سربیا کا نریندر مودی ہندوستان کے الیگزینڈر ووچچ کی نیند اڑا کر رخصت ہوا۔ سربیا کے26؍ اکتوبر 2026ء کو جاری ہونے والے انتخابی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق طلبہ تحریک نےحالیہ پارلیمانی انتخابات کے تقریباً 52.54% سے 53.4% تک ووٹ حاصل کیے اور پارلیمنٹ کی کل 250 نشستوں میں سے135 سے 140 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کرلی ۔اس کے بعد دارالحکومت بلغراد سمیت ملک بھر میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا ۔صدر الیگزینڈر ووچچ کے اتحاد نے تقریباً 39.39% سے 39.7% ووٹ حاصل کیے اور وہ104 نشستیں حاصل کرکے اقتدار سے بے دخل ہوگئی۔ یہ اقتدار نہایت پر امن تبدیلی نےسربیا جیسے ایک نہایت چھوٹے سے ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کردیا۔ اس ماہ کی ابتداء میں جب وزیر اعظم مودی اپنے اقتدار کی سلور جوبلی منارہے تھے تو ہندوستانی وزارتِ خارجہ نے اپنا رسوخ استعمال کرکے سربیا کے سابق صدر الیگزینڈر ووچچ سےبھی تہنیتی پیغام منگوایا تھا ۔ اس میں انہوں نے لکھا تھا ’’ اعلیٰ ترین سطح پر عوامی خدمت کے 25 سال مکمل کرنے پرمبارکباد۔ بہت کم لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کی ایک چوتھائی صدی پہلے گجرات کے وزیر اعلیٰ اور پھر بھارت کے وزیر اعظم کے طور پر اپنے ملک کی خدمت کے لیے وقف کی ہے ۔ ویسے انہیں گجرات کا نام معلوم ہونا یہ ایک چمتکار ہے۔
الیکزینڈر نے مزید لکھا تھا کہ :’’ میں جانتا ہوں کہ آپ کو بھارت اور اس کے مستقبل کی کتنی گہری فکر ہے, اور دنیا دیکھ سکتی ہے کہ آپ نے بھارت کو کتنی بلندی پر پہنچایا ہے. میری دعا ہے کہ آپ عظیم بھارتی عوام کی خدمت میں مزید کئی سال اچھی صحت، طاقت اور کامیابی کے ساتھ گزاریں‘‘۔ وہ خود بھی سربیا کی خدمت کرنا چاہتے ہوں نے مگر بدقسمت نکلے جبکہ انہوں نے لکھا تھا:’’ بھارت خوش قسمت ہے کہ آپ اس کے پاس ہیں::۔ وزیر اعظم کے طور پر مودی جی نے جتنے سال عیش کیے اتنے ہی برس الیکزنڈر ووچچ صدر رہے اس لیے اب پی ایم کو بھی اپنا جھولا اٹھاکر کوچ کرنے کی تیاری کرنی چاہیے۔ مذکورہ بالا پیغام کے جواب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچچ کی نیک تمناؤں کے لیے شکریہ ادا کیا تھا ۔ مودی نے کہا تھا کہ وہ ہندوستان اور سربیا کے درمیان شراکت کو مضبوط بنانے میں سربیا کے صدر کے ذاتی تعاون کی تہہ دل سے تعریف کرتے ہیں۔ افسوس کے اب مودی جی اس ذاتی تعاون سے محروم ہوگئے۔ مودی سوچ رہے ہوں گے کہ کاش الیکزینڈر کے پاس بھی کوئی گیانیش کمار ہوتا تو انہیں یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔
پی ایم مودی کی لآویز پوسٹ میں درج تھا :’’آپ کے پُرخلوص الفاظ اور دوستانہ جذبات کے لیے تہہ دل سے شکریہ۔میں ہندوستان اور سربیا کے درمیان شراکت کو مضبوط بنانے میں آپ کے ذاتی تعاون کی تہہ دل سے تعریف کرتا ہوں‘‘۔ مودی جی نہیں جانتے تھے کہ بہت جلد وہاں انتخابات کیا نتیجہ نکل سکتا ہے اس لیے انہوں نے یہ تک لکھ مارا تھا کہ ’’آپ کی قیادت میں سربیا میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے۔ آپ نے عزم اور لگن کے ساتھ سربیا کی خدمت کی ہے۔میں ہندوستان اور سربیا کے درمیان شراکت داری کو مزید بلندیوں تک لے جانے کا منتظر ہوں‘‘۔خود ساختہ بلندیوں کےیہ مشترکہ سفر الیکزینڈر کی ہار کے سبب ادھورا رہ گیا۔ سربیا کی عوام نے تواپنے صدر کو گھر بھیج دیا مگر ہندوستان کے لوگ اپنے سربراہ سے چھٹکارہ پانے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔وزیر اعظم مودی کی تعریف نے ’ایکس‘ کے کئی صارفین کو آگ بگولا کردیا ۔ ان میں سے ایک نے لکھا ’’جب وہ(مودی) وزیر اعلیٰ تھاتو اس نے نسل کشی کی سازش کی، اور اب وزیر اعظم کے طور پر وہ اسے مزید بدتر انداز میں انجام دے رہا ہے۔ اس نے الیکزندڑ کو مشورہ دیا کہ خبریں دیکھیں، اقلیتوں پر ظلم، خواتین اور طلبہ کے خلاف بربریت، انتخابی دھاندلی، معاشرے میں تقسیم، بدعنوانی اور بہت کچھ…..وہ(مودی) کسی تعریف کے لائق نہیں ہے‘‘۔
ایک اور صارف نے ڈانٹ لگائی :’’چپ ہو جاؤ. اس (مودی) نے اقتدار میں رہنے کے لیے ، عوام کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے اور اپنے ارب پتی دوستوں کے لیے قانون بدلا، اگر میں غلط ہوں تو میرے دعوے کی حقیقت جانچ لو۔کسی نے سوال کیا ’’عوامی خدمت سے آپ کی کیا مراد ہے؟تعلیم یافتہ شخص عام آدمی کا خون چوس رہا ہے۔ ہم سب بددعائیں دے رہے ہیں، آپ ان کے ساتھ کس قسم کے تعلقات بنا رہے ہیں؟ اس طرح کے بے شمار تبصرے کیے گئے لیکن پھر بھی یہ کہنا پڑے گا الیکزنڈر نے قبل از وقت انتخابات کروانے کے بعد اپنے خلاف آنے والے نتائج کو تسلیم کرکے مودی جی پر اپنی برتری ثابت کردی۔ انہوں نے ٹرمپ کی مانند اپنے انتہاپسند حامیوں سے قصرِ ابیض پر حملہ کروا کران کی حمایت نہیں کی۔انہوں نے سربیا میں منعقد ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں عوام کے ذریعہ تبدیلی کی خواہش کا کھلے دل سے خیر مقدم کیا۔ وہ بولےعوام کی آواز کو سننا ضروری ہے اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی جماعت کو عوام کی حمایت حاصل نہیں رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتخابات سربیا کی تاریخ میں عوام کی رائے کو اہمیت دینے کے حوالے سے ایک نئے باب کا آغاز کر سکتے ہیں۔ راحت اندوری نے کہا تھا ؎
جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے کرائے دار ہیں، مالک مکان تھوڑی ہے
اس حقیقت کا ادراک کرکے الیکزینڈر ووچچ نہایت پروقار انداز میں اپنے عہدے سے کنارہ کش ہوگئے ۔انہوں نے محسوس کرلیا تھاکہ مظاہرین کی حکومت کے خلاف نعرے بازی دراصل تبدیلی کی پکار ہے۔ یہ احتجاج سربیا کے عوام کی اپنی طاقت کااظہار ہے۔سربیا میں طلبہ کی طویل احتجاجی تحریک صدر الیگزینڈر ووچچ کا 14 سالہ دور حکمرانی کے خاتمہ کا پیش خیمہ ہے۔اس کی ابتداء دو برس قبل بدعنوانی کے خلاف طلبہ کے احتجاج سے ہوئی تھی۔ یکم نومبر 2024 کو شہر نووی ساد کے ریلوے سٹیشن کے داخلی دروازے پر بنی کنکریٹ کی چھت گر گئی تھی جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔آگے چل کر مرمت کے بعد اسٹیشن کو جزوی طور کھولا گیا توعوام میں شدید غصے کی لہر پیدا ہوگئی۔ سب سے پہلے اس سانحہ کی فوری تحقیقات کے مطالبہ ہوا جو پُرامن مظاہرے کی صورت کئی ماہ تک جاری رہااورپھر ایک بڑے احتجاج میں بدل گیا ۔ 2000 میں بھی سابق حکمران سلوبودان میلوسووچ کےدورِ اقتدار میں ایسے ہی مظاہروں سے ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ نے ان مظاہروں کی قیادت کی اور تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معطل کرکے ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں منعقد کی گئیں۔ اس تحریک کی قصداً کسی ایک رہنما کے بجائے اجتماعی قیادت سے چلایا گیا ۔ اس طرح سی جے پی اور سربیا کی تحریک میں یک گونہ مماثلت ہے۔
ملک گیر احتجاج کی دوسری برسی کے ایک ماہ پہلے جب الیگزینڈر ووچچ نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا تو مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے تعلیمی اور پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ساتھ لے کر انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور اپنے ساتھ کسی بڑی سیاسی جماعت کو نہیں لیا۔طلبہ کی تحریک نے اختلافی معاملات جیسے یوروپین یونین میں شامل ہونا وغیرہ سے گریز کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم کو الیگزینڈر ووچچ کی مخالفت پر مرکوز رکھا ۔ سربیا کی خارجہ پالیسی نہایت دلچسپ ہے۔ وہ یوروپی ممالک سے قرض لے کر روس سے تیل خریدتا ہے۔اس توازن کو برقرار رکھا گیا۔ان لوگوں نے اپنی انتخابی مہم میں بدعنوانی کے خاتمے کے ساتھ قانون کی بالادستی اور صحافتی آزادی پر حملوں کے خلاف اقدامات پر توجہ دی ۔طلبہ کی تحریک اس سے قبل بھی ملک کے سیاسی نظام میں دہائیوں سے قائم شخصی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کر چکی تھی اس لیے انہیں اپنی کامیابی کا یقین تھا ۔ الیکزینڈر ووچچ کے بعد اب تحریک وزیراعظم کے طور پر حکومت کی قیادت کے حوالے سے ماہرِ امراضِ قلب الیجا سرڈانووچ یا کیمسٹری کے پروفیسر رادومیر سائیچچ کے ناموں پر غور کررہی ہے ۔
سربیا میں ہونے والی 2002 کی مردم شماری کے مطابق اس کی کل آبادی 74؍لاکھ 78؍ہزار 820 تھی مگر اس نے دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ہندوستان کو آئینہ دکھا دیا ہے۔ سربیا میں کوئی یہ نہیں کہتا کہ میرے آگے پیچھے کون ہے؟ میں تو بھکشا مانگ کر گزارہ کرتا تھا اس لیے جب لوگ کہیں گے جھولا اٹھا کر چل دوں گا۔ آپ جس چوراہے پر چاہیں مجھے پھانسی لٹکادیں لیکن جب ملک کے نوجوانوں نے کہا کہ بھائی ’اب آپ سے نہیں ہوپائے گا ‘ بہت دن راج کر لیا اس لیے جھولا اٹھا کر جائیے تو وہ فیویکول لگا کر کرسی سے چپک گئے؟ پہلے احتجاج کرنے والوں کو دہشت گردوں کی بی ٹیم کہا گیا۔ اس کے بعد اپنے ہی بچوں کو پولیس اور پرائیویٹ مافیا سے پٹوایا گیا۔ بالآخر سر سنگھ چالک نے انہیں ایسی بیرونی طاقتوں کا آلۂ کار بتا دیا جو ہندوستان کو ترقی ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے۔ سربیا میں نہ ایسی بہتان طرازی کی گئی اور نہ مظا ہرین سے زبردستی بانڈ بھروائے گئے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ وہاں کسی گیانیش کمار کی مدد ووٹ چوری بھی نہیں کی گئی۔ اس لیے ثابت ہوگیا کہ عوامی رائے کے احترام کا بلند بان دعویٰ کرنا اور اس پر عمل درآمد دو الگ الگ باتیں ہیں۔ سربیا کے مودی نے ہندوستانی الیکزینڈر کے پاکھنڈ کو پوری طرح بے نقاب کردیا ہے۔