راہل سےخوفزدہ مودی: اسے یہ ڈر ہے کہ میں توڑ پھوڑ دوں گا اسے

راہل سےخوفزدہ مودی:  اسے یہ ڈر ہے کہ میں توڑ پھوڑ دوں گا اسے

راہل سےخوفزدہ مودی:
اسے یہ ڈر ہے کہ میں توڑ پھوڑ دوں گا اسے

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

راہل گاندھی نے کل جو کیا اور کہا وہ آزادی کے بعدکی تاریخ کا سنہری باب ہے ۔ سرکاری بیریکیڈ پر چڑھ کر قومی پرچم لہراتے ہوئے یہ کہنا معمولی بات نہیں ہے کہ ’ہم صرف ان کا مقابلہ نہیں کریں گے بلکہ انہیں ختم کرنے جا رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے ساتھ جو کیا گیا ہے، وہ غداری ہے‘‘۔غداری کا یہ الزام اس سنگھ پریوار پر لگایا جارہا ہے جس نے ملک میں وفاداری کے تمغے بانٹنے کا ٹھیکہ لے رکھا تھا ۔ اس کے خلاف بولنے والا ہر شخص کوقوم دشمن قرار دے کر اس پر ملک سے غداری کے مقدمات درج کیے جاتے تھے۔ پالتو ذرائع ابلاغ میں میڈیا ٹرائل کے دوران اس کو پاکستان ، چین اور سوروس سے جوڑدیا جاتا تھا لیکن اب بازی الٹ گئی ہے۔ موجودہ سرکار کی مجبوری ہے کہ ۲؍ اکتوبر کے بعد سے ہونے والے احتجاج کرنے والے مظاہرین کو حراست میں لے مگر کسی گرفتار کرکے اس پر مقدمہ قائم کرنے کی اس میں جرأت نہیں ہے۔ دوچار کاکروچ کو سرِ عام پھانسی دے کر معاملہ کو رفع دفع کرنے کا مشورہ دینے والے مرکزی وزیر منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔عدالتِ عظمیٰ کے حالیہ اور سابق جج چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بڑے پیمانے پر عوام کو حق رائے دہندگی سے محروم کرنا قوم کےقلب پر ضربِ کاری ہے۔اس لیے راہل گاندھی کا ایسے حملہ آوروں کو غدار کہنا کیسے غلط ہوسکتا ہے؟

سنگھ پریوار انگریزی استعماریت سے ساز باز کرکے ماضی میں بھی ملک سے غداری کا ارتکاب کرچکاہے۔ ان لوگوں نے نہ صرف مخبری کی بلکہ انگریزوں کو تحریِک آزادی سے نمٹنے کئ مشورے بھی دئیے۔ شیاماپرساد مکرجی کے انگریزوں کو لکھے جانے والے وہ خطوط تاریخ کا حصہ ہیں جن میں ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کو کچلنے کی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ وقت کے ساتھ ان کے ہاتھوں میں اقتدار کی باگ ڈور آئی تو انہوں نے اقتدار پر اپنی پکڑ مضبوط بنانے کی خاطر ایس آئی آر کے نام پر اپنے مخالفین کے حق رائے دہندگی پر ہی ڈاکہ ڈالنا شروع کردیا ۔ اس جبرو استبداد کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ اس کی ایک کڑی حزب اختلاف کے تقریباً 300 ارکانِ پارلیمنٹ (لوک سبھا و راجیہ سبھا) کا مظاہرہ تھا جسے الیکشن کمیشن کے دفتر جانے سے روکا گیا تو وہ آکاش وانی بھون پر دھرنے میں تبدیل ہوگیا ۔ یہ وہی ارکان پارلیمان ہیں جن میں سے نصف کو ایوان پارلیمان سے اٹھاکر باہر پھینک دیا گیا تھا تا کہ چیف الیکشن کمیشنر کو تاحیات تحفظ دینے کا قانون منظور کیا جاسکے۔ آج وہی گیانیش کمار کو اٹھاکر باہر پھینکنے کے لیے الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچ گئے تو مودی سرکار کی نیکر ڈھیلی اور پتلون گیلی ہوگئی۔ فی الحال مودی اور شاہ ایسے ڈرے ہوئے ہیں کہ ان کو دیکھ کر محسن نقوی کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
ہر آہٹ سے ڈرجاتے ہو

دہلی کے احتجاج نے ثابت کردیا کہ ڈر نے اپنا گھر بدل دیا۔ کل تک جو لوگوں کو ڈرایا کرتے تھے اب اپنے سائے یعنی گیانیش کمار سے بھی ڈرنے لگے ہیں کہ کہیں یہ راہل گاندھی کی پیشکش پر سرکاری گواہ بن کر ہمیں سب کے سامنے ننگا نہ کردے۔ یہ مشیت کا عجب انتقام ہے کہ مودی سرکار جس گیانیش کمار کو اپنے اقتدار کے قیام کی خاطر لائی تھی وہی اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ گیانیش کمار اور مودی سرکار کے درمیان کا تعلق سانپ کے منہ میں چھچھوندر جیساہے۔ مثل مشہور ہے کہ اگر وہ اسے نگل جائے تو اندھا ہوجائے اور اگل دے کو کوڑھ کے مرض میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ ایسے میں یہ سمجھ نہیں آتا کہ اُگلا جائے یا نگلا جائے۔ گیانیش کو اگر ہٹایا نہیں گیا تو مخالفت کا یہ طوفان نہیں تھمے گا ۔ اس کا رخ موڑنے کے لیے اگر دھرمیندر پردھان کی مانند ہٹا دیا جائے تو کئی بڑے نقصانات ہیں کیونکہ راہل گاندھی یہ دھمکی بھی دے چکے ہیں کہ’ کوئی بھی بچ نہیں پائے گا۔‘ اس کے سبب بعید نہیں کہ اپنی جان بچانے کے لیے خود گیانیش کمار سرکاری گواہ بن جائے ۔ ویسے بھی طوطا چشمی پرندے پالا بدلنے کے مشہور ہیں ۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کا سُر بدل سکتا ہے تو گیانیش کمار کس کھیت کی مولی ہیں۔ یہ طوطا اگر اپنے آقا سے بغاوت کردے تو مودی و شاہ کے ہاتھوں سے سارے طوطے اڑ جائیں گے۔ ان لوگوں نےہر شاخ پر یعنی محکمہ میں اپنے پالتو طوطے بیٹھا رکھے ہیں۔ گیانیش کی پیروی میں وہ سب بھی اپنی وفاداری بدلنے لگیں تو عوامی حمایت کے بجائے افسروں کی مدد سے چلنے والی یہ جعلی سرکار پلک جھپکتے دھڑام تختہ ہوجائے گی ۔

دہشت زدہ فرد یا سرکار گھبراہٹ میں خود اپنا نقصان کرتے ہیں ۔ مودی سرکار کے ساتھ یہی ہورہا ہے۔ حزب اختلاف نے جب ایوان پارلیمان سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک جلوس کی شکل میں جاکر الیکشن کمشنرس سے ملاقات کرنے کا اعلان کیا تو مودی اس سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔وہ گفت و شنید کے بعد جلوس کا راستہ اور وقت طے کرکے اسے نہ صرف اجازت بلکہ دیگر سہولیات سے نواز کر یہ تاثر دے سکتی تھی کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کا پاس و لحاظ کرتی ہے۔یہ پیغام بھی جاتاچونکہ اس نے کوئی غلطی ہی نہیں کی اس لیے سرکار اس جلوس سے بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہے ۔ الیکشن کمیشن ملاقات کے لیے چنندہ رہنماوں کا ایک وفد بناکر اس سے ملاقات کے لیے راضی ہوجاتا۔ وہ ان کے اعتراضات کو سن کر اس پر اپنے اقدامات کے لیے وقت مانگتا اور پریس کانفرنس میں آکر کہہ دیتا کہ حزب اختلاف کے اعتراضات کی حقیقت کیا ہے اور وہ ان کی شکایات کو دور کرنے کے لیے کون کون سے اقدامات کررہا ہے۔ اس طرح نہ تو راہل گاندھی کے احتجاج کو اتنی مقبولیت اور نہ سرکار سمیت الیکشن کمیشن کی ایسی بدنامی ہوتی مگر ’وناش کالے وپریت بدھی ‘ کی مصداق الیکشن کمیشنر کو روپوش کرکے پولیس والوں کو مظاہرین پر چھوڑ دیا گیا ۔ مودی سرکار نے الیکشن کمیشن کو بچانے کے لیے جو احتیاطی تدابیر کیں اس پر راحت اندوری کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
بدن چرا کے وہ چلتا ہے مجھ سے شیشہ بدن
اسے یہ ڈر ہے کہ میں توڑ پھوڑ دوں گا اسے

حزب اختلاف کے جلوس کی منزل الیکشن کمیشن کا دفتر تھی مگر علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ ہونے کی وجہ سے پولیس نے مظاہرین کوروکا تو وہ تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر واقع آکاش وانی بھون میں داخل ہوکر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد کانگریس کارکنوں کو پولیس بس میں بٹھا کر احاطے سے باہر لے گئی۔کانگریس ذرائع کے مطابق پارٹی نے تینوں الیکشن کمشنروں، بشمول چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کا وقت لینے کے لیے باضابطہ خط بھیجا ہے۔ ان کے مطابق اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی افسر آکر آئندہ ایک دو دن میں ملاقات کا یقین دلاتا ہے تو راہل گاندھی اپنا دھرنا ختم کرسکتے تھے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اب راہل گاندھی کا پولیس اہلکاروں سے کہنا ہے کہ اگر انہیں یہاں سے ہٹانا ہے تو ہٹا دیں، لیکن یہ بھی بتایا جائے کہ وہ ملک میں کہاں بیٹھ سکتے ہیں- انڈیا گیٹ پر، جنتر منتر پر یا سڑک پر؟ وہ الیکشن کمیشن اور پولیس سے سوال کرتے ہیں کہ کانگریس اور اپوزیشن کے نمائندوں کو الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟انہوں نے یاد دلایا کہ’ ہم کروڑوں بھارتیوں کی نمائندگی کرتے ہیں‘ اور پوچھتے ہیں الیکشن کمشنر ہم سے کیوں نہیں مل رہے ہیں؟ پولیس ہمیں کیوں روک اور دھمکا رہی ہے؟‘‘

راہل گاندھی کو پپو کہنے والےتضحیک آمیز انداز میں بولتے تھے کہ ’یہ تم سے نہیں ہوپائے گا‘ لیکن اب انہوں نے بیریکیڈ پر چڑھ کر وہ کردیا کہ جو مودی جی کے لیے کبر سنی کے سبب اور امیت شاہ کے لیے گول مٹول جسم کی وجہ سے ممکن نہیں ہے۔ یوگی ادیتیہ ناتھ نے اگر ایسی کوشش کی تو ان کی دھوتی کھل جائے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ ملک کا نوجوان کیسی قیادت چاہتا ہے؟ اس کے مسائل کی خاطر لڑنے کی قوت کس میں ہے؟ ان کی مشکلات کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کاحامل کون ہے؟ اب تو نوجوان اور طلبا کے علاوہ ان کے والدین بھی سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ان کی اولاد کا مستقبل کس کے ہاتھوں میں محفوظ ہے اور کون اس سے کھلواڑ کررہا ہے؟ بی جے پی والے بار بار سوال کیا کرتے تھے کہ ’مودی نہیں تو کون؟‘ اور پھر لوگ پریشان ہوتے تو کان پھونک دیا کرتے ’آئے گا تو مودی ہی‘۔ اس جھانسے میں آکر بہت سارے لوگ اپنے ووٹ کا ضائع ہونے سے بچانے کی خاطرکمل پر مہر لگا دیتے تھے مگر اب ان کی آنکھیں کھل چکی ہیں ۔ حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی ایسے تمام لوگوں کے لیے جو ہوا کا رخ دیکھ کر اپنا حق رائے دہندگی استعمال کرتے تھے امید کی ایک کرن بن چکے ہیں۔ ان پر محسن نقوی کے یہ اشعار مع ترمیم صادق آتے ہیں؎
کون سی بات ہے تم میں ایسی،اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
راہل تم بدنام بہت ہو،جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے