جنتر منتر پر ناگن اور سپیرے کا کھیل

جنتر منتر پر ناگن اور سپیرے کا کھیل

جنتر منتر پر ناگن اور سپیرے کا کھیل

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

عام طور پر ناگن کو سپیرا اپنے بین کے اشارے پر نچاتا ہے مگر اس بار جنتر منتر پر کھیل الٹ گیا ہے۔ نیہا بورا نام کی ناگن نے شاہ نامی سپیرے کو تگنی کا ناچ نچانا شروع کردیا ہے۔ سپیرے اپنی لاکھ خواہش کے باوجود وہ اسے ٹوکری یعنی جیل میں بند نہیں کرپارہا ہے۔ بار بار شہر سے لے جاکر جنگل میں چھوڑ آتا ہے اور اگلے دن وہ پھر نیا روپ لے کر جنتر منتر پر نمودار ہوجاتی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس بار یہ ناگن شاہ کے داہنا ہاتھ گیانیش کمار کو اسی طرح ڈس جائے گی جیسے پہلے بائیں ہاتھ دھرمیندر پردھان کو ’اوم سواہا ‘ کرچکی ہے۔ ناگن اور سپیرے کے اس کھیل میں جس دن اژدھا شامل ہوگیا تو وہ مودی اور شاہ کی سرکار کو پورا کا پورا نگل جائے گا۔ یہ دیکھ کر ملک بھر کے تماش بین خوشی سے جھوم اٹھیں گے اور تالیاں بجانے لگیں گے۔ یہ خوش کن منظر کب دیکھنے ملے گا یہ تو کوئی نہیں جانتا مگر اس کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ سپیرے کے آس پاس کا دائرہ دن بہ دن سمٹتا جارہا ہے۔ ظالمانہ اقتدار کی سانسیں اکھڑنے لگی ہیں ۔ وہ آئی سی یو کے کمرے میں پڑا اپنی آخری دھڑکن گن رہا ہے۔ گھڑی کے کانٹے اور نبض کی رفتار میں فاصلہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ وہ دن دور نہیں کہ یہ جبرو استبداد کا ہوا محل خود اپنے بوجھ سے دھڑام تختہ ہوجائے گا ۔
امسال دو اکتوبر کو گاندھی جی کے نظریہ ٔ بھارت چھوڑو کا پونر جنم ہوگیا۔ اس بار یہ نعرہ گوروں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے کالے غلاموں کی مخالفت میں اس طرح بلند ہورہا تھا ’پہلے لڑے تھے گوروں سے اب لڑیں گے چوروں سے‘کیونکہ پہلے تو یہ چوراڈانی اور امبانی کی مدد سے ملک کا دھن دولت چراتے تھے۔ اس سے پیٹ نہیں بھرا تو رام مندر کا چندا چرانے لگے مگر اب تو ووٹ کے حق پر ہی ڈاکہ ڈالنے کے فراق میں ہیں۔ عجب چوروں کی سرکار اقتدار میں آگئی مگر اب ان کے چہرے نقاب اتر گئی ہے۔ جنتر منتر پر لگاتا تین دنوں تک نیہا بورا کی قیادت میں نوجوانوں نے احتجاج کیا مگر وہ قابو میں آنے کا نام نہیں لے رہے۔ ان کو اٹھا اٹھا کر بسوں میں بھرا جاتا ہے۔ ڈنڈوں اور لاتوں و گھونسوں سے زدو کوب کیا جاتا ہے مگر وہ مان کر نہیں دیتے ۔ بی جے پی اس سے بری طرح بوکھلا گئی ہے۔ اس نے تیسرے دن نیہا کوبغیر نمبر پلیٹ کی گاڑی میں اغوا کیا ۔ ایسے اہلکاروں کو میدان میں اتار اجنھیں اپنا نام دکھانے میں شرم محسوس ہوتی تھی۔ اس کے باوجود لڑکیا ں گاڑی کے اوپر چڑھ کر نعرے لگانے لگیں ۔ اس ویڈیو پر کلیم عاجز کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
قاتل نے بڑی شان سے باندھی ہے کمر آج
ہاں دیکھتا ہوں حوصلہ والوں کا جگر آج

کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں ۲۲ دنوں تک بھوک ہڑتاک کرنے والی نیہا بورا فی الحال نوجوانوں سمیت طلبہ و طالبات کی آنکھوں کا تارہ بنی ہوئی ہے۔ اس کی ایک آواز پر ہزاروں نوجوان سر پر کفن باندھ کر نکل پڑتے ہیں۔ نیہا بورا کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے سرکار کا خوف دلوں سے نکال دیا۔ سنگھ پریوار کا سارا کاروبار عوام کو مسلمانوں یا اپنے جبرو استبداد سے ڈرانے پر ٹکا ہوا تھا مگر نیہا نے اس بنیاد کی چولیں ہلا کر رکھ دیں ۔ یہ اس لیے ممکن ہوسکا کہ وہ خود نہیں ڈرتیں ۔ اسی ڈر کوختم کرنے کی خاطر راہل گاندھی نےنفرت کے خلاف محبت دوکان کھولنے کے لیے جنوب سے شمال اور مشرق سے مغرب تک بھارت جوڑو یاترا نکالی ۔ راہل نے پہلے اپنے دل سے سنگھ کا ڈر نکالا اور پھر قوم کو اس سے نجات دلانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ نیہا بھی یہی کررہی ہیں اس لیے راہل گاندھی نے ان کو اپنے پاس بلایا اور تبادلۂ خیال کیا۔ نیہا بورا نے یوگی کے گھر میں گھس ان کو چیلنج کیا ۔ انہوں نے اپنا سفر یوگی کے گورکھپور سے شروع کیا اور انہیں مجرم ، فسادی اور لمپٹ کے لقب سے نوازہ۔ اس کے بعد وزیر اعظم مودی کے حلقہ انتخاب وارانسی میں پہنچ گئیں وہاں بھی اپنی بات دوہرائی اور پھر پریاگ راج سے ہوکر لکھنو میں یوگی کی ناک کے نیچے آکر ان کو بے نقاب کیا مگر یوگی بابا چوں بھی نہیں کرسکے ۔ امیت شاہ اس وقت خوش ہورہے تھے اب وہ وزیر داخلہ کے ناک میں دم کررہی ہیں اس لیے یوگی بابا مسکرا رہےہیں لیکن بالآخر وہ ان دونوں کو رلا کر دم لیں گی ۔ نیہا کی مقبولیت تو اس شعر کی مصداق ہے ؎
انہیں کے گیت زمانے میں گائے جائیں گے
جو چوٹ کھائیں گے اور مسکرائے جائیں گے

ایک طرف جنتر منتر پر نیہا بورا نظر آتے ہیں تو دوسری جانب ممبئی کی شیواجی پارک پر ابھیجیت دپکے دکھائی دیتے ہیں۔ ۲؍ اکتوبر کو شیواجی پارک پر ہزاروں نوجوانوں نے جمع ہوکر گیانیش کمار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ بالی ووڈ کے نشے میں کھوئے نظر آنے والے نوجوانوں نے سرکار کے ہوش اڑا دئیے ۔ وہاں پر بالی ووڈ کے کئی اداکار موجود تھے ۔ مظاہرین کا جوش و خروش بے مثال تھا ۔ اس کے دو ہی دن بعد شیوسینا (یو بی ٹی) نے نونرمان سینا کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ مظاہرے کا اعلان کیا ۔ اس احتجاج کی خاص بات یہ تھی کہ اس نے دو بچھڑے ہوئے چچا زاد بھائیوں کو برسوں بعد ملا دیا۔ اس میں عوام کے سیلاب نے وہ غلط فہمی دور کردی کہ ممبئی میں بالا صاحب ٹھاکرے یا ان کے فرزند ادھو راو ٹھاکرے کو لوگ بھول چکے ہیں۔ اس مظاہرے میں بی جے پی حکومت سے جو برسوں تک شیوسینا کی ہی مرہوں منت تھی کئی واجب مطالبات کیے لیکن ان کے شرفِ قبولیت کی کوئی توقع نہیں ہے۔ اس لیے کلیم عاجز کی زبان میں ان کے لیے یہ مشورہ ہے؎
گلوں سے راہ رکھیو، رسم رکھیو ، رابطہ رکھیو
مگر ان بیوفاوں سے نہ امیدِ وفا رکھیو

منو سمرتی کی بنیاد بانٹو اور کاٹو پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی سماج کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرکے ہندووں کا مسلمانوں یا عیسائیوں سے لڑا کر اپنا کام نکالتی تھی ۔ اس سے بات نہیں بنتی تو ہندووں کو ذات پات کی بنیاد پر آپس میں لڑا دیتی ۔ غیر یادو او بی سی کو یادو سماج سے الگ کرکے اپنے ساتھ کرلینا یا غیر جاٹو طبقات کے اندر احساسِ محرومی پیدا کرکے ان کو توڑ لینا اس کا شیوہ رہا ہے۔ اپنی اس حرکت کو وہ لوگ سوشیل انجینیرنگ کے خوبصورت نام سے منسوب کرتے ہیں لیکن اس بار زعفرانیوں کا جس نئی نسل سے پالا پڑا ہے وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہے ۔ اس کو ہندو مسلم میں یا ذات پات پات میں تقسیم کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہ سرکار سے پیپر لیک کا سوال کرتے ہیں۔ اس کو ملازمت چاہیے۔ اس کے لیے اچھی زندگی تعیش نہیں ضرورت ہے۔ ایسے پڑھے لکھے جین زی نمٹنے کا طریقہ آر ایس ایس کی شاکھا میں سکھایا نہیں جاتا۔ ان کو ڈرانا دھمکانا اور جھکانا ممکن نہیں ہے۔ ان لوگوں کو ایک دن مار پیٹ کر بھگایا جاتا ہے تو وہ دوسرے دن پھر تازہ دم ہوکر لوٹ آتے ہیں۔ فی الحال نہ جنتر منتر بلکہ ملک کے کونے کونے میں یہ تحریک برپا ہے ۔ ان کا تو یہ حال ہے کہ ؎
زمانے سے کانٹوں پہ چلتے ہیں ہم
نہ رستہ نہ منزل بدلتے ہیں ہم

وقت کے ساتھ حکومت کو احساس ہورہا ہے کہ ان کو قابو میں کرنا آسان نہیں ہے اس لیے وہ تذبذب کا شکار ہوگئی ۔ اس نے ابھیجت دپکے کو فوراً اجازت دے کر دیکھا کہ شاید وہ ان کے جال میں پھنس جائیں لیکن اس سازش میں سرکار کو پوری طرح ناکامی ہوئی ۔ جنتر منتر پر پہلے نرمی پھر گرمی دکھائی گئی مگر دونوں حربے ناکام ہوے۔ نہ تو کاکروچ ان کے دام میں پھنسے اور نہ تشدد سے ڈرے ۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ سرکار خود ڈر گئی اور ڈرے ہوئے لوگ ہمیشہ غلطی پر غلطی کرکے اپنے مخالفین کو فائدہ پہنچا دیتے ہیں اور بی جے پی کے ساتھ یہی ہوا رہا۔ مہاراشٹر کے اندر پہلے ابھیجیت دپکے کو مظاہرے سے نہیں روکا گیا مگر جب کچھ قبائلی بچے اپنی جائز مانگوں کولےکرممبئی میں مظاہرے کے لیے آئے تو سرکار نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ ان لوگوں نے کانگریس کے ممبئی دفتر میں پناہ لی تو پولیس بھیج کر ان خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس سے نہ تو نوجوان ڈرے اور نہ کانگریس گھبرائی کیونکہ ان کا کہنا ہے؎
مجرم ہیں ہمیں ان کے گنہ گار ہمیں ہیں
وقت آئے تو مرنے کو بھی تیار ہمیں ہیں

پس نوشت: ملک بھر میں گیانیش کمار پر کہرام مچا ہوا ہے دوسری جانب گودی میڈیا میں اسرائیل جانے والے جہاز اور اس کے پائلٹ سُمیت مچھر کے چرچے ہیں ۔وہ عوام کا دھیان بھٹکانے کی کوشش کررہا ہے مگر گودی میڈیا اس کے آقاوں کو اپنے ناپاک عزائم میں کامیابی نہیں ملے گی کیونکہ؎
اس کی فکر نہ کیجو عاجزکون یہاں کیا بولے ہے
کرنے والا کام کرے ہے بولنے والا بولے ہے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے