے تقاضہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کچھ حقوق اللہ تعالیٰ کے ہیں ، جن میں کسی اور کو شریک کرنے کی گنجائش نہیں ، جیسے : کسی اور کی عبادت ، جانور کے ذبح کرتے وقت اللّٰہ کے سوا کسی اور کا نام لینا ، اللّٰہ کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا ، کسی اور سے مرادیں مانگنا ، کسی اور کے نام سے جانور چھوڑنا ، یا جانور کی قربانی کرنا ، کسی اور کے سامنے دُعا کے ہاتھ پھیلانا ، یہ سب مشرکانہ افعال ہیں ، جو لوگ اس کے مرتکب ہوں ، یادوسروں سے اس طرح کا عمل کرائیں ، وہ ہرگز اللّٰہ کے ولی نہیں ہوسکتے اولیاء اللّٰہ کی دوسری صفت تقویٰ ہے ، تقویٰ سے مراد ہے اللّٰہ کی محبت اور اللّٰہ سے خوف کا پاس رکھتے ہوئے ان باتوں سے بچنا ، جن سے اللّٰہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ، یعنی فرائض وواجبات کو ادا کرنا اور جو باتیں حرام یا حرام کے قریب ہیں ، ان سے اجتناب کرنا ، نیز حتی المقدور سنتوں کی پیروی ، مستحبات پر عمل کرنے اور خلاف مستحب باتوں سے بچنے کی کوشش کرنا ، اگر کوئی شخص شریعت کے خلاف عمل کرتا ہو ، جیسے نماز نہیں پڑھتا ہو ، داڑھی نہیں رکھتا ہو ، غیرمحرموں کے ساتھ اختلاط کرتا ہو ، یا اس طرح کے اور گناہوں میں مبتلا ہو اور ان سے توبہ بھی نہیں کرتا ہو ، وہ ہرگز اللّٰہ کا ولی نہیں ہوسکتا ، تقویٰ کے تقاضوں میں ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ بدعت میں مبتلا نہ ہو ؛ کیوں کہ بدعت تمام گناہوں سے بڑھا ہوا گناہ ہے ، دوسرے گناہوں میں مبتلا لوگوں کو توبہ کی توفیق ہوجاتی ہے ؛ لیکن بدعت کا ارتکاب کرنے والے ثواب کا کام سمجھ کر گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ؛ اس لئے انھیں توبہ کی توفیق نہیں ہوتی ، افسوس کہ آج کل بہت سے لوگ خود اولیاء اللّٰہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ؛ حالاں کہ وہ مختلف کبیرہ گناہوں میں بھی مبتلا ہیں اور بدعات و خرافات میں بھی ، اولیاء اللّٰہ سے دشمنی اور عداوت رکھنا آخرت کے لئے بے حد نقصان دہ ہے ؛ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے میرے ولی سے دشمنی رکھی ، وہ میری لڑائی کا مستحق ہے، مولانا نے پیرانِ پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رح کے حالاتِ زندگی اور آپ کی تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی ؒکا نسب والد کی طرف سے حضرت حسن رضی اللّٰہ عنہ اور والدہ کی طرف سے حضرت حسین رضی اللّٰہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کا گھرانہ تقویٰ اور طہارت کا مرکز تھا۔ بچپن ہی سے آپ میں بزرگی اور ولایت کی جھلک نمایاں تھی۔علمِ دین کی پیاس آپ کو جوانی میں ہی ملک عراق کے مشہور شہر بغداد لے گئی۔ اس دور میں بغداد علم و فن کا مرکز تھا۔ آپ نے جلیل القدر اساتذہ سے تفسیر، حدیث، فقہ اور تصوف کی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے اپنی محنت، ذہانت اور اخلاق سے تمام اساتذہ کو متاثر کیا۔ علم کے حصول کے بعد آپ نے طویل عرصہ ریاضت، مجاہدہ اور عبادتِ الٰہی میں گذارا، یہاں تک کہ روحانیت کی بلند ترین منزلوں پر فائز ہوئے۔شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی تعلیمات کا محور قرآن و سنت کی پیروی، اخلاقِ حسنہ اور تزکیۂ نفس تھا۔ آپ فرماتے تھے کہ سچ بولو خواہ اس میں بظاہر ہلاکت ہی کیوں نہ نظر آئے، کیوں کہ نجات سچ ہی میں ہے۔آپ ہمیشہ رزقِ حلال کمانے اور کھانے پر زور دیتے تھے اور حرام سے بچنے کی سخت تلقین فرماتے تھے، اتنے بلند روحانی مرتبے پر فائز ہونے کے باوجود آپ انتہائی عاجز اور منکسر المزاج تھے۔ آپ مخلوقِ خدا کی بلا تفریق خدمت کو عبادت سمجھتےتھے۔ آپ کا درس تھا کہ انسان کو صرف ظاہری عبادات پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بل کہ دل کو حسد، تکبر اور ریاکاری جیسی باطنی بیماریوں سے بھی پاک کرناچاہیے۔آپ نے لاکھوں انسانوں کی اصلاح فرمائی۔ آپ کی مجلسِ وعظ میں ہزاروں افراد توبہ کر کے راہِ راست پر آتے تھے۔ مولانا نے کہا: آج کا معاشرہ مادہ پرستی، بے چینی اور اخلاقی پستی کا شکار ہے۔ ایسے میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے حالاتِ زندگی اور تعلیمات میں ہمارے لئے یہ پیغام اور سبق ہے کہ ہم دنیا کی محبت میں اندھے ہونے کے بجائے آخرت کو سنواریں، اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھیں اور انسانیت کے ساتھ بھلائی کا رویہ اپنائیں۔