’’توکل‘‘ توحید کی بنیاد اور ایمان کی روح

’’توکل‘‘ توحید کی بنیاد اور ایمان کی روح

’’توکل‘‘ توحید کی بنیاد اور ایمان کی روح

ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160

توکل کے لغوی معنیٰ سپرد کرنے اور اعتماد وبھروسا کرنے کے آتے ہیں ،اصطلاح میں تمام ظاہری اسباب اختیار کرنے کے بعد دل سے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسا کرتے ہوئے معاملہ کا انجام اسی ذات کے سپرد کردینے کو توکل کہتے ہیں ،توکل ایمان کی روح اور توحید کی بنیاد واساس ہے ، اہل ایمان کو ایمان لانے کے بعد جن بنیادی چیزوں کی تعلیم دی گئی ہیں ان میں سے ایک توکل بھی ہے ،توکل اہل ایمان کی ایک خاص صفت ہے ،جس شخص میں یہ صفت پائی جاتی ہے وہ کبھی مایوس اور نامراد نہیں ہوتا ہے،حقیقت میں متوکلین ہی سچے موحدین کہلاتے ہیں، توکل بندہ کو رب سے ملاتا ہے ، اس کی مدد ونصرت کے دروازے کھلواتا ہے ، اعتماد جگاتا ہے اور حوصلہ بڑھاتا ہے ،توکل مایوسی کے دلدل سے آدمی کو نکال کر امید کے سایہ میں لے جاتا ہے،تاریکی سے روشنی کی طرف لاتا ہے اور اس میں یقین کامل کی روح پھونک کر اسے بیدار کرتا ہے،قرآن مجید میں اہل ایمان کو توکل اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، توکل انبیاء ؑ کی خاص صفت ،اولیاء کاملین کی ممتاز علامت اور صالحین کی نمایاں نشانی ہے، جو توکل اختیار کرتا ہے تو ذات باری تعالیٰ اس کے لئے کافیہوجاتیہے، قرآن مجید میںارشادہے:وَمَن یَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ فَہُوَ حَسْبُہُ إِنَّ اللَّہَ بَالِغُ أَمْرِہِ قَدْ جَعَلَ اللَّہُ لِکُلِّ شَیْْء ٍ قَدْراً(الطلاق:۳)’’اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس ( شخص کاکام بنانے)کے لئے کافی ہے،یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے ،البتہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھاہے‘‘ ،یعنی جو شخص ذات باری تعالیٰ پر بھروسہ کرے گا تو وہ اپنی قدرت سے اس کے کام بنائے گا ،لیکن کام بنانے کی نوعیت اور اس کا وقت وہ خود مقرر فرماتا ہے کیونکہ اس نے ہر چیز کا ایک نپا تلا اندازہ طے کر رکھا ہے ،اس لئے اہل ایمان کو بتلایا گیا ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق اسباب اختیار کرے اور باقی معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے اور اسی سے یقین کامل رکھیں ،اللہ تعالیٰ اپنے علم وحکمت سے اسے ضرور پورا کرکے رہے گا، قرآن مجید میں ایک مقام پر اہل ایمان کو ان الفاظ کے ذریعہ توکل کی تاکیدی تعلیم دی گئی ہے ،ارشاد ہے: وَعلَی اللّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ(ابراہیم:۱۲)’’اور جن لوگوں کو بھروسہ رکھنا ہو انہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے ‘‘ ۔
رسول اللہ ؐ نے بہت سی احادیث میں امت کو توکل اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے اور خود بھی ذات باری تعالیٰ پر کامل توکل کرنے والے تھے ،آپؐ کا ذات باری تعالیٰ پر توکل بے مثال وبے نظیر تھا،آپؐ نے توکل اختیار کرنے والوں کی مختلف انداز میں فضیلتیںبیان فرمائی ہیں،ایک موقع پر آپؐ نے ان ستر ہزار آدمیوں کا ذکر فرمایا جو بلا حساب وکتاب جنت میں داخل کئے جائیں گے ان خوش نصیبوں میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو اللہ تعالیٰ پر کامل توکل رکھنے والے ہوں گے ،ایک حدیث میں ان ستر ہزار کا ذکر کرتے ہوئے کا ارشاد فرمایا :یدخل الجنۃ من امتی سبعون الفاً بغیرحساب،قالوا من ہم یا رسول اللہ ؟ قال ہم: الذین لا یسترقون،ولا یتطیرون،ولا یکتوون،وعلیٰ ربہم یتوکلون (مسلم:۳۲۱)’’ میری امت کے ستر ہزار آدمی بلا حساب وکتاب جنت میں داخل ہوں گے ،صحابہ ؓ نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول ؐ !وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو (ناجائز اور غیر شرعی) جھاڑ پھونک نہیں کرواتے ،بد فالی نہیں لیتے ،آگ سے نہیں دغواتے اور(یہ وہ لوگ ہیں جو یقین کامل کے ساتھ) اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ، اسباب اختیار کئے بغیر سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا توکل کے منافی بلکہ غیر ذمہ دارانہ عمل اور توکل کے مفہوم کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اسباب کی جگہ بنائی ہے اور اس کے فعل کا ظہور اسباب کے پردوں سے ظاہر ہوتا ہے مگر وہ اسباب کا پابند نہیں ہے بلکہ بندوں کو اسباب کاپابند بنایا گیا ہے ،ایک موقع پر رسول اللہؐ ؐ سے کسی نے توکل کے متعلق سوال کیا کہ اونٹ کو رسی سے باندھ کر توکل کرنا ہے یا کھلا چھوڑ کر ؟ تو جواب میں آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: اعقلھا وتوکل( ابن حبان:۷۳۱) ’’ اسے باندھ لو پھر اللہ پر توکل کرو‘‘،توکل سے اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوتی ہے ،وہ اس کی ذات پر بھروسہ کرنے والے کی مددونصرت فرماتا ہے اور معمولی اسباب رکھنے والے کے لئے غیبی ان راستوں سے مدد ونصرت فرماتا ہے جس کا بندہ گمان نہیں کر سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ توکل اس طرح کا ہونا چاہیے جس طرح توکل کا حق ہے ، ایک موقع پر رسول اللہ ؐ نے اپنے اصحابؓ کو حقیقی توکل کا ثمرہ بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا :لو انکم تتوکلون علی اللہ حق توکلہ لرزقکم کما یرزق الطیر تغدوا خما صا وتروح بطانا(مشکوٰۃ :ص ۴۵۲) اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے تو تم کو اللہ تعالیٰ اس طرح رزق دے گا جس طرح وہ چڑیا کو رزق دیتا ہے ،چہچہانے والے پرندے صبح سویرے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور رات کو بھرے پیٹوں کے ساتھ اپنے آشیانوں کو واپس لوٹتے ہیں ۔
ایک نظر سیدہ ہاجرہ زوجہ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے اس واقعہ پر ڈالتے ہیں کہ ،جس وقت سیدنا ابراہیم ؑ بحکم خداوندی انہیں اور ان کے شیر خوار بیٹے سیدنا اسماعیل ؑ کو چٹیل میدان اور غیر آباد سنسان وادی میں چھوڑ کر جانے لگے تھے ،ان کے پاس ایک مشکیزہ میں پانی اور کچھ کھجوریں تھیں جسے انہوں نے بطور اسباب اپنے ساتھ رکھاتھا ، اس موقع پر سیدہ ہاجرہؓ نے اپنے شوہر سیدنا ابراہیم ؑ نے پوچھا کہ آپ ہمیں اس غیر آباد وادی میں چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں جبکہ یہاں انسانی وسائل کا دور دور تک نام ونشان نہیں ہے ،سیدنا ابراہیم ؑ یہ سن کر بھی خاموش چلنے لگے پیچھے مڑکر بھی نہیں دیکھا ،سیدہ ہاجرہؓ نے سوال کیا کہ کیا یہ بحکم خداوندی ہے ؟ ،اس سوال پر سیدنا ابراہیم ؑ نے اثبات میں سر ہلایا ،اتنا سننا تھا کہ سیدہ ہاجرہؓ نے توکل ، اعتماد اوریقین کے بھر پور لہجے میں کہا ! تب تو اللہ تعالیٰ ہم ماں بیٹے کو ضائع نہیں کرے گا ،سیدہ ہاجرہؓ کا توکل اپنی مثال آپ تھا ،اسی توکل کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے زمزم کا پانی جاری فرمایا اور دنیا کو بتایا کہ جو توکل کرتے ہیں ان کے ساتھ ایسی ہی مدد ونصرت کی جاتی ہے، سیدنا ابراہیم ؑ وسیدہ ہاجرہؓ کے اس واقعہ پر غور کریں کہ ایک طرف سیدنا ابراہیم ؑ نے اپنی بساط وگنجائش کے مطابق اسباب اختیار کئے ہیں ،وہ جانتے تھے کہ یہ کھجور وپانی زیادہ دن چلنے والے نہیں ہیں لیکن ان کی نظر اسباب کے بعد مسبب الاسباب پر تھی ،وہ جانتے تھے کہ توکل غیبی دروازہ کی کنجی ہے ،ادھر جب سیدہ ہاجرہؓ کو معلوم ہوا کہ یہاں چھوڑ کر جانا حکم الٰہی سے ہے تو فوراً ان کی زبان سے ایسا جملہ نکلا جو اپنے آپ میں توکل کی اعلی مثال تھا ،اسی توکل نے انہیں قیامت تک کے لئے حیات جاودانی عطا فرمائی ،اسی طرح پیغمبر سیدنا ایوب ؑ کا واقعہ قرآن مجید میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ نے بیماری کے ذریعہ جب انہیں آزمایا تو وہ صبر و تحمل کی مورت بن کر کٹھن وقت گزارتے رہے مگر زبان پر حرف شکایت نہ لایا بلکہ جو نعمتیں دی گئیں تھیں اسے یاد کرکے شکر ادا کرتے رہے ، پھر ایک وقت کے بعد آزمائشی دور ختم ہوتا ہے اور حکم ہوتا ہے کہ :ارْکُضْ بِرِجْلِکَ ہَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ(ص:۴۲)’’( اے ہمارے پیغمبر ایوبؑ تم)اپنا پاؤں زمین پر مارو ،لو!یہ ٹھنڈا پانی ہے نہانے کے لئے بھی اور پینے کے لئے بھی‘‘، سیدنا ایوب ؑ کے زمین پر پیر مارتے ہی اس جگہ جشمہ نکل آیا ،اسے پینے اور نہانے سے آپؑ کی ساری بیماری جاتی رہی اور وہ پہلے کی طرح صحت مند اور تندرست ہوگئے ، سیدنا ایوبؑ کا صبر وضبط اور تحمل وبرداشت مثالی تھا ،ان کے توکل کا انداز عجیب اور نرالہ تھا، انہیں بھر پور یقین اور مکمل بھروسہ تھا کہ ایک دن باری تعالیٰ کی مدد ونصرت کا ظہور ہوگا اور اس بیماری سے انہیں نجات حاصل ہوگی ،سیدنا ایوبؑ کا واقعہ بتاتا ہے کہ دنیا دار الاسباب ہے اور بندہ اسباب کا پابند ہے ،اپنی بساط وکوشش کے مطابق بندوں کو اسباب اختیار کرنا ہوگا لیکن بھروسہ اسباب پر نہیں بلکہ مسبب الاسباب پر کرنا ہوگاکیونکہ اسباب بھی اذن الٰہی کے محتاج ہوتے ہیں ۔
رسول اللہ ؐ کی پوری حیات طیبہ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ آپ ؐ نے قدم قدم پر اسباب اختیار فرمایا مگر ذات الٰہی پر کامل توکل فرمایا جس کی مثالیں کتب سیرت میں موجود ہیں ، سیدنا جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنگ میں رسول اللہ ؐ کے ساتھ تھے ،جب ہم ایک گھنے سایہ دار درخت کے پاس آئے تو اس درخت کو ہم نے رسول اللہ ؐ کے لئے چھوڑ دیا ،مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور رسول اللہ ؐ کی درخت سے لٹکی ہوئی تلوار لی اور سونت کر کہنے لگا : (اے محمد) کیا تم مجھ سے ڈر تے ہو؟ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: نہیں،اس (مشرک )نے کہا کہ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ ؐ نے فرمایا : اللہ ، یہ سنتے ہی تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی ،آپ ؐ نے وہ تلوار اٹھالی اور فرمایا: (اے خدا کے دشمن اب بتا کہ )تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا: آپ بہتر تلوار پکڑ نے والے بن جاؤ ،آپ ؐ نے فرمایا : کیا تم لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دوگے ؟ اس نے کہا :نہیں ،لیکن میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ نہ میں آپ سے لڑوں گا اور نہ میں ان لوگوں کا ساتھ دوں گا جو آپ سے لڑتے ہیں ،آپ ؐ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا ،وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیااور کہنے لگا میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو لوگوں میں سب سے بہتر ہے( مسلم:۵۹۵۰ )،آپ ؐ کے توکل اور بے مثال ایقان نے دشمن کو کمزور کر دیا ،اس کی طاقت وجرأت جاتی رہی اور اسے اپنی شکست نظر آنے لگی ،چنانچہ اس نے ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے آپ سے معافی کی درخواست کی تو آپؐ نے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ فرماتے ہوئے اسے معاف کردیا ،آپ ؐ نے اس بے مثال توکل کے ذریعہ یہ پیغام دیا کہ توکل اور بھروسہ آدمی کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے اور ذات الٰہی کو بندہ کے طرف متوجہ کرتا ہے۔
کبھی کسی وقت دور دور تک اسباب دکھائی نہ دیں تو بندہ کو گھبراکر مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ توکل اختیار کر نا چاہئے اور اس یقین کو دل میں زندہ رکھیں کہ حقیقت میں اسباب مسبب الاسباب کے بغیر بے جان ہیں ، توکل کا دامن تھام لیں اور اس ذات پر یقین رکھیں جو اسباب کا محتاج نہیں ہے ،پھر دیکھیں کہ کس طرح اس کے لئے مدد ونصرت کا دروازہ کھلتا ہے ، متوکلین ہر زمانے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں اور ہوتے رہیں گے ،وہ کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتے ہیں کیونکہ ان کی نظر اسباب پر نہیں بلکہ مسبب الاسباب پر ہوتی ہے ، تاریخ انسانی شاہد ہے کہ توکل اور پختہ یقین رکھنے والوں کے لئے گھنے جنگل میں راستے فراہم ہوئے ،سمندر کی موجوں نے انہیں بحفاظت ساحل تک پہنچایا ، صحرا ء اور چٹیل میدان نے انہیں پانی فراہم کیا ، درندوں نے تعمیل حکم میں ان کے سامنے گردنیں جھادیں اور ہزاروں کے لشکر پر مٹھی بھر متوکلین نے غلبہ حاصل کرلیا ، موجود حالات جو مجموعی طور پر تمام مسلمانان عالم کے لئے تشویش ناک اور فکر مند ہیں ، چہار جانب سے مسلمانوں پر شکنجہ کسا جارہا ہے ،انہیں دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ،باطل اکھٹا ہوکر ان کی قوت کو توڑ نے میں لگا ہوا ہے ، مذہبی ،دینی ، اخلاقی ،معاشی ،سیاسی اور حکومتی ہر لحاظ سے انہیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، جس کی وجہ سے عام مسلمانوں میں بے چین وبے قراری بڑھتی جارہی ہے ، بعض تو زبان سے مایوسانہ الفاظ کہنے لگے ہیں ، ان کا مایوسانہ انداز اور زبانی گفتگو بتارہی ہے کہ وہ کس قدر مایوس اور ناامید ہیں کیونکہ ان کے دل توکل سے خالی ہیں اور ان کی نظر صرف اور صرف اسباب پر ٹکی ہوئی ہے ، ایسے نازک اور ناگفتہ بہ حالات میں مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے ،انہیںسبق پڑھایا گیا ہے اور پچھلے تاریخی واقعات یاد دلاکر بتا یا گیا ہے کہ اہل ایمان وہ ہوتے ہیں جو ذات الٰہی پر توکل رکھتے ہیں اور اس کی ذات پر کامل یقین واعتماد کرتے ہیں ،وہ کبھی بھی کسی بھی حالت میں مایوس نہیں ہوتے اور نہ ہی افسردگی کا اظہار کرتے ہیں ،وہ اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے اسباب تو اپناتے ہیں مگر توکل اللہ تعالیٰ کی ذات پر رکھتے ہیں ، یقینا سچے مسلمان کبھی مایوس نہیں ہوتے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مایوسی تو کفر ہے ، انہیں معلوم ہے کہ سورج جیسی طاقت کو رات میں غروب کون کرتا ہے ،تاریکی سے روشنی کس کے حکم سے نمودار ہوتی ہے ،زمین سے غلہ اُگتا ہے تو کس کے حکم سے اور بے جان سے جاندار اور جاندار سے بے جان کون پیدا کر تا ہے ،وہ اللہ ہے،جب وہ اس عظیم ہستی پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر اسی پر کامل توکل کریں اور جان لیں کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور وہ بڑا نہیں بلکہ سب سے بڑا ہے اور عظیم طاقت رکھنے والا ہے ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے