انٹرنیٹ بند نہیں، محفوظ ہونا چاہیے.
بچوں کے حقوق پر سپریم کورٹ کا دوٹوک پیغام
از: عبدالحلیم منصور
انٹرنیٹ اب محض تفریح یا رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ تعلیم، معلومات، روزگار اور اظہارِ خیال تک رسائی کا بنیادی وسیلہ بن چکا ہے۔ ایسے میں کسی فرد کو انٹرنیٹ سے محروم کرنے کا مطلب اس کے لیے علم، مواقع اور سماجی شرکت کے دروازے محدود کرنا بھی ہے۔ لیکن ڈیجیٹل دنیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے ساتھ بچوں کے جنسی استحصال، سائبر بلیک میلنگ، نجی معلومات کے غلط استعمال اور نقصان دہ مواد کی تشہیر جیسے خطرات بھی سنگین ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے انٹرنیٹ پر پابندی لگائی جائے یا اسے محفوظ بنانے کی ذمہ داری ان اداروں پر عائد کی جائے جو اس ڈیجیٹل دنیا کو چلاتے ہیں؟ سپریم کورٹ آف انڈیا نے جسٹ رائٹس فار چلڈرن الائنس بنام ایس ہریش کے مقدمے میں اسی بنیادی سوال پر اہم آئینی موقف اختیار کیا۔ تاہم اس فیصلے کی افادیت کا حقیقی تعین صرف اس کی حمایت یا مخالفت سے نہیں، بلکہ اس کے اصولوں، عملی دشواریوں اور ضروری اصلاحات کا سنجیدہ جائزہ لینے سے ہوگا۔
عدالت نے 15 اکتوبر 2026 کے فیصلے میں انٹرنیٹ تک رسائی اور اس کے استعمال کے حق کو آئین کے آرٹیکل 21 اور آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت بنیادی حقوق سے مربوط قرار دیا۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے نام پر ان کے حقوق سلب نہیں کیے جاسکتے۔ مقدمے کا تعلق بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق مواد (CSEAM) کی آن لائن گردش اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی قانونی ذمہ داریوں سے بھی تھا۔ عدالت نے ان پلیٹ فارمز کی جانب سے قانونی تقاضوں پر عمل درآمد میں خامیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مواد کی روک تھام، شکایات کے ازالے اور مؤثر حفاظتی انتظامات کی ضرورت اجاگر کی۔ اس فیصلے کا بنیادی پیغام واضح ہے: بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے بے دخل کرنے کے بجائے ڈیجیٹل دنیا کو ان کے لیے محفوظ بنایا جائے۔
اس موقف کی آئینی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ 2015 میں سپریم کورٹ نے شریا سنگھل بنام یونین آف انڈیا مقدمے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66A کو غیر آئینی قرار دیا، کیونکہ اس کی مبہم دفعات اظہارِ خیال کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے استعمال ہوسکتی تھیں۔ 2017 کے جسٹس کے ایس پٹاسوامی فیصلے نے رازداری کو بنیادی حق تسلیم کیا، جبکہ 2020 کے انوُرادھا بھسین بنام یونین آف انڈیا فیصلے میں انٹرنیٹ کے ذریعے اظہارِ خیال اور تجارت کی آزادی کو آئینی تحفظ کے دائرے میں تسلیم کیا گیا۔ یہ تاریخی پیش رفت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ آئین کی تشریح بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ہوتی ہے۔ تاہم ان فیصلوں کو ایک دوسرے کے عین مساوی قرار دینا درست نہیں؛ ہر مقدمے کے حقائق اور عدالتی حکم کا دائرہ الگ ہے۔ تازہ فیصلے کی اہمیت بچوں کے حقوق اور انٹرنیٹ تک رسائی کے تعلق کو واضح کرنے میں ہے۔
اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا بچوں کو انٹرنیٹ تک رسائی کا حق دینے کا مطلب انہیں ہر قسم کے آن لائن مواد اور سرگرمی کی اجازت دینا ہے؟ یقیناً نہیں۔ بنیادی حقوق کا تحفظ بچوں کو ہر خطرے کے حوالے کردینے کا نام نہیں۔ بچوں کی عمر، ذہنی پختگی اور مخصوص ضروریات کو نظر انداز کرکے انہیں بالغوں جیسی ڈیجیٹل آزادی دینا بھی غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔والدین کی مناسب نگرانی، عمر کے مطابق مواد کی درجہ بندی، نامعلوم بالغ افراد کے پیغامات پر پابندی، نقصان دہ مواد کی روک تھام اور بچوں کے لیے محفوظ اکاؤنٹس جائز حفاظتی اقدامات ہوسکتے ہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب محدود اور متناسب اقدامات کے بجائے تمام بچوں پر یکساں پابندی عائد کردی جائے۔ لہٰذا حکومت کو عمر کے مطابق حفاظتی ضابطے وضع کرنے چاہئیں، لیکن ان کا نفاذ شفاف، قابلِ نظرثانی اور بچوں کے حقوق سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
مکمل پابندیوں کے مخالفین کا استدلال ہے کہ بچے پابندی کے باوجود متبادل اکاؤنٹس، دوسرے آلات یا غیر منظم پلیٹ فارمز کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرسکتے ہیں، جس سے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ یہ خدشہ قابلِ غور ہے، لیکن اس کے برعکس یہ دلیل بھی اہم ہے کہ والدین کی نگرانی اور عمر کے مطابق پابندیاں بعض بچوں کو نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ہر بچہ یکساں حالات میں نہیں رہتا؛ کسی بچے کے لیے نگرانی مددگار ہوسکتی ہے، جبکہ کسی دوسرے کے لیے یہی نگرانی تعلیم یا ضروری معلومات تک رسائی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔اسی لیے نہ مکمل پابندی کو ہر مسئلے کا حل قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ غیر محدود رسائی کو بچوں کے تحفظ کی ضمانت۔ حکومت کو شواہد پر مبنی پالیسی اپنانی چاہیے، جس میں مختلف عمر کے بچوں، والدین، اساتذہ اور ماہرین کی رائے شامل ہو اور اقدامات کی افادیت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔
فیصلے کا ایک اہم پہلو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جواب دہی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز صارفین کی دلچسپیوں کے مطابق مواد تجویز کرنے، اشتہارات دکھانے اور صارفین کے رویوں کا تجزیہ کرنے کے لیے جدید الگورتھم استعمال کرتے ہیں۔ایسے میں یہ سوال جائز ہے کہ جب کمپنیاں منافع کے لیے صارفین کی سرگرمیوں کا باریک بینی سے تجزیہ کرسکتی ہیں تو بچوں کے استحصال سے متعلق مواد کی شناخت اور روک تھام کے لیے مؤثر نظام کیوں نہیں بناسکتیں؟ اگر شکایات کے باوجود غیر قانونی مواد دوبارہ سامنے آتا ہے تو کمپنیوں کو صرف مواد حذف کرنے کا اعلان کرنے کے بجائے اپنی ناکامی کی وضاحت بھی کرنی چاہیے۔ تاہم ہر پلیٹ فارم کو ہر خلاف ورزی کا خودکار طور پر ذمہ دار قرار دینا بھی مناسب نہیں؛ ذمہ داری کا تعین اس کے قانونی فرائض، معلومات، عملی صلاحیت اور خلاف ورزی کے حالات کے مطابق ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی شناخت کے لیے نیشنل ہیش اینڈ یو آر ایل لسٹ ڈیٹابیس جیسے نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ ہیش میچنگ اور یو آر ایل کی شناخت کے ذریعے پہلے سے معلوم غیر قانونی مواد کو مختلف پلیٹ فارمز پر دوبارہ پھیلنے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن اس نظام کے ساتھ چند لازمی شرائط بھی ہونی چاہئیں۔ ہر مشتبہ مواد کو انسانی تصدیق کے بغیر حتمی طور پر غیر قانونی قرار نہ دیا جائے، غلط اندراجات کی اصلاح کے لیے تیز رفتار طریقۂ کار موجود ہو اور ڈیٹابیس تک رسائی سخت ضابطوں کے تابع ہو۔ حکومت کو آزادانہ تکنیکی آڈٹ، شفاف نگرانی اور غلطی کے ازالے کا نظام قائم کرنا چاہیے۔ بچوں کے تحفظ کے نام پر ایسا نظام نہیں بننا چاہیے جو جائز مواد کو بلاجواز حذف کرے یا شہریوں کی سرگرمیوں کی غیر ضروری نگرانی کا ذریعہ بن جائے۔
اسی طرح انٹرنیٹ کمپنیوں کی قانونی ذمہ داریوں کے نفاذ میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 79 مخصوص شرائط کے تحت ڈیجیٹل ثالثی پلیٹ فارمز کو سیف ہاربر تحفظ فراہم کرتی ہے، لیکن یہ تحفظ غیر مشروط نہیں۔ قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے نتائج متعلقہ قانون اور حالات کے مطابق طے کیے جاتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ پلیٹ فارمز کے لیے شکایات پر کارروائی، غیر قانونی مواد کی روک تھام، متعلقہ حکام کو اطلاع دینے اور متاثرین کی مدد سے متعلق واضح معیارات مقرر کرے۔ خلاف ورزی پر جرمانے اس کی سنگینی اور تکرار کے مطابق ہوں، جبکہ بچوں کے استحصال سے حاصل ہونے والی آمدنی کی ضبطی کے لیے بھی قانونی طریقۂ کار وضع کیا جائے۔ محض سخت سزاؤں کا اعلان کافی نہیں؛ شفاف تحقیقات، قابلِ اعتماد شواہد اور منصفانہ قانونی کارروائی بھی ضروری ہیں۔
بچوں کی حفاظت کے لیے ایک اور لازمی اقدام ڈیجیٹل تعلیم ہے۔ اسکولوں میں عمر کے مطابق ڈیجیٹل خواندگی، آن لائن رازداری، سائبر بلیک میلنگ، جعلی شناخت اور مشتبہ رابطوں سے نمٹنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ والدین اور اساتذہ کو بھی یہ سکھایا جائے کہ بچے کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور اس کی رازداری کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ شکایت کرنے والے بچے کو شرمندہ کرنے یا سزا دینے کے بجائے اس کی حفاظت، نفسیاتی معاونت اور قانونی مدد کو ترجیح دی جائے۔ حکومت کو سائبر جرائم کی شکایات کے لیے آسان، مقامی زبانوں میں دستیاب اور بچوں کے لیے موزوں نظام فراہم کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ متاثرہ بچوں کی شناخت اور نجی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت ضابطے بھی ضروری ہیں۔
عمر کی تصدیق کے نظام پر بھی سنجیدہ توجہ درکار ہے۔ اگر ہر پلیٹ فارم صارفین سے شناختی دستاویزات طلب کرے تو ذاتی معلومات کے افشا، چوری اور غلط استعمال کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو ایسے طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو عمر کی تصدیق کے لیے کم سے کم معلومات استعمال کریں، حساس شناختی تفصیلات محفوظ رکھنے کے تقاضے پورے کریں اور غیر ضروری ڈیٹا جمع کرنے سے گریز کریں۔ اس سلسلے میں آزادانہ رازداری آڈٹ، معلومات کے استعمال کی واضح حدود اور خلاف ورزی پر مؤثر کارروائی لازم ہونی چاہیے۔ بچوں کے تحفظ کی پالیسی خود ان کی رازداری کے لیے خطرہ نہیں بننی چاہیے۔
ملک میں ڈیجیٹل عدم مساوات بھی پالیسی سازی کا بنیادی نکتہ ہونا چاہیے۔ دیہی علاقوں، کم آمدنی والے خاندانوں اور خصوصی تعلیمی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے انٹرنیٹ تعلیم اور سرکاری خدمات تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے۔ عمومی پابندیاں ان بچوں کے مواقع مزید محدود کرسکتی ہیں جن کے پاس متبادل سہولتیں پہلے ہی کم ہیں۔ اس لیے کسی بھی پابندی سے پہلے اس کے تعلیمی، سماجی اور معاشی اثرات کا جائزہ لیا جائے۔ حکومت کو کم عمر صارفین کے تحفظ کے ساتھ محفوظ تعلیمی پلیٹ فارمز، شکایات کے مؤثر نظام اور والدین کی تربیت کے لیے بھی وسائل مختص کرنے چاہئیں۔ بچوں کے حقوق کا تحفظ صرف خطرات روکنے تک محدود نہیں، بلکہ ان کی تعلیم اور ترقی کے مواقع محفوظ رکھنے کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
اس فیصلے کا اصل امتحان اس کے عملی نفاذ میں ہے۔ حکومت کو پلیٹ فارمز کے لیے واضح ذمہ داریاں، ڈیٹابیس کی آزادانہ نگرانی، غلط مواد ہٹائے جانے کے خلاف مؤثر اپیل، رازداری کے تحفظ، ڈیجیٹل تعلیم اور متاثرہ بچوں کی معاونت پر مشتمل جامع پالیسی مرتب کرنی چاہیے۔ اس پالیسی میں پارلیمانی نگرانی، ماہرین کی شمولیت اور وقتاً فوقتاً عوامی جائزے کی گنجائش بھی ہونی چاہیے۔ عدالتی ہدایات پر عمل درآمد کی پیش رفت کو واضح معیارات کے ذریعے جانچا جائے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ غیر قانونی مواد کی روک تھام، شکایات کے ازالے اور بچوں کے تحفظ میں حقیقی بہتری آئی ہے یا نہیں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ مکمل پابندیوں کی غیر مشروط نفی ہے اور نہ انٹرنیٹ کے ہر استعمال کی توثیق۔ اس کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ بچوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے درمیان معقول توازن قائم کیا جائے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے محروم کرنے کے بجائے اسے محفوظ بنائے؛ کمپنیوں کو قانونی جواب دہی کا پابند کرے؛ والدین اور تعلیمی اداروں کو تربیت فراہم کرے؛ اور شہریوں کی رازداری و آزادی کا تحفظ یقینی بنائے۔ بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے پابندیاں بعض حالات میں ضروری ہوسکتی ہیں، لیکن وہ متناسب، شواہد پر مبنی اور قابلِ نظرثانی ہونی چاہئیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ڈیجیٹل آزادی کو بے احتیاطی بننے سے روکتا ہے اور تحفظ کو غیر ضروری پابندی میں تبدیل ہونے نہیں دیتا۔
haleemmansoor@gmail.com