_ ہر شہر میں جنتر منتر _
جمہوری صداؤں کو پابندِ سلاسل کرنا ممکن نہیں!
✍️ افتخاراحمدقادری
جمہوریت کی اصل قوت اس اعتماد میں مضمر ہوتی ہے جو عوام اپنے حقِ رائے دہی، انتخابی نظام اور دستوری مقتدرہ پر رکھتے ہیں۔ جب یہی اعتماد متزلزل ہونے لگے، ووٹر اپنے حقِ انتخاب کے تحفظ کے لیے مضطرب دکھائی دے، انتخابی فہرستوں کی صحت و شفافیت کے بارے میں سوالات اٹھنے لگیں اور جب ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے احتجاجی آوازوں کو محدود کرنے کی کوششیں کی جائیں تو معاملہ جمہوری نظام کی اساس، دستوری اداروں کی غیر جانب داری اور شہری آزادیوں کی معنویت کا امتحان بن جاتا ہے۔ دہلی کے جنتر منتر سے اٹھنے والی احتجاجی صدا کا مختلف شہروں تک پھیلنے کا اعلان اسی وسیع تر تناظر میں قابلِ توجہ ہے، جہاں سوال صرف ایک احتجاج کے انعقاد کا نہیں، بلکہ اس حق کا ہے جس کے ذریعے شہری اپنے منتخب نظام اور اس کی نگرانی کرنے والے اداروں سے جواب طلب کرتے ہیں۔
دسہرہ کی تعطیلات کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور خصوصی گہری نظر ثانی، یعنی ایس آئی آر، کے خلاف احتجاجی سرگرمیوں کی ازسرِنو ابتدا نے سیاسی و سماجی حلقوں میں ایک مرتبہ پھر ہلچل پیدا کر دی ہے۔ طلبہ تنظیموں، شہری حقوق کے کارکنوں، سماجی جہد کاروں اور مختلف عوامی حلقوں کی شرکت سے اس احتجاج کو ایک وسیع تر شہری تحریک کی صورت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں کئی معروف شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ طلبہ رہنماؤں، سماجی کارکنوں، وکلا، ماہرینِ معیشت اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد کی ممکنہ شرکت اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ انتخابی شفافیت سے متعلق سوالات اب محض جماعتی سیاست کے محدود دائرے میں مقید نہیں رہے، بلکہ شہری آزادیوں اور جمہوری جواب دہی کے وسیع تر مباحث سے مربوط ہو چکے ہیں۔ دہلی کا جنتر منتر طویل عرصے سے عوامی احتجاج، سیاسی اختلاف اور شہری مطالبات کے اظہار کی ایک نمایاں علامت رہا ہے۔ مختلف ادوار میں یہاں سے اٹھنے والی آوازوں نے قومی سیاست کو متاثر کیا، عوامی مسائل کو ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنایا اور اقتدار کے ایوانوں تک شہری اضطراب پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ تاہم، اگر کسی احتجاجی مقام کی انتظامی حیثیت یا وہاں مظاہروں کی اجازت سے متعلق ضوابط میں تبدیلی کے نتیجے میں عوامی اجتماع کی گنجائش محدود ہو جائے تو اس کا اثر محض جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہتا، بلکہ شہریوں کے اظہارِ رائے کے عملی امکانات پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب احتجاج کو دہلی کے کسی ایک مقام تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف شہروں میں بیک وقت یا الگ الگ مقامات پر منعقد کرنے کا تصور پیش کیا جا رہا ہے۔ ’’ہر جگہ جنتر منتر‘‘ کا نعرہ اسی حکمتِ عملی کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس نعرے میں ایک سیاسی پیغام بھی پوشیدہ ہے اور ایک علامتی وسعت بھی۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ احتجاج کی معنویت کسی مخصوص میدان، سڑک یا چوراہے کی مرہونِ منت نہیں ہوتی؛ اس کی اصل قوت عوامی شعور، اجتماعی شرکت اور مطالبات کی معقولیت میں ہوتی ہے۔ اگر کسی ایک مقام پر اجتماع کی راہیں مسدود ہو جائیں تو شہری اپنے اپنے شہروں میں دستوری حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ تاہم اس تصور کی کامیابی کا انحصار محض احتجاجی مقامات کی کثرت پر نہیں بلکہ مطالبات کی وضاحت، طرزِ احتجاج کی سنجیدگی اور عوامی اعتماد کی استواری پر بھی ہے۔ کسی تحریک کو دیرپا معنویت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر اپنے اعتراضات کو شواہد، دستوری اصولوں اور قابلِ فہم دلائل کی بنیاد پر پیش کرے۔ احتجاج کی وسعت اگر فکری استحکام سے محروم ہو تو اس کی گونج وقتی ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر اس کے مطالبات واضح، اس کا طرزِ عمل پُرامن اور اس کی جدوجہد جواب دہی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو تو وہ قومی مکالمے میں بامعنی کردار ادا کر سکتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اٹھنے والے اعتراضات بھی اسی نوعیت کے سنجیدہ جائزے کے متقاضی ہیں۔ احتجاجی حلقوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں غیر جانب داری کے تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھا گیا اور بعض معاملات میں دوسرے الیکشن کمشنروں کی آرا کو نظر انداز کرتے ہوئے یک طرفہ طرزِ فیصلہ اختیار کیا گیا۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ بعض اقدامات سے حکمراں جماعت کو سیاسی فائدہ پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہوا ہے۔ یہ الزامات یقیناً سنگین ہیں، لیکن ان کی سنگینی کا تقاضا یہی ہے کہ انہیں محض سیاسی بیان بازی کے حوالے نہ کیا جائے، بلکہ متعلقہ حقائق، دستاویزی شواہد اور کمیشن کے ضابطہ جاتی طریقۂ کار کی روشنی میں جانچا جائے۔
کسی دستوری عہدے دار کے خلاف الزام عائد ہونا اور الزام کا ثابت ہو جانا دو الگ حقیقتیں ہیں۔ جمہوری معاشرے میں نہ تو کسی الزام کو محض اس لیے ناقابلِ توجہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ اقتدار کے کسی اہم منصب دار کے خلاف ہے، اور نہ ہی کسی شخص کو صرف سیاسی مخالفت کی بنیاد پر قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ انصاف، شفافیت اور جواب دہی کا تقاضا ہے کہ الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیق ہو، متعلقہ فریق اپنا موقف پیش کریں اور عوام کو ان سوالات کے مدلل جوابات میسر آئیں جنہوں نے ان کے اعتماد کو متزلزل کیا ہے۔ یہی طرزِ عمل کسی ادارے کی حقیقی قوت اور اس کی دستوری ساکھ کو مستحکم کرتا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی حیثیت ایک ایسے دستوری ادارے کی ہے جس پر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہندوستانی جمہوریت میں انتخابی عمل عوام کو اقتدار کی تشکیل اور تبدیلی کا اختیار فراہم کرتا ہے۔ اس اختیار کی عملی ضمانت اسی وقت ممکن ہے جب ہر اہل شہری کو بلاامتیاز اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کا موقع حاصل ہو، انتخابی فہرستیں درست ہوں، اعتراضات کی سماعت کا مؤثر نظام موجود ہو اور انتخابی انتظامیہ کے فیصلوں پر عوام کو معقول اعتماد ہو۔ دستوری اداروں کی غیر جانب داری صرف ضابطوں اور سرکاری اعلانات سے ثابت نہیں ہوتی؛ اس کا اظہار ان کے طرزِ عمل، فیصلوں کی شفافیت اور تنقید کے مقابلے میں ان کے رویے سے بھی ہوتا ہے۔ اگر کسی ادارے کے فیصلوں کے بارے میں وسیع پیمانے پر سوالات پیدا ہوں تو انہیں محض سیاسی مخالفت قرار دے کر مسترد کرنا دانش مندی نہیں۔ ادارہ جاتی وقار کا تقاضا یہ ہے کہ اعتراضات کا جواب دلیل سے دیا جائے، ابہامات کو دور کیا جائے اور ایسے شواہد سامنے لائے جائیں جن سے عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ خاموشی بذاتِ خود کسی الزام کو ثابت نہیں کرتی لیکن مسلسل عدمِ وضاحت شکوک و شبہات کے پھیلاؤ کا سبب ضرور بن سکتی ہے۔ خصوصی گہری نظرثانی، یعنی ایس آئی آر، کا معاملہ بھی اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ انتخابی فہرستوں کی تطہیر اور ان کی صحت کو یقینی بنانا انتخابی نظام کی ایک ضروری ضرورت ہے۔ مردہ افراد کے ناموں کی درستی، نقل شدہ اندراجات کی نشان دہی، مستقل طور پر منتقل ہو جانے والے ووٹروں کے ریکارڈ کی اصلاح اور غیر قانونی اندراجات کی جانچ جیسے اقدامات انتخابی عمل کی شفافیت میں معاون ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان اقدامات کی افادیت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ان کا نفاذ منصفانہ، قابلِ فہم اور ہر اہل ووٹر کے حقوق کا محافظ ہو۔ اگر انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دوران کسی حقیقی اہل ووٹر کا نام غلطی سے خارج ہو جائے، کسی شہری کو اپنی شہریت یا رہائش سے متعلق مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے میں دشواری پیش آئے، یا اعتراضات کے ازالے کا نظام اس قدر پیچیدہ ہو کہ عام آدمی اپنے حق کے تحفظ سے قاصر رہ جائے تو یہ محض دفتری غلطی نہیں رہتی، بلکہ جمہوری شرکت کے بنیادی اصول سے متعلق مسئلہ بن جاتی ہے۔ انتخابی فہرست میں نام کا اندراج ووٹ ڈالنے کی بنیادی شرط ہے؛ لہٰذا اس معاملے میں معمولی غفلت بھی کسی شہری کو اپنے دستوری حق سے محروم کر سکتی ہے۔ احتجاجی حلقوں کی جانب سے ملک بھر میں تقریباً تیرہ کروڑ ناموں کے انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ اس عدد کی حقیقت، اس کا زمانی و جغرافیائی دائرہ، خارج کیے گئے ناموں کی وجوہ اور ان میں اہل ووٹروں کی تعداد جیسے پہلوؤں کی تصدیق ضروری ہے۔ مختلف مراحل میں نظرثانی، عارضی فہرستوں اور حتمی اندراجات کے اعداد و شمار کو ایک دوسرے سے الگ رکھے بغیر کسی مجموعی عدد سے قطعی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ متعلقہ ادارہ واضح کرے کہ کتنے نام کن وجوہ کی بنا پر خارج ہوئے، کتنے معاملات میں شہریوں نے اعتراضات داخل کیے، کتنے نام دوبارہ شامل کیے گئے اور اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا عملی انتظامات کیے گئے۔ اعداد و شمار کی صحت پر اصرار کسی احتجاجی تحریک کو کمزور نہیں کرتا، بلکہ اس کے مطالبات کو زیادہ معتبر بناتا ہے۔ اگر واقعی بڑے پیمانے پر اہل ووٹر متاثر ہوئے ہیں تو اس کی مکمل تفصیلات سامنے آنا ضروری ہے اور اگر بعض اعداد و شمار نامکمل یا گمراہ کن ہیں تو ان کی تصحیح بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ جمہوریت میں نہ دعووں کو تحقیق سے بالاتر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ تحقیق کے مطالبے کو سوالات دبانے کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ شفافیت دونوں صورتوں میں بنیادی شرط ہے۔
اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہندوستان جیسے کثیرالمذاہب، کثیراللسانی اور وسیع جغرافیائی تنوع رکھنے والے ملک میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دوران معاشرتی و معاشی ناہمواریوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہری، نقل مکانی کرنے والے مزدور، ناخواندہ افراد، عمر رسیدہ ووٹر اور وہ خاندان جن کے پاس ضروری دستاویزات تک آسان رسائی نہیں، ایسے انتظامی مراحل سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی نظرثانی کے عمل میں سہولت، قانونی معاونت، مناسب مہلت اور اپیل کے مؤثر مواقع فراہم کیے جائیں۔ انتخابی نظام کی تطہیر کا مقصد اہل شہریوں کی شرکت کو آسان بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ انتظامی پیچیدگیوں کے باعث ان کے حقوق کو خطرے میں ڈالنا۔ جنتر منتر کے احتجاج کو ملک گیر سطح پر وسعت دینے کی کوشش اسی لیے قابلِ توجہ ہے کہ یہ مسئلے کو صرف دہلی کی سیاست تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف علاقوں کے شہری تجربات سے مربوط کر سکتی ہے۔ اگر کسی ریاست یا ضلع میں انتخابی فہرستوں کے بارے میں شکایات ہیں تو ان کی نوعیت دوسری ریاستوں سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ مقامی سطح پر حقائق جمع کرنا، متاثرہ شہریوں کی شہادتیں محفوظ کرنا، متعلقہ دستاویزات مرتب کرنا اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے شکایات پیش کرنا اس تحریک کو محض احتجاجی مظاہروں کے بجائے ایک منظم عوامی مہم میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں طلبہ تنظیموں، وکلا، سماجی کارکنوں اور شہری آزادیوں کے لیے سرگرم افراد کا کردار اہم ہے۔ طلبہ نوجوان معاشرے کی فکری توانائی اور سوال کرنے کی صلاحیت کی علامت ہوتے ہیں۔ وکلا دستوری دفعات اور قانونی حقوق کی وضاحت کر سکتے ہیں، جب کہ سماجی کارکن ان طبقات تک پہنچ سکتے ہیں جن کی آواز انتظامی پیچیدگیوں میں دب کر رہ جاتی ہے۔ ماہرینِ معیشت اور اعداد و شمار کے تجزیہ کار انتخابی فہرستوں سے متعلق دعووں کی تحقیق میں معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ فنونِ لطیفہ سے وابستہ معروف شخصیات کی شرکت بھی عوامی توجہ مبذول کرانے کا ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ احتجاج کی بنیادی ترجیح مسئلے کی حقیقت، عوامی مفاد اور دستوری جواب دہی ہی رہے۔ دوسری جانب حکومت اور پولیس کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ اپنے طرزِ عمل سے شہری آزادیوں کے احترام کا ثبوت دیں۔ امن و امان کی حفاظت، ٹریفک کی روانی اور عوامی مقامات کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے لیکن ان ذمہ داریوں کی ادائیگی اور پُرامن احتجاج کے حق کے تحفظ میں توازن قائم کرنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر کسی مقام پر احتجاج کے انعقاد کے لیے قانونی پابندیاں یا انتظامی شرائط عائد کی جاتی ہیں تو ان کی معقولیت، ضرورت اور یکساں اطلاق واضح ہونا چاہیے۔ محض اس اندیشے کی بنیاد پر کہ احتجاج حکومت کے لیے سیاسی طور پر ناخوش گوار ثابت ہو سکتا ہے، شہریوں کے اظہارِ رائے کو محدود کرنا جمہوری روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔ احتجاج کرنے والے افراد اپنے طرزِ عمل میں نظم، تحمل اور قانونی حدود کی پابندی کو مقدم رکھیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی جان ہے، لیکن اس کا اظہار ایسا ہونا چاہیے جو عام شہریوں کی زندگی، املاک اور امنِ عامہ کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا نہ کرے۔ پُرامن مظاہرے، مدلل تقاریر، مستند دستاویزات، قانونی درخواستیں اور ذمہ دارانہ ابلاغ کسی بھی شہری تحریک کو اخلاقی قوت عطا کرتے ہیں۔ اشتعال انگیزی، غیر مصدقہ اطلاعات اور شخصی تضحیک سے اجتناب اس لیے بھی ضروری ہے کہ اصل مسئلہ سیاسی شور و غوغا میں گم نہ ہو جائے۔ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی احتجاج کی آواز کو انتظامی تدابیر سے محدود کر دینا لازماً اس کے اسباب کو ختم نہیں کرتا۔ اگر عوامی اضطراب کے بنیادی محرکات برقرار رہیں تو سوالات دوسرے مقامات، نئے ذرائع اور مختلف سماجی حلقوں سے دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ اعتراضات کو سنجیدگی سے سنا جائے، متعلقہ اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے جائیں، انتخابی کمیشن اپنے فیصلوں کی معقول وضاحت کرے اور جہاں انتظامی غلطیاں ثابت ہوں وہاں ان کی اصلاح میں غیر ضروری تاخیر نہ کی جائے۔ اسی طرح احتجاجی قیادت کو بھی اپنے مطالبات کے حصول کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل لائحۂ عمل پیش کرنا ہوگا۔ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ اپنی جگہ ایک سیاسی مطالبہ ہے، لیکن اس کے ساتھ انتخابی فہرستوں کی شفافیت، شکایات کے ازالے، اہل ووٹروں کے ناموں کی بحالی اور انتخابی اداروں کی جواب دہی سے متعلق ٹھوس تجاویز پیش کرنا زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر مقصد جمہوری نظام پر عوامی اعتماد کی بحالی ہے تو جدوجہد کا مرکز ایسے اقدامات ہونے چاہییں جن کے نتائج کی پیمائش کی جا سکے اور جن سے شہریوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔ ’’ہر جگہ جنتر منتر‘‘ کا نعرہ اسی وقت حقیقی معنویت حاصل کرے گا جب وہ کسی ایک شخصیت کے خلاف احتجاج سے آگے بڑھ کر انتخابی انصاف کے ایک وسیع تر مطالبے کی ترجمانی کرے گا۔ اس مطالبے میں حکومت سے سوال کرنا بھی شامل ہے، الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرنا بھی، انتظامی فیصلوں کی قانونی جانچ بھی اور احتجاجی قیادت سے اپنے دعووں کی صحت ثابت کرنے کا مطالبہ بھی۔ جمہوریت کسی ایک فریق کی غیر مشروط اطاعت کا نام نہیں؛ یہ مختلف فریقوں کے درمیان جواب دہی، اختلاف، تحقیق اور اصلاح کے مسلسل عمل سے مستحکم ہوتی ہے۔ جنتر منتر اگر ایک مقام سے بڑھ کر ایک علامت بن رہا ہے تو اس علامت کا اصل پیغام یہی ہونا چاہیے کہ شہری حقوق کسی ایک میدان کی حدود میں محصور نہیں، انتخابی شفافیت کسی جماعت کی جاگیر نہیں اور دستوری اداروں کا وقار سوالات سے فرار اختیار کرنے میں نہیں بلکہ ان کا مدلل جواب دینے میں ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ووٹ کی حیثیت، انتخابی فہرستوں کی صحت اور ادارہ جاتی فیصلوں کی غیر جانب داری کے بارے میں سوال کریں؛ اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سوالات کو سنیں، ان کی تحقیق کریں اور شواہد کی بنیاد پر اطمینان بخش جواب فراہم کریں۔ آنے والے دنوں میں یہ احتجاج کتنی وسعت اختیار کرتا ہے، اس میں کتنے شہری شریک ہوتے ہیں اور اس کے مطالبات پر متعلقہ اداروں کا ردِعمل کیا ہوتا ہے، یہ سب وقت کے ساتھ واضح ہوگا۔ تاہم ایک حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ جمہوری اعتماد کی تعمیر محض سرکاری بیانات سے نہیں ہوتی؛ اس کے لیے شفاف فیصلے، قابلِ احتساب طرزِ عمل اور شہری حقوق کے تحفظ کا عملی ثبوت درکار ہوتا ہے۔ اگر عوام کے سوالات کا جواب دلیل سے دیا جائے، انتخابی عمل کے بارے میں شکوک کو حقائق کی روشنی میں دور کیا جائے اور پُرامن اختلاف کو جمہوری نظام کا فطری حصہ سمجھا جائے تو یہی صورتِ حال اداروں کو کمزور کرنے کے بجائے ان کی ساکھ کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر کسی ایک مقام کی خاموشی بھی ان سوالات کو خاموش نہیں کر سکتی جو شہریوں کے ذہنوں میں جنم لے چکے ہوں۔ احتجاج کا میدان تبدیل ہو سکتا ہے، اس کے شرکا کی تعداد گھٹ یا بڑھ سکتی ہے، نعرے بھی وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں؛ لیکن حقِ رائے دہی، انتخابی شفافیت اور دستوری جواب دہی کے بنیادی سوالات اپنی اہمیت برقرار رکھتے ہیں۔ جمہوریت کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ اختلاف کی آواز کو کس حد تک برداشت کرتی ہے اور اپنے اداروں کو عوام کے سامنے کس قدر جواب دہ بناتی ہے۔
iftikharahmadquadri@gmail.com