ہندوستانی پاسپورٹ اور شہریت کا سوال!

ہندوستانی پاسپورٹ اور شہریت کا سوال!

ہندوستانی پاسپورٹ اور شہریت کا سوال!
(وزارتِ خارجہ کے بیان سے پیدا ہونے والے آئینی، قانونی اور عوامی خدشات)

ازقلم: (حافظ)افتخاراحمدقادری

مرکزی وزارتِ خارجہ کی جانب سے پاسپورٹ سیوا کے موقع پر جاری کیا گیا یہ بیان کہ "ہندوستانی پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں بلکہ صرف ایک سفری دستاویز ہے” بظاہر ایک قانونی وضاحت تھی لیکن اس کے سیاسی و آئینی اور عوامی اثرات اتنے وسیع ہوئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ عام شہری سے لے کر قانونی ماہرین، اپوزیشن جماعتوں، صحافیوں اور سماجی شخصیات تک سب نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر حکومت ہند کی جانب سے جاری کیا جانے والا پاسپورٹ بھی شہریت کا ثبوت نہیں تو آخر وہ کون سی دستاویز ہے جو کسی ہندوستانی کی شہریت کو قطعی طور پر ثابت کرتی ہے؟ںایک ایسا ملک جہاں ہر سرکاری کام کے لیے مختلف شناختی دستاویزات کی ضرورت پڑتی ہے وہاں اگر ایک ایک کرکے ہر دستاویز کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھنے لگے تو یقیناً عوام میں بے چینی اور غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہونا فطری امر ہے۔ حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ پاسپورٹ بنیادی طور پر ایک سفری دستاویز ہے اور بین الاقوامی سفر کو ممکن بنانے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ قانونی اعتبار سے دیکھا جائے تو دنیا کے کئی ممالک میں بھی پاسپورٹ کو شہریت کا حتمی اور آخری ثبوت نہیں مانا جاتا بلکہ یہ شہریت کی بنیاد پر جاری ہونے والی ایک سرکاری دستاویز ہوتی ہے۔ لیکن ہندوستان جیسے ملک میں جہاں کوئی عالمگیر قومی شہریت کارڈ موجود نہیں وہاں وزارتِ خارجہ کے اس بیان نے ایک نئے آئینی اور قانونی سوال کو جنم دیا ہے۔ اگر حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں تو عوام کو یہ بھی بتایا جائے کہ آخر ہندوستانی پاسپورٹ کن لوگوں کو جاری کیا جاتا ہے؟ کیا یہ چین، سری لنکا، نیپال یا کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو بھی دیا جاتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر اس دستاویز کی قانونی بنیاد کیا ہے؟ حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ ہندوستانی شہریت ثابت کرنے والی اصل دستاویز کون سی ہے تاکہ عوام میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو حکومت رفتہ رفتہ ان تمام سرکاری دستاویزات کی قانونی حیثیت کو کمزور کرتی جا رہی ہے جن پر عام شہری برسوں سے اعتماد کرتے آئے ہیں۔ پہلے ووٹر شناختی کارڈ کے بارے میں کہا گیا کہ یہ شہریت کا ثبوت نہیں، پھر آدھار کارڈ کو صرف شناخت کا ذریعہ قرار دیا گیا اس کے بعد پین کارڈ کے بارے میں یہی مؤقف سامنے آیا اور اب پاسپورٹ کو بھی شہریت کے ثبوت سے الگ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ایک عام شہری کے لیے یہ سوال کرنا بالکل فطری ہے کہ آخر وہ کس دستاویز کی بنیاد پر اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرے۔ یہ خدشات اس لیے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں کیونکہ گزشتہ چند برسوں میں این آر سی، سی اے اے اور شہریت سے متعلق دیگر معاملات پر ملک میں پہلے ہی شدید بحث ہو چکی ہے۔ خاص طور پر آسام میں قومی شہری رجسٹر کے عمل نے لاکھوں لوگوں کو طویل قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں میں مبتلا کر دیا تھا۔ بہت سے ایسے افراد جن کے خاندان نسلوں سے ہندوستان میں آباد تھے انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے متعدد دستاویزات پیش کرنی پڑیں۔ اسی پس منظر میں جب وزارتِ خارجہ کی طرف سے پاسپورٹ کے بارے میں یہ وضاحت سامنے آئی تو لوگوں کے ذہنوں میں نئے خدشات نے جنم لیا کہ کہیں مستقبل میں دو بارہ اسی نوعیت کی کوئی مشق تو نہیں کی جائے گی۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بی جے پی کے رکنیت کارڈ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو شاید آنے والے برسوں میں اسی کو شہریت کا واحد ثبوت قرار دے دیا جائے۔ اگرچہ یہ ایک سیاسی طنز تھا لیکن اس کے پیچھے موجود بنیادی سوال یہی تھا کہ حکومت آخر عوام کو شہریت کے مسئلے پر واضح اور غیر مبہم رہنمائی کیوں فراہم نہیں کر رہی۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہندوستان کے آئین میں شہریت کی بنیادیں ضرور بیان کی گئی ہیں لیکن عملی زندگی میں عام شہری اپنی شناخت اور قانونی حیثیت ثابت کرنے کے لیے انہی سرکاری دستاویزات پر انحصار کرتا ہے جو حکومت خود جاری کرتی ہے۔ اگر انہی دستاویزات کے بارے میں وقتاً فوقتاً مختلف وضاحتیں سامنے آئیں تو اس سے نہ صرف عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ سرکاری نظام کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔ نغمہ نگار جاوید اختر نے نہایت اہم سوال اٹھایا کہ کیا حکومت کسی شخص کی شہریت کی تصدیق کیے بغیر اسے پاسپورٹ جاری کر سکتی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر پاسپورٹ کو شہریت کے ثبوت سے مکمل طور پر الگ قرار دینے کی منطق کیا ہے؟ ایک طرف حکومت پاسپورٹ کے حصول کے لیے سخت جانچ پڑتال، پولیس ویری فکیشن، دستاویزات کی تصدیق اور مختلف قانونی مراحل سے گزارتی ہے لیکن دوسری طرف یہی کہہ رہی ہے کہ پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں۔ اگر ان تمام مراحل کے بعد بھی حکومت یہ کہتی ہے کہ پاسپورٹ شہریت ثابت نہیں کرتا تو پھر اس عمل کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں پاسپورٹ کو قانونی اعتبار سے "شہریت کا حتمی ثبوت” نہیں بلکہ شہریت کی بنیاد پر جاری ہونے والی سفری دستاویز تصور کیا جاتا ہے لیکن وہاں اس کے ساتھ ایک واضح اور مربوط شہریت کا نظام بھی موجود ہوتا ہے۔ کئی ممالک میں قومی شناختی نظام، رجسٹرڈ سٹیزن شپ ریکارڈ یا دیگر قانونی دستاویزات موجود ہیں جن کی بنیاد پر کسی شخص کی شہریت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان میں صورتحال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ یہاں ابھی تک ایسا کوئی واحد قومی شہریت کارڈ موجود نہیں جسے ہر ادارہ بلا اختلاف قبول کرتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وزارت خارجہ کے حالیہ بیان نے عوامی سطح پر تشویش کو جنم دیا۔
دسمبر 2019 میں پریس انفارمیشن بیورو نے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے اس وقت تک ان دستاویزات کی حتمی فہرست طے نہیں کی جن کی بنیاد پر شہریت ثابت کی جائے گی۔ اس بیان کے کئی برس بعد بھی اگر یہی سوال برقرار ہے کہ شہریت ثابت کرنے والی بنیادی دستاویز کون سی ہے تو یقیناً یہ ایک سنجیدہ پالیسی مسئلہ ہے جس پر حکومت کو واضح رہنمائی فراہم کرنی چاہیے۔ حکومت کی تقریباً ہر اہم خدمت کسی نہ کسی سرکاری شناختی دستاویز سے وابستہ ہے۔ بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے ایک دستاویز درکار ہے، انکم ٹیکس کے لیے دوسری، ووٹ ڈالنے کے لیے تیسری، بین الاقوامی سفر کے لیے چوتھی اور دیگر سرکاری سہولیات کے لیے مختلف دستاویزات طلب کی جاتی ہیں۔ جب شہری برسوں تک انہی دستاویزات کی بنیاد پر اپنی قانونی شناخت ثابت کرتا رہتا ہے تو پھر اچانک ان میں سے کسی ایک کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ شہریت کا ثبوت نہیں فطری طور پر ذہنی اضطراب پیدا کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس بیان کے بعد ہزاروں افراد نے مختلف سوالات اٹھائے۔ بعض صارفین نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ اگر آدھار شناخت نہیں، ووٹر کارڈ شہریت نہیں، پین کارڈ شہریت نہیں اور پاسپورٹ بھی شہریت کا ثبوت نہیں تو پھر آخر ایک ہندوستانی شہری اپنی شناخت کس بنیاد پر قائم کرے؟ بعض افراد نے یہ بھی لکھا کہ اگر مستقبل میں کسی سرکاری افسر کے سامنے شہریت ثابت کرنے کی نوبت آئے تو وہ آخر کون سا کاغذ پیش کریں گے؟ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو واضح، شفاف اور غیر مبہم قوانین فراہم کرے۔ اگر قانون اپنی تشریح میں ابہام پیدا کرے یا سرکاری بیانات عوام کو مزید الجھن میں مبتلا کریں تو اس کا اثر براہ راست ریاست اور شہریوں کے باہمی اعتماد پر پڑتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ پاسپورٹ کسی نجی ادارے کی جانب سے جاری نہیں کیا جاتا بلکہ حکومت ہند کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ اس کے حصول کے لیے درخواست گزار کو اپنی شناخت، رہائش، پیدائش اور دیگر ضروری معلومات فراہم کرنی پڑتی ہیں جن کی مختلف مراحل میں جانچ ہوتی ہے۔ اسی لیے عام شہری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا بالکل فطری ہے کہ اگر حکومت خود تمام تصدیقات کے بعد پاسپورٹ جاری کرتی ہے تو پھر اس کی قانونی حیثیت کو اس انداز میں محدود کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ وزارت خارجہ نے بعد ازاں وضاحت کی کہ اس کا مؤقف بمبئی ہائی کورٹ کے 2013 کے ایک فیصلے کے مطابق ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاسپورٹ بنیادی طور پر ایک سفری دستاویز ہے نہ کہ شہریت کا حتمی قانونی سرٹیفکیٹ۔ قانونی اعتبار سے اس وضاحت کی اپنی اہمیت ہو سکتی ہے لیکن حکومت کی ذمہ داری صرف قانونی اصطلاحات بیان کرنا نہیں بلکہ عوام کو ان اصطلاحات کا مفہوم بھی واضح کرنا ہے۔ اگر قانونی حقیقت اور عوامی فہم کے درمیان خلیج پیدا ہو جائے تو اس کے نتیجے میں غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جیسا کہ اس معاملے میں دیکھنے میں آیا۔ ہندوستانی آئین کے مطابق شہریت کا تعین آئینی و قانونی دفعات کے تحت ہوتا ہے نہ کہ صرف کسی ایک دستاویز کی بنیاد پر۔ لیکن چونکہ عملی زندگی میں ہر شہری اپنی شناخت انہی سرکاری دستاویزات کے ذریعے ثابت کرتا ہے اس لیے حکومت پر لازم ہے کہ وہ یہ واضح کرے کہ مختلف دستاویزات کی قانونی حیثیت کیا ہے، ان کا دائرہ کار کہاں تک ہے اور اگر کسی موقع پر شہریت ثابت کرنا ضروری ہو تو شہری کس طریقہ کار اور کن دستاویزات سے اپنی قانونی حیثیت ثابت کرے گا؟ ایسے حساس معاملات میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی خدشات کو سیاسی فائدے کا ذریعہ بنانے کے بجائے سنجیدگی سے حل تلاش کریں۔ اگر حکومت واقعی یہ سمجھتی ہے کہ عوام اس بیان کو غلط انداز میں سمجھ رہے ہیں تو اسے چاہیے کہ ایک جامع وضاحتی دستاویز جاری کرے جس میں شہریت، شناخت، رہائش اور سفری دستاویزات کے درمیان قانونی فرق کو آسان زبان میں بیان کیا جائے تاکہ کسی بھی شہری کے ذہن میں غیر ضروری خوف یا ابہام باقی نہ رہے۔ آج ہندوستان کو شہریت اور شناخت سے متعلق ایک ایسی واضح، جامع اور یکساں پالیسی کی ضرورت ہے جسے ہر شہری آسانی سے سمجھ سکے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ شناختی دستاویز، رہائشی دستاویز، سفری دستاویز اور شہریت کے قانونی ثبوت میں کیا فرق ہے اور اگر کسی مرحلے پر اپنی شہریت ثابت کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کے لیے حکومت کی طرف سے تسلیم شدہ قانونی طریقہ کار کیا ہوگا؟ جب تک اس سلسلے میں مکمل شفافیت نہیں آئے گی اس نوعیت کے بیانات بار بار نئی بحثوں کو جنم دیتے رہیں گے۔ جمہوری حکومت کا فرض صرف قوانین نافذ کرنا نہیں بلکہ عوام کو ان قوانین کی درست تفہیم فراہم کرنا بھی ہے۔ اگر کروڑوں شہری ایک ہی سرکاری بیان کو مختلف انداز میں سمجھ رہے ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مزید وضاحت کی ضرورت موجود ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی خدشات کو محض سیاسی ردِعمل قرار دے کر نظر انداز نہ کرے بلکہ ان کے سوالات کا مدلل اور دو ٹوک جواب دے۔ اپوزیشن جماعتوں چاہیے کہ وہ عوامی تشویش کو آئینی و قانونی بنیادوں پر حکومت کے سامنے رکھیں اور ایسا ماحول پیدا کریں جس میں شفافیت، جواب دہی اور آئینی وضاحت کو فروغ ملے۔ اگر ہر معاملے کو صرف سیاسی کشمکش کا ذریعہ بنا دیا جائے تو اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور عوام بدستور ابہام کا شکار رہتے ہیں۔ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مساوی حقوق اور قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسی آئینی روح کا تقاضا ہے کہ شہریت جیسے بنیادی مسئلے پر کسی بھی قسم کی غیر یقینی کیفیت باقی نہ رہے۔ ریاست کو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہر شہری اپنے حقوق، قانونی حیثیت اور اپنی شناخت کے بارے میں مکمل اطمینان رکھ سکے۔ ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد صرف مضبوط ادارے نہیں بلکہ باشعور، مطمئن اور پُر اعتماد شہری بھی ہوتے ہیں۔ پاسپورٹ سے متعلق حالیہ تنازع نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایک سرکاری بیان بھی پورے ملک میں آئینی اور قانونی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے حکومت اس معاملے پر ایک جامع، تفصیلی اور غیر مبہم وضاحت جاری کرے جس میں یہ واضح کیا جائے کہ پاسپورٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ شہریت کے تعین کے لیے کون سے اصول نافذ ہیں اور مستقبل میں کسی بھی شہری کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے کن دستاویزات اور کن قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا؟ اگر حکومت بروقت اور واضح انداز میں ان سوالات کے جوابات فراہم کرتی ہے تو نہ صرف موجودہ ابہام ختم ہوگا بلکہ آئندہ بھی اس نوعیت کی غیر ضروری بحثوں کا راستہ بند ہو جائے گا۔ اگر یہ معاملہ اسی طرح غیر واضح رہا تو عوامی خدشات، سیاسی اختلافات اور قانونی سوالات مسلسل بڑھتے رہیں گے جو کسی بھی مضبوط جمہوری نظام کے لیے مناسب صورتِ حال نہیں سمجھی جا سکتی۔ اس لیے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ شہریت جیسے بنیادی اور حساس موضوع پر شفافیت، آئینی وضاحت اور عوامی اعتماد کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ ہر ہندوستانی شہری بلا خوف و تردد اپنی قانونی حیثیت سے پوری طرح مطمئن رہ سکے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے