کرناٹکا کنڑا بھاشا کی ایک ضرب المثل "پہلوان جاری بددرے، ادو ون نمونےپلٹی” اگر نامی گرامی پہلوان کشتی گراؤنڈ پر لڑتےلڑتے پیر پھسل گر بھی جاتا ہے تو مجمع سے گونجنے والی یہ آوازین کہ ہمارے پہلوان نے، کس ادا سے گرنے کے انداز پلٹی ماری ہے، پہلوان کو حوصلہ دیتی ہے اور وہ گرے گرے انداز ہی سے سامنے والے پہلوان پر کوئی کاری وار کردیتا ہے اور اپنے بھگتوں کی لاج قائم رکھنے کامیاب ہوتا ہے۔
سائبر میڈیا پر گردش کرتی ایک کلپ، گلی کے دو آوارہ کتے، ایک مسلم لڑکی کو کاٹ کھانے, اسے پکڑے، بھنبوڑ رہے تھے۔ پاس کے گھر سے ایک مسلم نوجوان ہاتھ میں ڈنڈا لئے ایا اور احتیاط سے دیکھ کر ایک کتے کے سر پر ڈنڈے سے کاری وار کیاتو دوسرے کتے کی ٹانگوں پر ایسا کاری وار کیا کہ ایک کتا وہیں ڈھیر ہوگیا تو دوسرا بھونکتے ہوئے لنگڑاتے بھاگ نکلا ۔ دوسرے دن اخبار میں جو چھپا دیکھ علاقے کے شاھدین واقعہ,دم بخود رہ گئے۔ اخبار میں لکھا ہوا تھا "ایک مسلمان نوجوان نے، اپنی برادری کی لڑکی کو بچانے کے بہانے سے، دو معصوم بے زبان کتوں پر درندگی سےوار کرتے ہوئے، ایک کتے کو موقع پر ہی ھلاک کردیا تو دوسرے کتے کی ٹانگ توڑ اسے صدا کے لئے، اپاھچ بنا ڈالا۔ایسے ہی ہم انسان اپنی طاقت کے نشے میں بے زبان جانوروں پر بے جا ظلم عظیم کیا کرتے ہیں”
عالم انسانیت پر اپنی شاھی برٹش حکومت قائم رکھنے میں ناکام،اپنے وقت کی سب سے بڑی برٹش ایمپائر نے، عالمی حرب و جنگ 2 کے بعد، اپنی زمام حکومت کچھ حد تک باقی رکھنے ہی کے لئے، اسکے ہی تسلط سے ازاد ہوئی، کولونیل حکومت امریکہ کے، اسوقت جاپان پر ھیرو شیما ناگاساکی ایٹم بم برسائے، بیک حکم جنبش قلم یا حکم حلق،دیڑھ سے دو لاکھ معصوم جاپانیوں کا قتل عام کئے، ابھرتی ایٹمی حربی طاقت، انسانیت کے قاتل، امریکہ سے ساز باز کئے، عوام پر عوام کی مقبول ترجمہوری حکومت قیام کے، دل لبھاؤنے نعرے کے ساتھ، عوامی منتخب حکومتوں کو، اپنے سی آئی اے،رجیم چینچ آپریشن کے ذریعہ، وہاں یا تو شاہی حکومتوں کو، یاملٹری نازی حکومتوں کو، زمام اقتدار پر بٹھاتے ہوئے، ون ونڈو،ان کے اشاروں پر ناچنے والے شاہانہ راجیہ کو عوام پر مسلط کرنے کامیابی حاصل کی ہوئی تھی
ایران کی پہلی منتخب پارلیمنٹ (نیشنل کنسلٹیٹو اسمبلی، یا مجلس) کا آغاز 7 اکتوبر 1906 کو، فارسی آئینی انقلاب کےبعدہوا تھا۔ 28 اپریل 1951 کو ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کی جانب سے باضابطہ طور پر ایران کےوزیراعظم منتخب محمدمصدق کو،امریکہ اور برطانیہ نے19،اگست1953 میں، ہٹانے کے لئے، سی آئی اے کے ترتیب دئیے ‘آپریشن ایجیکس‘ اور برطانیہ کی ایم آئی 6 کے ترتیب دیئےگئے ’آپریشن بوٹ‘ نے، ایرانی عوامی جمہوری مصدق حکومت کا تختہ پلٹ کیا تھا اور مغرب نواز خدا بیزار بادشاہ، شاہ محمد رضا پہلوی کے مطلق العنان اقتدار کو مکمل طور پر بحال کرتےہوئے، ایرانی پیٹرول پر مکمل تسلط حاصل کرلیا تھا۔
سنی مسلکی شاہ محمد رضا پہلوی نے، اپنے دین محمدی،عمل پیرائی کے عین خلاف،فارسی سلطنت (ایرانی بادشاہت) کی 2500 سالہ سالگرہ کے موقع پر،اکتوبر 1971،ایک انتہائی شاندار تقریب کا اہتمام کیا، جو بنیادی طور پر پرسیپولس (تختِ جمشید) کے قدیم کھنڈرات میں ہوئی،دراصل 550 قبل مسیح میں، سائرس اعظم (کوروش کبیر) کے ہاتھوں ہخامنشی سلطنت کی بنیاد رکھے جانے کی یاد میں منائی گئی تھی۔ شاہ نے کروڑوں ڈالر مالیت کی اس تقریب کا استعمال اپنے ’پہلوی خاندان‘ کو قدیم فارسی بادشاہوں کی میراث سے جوڑنے اور 60 سے زائدغیر ملکی سربراہانِ مملکت اور شاہی خاندانوں کے سامنے ایران کی جدید ترقی کی نمائش کرنے کے لئے کیاتھا۔ تاہم،’اس تقریب میں دکھائی گئی حد سے زیادہ عیاشی اور شان و شوکت جس میں، ایئر کنڈیشنڈ خیموں کا ایک پرتعیش شہر اور پیرس سے ہوائی جہاز کے ذریعے منگوایا گیا کھانا شامل تھا’، نے عوام کو شاہ سے دور کر دیا اور اس نے مذہبی اور بائیں بازو (leftist) کے ان مخالفین کو مزید تقویت بخشی، جنہوں نے بالآخر 1979 میں آیت اللہ خمینی کے انقلاب کے نتیجے میں انہیں اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔
مکہ عقد بند ممالک کا دانش مندانہ فیصلہ، ایران کے خلاف یہود و نصاری اسلام دشمن قوتوں سے مدد مانگنے سے تو بہترہے، عالمی حربی قوت کو شکست فاش دینے والے علاقے کے سلطان ہی سے گلے ملے، یورپی ناٹو طرز اسلامی بلاک معرض وجود میں لائے،ایک دوسرے کےتعاون سے دنیوی ترقی پزیری حاصل کی جائے
عوام پرعوام کی جمہوری حکومت کا صدا راگ الاپنے والوں نے، شاہ ایران کے، عوامی دولت اپنی تعیش پسندانہ انداز اصراف کرتے پس منظر میں، ایت اللہ خمینی کے 1979عوامی انقلاب، عوام پر عوام کی جمہوری حکومت کو قبول کرنے کے بجائے، خلافت عثمانیہ زوال بعد سازشانہ انداز خلیج کے مختلف ریگزاروں میں انکے سازشانہ بٹھائے گئے ون ونڈو، انکی لوٹ کھسوٹ جاری رکھنے رکھوانے ہی کی خاطر، انہی عرب سنی شاہان کو،انکے خلاف اٹھنے والی عوامی حکومتوں کا خوف دلائے، ان عرب شاہان کی مدد کے بہانے، انہیں خوب لوٹنے ہی کی وجہ سے، 1979 ایران پرخمینی عوامی حکومت کی مخالفت کی، بلکہ عوام پر عوامی جمہوری حکومت اور غریب سے غریب تر، عالم انسانیت کے تمام ممالک کو آپسی برابری و انصاف دلوانے کی مانگ کے ساتھ قائم کئے گئے اقوام متحدہ اور اسکے ماتحت عالمی اداروں پر غاصبانہ تسلط قائم رکھے، صاحب امریکہ نے, یورپی حکومتوں تک کو، اپنے دام اثر لئے، قدرتی دولت پٹرول و زمینی خزائن سے مالامال خیلجی و افریقی ممالک پر اپنے مہرے غلام حکام بٹھائے، سابقہ پچھتر سال سے قدرتی ریسورسز کو لوٹتے آئے ہیں
1979 سے ایران پر قائم شیعہ حکومت کو، ہزار حیلے بہانوں سے، غیر اخلاقی و غیر انسانی عالمی تجارتی مقاطعات کی نظر کئے، انکی اپنی معدنیاتی دولت پیٹرول کو عالمی منڈی میں بیچنے سے مانع رکھے،انہیں بڑھتی مہنگائی،بے روزگاری سے جوجنے مجبور کئے، عالمی ترقی پزیری سے دانستہ دور رکھنے والے، امریکی اسرائیلی دشمن اسلام کے ساتھ، خود انکے اپنے اسلامی بھائی ہوتے ہوئے بھی، ان دشمن اسلام یہود و نصاری کی سازش کے شکار بنے، فقط اپنے فروعی مسلکی اختلافات سے، اپنے ایمانی بھائی کے ساتھ، اسلام دشمنان کی سازشوں کے شکار بنے، سابقہ 47 سالوں سے،نہ صرف انکے،جی جان سے دشمن بن جیتےآئے تھے بالکہ اسد العرب مشہور صدام حسین کو، آگے کئے، ایران عراق جنگ 1980– 1988،آٹھ سال دوران، ایرانی فوج کے اندازاً 188,015 سے 217,489 افراد ہلاک کئے کرائے، نیز دیگر وسیع تر علمی و ریسرچ ریکارڈمطابق، ایران میں ہونے والی ہلاکتوں کی کل فوجی اور شہری دونوں طرح کے نقصانات دو لاکھ سے ساڑھے سات لاکھ کے درمیان ہیں۔عقل و فہم ادراک رکھنے والی اعلی تعلیم یافتہ انسانیت خود تجزیہ کرسکتے ہیں کہ کم و بیش سابقہ 47 سالہ دشمن پڑوسی نام نہاد سنی عیاش شاہی حکمران اور ان عیاش شاہان عرب کی جی حضوری میں، اپنے ہی ایمانی شیعہ بھائیوں کو ختم کرنے کےخلاف برسر پیکار سنی عرب عوام کی، اپنی 47 سالہ دشمنی کو یکسر چھوڑے، درگزر کئے، اپنے علاقائی مسائل حل کے لئے، اسلام دشمنان یہود و نصاری کی خدمات حاصل کئے،خود کو لوٹنے، دشمنان اسلام کو دعوت دئیےبلانے کے بجائے، اپنے فروعی مسلکی اختلافات کو، پرے رکھے، علاقے کے شیعہ سنی حکمران مل بیٹھ آپسی اختلافات کو ختم کرنے کرانے کی، مرحوم امام خامنائی کی مکرر تجاویز پر، ان عرب سنی شاہان کی دانستہ مجرمانہ نظر اندازی نے، امت مسلمہ کو اب تک جو نقصان عظیم پہنچایا ہے اسکےلئے بھی کیا سنی عرب شاہان ذمہ دار ہیں؟ یا شیعہ ایرانی حکمران؟
یہاں ہم سنی شیعہ مسلمانی اختلافات کی بات ہوتی تو، ان سنی عرب شاہان کے پیٹرو ڈالر جھنکار کے چلتے، یہود و نصاری اسلام دشمنان نے کب کا ایران کو صفحہ ہستی سے مٹادیا ہوتا۔ لیکن سو سال قبل تین چوتھائی عالم انسانیت پر، اپنے خلافتی حکومت قائم رکھنے والے ہم مسلمانوں کے خلاف، کسی کو شاہان عرب تحفتا” دئیے تو کسی کو، سنی شیعہ تفکراتی جنگوں میں الجھائے، کل کے اقتدار عالم کے دعویدار ہم مسلمانوں کو، اپنے تفکراتی مسلکی گروہ بندیوں میں الجھائے، سابقہ سو سال سے، آج تک ہم مسلم امہ پر،یہود و نصاری حکمران بنے رہنے کامیاب لگتے ہیں۔
کئی سو سال سے،ایک دوسرے کے ساتھ محو و مصروف جنگ، حرب عالمی اول و دوم کے ذمہ دار یورپ وامریکی ممالک،اپنے ہزار آختلافات باوجود، اپنے دائمی اختلافات پس پشت رکھے، امت مسلمہ کے خلاف، ایک دوسرے سےہاتھ ملائے، اپنے سازشانہ مکر وفن کے ساتھ، اپنے خود ساختہ نائن الیون دہشت گردانہ حملوں کا الزام و بہتان، خدا ترس بزرگ ہستی اسامہ بن لادن علیہ الرحمہ اور انکے سر باندھے، ائی ایس،آئی ایس، القاعدہ کے خلاف کاروائی کے بہانہ سے، انہی سنی شاہان عرب کی رضاء و ہمنوائی کے ساتھ، اسلام دشمن یہود و نصاری عالمی حربی قوتوں نے، افغانسان و عراق، و لبیاء و شام حملہ آوری کئے، کم و بیش سات ساڑھے سات لاکھ معصوم عرب و افغانی مسلمانوں کو جو شہید کیا یے، اور بیسیوں ہزار مسلم نساء کی عصمتوں کوتارتار کئے، ظالم تاتاریوں کے مد مقابل والے،ایمانی حرارت سے ماورا، نامرد مسلمانوں کی تمثیل، موجودہ انسانی اقدار دور میں جو پیش کیا ہے؟ اس کے لئے بھی کیا ایرانی شیعہ حکمران ذمہ دار ہیں؟ یا یہ نام نہادسنی عرب شاہان تباہی مسلم امہ کے ذمہ دار ہیں؟اگر امریکی ٹوین ٹاور دہشت گردی کے ذمہ دار آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ ذمہ دار تھے جس کے لئے ساڑھے ساتھ لاکھ بےقصور افغانی و عرب انسانیت کو شہید کیا گیا تھا تو، اب اسی آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ کے اس وقت کے سرگرم رکن القاعدہ، عراق میں القاعدہ کے فرنٹ لائن تنظیم النصرہ کے بانی،ان ایام، انکی مخبری کئے جانے پر, دس ملین ڈالر امریکی جسٹس ڈپارٹمنٹ کی طرف سے،انعام رکھے گئے، محمد الجولانی المعروف محمد الشرعہ کو سیریائی حکومت اعلی کے مقام تبریک پر براجمان کئے جانے کے پیچھے، اسرائیلی حکومت مدد و نصرت کی امریکی کوشش نہیں تو اور کیا ہے؟ جسکا ثبوت اور بہت سارے امور کے علاوہ، اسرائیل کے ازلی دشمن حوثی یمنی افواج سرکوبی کے لئے، سعودی حکومتی مدد کے بہانے، سیریائی افواج کو بھجینا بھی ہے۔
یاد رہےیمنی حوثی مسلمان دس بیس سال قبل تک، جامد مقلد شافعی حنفی مکتبہ فکر سنی مسلمان ہی کہلائے جاتے تھے جو زید ابن علی رضی اللہ عنہ تک 37 پشتینی اپنی نسبت باعث زیدی مسلمان کہلائے جاتے تھے۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پہلی بیوی عمارہ بنت سعید جرہمی اور دوسری بیوی سیدہ بنت مضاض جرہمی سے ہوئی تھیں اس اعتبار سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا سسرالی خاندان، یہی جرہمی زیدی خاندان تھا۔
بیسویں صدی کی شروعات خلافت عثمانیہ زوال پزیری کے وقت، دوتہائی ارض دنیا پر، ایک اکیلی خلافت عثمانیہ تھی۔اس دو تہائی خلافت عثمانیہ پر مشتمل،سو سےزاید بین الملوکی سرحدیں وجود میں آئی تھیں جو 1923 زوال استبول وقت عرب مملکتوں سمیت 39 مملکتیں ریاستیں وجود میں آئی تھی۔ اس سے پہلے دو تہائی ارض دنیا پر کسی بھی علاقے کے لوگوں کا ایک حصہ سے دوسرے حصہ پر آنے جانے کی کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ زمانہ قدیم سے یمنی قبائل حرمین شریفین، زائرین حرمین شریفین کی خدمت کرنے اتے جاتے رہتے تھے۔ پیٹرو ڈالر دستیابی بعد،سعودی عربیہ کی تعمیراتی تجارتی و صنعتی ترقی پزیری میں سب سے بڑاہاتھ و ساتھ انہی یمنیوں کا رہا ہے 1991 یہود ونصاری سازش کے شکار عالمی حربی قوتوں کے عراق پر یلغار حرب عرب دوران،سعودیوں کے عراق کے خلاف صدام مخالف حربی دھڑےکا حصہ رہتے پس منظر میں، چونکہ یمنیوں کی دلی ہمدردی عرآقی صدر صدام حسین کے ساتھ تھیں، اس لئے حفظ ماتقدم بڑی ہی حکمت عملی کے ساتھ سرزمین سعودی عرب سے لاکھوں یمنیوں کو بڑے پیمانے پر، بےدخل کئےجاتے، گویا انہیں بحکم جنبش قلم اچانک بے روزگار کیا گیا تھا۔سعودی فرماروا شاہ سعود کی اپنی اولاد کو کی گئی ہدایت و وصیت پر، "پڑوسی یمن کو معشیتی طور صدا کمزور رکھنے ہی سے، سعودی حکومت کا مستقبل محفوظ تر”عمل پیرا وسط 1978 سے 2012 ابتداء تک، یمن پر سعودی نواز علی عبداللہ صالح کی حکومت قیام اور دانستہ، یمن ترقی پزیری سے محرومی نے، یمن کے زیدی مسلمانوں کو، عرب اسپرنگ پس منظر میں، علی عبداللہ صالح سے ماورائیت حصول باوجود سعودی حکومتی جی سی سی اثر و رسوخ سے،یمن پرمفاہمتی حکومت قائم کئے، عرصہ قلیل میں انتخابی عوامی حکومت قیام وعدے باوجود،دانستہ انتخاب ماورائیت نے، عبداللہ منصور ھادی والی عبوری یمنی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے زیدی یمنی مسلمانوں کو مجبور کیا۔ یمن پر کون یمنی گروہ حکومت کریگا ؟ یہ یمنیوں کا ذاتی داخلی معاملہ تھا،لیکن پڑوسی سعودی حکومت نے، 2016 میں حربی یلغار کئے ، عالمی یہود و نصاری اسلام دشمن اسرائیل و امریکہ کے سپلائی کئے بمبار طیاروں کی مدد سے، یمن پر زبردستی سعودی حکومتی تائیدی کٹھ پتلی حکومت قیام کے کوشش میں، ڈائرکیٹ بومبنگ سے، ایک لاکھ 54 ہزار یمنیوں کی شہادت جہاں کی ہوئی تھیں، وہیں 10 ہزار عوامی شہادتین بھی ہوئی ہیں اور سب سے اہم سعودی حکومتی ہوائی پانی تجارتی مقاطعہ ایر ایمبارگو سے،سوا دو لاکھ سے ڈھائی لاکھ یمنی جانوں کا اتلاف بھی ہوا ہے۔ ان لاکھوں شہادتوں کےلئے کون ذمہ دار ہیں؟ عالمی یہود و نصاری اسلام دشمنان کے ہاتھوں مہرہ بنے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ان لاکھوں زیدی یمنی شہادتوں کے ذمہ دار ہیں؟ یا اس کے لئے بھی زیدی یمنیوں کو ہی قصور وار ٹہرایا جائیگا؟ چھ سالہ سعودی یمنی جنگ بعد دونوں فریق درمیان امن معاعدہ طہ ہوتے ہوئے بھی مفتوحہ علاقوں پر الگ الگ سعودی تائید کردہ یمنی و زیدی یمنی حکومتوں کی الگ الگ جدا جدا حکومتین قائم رہتے، زیدی یمنیوں پر، تجارتی مقاطعہ برقرار رکھا گیا تھا لیکن ایران خامنہ ای کے جنازے سے لوٹ رہے زیدی یمنی قیادت کو ہوائی بمباری، مارنے کی سعودی شروعات بعد،زیدی یمنیوں نے اپنے حرب و جنگ انصاراللہ گٹھ جوڑ کے ساتھ سعودی عرب پر جو میزائل ڈروں حملہ آوری شروع کرتے ہوئے،یمن پر سعودی ایر ایمبارگو ختم کئے جاتے تک، یمنی نصراللہ کی طرف سے سعودی پر ایرایمبارگو لاگو کئے، سعودیہ کو عالمی تجارت سے جس انداز منقطع کر رکھدیا ہے اس سے نہیں لگتا کہ سعودی حکومت کے جھکتے ہوئے یمن پر سے ایر ایمبارگو ہٹائے جانے تک، یمنی نصراللہ بھی سعودی عرب پر میزائل ڈرون مارتے ہوئے، سعودی معشیت کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔یمنی نصراللہ کے جنگ و حرب محل وقوع اور سب سے اہم اپنی ملکی زمینی و تجارتی مفاد کے لئے نصراللہ کا بے خوف لڑنےوالا انداز،سعودیوں کے کرائے کے سوریائی یا دیگر ملکی جنگجو، کسی طور مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں۔آج نہیں تو کل سعودیہ کو یمنی نصراللہ کے آگے ہار تسلیم کرنی ہی پڑیگی اسلئے عقل مندی کا تقاضہ یہی ہے کہ وحدت امہ کے عظیم مقصد بارآوری کے لئے ہی کم از کم سعودیہ کو اپنی طرف سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کی اپنی فاش غلطی تسلیم کئے، انکی ہوائی بمباری سے ہوئے نقصان بھرپائی تاوان جنگ نصراللہ کو ادا کئے ، نصراللہ پر سعودیہ کے لگائے ائر ایمبارگو کو بلا شرط ختم کئے، یمن سعودیہ دونوں مسلم برادر پڑوسیوں کو اچھے مسلم بھائیوں کی طرح مل جل کر امن و چین آشتی سے رہنا چاہئیے۔
حالیہ اسرائیلی امریکی، ایران جنگ نے،عرب کھاڑی کے سنی حکمرانوں کو، انکے سابقہ پچاس سالہ وفادار سمجھے جانے والے امریکی حکمرانوں کی، ان سے بے تحاشہ پیٹرو ڈالر لوٹ کھسوٹ باوجود، ایرانی میزائل ڈرون یلغار تباہی سے بچانے کے بجائے، عرب کھاڑی علاقوں میں موجود امریکی ایر بیسز پر پہلے سے لگے ہوئے ہوائی حملہ سے بچاؤ والے مختلف ریڈارس کو، اسرائیلی یہودیوں کو بچانے لے جاتے دیکھ کر اور انکے دشمن ایران کے میزائل ڈروں حملوں سے عرب ممالک کو بچانے میں ناکام امریکی کھلی پالیسی دیکھ کر تو، ان عرب سنی حکمرانوں کو حکم رسول خدا محمد مصطفیﷺ پر عمل پیرا ہونا چاہئیے "اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا، وہ انہی میں سے ہے۔ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔” سورة مائدہ آیت نمبر 51 کیا اب بھی یہ نام نہاد سنی حکمران اب بھی اپنے پڑوسی شیعہ مسلکی ایران و یمن کو چھوڑ،دشمنان اسلام یہود و نصاری سے، امن و سلامتی کی بھیک مانگتے رہیں گے؟ یا دیر آید درست آید مثال مصداق،اپنے اطراف کے مسلم ممالک سعودیہ ایران یمن ترکیہ پاکستان پر مشتمل "یورپین ناٹو” طرز دفاعی و حملہ آوری حرب و جنگ معاہدہ کئے، اسرائیل سے حتمی تعلقات منقطع کئے، ایک حد تک امریکہ سے دوستی بحال رکھے، امریکہ کے اصل دشمن دوسری عالمی قوت روس و چائنا سے تعلقات استوار رکھے ایمان پر اپنے ثابت قدمی کے ساتھ دنیوی ترقی پزیری کے مدارج طہ کرنا چاہئیے وما التوفیق الا باللہ