ووٹ کا حق، شہری حقوق اور جمہوری اداروں کی ساکھ داؤ پر!

ووٹ کا حق، شہری حقوق اور جمہوری اداروں کی ساکھ داؤ پر!

ووٹ کا حق، شہری حقوق اور جمہوری اداروں کی ساکھ داؤ پر!
مغربی بنگال کے انتخابات پر سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کے اعتراضات، ابھیشیک بنرجی کی عدلیہ پر تنقید، راہل گاندھی کا شہری حقوق سے متعلق انتباہ اور مہوا موئترا کے بیان نے ایس آئی آر کو قومی بحث کا موضوع بنا دیا

ازقلم:جاوید جمال الدین

ہندوستانی جمہوریت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی نظر آتی ہے جہاں انتخابی عمل، حقِ رائے دہی، شہری آزادیوں اور آئینی اداروں کی غیر جانب داری سے متعلق کئی بنیادی سوالات بیک وقت زیر بحث ہیں۔ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والا تنازع اب محض ایک ریاست میں سیاسی جماعتوں کی کامیابی یا ناکامی تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے ملک کے انتخابی نظام اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کردار پر وسیع قومی بحث چھیڑ دی ہے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے ہیں، ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد نہ ہونے کا الزام لگایا ہے، جبکہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج اور فلاحی اسکیموں کے فوائد کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنے کے معاملے کو شہری حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق سخت طنزیہ بیان نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے۔

ان تمام واقعات کا مشترکہ پہلو انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی، یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) ہے، جو اب محض ووٹروں کے اندراج اور ناموں کی تصحیح کا انتظامی عمل نہیں رہی، بلکہ اس کے طریقۂ کار، دائرۂ کار اور نتائج پر ملک گیر سطح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ انتخابی فہرستوں کو درست اور شفاف بنانے کی کوشش میں کہیں اہل شہریوں کا حقِ رائے دہی ہی تو متاثر نہیں ہورہا؟ جمہوریت میں انتخابی فہرستوں کی تطہیر ضروری ہے، لیکن اس عمل کی آڑ میں کسی مستحق ووٹر کو محروم ہونے سے بچانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے 6 نومبر 2026 کو کولکاتا میں منعقدہ ہاشم عبدالحلیم میموریل لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر سنگین اعتراضات اٹھائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مغربی بنگال کے انتخابات قانونی طور پر درست تھے تو انہوں نے اپنی رائے میں اس پر نفی میں جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی کئی مرتبہ اس موقف کا اظہار کرچکے ہیں اور اب بھی اسی پر قائم ہیں، تاہم چونکہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے ہے، اس لیے حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

قریشی نے پورے انتخاب کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرنے کے بجائے ان حلقوں کی جانچ پر زور دیا جہاں ووٹر فہرستوں سے بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جانے کا شبہ ہے۔ انہوں نے خصوصاً ان حلقوں کا ذکر کیا جہاں مسلم ووٹروں کے نام بڑی تعداد میں خارج ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حلقوں میں دوبارہ جانچ ہونی چاہیے اور اگر انتخابی عمل میں سنگین بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو دوبارہ پولنگ کے امکان پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔

یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ قریشی کا بیان ایک سابق چیف الیکشن کمشنر کی اہم رائے اور آئینی تجربے کا اظہار ہے، لیکن اسے عدالتی فیصلے کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ انتخابات کو کالعدم قرار دینے یا دوبارہ پولنگ کا حکم دینے کا اختیار متعلقہ قانونی اور عدالتی طریقۂ کار کے تحت ہی استعمال ہوسکتا ہے۔ اس لیے ان کے اعتراضات کو سنجیدہ قانونی سوالات کے طور پر دیکھنا ضروری ہے، نہ کہ انہیں حتمی فیصلہ سمجھ لیا جائے۔

قریشی نے ایس آئی آر کے طریقۂ کار کا موازنہ آسام میں قومی رجسٹر برائے شہریت (این آر سی) سے کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کہیں شہریت کی بالواسطہ جانچ کا ذریعہ نہ بن جائے۔ ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ ووٹر فہرست میں نام برقرار رکھنے کے لیے 2002 کی انتخابی فہرست سے اپنا تعلق ثابت کرنے کی شرط بہت سے شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق جو شہری ماضی میں متعدد انتخابات میں ووٹ ڈال چکے ہیں، ان کے حقِ رائے دہی پر محض اس بنیاد پر سوال نہیں اٹھنا چاہیے کہ وہ کسی پرانی فہرست سے اپنا تعلق ثابت نہیں کرپارہے۔

انہوں نے فارم 6 کے استعمال پر بھی اعتراض کیا، جو بنیادی طور پر نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے ہوتا ہے۔ قریشی کے مطابق اگر کسی ایسے شخص کا نام حذف ہوجائے جو پہلے سے ووٹر رہا ہو اور متعدد انتخابات میں اپنا حق استعمال کرچکا ہو تو اسے نئے ووٹر کی طرح فارم 6 بھرنے پر مجبور کرنا مناسب نہیں۔ ان کا استدلال تھا کہ غلطی سے حذف کیے گئے ناموں کی بحالی کے لیے الگ اور تیز رفتار طریقۂ کار ہونا چاہیے، تاکہ شہریوں کو غیر ضروری دستاویزی پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہ اعتراض انتخابی نظام کے ایک بنیادی اصول کی طرف توجہ دلاتا ہے: انتخابی فہرستوں کی اصلاح کا مقصد اہل ووٹروں کو شامل کرنا اور غلط اندراجات کو درست کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انتظامی دشواریوں کے باعث مستحق شہریوں کو انتخابی عمل سے باہر کردینا۔ اسی طرح شہریت سے متعلق سوالات کا فیصلہ بھی متعلقہ قوانین کے تحت ہونا چاہیے۔ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کو شہریت کی عمومی جانچ کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا۔

قریشی نے الیکشن کمیشن کے اندر فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر بھی اہم سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر بذاتِ خود پورا الیکشن کمیشن نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک اجتماعی آئینی ادارہ ہے جس کے فیصلے مشاورت اور اجتماعی ذمہ داری کے اصول پر ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق پہلے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش ہونی چاہیے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے بعض فیصلوں اور اقدامات پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کرائے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات کا تعلق ایس آئی آر کے دوران انتظامی فیصلوں، فارم 6 میں تبدیلیوں، انتخابی فہرستوں کے سافٹ ویئر، اپیلوں اور کمیشن کے اندر اختیارات کی تقسیم سے تھا۔

قریشی نے اس ضمن میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ 2023 کی دفعہ 18 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کے معاملات میں حتی الامکان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش ہونی چاہیے اور اختلاف کی صورت میں اکثریتی رائے فیصلہ کن ہوتی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ اہم فیصلے تینوں ارکان کی منظوری سے متفقہ طور پر کیے گئے اور مختلف آرا یا تحریری مشوروں کو ادارہ جاتی اختلاف کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

الیکشن کمیشن کی اس وضاحت کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے، تاہم اگر کمیشن کے ارکان کے درمیان تحریری اختلافات موجود ہیں تو ان کی نوعیت اور ان پر کی گئی کارروائی سے متعلق شفاف معلومات فراہم کرنا ادارے کے مفاد میں ہوگا۔ کسی بھی آئینی ادارے کی ساکھ صرف اس کے اختیارات سے نہیں بلکہ اس کی غیر جانب داری، شفافیت اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتی ہے۔

مغربی بنگال کے انتخابی تنازع کو مزید شدت اس وقت ملی جب ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے اپنی جماعت کی شکست کے لیے بی جے پی کے بجائے سپریم کورٹ کے کردار پر سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی ہدایات پر اعتماد کیا تھا، لیکن انتخابی عمل میں ان پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

ابھیشیک بنرجی نے خصوصاً ووٹوں کی گنتی سے قبل رینڈمائزیشن کے طریقۂ کار کا حوالہ دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سپریم کورٹ نے 2 مئی کو گنتی سے پہلے ضروری کارروائی اور افسران کی شمولیت سے متعلق ہدایات دی تھیں، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہونی تھی۔ ان کے مطابق اس عمل میں ریاستی اور مرکزی حکومت کے افسران کی شمولیت ضروری تھی، لیکن ریاستی حکومت کے افسران کو مطلوبہ نمائندگی نہیں دی گئی۔

انہوں نے گنتی کے عمل، نتائج کے اعلان اور ای وی ایم مشینوں کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا الزام تھا کہ انتخابی نتائج کے بعد ایک ماہ کے اندر ای وی ایم مشینوں کو تلف کردیا گیا، جبکہ اس معاملے میں شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ گنتی مراکز کی سی سی ٹی وی فوٹیج عام کی جائے تاکہ عوام بھی دیکھ سکیں کہ وہاں کیا کارروائی ہوئی تھی۔

ابھیشیک بنرجی نے حکومت اور الیکشن کمیشن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے الزامات غلط ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں ذاتی طور پر اپنا موقف پیش کرنے اور عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی، تاکہ عوام پورے معاملے سے واقف ہوسکیں۔

ان کے بیانات میں عدلیہ پر سخت تنقید بھی شامل تھی، تاہم انہوں نے عدلیہ پر اپنے اعتماد اور اس کے احترام کا اظہار بھی کیا۔ اس معاملے میں یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ کسی عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کا الزام اور عدلیہ کے ادارے کی مجموعی حیثیت پر سوال اٹھانا دو الگ باتیں ہیں۔ اگر کسی حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کے لیے توہین عدالت، نظرثانی اور دیگر قانونی راستے موجود ہیں۔ ان الزامات کی حقیقت کا تعین بھی متعلقہ ریکارڈ اور عدالتی جانچ کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔

ابھیشیک بنرجی نے مغربی بنگال میں پولیس اور سرکاری مشینری کے مبینہ سیاسی استعمال کا الزام لگاتے ہوئے ریاست کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں اور انتظامی مشینری کے استعمال سے جمہوری اداروں کی آزادی متاثر ہورہی ہے۔ ان الزامات کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی حکومت کو پولیس اور انتظامیہ کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا حق نہیں۔ تاہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو بھی شواہد اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے ثابت کرنا لازم ہے۔

جمہوریت میں اقتدار کی تبدیلی انتخابی عمل کا فطری حصہ ہے، لیکن انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد اس سے بھی زیادہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ووٹر کو یہ خدشہ لاحق ہوجائے کہ اس کا نام کسی انتظامی غلطی یا غیر شفاف طریقۂ کار کے سبب فہرست سے خارج ہوسکتا ہے، تو اس کا اثر صرف ایک انتخاب یا ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورے جمہوری نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایس آئی آر کے معاملے کو سیاسی بیان بازی سے آگے بڑھ کر آئینی اصولوں، قانونی تقاضوں اور شہری حقوق کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے