Breaking
بدھ. اکتوبر 7th, 2026

ظریفانہ :یوگی بابا سےجسٹس سوریہ کانت تک ؟

ظریفانہ :یوگی بابا سےجسٹس سوریہ کانت تک  ؟

ظریفانہ :یوگی بابا سےجسٹس سوریہ کانت تک ؟

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

للن مشرا نے کلن شرما سے کہا یار یہ اپنے سی جی آئی جسٹس سوریہ کانت کو کیا ہوگیا ؟
کلن بولا کچھ خاص نہیں وہ اپنے ناکردہ گناہوں کا کفارہ ادا کررہے ہیں ۔
ناکردہ گناہ؟ ارے بھائی مجرموں کو سزا دینے والا بھلا خود اپنی تادیب کرسکتاہے؟
بھیا ہر انسان میں ایک ضمیر ہوتا ہے ویسے ضمیر فروش بھی ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے مفاد میں قلابازی کھاتے ہیں ۔
ہاں یار ایسا ہی کچھ ورنہ مجھے تو یہ توقع نہیں تھی کہ وہ صاف طورپر کہہ دیں گے فارم ۶ ؍ میں تبدیلی کی اجازت عدالت نے نہیں دی تھی ۔
کلن نے کہا یار اس طرح تو انہوں نے گیانیش کمار کو جھوٹا کہہ دیا ۔ اس لیے کہ یہ تو کمیشن کا تحریری اعلان تھا کہ عدالت نے توثیق کی ہے۔
یار لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آئی ۔ الیکشن کمیشن نے جب کذب گوئی کی تھی تو اس وقت سپریم کورٹ کیوں خاموش رہا۔ تردید کیوں نہیں کی؟
بھیا میں کہہ چکا ہوں کہ ہوا کا رخ دیکھ کر یہ قدم اٹھایا جارہا ہے۔ اس وقت خاموشی میں عافیت تھی اور اب بولنا لازمی ہوگیا ۔تم سمجھتے کیوں نہیں ؟
للن بولاجی ہاں اس بار سوریہ کانت وہی کررہے ہیں جو راہل گاندھی نے مطالبہ کیا تھا ۔
کلن نے سوال کیا یار یہ بیچ میں راہل گاندھی کہاں سے آگیا؟
بھیا اسی نے تو کہا تھا فیصلوں کی فہرست منگوا کر دیکھو کہ کہاں کہاں من مانی ہوئی ہے اور انہیں مسترد کرو۔ جسٹس سوریہ کانت نے فہرست منگوا لی ۔
ہاں تو فہرست دے کر کہہ دیاجائے گا کہ سارے فیصلے اتفاق رائے سے ہوئے اور پھرٹائیں ٹائیں فش ۔
بھائی اتنا آسان نہیں ہے۔ دیگر کمشنرس کو ان کے ای میل دکھا کرجب پوچھا جائے گا تو وہ کیسے جھوٹ بول سکیں گے ؟
ہاں یار مجھے تو لگتا ہے گیانیش سمیت اپنے پردھان جی بھی پھنس گئے لیکن یہ بتاو کہ اتنا بڑا انقلاب اتنی جلدی کیسے آگیا؟
بھیا یہ کاکروچ کا کمال ہے۔تمہاری طرح چیف جسٹس صاحب بھی کاکروچ کو حقیر سمجھ رہے تھے لیکن اب ان کا حشر دیکھ لو؟
للن نے پوچھا ان کا کون سابال بانکا ہوا ؟چیف جسٹس سوریہ کانت تو اب بھی اپنی کرسی پر براجمان ہیں ۔
کرسی پر جونک کی مانند چپکے رہنے سے کیا ہوتا ہے۔ ان کی عزت تو ملیا میٹ ہوگئی۔ اپنے وقار کا ذرہ برابر خیال ہوتا تو استعفیٰ دے کر چلتے پڑتے ۔
بھیا وہ بھی سنگھی بھائی ہیں ۔ ہم لوگ بزدلوں کی مانند استعفیٰ دے کر نہیں بھاگتے ۔کیا سمجھے ؟
سمجھ گیا بھیا سمجھ گیا۔ ہم لوگ لاکھ رسوائی کے باوجود اپنی کرسی سے چپکے رہتے ہیں مگر پھر دھرمیندر پردھان سے کیوں استعفیٰ لیا گیا ؟
بھیا وہ استعفیٰ بھی دھرمیندر پردھان نے راضی خوشی تھوڑی نا دیا ۔ وہ تو نوجوانوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ہماری مجبوری تھی ورنہ ۰۰۰۰۰
کلن نے سوال کیا ورنہ کیا؟ بولو ؟؟ بولتے بولتے کیوں رک گئے؟؟؟
بھائی ورنہ بات شاہ جی تک پہنچ گئی تھی اور تم تو جانتے ہی ہو کہ اگر ان کو جانا پڑجاتا تو اگلا نمبر کس کا تھا؟ میں تو وہ سوچ کرہی سہم جاتا ہوں ۔
کیوں اس میں فکرمند ہونے کی کیا بات ہے ؟تم نے نہیں سنا ’ جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے‘۔ بایولوجیکل ہو نان بایولوجیکل ۔
للن نے کہا ارے ہاں مگر پھر وہ 2047کا خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہوگا؟
یہ نہ بھولو کہ اس وقت پردھان جی عمر 97؍ سال ہوگی اور ایسی کبر سنی میں وہ کیا کرسکیں گے ۔ اپنے اڈوانی جی کو دیکھ لو ان کی کیا حالت ہوگئی ہے؟
للن بولا وہ تو ٹھیک ہے مگر سوریہ کانت کیوں استعفیٰ دیں ؟ انہوں نے پیپر لیک تھوڑی نا کیاہے؟
انہوں نے پیپر لیک نہیں کیا مگر سارے فتنہ کی جڑ تو وہی ہیں ۔ وہ نہ کاکروچ والا تبصرہ کرتے اور سی جے پی وجود میں آتی اور نہ ہی یہ دن دیکھنا پڑتا۔
ارے بھائی زبان میں ہڈی تھوڑی نا ہے۔ پھسل جاتی ہے۔ اب اس کے لیے استعفیٰ لے لوگے کیا؟ انہوں نے تو اپنی صفائی بھی دے دی ۔
دیکھو زبان نہیں پھسلی تھی بلکہ من کی بات ہونٹوں پر آگئی تھی ورنہ وہ ویڈیو دیکھنے سے انکار نہیں کرتے ۔
تم کس ویڈیو کی بات کررہے ہو کلن ۔ آج کل تو لوگ دن بھر میں سیکڑوں ویڈیوکلپس دیکھتے ہیں۔
وہی تو ۔ جنتر منتر کے مظاہرین پر تشدد کی ایک ویڈیومفادِ عامہ کی شکایت کرنے والے وکیل نے عدالت میں پیش کی تو انہوں نے دیکھنے سےانکار کردیا ۔
اچھا تو انہوں نے کیا کہا؟
جسٹس سوریہ کانت نے کہہ دیا ہمارے پاس اس ویڈیو کو دیکھنے کے لیے وقت نہیں ہے۔
اچھا ؟ اس قدر رعونت کہ ان کی ناک کے نیچے طلبا اور نوجوان تشدد کا شکار ہورہے ہیں اور موصوف ان کی ویڈیو تک نہیں دیکھنا چاہتے ۔
جی ہاں بھیا اسی بے حسی نے نوجوانوں کا خون کھولا دیا ۔ جسٹس سوریہ کانت کے اندر ان کو اپنا دشمن نظر آنے لگا ۔
یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ کیا کسی نے اپنے انٹرویو میں یہ بات کہی ؟
جی نہیں عمل کی گواہی زبان سے طاقتور ہوتی ہے ۔ ملک کی معروف قانونی یونیورسٹی نلسار کے طلبا نے ان کے ہاتھوں ڈگری لینے سے انکار کردیا ۔
یار یہ تو چیف جسٹس کی تو ہین ہے۔ ایسا کرنے والوں پر ہتک عزت کا مقدمہ چلنا چاہیے اور انہیں قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔
یہ احمقانہ غرور ہے ۔ بار ایسو سی ایشن کے سربراہ للن سنگھ نے بھی تمہاری طرح ان طلبا کو سزا دینے کی کوشش کی تھی ۔ کیا سمجھے؟
بار ایسو سی ایشن کے چیف کو سزا دینے کا حق کس نے دے دیا؟ وہ کوئی جج ہے کیا ؟؟
ارے بھائی جب پردھان جی اپنے آپ کو وشوگرو(عالمی قائد) سمجھ سکتے ہیں تو للن سنگھ پھر بھی وکالت کے پیشے سے تو منسلک ہے۔
تو کیا خود جج سمجھ کر یہ حکمنامہ جاری کردے گا کہ ان طلباء کو کسی عدالت میں پریکٹس کی اجازت نہ دی جائے ؟ ایسا کوئی کیسے کہہ سکتا ہے؟
ارے بھائی ایک طالبعلم محنت کرکے امتحان پاس کرے اور صرف کسی فردِ خاص سے ڈگری نہ لے تو کیا فرق پڑتا ہے۔
اس معمولی بات کےلیے کیاکسی کو پریکٹس کرنے سے محروم کیا جاسکتا ہے؟ یہ تو سراسر غنڈہ گردی ہے ۔ کس بیوقوف نے اسے بار کی کمان سونپی ۔
وہ ہمیں میں سے ایک ہے اور ہم جیسے بھگتوں نے ہی اسے سربراہ بنایا ہے۔
یار پھر تو ہم خود ہی قصور وار ٹھہرے ۔
اور نہیں تو کیا مگر اس شر سے یہ خیر کا پہلو نکلا کہ نلسار کے طلبا کا احتجاج اور للن سنگھ کی حماقت نے مل کر جسٹس سوریہ کانت کا دماغ درست کردیا ۔
یہ انکشاف تم پر کیسے ہوا؟
ارے بھائی وہ معاملہ بھی جسٹس سوریہ کانت کے سامنے آیا اور اس پر ان کے فیصلے نے یہ بات واضح کردی ۔
اچھا ! تو انہوں نے اس پر کیا کہا ؟
بھیا چیف جسٹس نے للن سنگھ کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ یہ طلباء اور کالج انتظامیہ کا معاملہ اس میں کسی تیسرے کو کودنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
یار یہ تو نہایت معقول فیصلہ ہے کاش کے وہ پہلے سے ایسی ہی باتیں کرتے تو رسوا نہ ہوتے ۔
دیکھو بھیا جن کے دماغ آسمان پر ہوتے ہیں وہ جب تک ٹھوکر کھاکر اوندھے منہ نہیں گرتے ٹھیک نہیں ہوتے۔ یہی جسٹس سوریہ کانت کے ساتھ ہوا۔
اچھا تو کیا وہ اب بالکل سدھر گئے ہیں؟
جی ہاں اس کے بعد انہوں نے کئی ایسے فیصلے کیے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف لائن پر آچکے ہیں ۔
اچھا ! اگر ایسا ہوا ہے تو ہمیں بھی بتاو۔ مجھے خوشی ہوگی۔
بھیا کاکروچ کے معاملے میں ہی جب یہ بات ان کے سامنے آئی کہ ان کے جلوس سے نظم و نسق کو خطرہ ہے۔ تو انہوں نے بڑا دوٹوک رخ اختیار کیا ۔
جی ہاں تو برکس کانفرنس سے پہلے ہونے والی تھی اور اس میں گڑبڑ سے ملک کی شبیہ بگڑ سکتی تھی۔
اس کا حوالہ بھی دیا گیا تھا مگر جسٹس سوریہ کانت نے صاف کہہ دیا کہ ایسے حیلے بہانوں سے کسی کوا حتجاج کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔
یار یہ فیصلہ تو بلواسطہ حکومت کے خلاف چلاگیا ۔
بھیا انہوں نے بلاواسطہ بھی کہہ دیا نظم و نسق کو قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔
یہ تو عمومی بات ہے اس میں حکومت کے خلاف کیا ہے؟
وہی کہ اگر نظم و نسق قائم نہیں رکھ سکتے تو چور دروازے سے روکنے کے بجائے جھولا اٹھا کر اپنا راستہ ناپو۔
یار مجھے تو لگتا ہے کہ اب جسٹس سوریہ کانت تار کی طرح سیدھے ہوگئے ہیں۔
صحیح کہا ۔ کاکروچ نے سرکار ی وعدہ خلافی پر سوال اٹھا یا تو انہوں نے مظاہرین کےتمام مقدمات واپس کروائے اور تین ماہ میں ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
اچھا یہ بتاو کہیں تم کو اس میں بغاوت کی بوُ تو نہیں آتی؟
ارے بھائی تم بھول گئے بغاوت کی جرأت ہم سنگھیوں میں نہیں ہوتی۔ اس لیے ایسا کوئی امکان نہیں ہے۔
اچھا تو پھر آخر جسٹس سوریہ کانت کو یہ کیا ہوگیا؟
مجھے تو لگتا ہے وہ ڈر گئے ۔ ہمارا تو یہی فلسفہ ہے کہ پہلے مخاطب کو کو ڈراو اور وہ نہ ڈرے تو خود ڈر جاو۔ یہی ہوا ہوگا۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے