مولانا سجاد نعمانی صاحب دلت مسلم اتحاد کے زبردست حامی ہیں اور وہ اس مشن کو لیکر وقتاً فوقتاً بیان بھی دیتے رہتے ہیں اور پروگرام وغیرہ بھی کرتے رہتے ہیں ، مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی صاحب کو اپنے اس مشن سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں ۔ خیال رہے کہ مولانا اس نظریے کے اول بانی نہیں ہیں پہلے بھی یہ خیال پیش کیا گیا اس پر تھوڑا بہت کام بھی ہوا مگر پھر بات آئی گئی ہوگئی ۔ دلتوں میں بہت کچھ ہل چل موجود ہے مگر آج کل مسلمانوں میں اس تعلق سے بالکل بھی بیداری نہیں ۔ میرے خیال میں بھی یہ مشن بہت طاقتور ہے اور بی جے پی آر ایس ایس و کانگریس کے چنگل سے نکلنے کا واحد فارمولہ ہے ۔
قارئین کرام ! کسی بھی انقلاب کو برپا کرنے کے لیے اتنی ہی بڑی قربانی دینی پڑتی ہے ، اگر قربانی دینے کا جذبہ نہیں ہے تو آپ انقلاب کو یا کامیابی کو بس ایک آوارہ خیال سمجھئے جو دماغ سے ہوکر گزر گیا جملہ مشہور ہے کہ ”بڑا لقمہ کھانے کے لئے بڑا منہ کھولنا پڑتا ہے“ ۔ مسلمانوں میں سماجی انقلاب کی زمینی محنتیں نہ کے برابر ہوئی ہیں ، یہ ایک حقیقت ہے کہ سر سید احمد کے علاوہ بر صغیر میں کوئی سماجی انقلابی مصلح پیدا نہیں ہوا ، بلاشبہ مفکر و مدبر بہت ہوئے ہیں لیکن انقلابی اور عملی مصلح نہیں ۔اسی لئے مسلمانوں کی تاریخ میں انفرادی شخصیات تو بہت ملیں گی مگر انقلابی سلسلے قائم نہیں ہوپائے ۔ انقلابی سلسلے قائم کرنے کے لئے نظریہ اور افراد درکار ہوتے ہیں جنکو آج کل dialogues اور cader کہتے ہیں ۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی مسلم لیگ کے پاس بھی کیڈر نہیں تھے مگر آزادی اور تقسیم کے جوش و خروش نے مسلم نوجوانوں میں ایک طوفان برپا کردیا تھا جس کے ذریعے مسلم لیگ اپنے ناکام نظریے میں کامیاب ہوگئی ، وقتی جوش و جذبہ ختم ہوتے ہی پھر سے پاکستان میں الو بولنے لگے اور آج تک بول رہے ہیں ۔
بہوجن سماج کے نوجوان اپنے سماج کی ترقی کے لیے اور اپنے سماج کو برہمن واد کے چنگل سے نکالنے کے لیے رات دن محنت کر رہے ہیں جگہ جگہ اپنے نظریاتی کیڈر تیار کر رہے ہیں ، یہ لوگ اپنے تمام پروگرام تنظیمی سرگرمیاں اتوار کے دن رکھتے ہیں اور ہر اتوار کو پورے ملک میں علانیہ و خفیہ تنظیمی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں ۔ آر ایس ایس کے کیڈرز ہمہ گیر ہیں اسکول سے لیکر تجارتی مراکز تک دیہات سے لیکر انٹرنیشنل سطح تک کے کیڈرز ہیں جنہوں نے ہر جگہ اپنی چھاپ چھوڑی ہوئی ہے ۔
قارئین کرام ! جمعیت علمائے ہند کے پاس بھی کیڈر ہے ، جماعت اسلامی کے پاس بھی کیڈر ہے تبلیغی جماعت کے پاس غالباً دنیا میں سب سے زیادہ اور وسیع کیڈرز ہیں مگر دماغ اور وسیع سوچ سے خالی ہیں ، مولانا وحیدالدین خاں صاحب مرحوم کے بھی نظریاتی کیڈر ہیں مگر مولانا سجاد نعمانی صاحب جو اس محاذ ( دلت –مسلم اتحاد) پر کام کر رہے ہیں ان کے پاس کیڈر نہیں ہے جبکہ دنیا کی تاریخ میں کوئی بھی انقلاب بغیر کیڈر کے نہیں آیا ۔ کیڈر کیا ہے ؟ ایک متعین نظریے کے لئے رات دن ایک کرنے والے ملک کے طول و عرض میں پھیلا ہوا جنونی افراد کا ایک گروپ ہوتا ہے جو مستقل اور مسلسل اس نظریے اور سوچ کو سماج میں نسل در نسل منتقل کرتا رہتا ہے تاآنکہ پوری قوم اس نظریے پر کھڑی ہوجائے اور انقلاب برپا کردے ۔ مولانا کو چاہیے کہ اپنے نظریے اور سوچ کی بنیاد پر اپنی زندگی ہی میں ایک کیڈر تیار کریں ۔