حق و باطل کی ابدی کشمکش اور نظریاتی سیاست کا مستقبل

حق و باطل کی ابدی کشمکش  اور نظریاتی سیاست کا مستقبل

حق و باطل کی ابدی کشمکش
اور نظریاتی سیاست کا مستقبل

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

دنیا کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی تاریخ کا مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ قوموں کی تقدیر صرف معاشی وسائل، عسکری قوت یا سیاسی اقتدار سے متعین نہیں ہوتی بلکہ ان نظریات سے تشکیل پاتی ہے جن پر ان کی فکری اور اخلاقی عمارت استوار ہوتی ہے۔ تاریخ کا ہر دور دراصل افکار کی کشمکش، اقدار کی جنگ اور نظریات کے تصادم کی داستان ہے۔ اسی لیے یہ تصور کہ دنیا سے نظریاتی سیاست کا دور ختم ہوچکا ہے اور اب صرف مفادات ہی سیاست کی بنیاد ہیں، تاریخی حقائق سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں۔ مفادات وقتی اتحاد پیدا کرسکتے ہیں، مگر مستقل تہذیبیں اور پائیدار معاشرے ہمیشہ نظریات کی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں۔

سوویت یونین کے انہدام کے بعد بعض مغربی مفکرین نے یہ تصور پیش کیا کہ نظریاتی کشمکش کا دور اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور لبرل جمہوریت ہی انسانی ارتقاء کی آخری منزل ہے۔ لیکن بعد کے عالمی حالات نے اس دعوے کی تردید کردی۔ تہذیبی شناخت، مذہبی شعور، قوم پرستی، جغرافیائی سیاست اور مختلف فکری و تہذیبی تصورات کے درمیان جاری کشمکش نے یہ ثابت کردیا کہ دنیا نظریات سے آگے نہیں بڑھی بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی ہے، جہاں نظریات نے نئی صورتیں اور نئے اسالیب اختیار کر لیے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نظریات کبھی ختم نہیں ہوتے، بلکہ زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ اپنی شکلیں اور اظہار کے انداز تبدیل کرتے رہتے ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان محض معاشی مفادات کا اسیر یا حیوانی خواہشات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک صاحبِ شعور، فکری اور اخلاقی وجود ہے۔ وہ ہر دور میں اپنی حقیقت، اپنی منزل اور اپنی ذمّہ داری کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھاتا ہے، میں کون ہوں؟ مجھے کیوں پیدا کیا گیا؟ اور میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہر مذہب، تہذیب، فلسفہ اور سیاسی نظام ان سوالات کا اپنے اپنے زاویۂ نظر سے جواب دیتا ہے، اور انہی جوابات کی بنیاد پر اس کا فکری و اخلاقی نظام تشکیل پاتا ہے۔ یہی نظام درحقیقت اس کا نظریہ کہلاتا ہے۔ اس اعتبار سے نظریہ انسان کی ایک فطری اور ناگزیر ضرورت ہے، محض ایک سیاسی نعرہ یا وقتی حکمتِ عملی نہیں۔

ہندوستان کے موجودہ حالات میں بھی ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف پائی جانے والی دشمنی کو بہت سے اہلِ فکر صرف سماجی یا سیاسی مسئلہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے ایک نظریاتی کشمکش کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق مخالفت کا اصل ہدف کسی فرد یا قوم سے زیادہ وہ فکری و دینی تصور ہے جسے اسلام پیش کرتا ہے۔ چنانچہ اسلام مخالف عناصر کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اگر اسلام کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی بنیادیں کمزور ہو جائیں تو اس سے وابستہ اجتماعی شناخت بھی ماند پڑ جائے۔ اس سوچ کی بنیاد یہ تصور ہے کہ جب کسی نظریے کی قوت ختم ہو جاتی ہے تو اس کے ماننے والوں کی اجتماعی قوت بھی خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے۔

لیکن تاریخ اس کے برعکس گواہی دیتی ہے۔ نظریات کو طاقت کے ذریعے دبایا جاسکتا ہے، مگر انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی نظریہ انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہو، اخلاقی بنیاد رکھتا ہو اور انسان کو مقصدِ حیات عطا کرتا ہو تو وہ آزمائشوں کے باوجود زندہ رہتا ہے۔ اسی لیے اسلام کی تاریخ مسلسل آزمائشوں، مخالفتوں اور چیلنجوں کے باوجود اپنی فکری اور روحانی قوت برقرار رکھنے کی تاریخ ہے۔

انسانی تاریخ پر گہری نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی نظریات ہمیشہ دو ہی رہے ہیں: حق اور باطل۔ حق وہ ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و مرسلین کے ذریعے انسانوں تک پہنچایا، جو انسان کو اپنے ربّ سے جوڑتا، عدل، رحمت، دیانت اور اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں باطل ہر وہ فکر اور نظام ہے جو انسان کو خدائی ہدایت سے بے نیاز کرکے خواہشات، طاقت، نسل، قوم، طبقے یا محض انسانی عقل کو آخری معیار بنا دیتا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کی شکلیں بدلتی رہی ہیں؛ کبھی فرعونیت اور نمرودیت کی صورت میں، کبھی بادشاہت اور نسلی برتری کے تصور میں، کبھی قوم پرستی اور استعمار کے قالب میں، اور جدید زمانے میں مختلف سیاسی، سماجی اور فکری نظریات کی شکل میں۔ اصل کشمکش ناموں کی نہیں بلکہ اصولوں کی ہے۔

قرآنِ مجید نے حق و باطل کی اس دائمی کشمکش کو نہایت جامع اور مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں، پھر وہ اس کا سر کچل دیتا ہے اور وہ فوراً مٹ جاتا ہے۔” ایک اور مقام پر فرمایا: "حق آگیا اور باطل مٹ گیا، یقیناً باطل مٹنے ہی والا ہے”۔ (الإسراء: 81)۔ یہ آیات اس ابدی حقیقت کی ترجمانی کرتی ہیں کہ حق اور باطل کی کشمکش میں وقتی غلبہ باطل کو حاصل ہوسکتا ہے، لیکن دائمی بقا اور حقیقی کامیابی صرف حق کا مقدر ہے۔ باطل اپنی ظاہری قوت، سیاسی اقتدار یا عسکری برتری کے باعث کچھ عرصے تک غالب دکھائی دے سکتا ہے، مگر چونکہ اس کی بنیاد ظلم، فریب اور بے اصولی پر قائم ہوتی ہے، اس لیے وہ بالآخر زوال پذیر ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس حق کی بنیاد عدل، صداقت، فطرت اور وحیِ الٰہی پر استوار ہوتی ہے، اسی لیے وہ آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود باقی رہتا ہے، انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے اور آخرکار اپنی اثر انگیزی منوا لیتا ہے۔

قرآنِ مجید انسانی تاریخ کے آغاز ہی میں اس کشمکش کی ایک علامتی مثال پیش کرتا ہے۔ سیدنا آدمؑ کے دو بیٹے، ہابیل اور قابیل، دو مختلف رویوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک خدا کی رضا اور اطاعت کا علمبردار تھا، دوسرا اپنی خواہش اور انا کا اسیر۔ جب اللّٰہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی تو قابیل نے اپنی شکست تسلیم کرنے کے بجائے حسد، تکبر اور خود پرستی کے زیرِ اثر اپنے ہی بھائی کا قتل کردیا۔ یہی واقعہ اس حقیقت کی علامت بن گیا کہ باطل اکثر اپنی ناکامی کو دلیل سے نہیں بلکہ طاقت اور ظلم سے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ وقتی غلبے سے نہیں بلکہ اخلاقی سچائی سے ہوتا ہے۔ اسی لیے ہابیل قتل ہوکر بھی سربلند رہا اور قابیل زندہ رہ کر بھی تاریخ کی نگاہ میں شکست خوردہ ٹھہرا۔

حق و باطل کی یہ کشمکش صرف ہابیل و قابیل کے واقعے تک محدود نہیں رہی بلکہ پوری تاریخِ نبوت اسی ابدی جدوجہد کی آئینہ دار ہے۔ حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کی شرک، اخلاقی انحطاط اور سرکشی پر مبنی تہذیب کو چیلنج کیا۔ حضرت ابراہیمؑ نے بت پرستی، نمرود کی خدائی اور انسان کی خود ساختہ حاکمیت کے تصور کو للکارا۔ حضرت موسیٰؑ نے فرعون کی مطلق العنان آمریت، استبداد اور خدائی کے دعوے کے مقابلے میں اللّٰہ کی حاکمیت اور انسان کی آزادی کا پیغام پیش کیا۔ حضرت عیسیٰؑ نے اس مذہبی جمود، ریاکاری اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی جو اس دور کے مذہبی پیشواؤں اور سیاسی طاقتوں کے گٹھ جوڑ سے پیدا ہوچکا تھا۔ اس طرح ہر نبی نے اپنے عہد کے غالب باطل نظریات، ظالمانہ نظاموں اور گمراہ کن افکار کا مقابلہ کیا اور انسانیت کو وحیِ الٰہی، عدل، اخلاق اور توحید پر مبنی زندگی کی دعوت دی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت محض چند مذہبی رسوم کی اصلاح کا نام نہیں تھی بلکہ وہ ہر دور میں حق پر مبنی ایک ہمہ گیر فکری، اخلاقی اور اجتماعی انقلاب کی داعی تھی۔

یہی اصول بعد کی تاریخ میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ یونان کے عظیم فلسفی سقراط نے سچائی، اخلاق اور عقل کی آزادی کا پرچم بلند کیا۔ اس کے مخالفین کے پاس ریاستی قوت، عدالتی اختیار اور عوامی تائید موجود تھی، مگر سقراط نے حق سمجھنے والی بات سے دستبردار ہونا قبول نہ کیا۔ اسے زہر کا پیالہ پینا پڑا، لیکن اس کی فکر باقی رہی، جب کہ اس کے مخالفین اقتدار رکھنے کے باوجود تاریخ میں ظلم کی علامت بن گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نظریات کی کامیابی کا معیار فوری سیاسی فتح نہیں بلکہ ان کی اخلاقی صداقت اور فکری پائیداری ہے۔ اسلام کی دعوت بھی اسی دائمی کشمکش کا تسلسل ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے مکّہ میں ایک ایسے معاشرے کو مخاطب کیا جہاں طاقت، قبیلہ، سرمایہ اور جاہلیت کی روایات غالب تھیں۔ آپؐ نے انسان کو صرف ایک خدا کی بندگی، عدل، مساوات، امانت، انسانی عزّت اور اخلاقی ذمّہ داری کی دعوت دی۔ یہی وجہ تھی کہ مخالفت صرف مذہبی اختلاف تک محدود نہ رہی بلکہ سیاسی، معاشی اور سماجی میدانوں تک پھیل گئی، کیونکہ اسلام محض چند عبادات کا نام نہیں بلکہ انسان اور معاشرے کی مکمل اصلاح کا تصور پیش کرتا ہے۔

اسی تناظر میں رسول اکرمﷺ کی وہ مشہور حدیث غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے جس میں مختلف ادوار کا ذکر کیا گیا ہے: نبوت، پھر خلافتِ راشدہ، اس کے بعد ملوکیت، پھر جبر و استبداد کے ادوار، اور آخر میں دوبارہ نبوی طریقے پر قائم خلافت کا ذکر۔ اس روایت کو مختلف اہلِ علم نے مختلف زاویوں سے سمجھا ہے، تاہم اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ تاریخ کا سفر محض سیاسی طاقت کی گردش نہیں بلکہ اخلاقی و دینی اصولوں کی طرف رجوع کی دعوت بھی ہے۔ یہ حدیث اہلِ ایمان کے اندر مایوسی نہیں بلکہ امید، اصلاح اور تجدید کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

آج جب مسلم دنیا فکری انتشار، سیاسی بحران، معاشی انحصار اور تہذیبی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ نظریاتی سیاست کو محض اقتدار کی کشمکش نہ سمجھا جائے بلکہ اسے عدل، دیانت، انسانی وقار، قانون کی بالادستی، اجتماعی خیر، شوریٰ، جواب دہی اور اخلاقی قیادت کے اصولوں سے وابستہ کیا جائے۔ اگر نظریاتی سیاست کا مطلب صرف جذباتی نعروں یا گروہی عصبیت تک محدود ہوجائے تو وہ اپنی اصل روح کھو دیتی ہے، لیکن اگر وہ انسان کی اصلاح، معاشرے کی تعمیر اور اخلاقی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنے تو وہ تاریخ میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے کی قوت رکھتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عصرِ حاضر میں نظریات کی جنگ صرف میدانِ سیاست میں نہیں بلکہ جامعات، ذرائع ابلاغ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، معیشت، ثقافت، تعلیم اور اجتماعی شعور کے میدان میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ جو قومیں علمی تحقیق، فکری تخلیق، اخلاقی کردار اور مؤثر ابلاغ میں آگے ہوں گی، مستقبل انہی کا ہوگا۔ اس لیے مسلمانوں کی ذمّہ داری صرف اپنے نظریے کا دفاع کرنا نہیں بلکہ اس کی علمی، اخلاقی اور عملی تعبیر دنیا کے سامنے پیش کرنا بھی ہے۔

اسلامی نظریاتی سیاست کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مقصد اور ذریعہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔ جس طرح مقصد کا پاکیزہ اور عادلانہ ہونا ضروری ہے، اسی طرح اس مقصد کے حصول کے لیے اختیار کیے جانے والے ذرائع بھی اخلاق، دیانت اور انصاف کے اعلیٰ اصولوں کے مطابق ہونے چاہییں۔ اسلام اس تصور کو قبول نہیں کرتا کہ کسی نیک مقصد کے لیے ظلم، جھوٹ، بدعنوانی، نفرت، وعدہ خلافی یا انسانی حقوق کی پامالی کو جائز قرار دیا جائے۔ قرآنِ مجید اہلِ ایمان کو ہر حال میں عدل، احسان، امانت، صداقت اور تقویٰ کی پابندی کا حکم دیتا ہے اور یہاں تک ہدایت کرتا ہے کہ کسی قوم یا گروہ کی دشمنی بھی انسان کو انصاف سے منحرف نہ کرے۔ اس اعتبار سے اسلامی نظریاتی سیاست محض اقتدار کے حصول کا نام نہیں بلکہ اخلاقی اقدار کی پاسداری، انسانی وقار کے احترام اور عدلِ اجتماعی کے قیام کی ایک مسلسل جدوجہد ہے، جس میں کردار کی پاکیزگی اور ذرائع کی شفافیت کو کامیابی کی بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔

تاریخ کے ہر دور میں حق کو آزمائشوں سے گزرنا پڑا ہے، مگر آزمائش کبھی اس کی شکست کی علامت نہیں بنی۔ باطل بسا اوقات اپنی طاقت کے نشے میں ناقابلِ شکست دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی بنیاد چونکہ انصاف اور اخلاق پر نہیں ہوتی، اس لیے وہ بالآخر کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کے برعکس حق کی طاقت اس کے اخلاقی جوہر، فطری ہم آہنگی اور انسانیت کے لیے اس کے خیرخواہ پیغام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

چنانچہ آج بھی اصل سوال یہ نہیں کہ نظریاتی سیاست کا دور باقی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کون سا نظریہ انسان کو عدل، امن، آزادی، اخلاق، انسانی عزّت اور خدا کی بندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ تاریخ کی گواہی یہی ہے کہ نظریات کبھی مرتے نہیں؛ وہ یا تو معاشروں کو زندہ کرتے ہیں یا انہیں زوال کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ اس لیے جو قومیں اپنے نظریے کو علم، کردار، حکمت، عدل اور خدمتِ انسانیت کے ساتھ زندہ رکھتی ہیں، وہی تاریخ کے دھارے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مستقبل بھی انہی قوموں کا ہوتا ہے جو اپنے نظریات کو محض نعروں میں نہیں بلکہ کردار، تحقیق، اخلاق اور عملی زندگی میں ڈھال دیتی ہیں۔

مستقبل میں اسلامی دعوت کا دائرہ صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کی اصل وسعت علم، تعلیم، جامعات، تحقیق، مصنوعی ذہانت، ذرائع ابلاغ، معیشت، ماحولیات، خاندانی نظام، بین المذاہب مکالمے، انسانی حقوق اور عالمی امن جیسے اہم شعبوں تک پھیلے گی۔ آج دنیا جن نئے فکری، اخلاقی اور تہذیبی سوالات سے دوچار ہے، ان کا محض جذباتی ردِّعمل نہیں بلکہ قرآن و سنّت کی روشنی میں گہرا، متوازن اور قابلِ عمل جواب پیش کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ایسے اہلِ علم، محققین، مفکرین اور داعیانِ حق درکار ہوں گے جو اسلامی تعلیمات کی روح سے گہری واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے تقاضوں اور جدید علوم سے بھی آگاہ ہوں۔ آنے والے زمانے میں فکری قیادت کا فیصلہ عسکری قوت یا سیاسی غلبے سے زیادہ علم، تحقیق، اخلاقی اعتبار اور مؤثر ابلاغ کی بنیاد پر ہوگا۔ اس لیے اگر اُمّت اپنے دعوتی کردار کو مؤثر بنانا چاہتی ہے تو اسے علم و حکمت، تحقیق و اجتہاد، اخلاقِ حسنہ اور خدمتِ انسانیت کو اپنی جدوجہد کا بنیادی سرمایہ بنانا ہوگا۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے