دو تہائی اکثریت یا آئینی انضمام؟
قانونِ انسدادِ انحراف اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا ایک مطالعہ
مضمون نگار: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755
جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں، بلکہ یہ سیاسی اصولوں، جماعتی نظم و ضبط، عوامی اعتماد اور آئینی وفاداری کا ایک ایسا مربوط نظام ہے جس کی بنیاد عوام کے مینڈیٹ پر استوار ہوتی ہے۔ ووٹر جب کسی امیدوار کو منتخب کرتا ہے تو وہ درحقیقت ایک فرد سے زیادہ اس سیاسی جماعت کے نظریے، منشور اور اجتماعی پروگرام پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے جس کے پرچم تلے وہ امیدوار میدانِ انتخاب میں اترا ہوتا ہے۔ اسی لیے پارلیمانی جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کو محض انتخابی پلیٹ فارم نہیں بلکہ آئینی اداروں کی حیثیت حاصل ہے۔
یہی پس منظر تھا جس میں ہندوستانی آئین میں ۱۹۸۵ کی باون ویں آئینی ترمیم کے ذریعے دسویں شیڈول شامل کیا گیا، جسے عام طور پر انسدادِ انحراف یا اینٹی ڈیفیکشن قانون کہا جاتا ہے۔ اس قانون کا مقصد صرف منتخب نمائندوں کی وفاداریوں میں تبدیلی کو منظم کرنا نہیں تھا بلکہ عوام کے اس اعتماد کی حفاظت کرنا بھی تھا جو وہ اپنے ووٹ کے ذریعے کسی سیاسی جماعت کے حق میں ظاہر کرتے ہیں۔ ابتدائی طور پر دسویں شیڈول میں دو طرح کے استثنا موجود تھے: تقسیم اور انضمام۔ تقسیم کی شق کے تحت اگر کسی جماعت کے ایک تہائی اراکین علیحدہ ہو جاتے تو وہ نااہلی سے محفوظ رہ سکتے تھے، تاہم اس شق سے وسیع پیمانے پر استفادہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں قانون کی مؤثریت متاثر ہونے لگی۔ چنانچہ ۲۰۰۳ میں ۹۱ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تقسیم کی شق کو ختم کر دیا گیا اور یوں صرف انضمام کو ہی نااہلی سے استثنا کا واحد آئینی راستہ باقی رکھا گیا۔
حالیہ عرصے میں ترنمول کانگریس، شیو سینا اور عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندوں کی سیاسی وابستگیوں میں تبدیلی نے ایک مرتبہ پھر انسدادِ انحراف کے قانون کی تشریح، اس کی حدود اور اس کے عملی نفاذ کے حوالے سے نئی آئینی بحث کو جنم دیا ہے۔
انحراف مخالف قانون کا مقصد
دسویں شیڈول کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ منتخب نمائندہ انتخاب جیتنے کے بعد اپنی جماعت سے علیحدگی اختیار کرکے سیاسی مصلحت یا حکمتِ عملی کے تحت کسی دوسری جماعت میں شامل نہ ہو سکے۔
سپریم کورٹ نے کیہوٹو ہولوہان بنام زچلہو (۱۹۹۳) میں واضح کیا کہ سیاسی جماعتیں ہندوستانی جمہوریت کا بنیادی ستون ہیں۔ عوام کسی امیدوار کو صرف اس کی ذاتی حیثیت پر نہیں بلکہ اس جماعت کے منشور، نظریات اور سیاسی پروگرام کی بنیاد پر منتخب کرتے ہیں جس کا وہ نمائندہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اگر کوئی منتخب نمائندہ بعد میں اپنی جماعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے تو وہ عوامی مینڈیٹ سے عدم مطابقت کی صورت پیدا کرتا ہے۔ اسی مقدمے میں سپریم کورٹ نے دسویں شیڈول کو آئینی قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ نااہلی کے معاملات میں اسپیکر محض ایوان کے سربراہ نہیں بلکہ ایک نیم عدالتی اتھارٹی کے طور پر کام کرتے ہیں، لہٰذا ان کے فیصلے عدالتی نظرثانی کے تابع ہوتے ہیں۔
اصل سیاسی جماعت اور قانون ساز جماعت
موجودہ آئینی اختلافات کی بنیاد ایک اہم آئینی اصطلاح میں پوشیدہ ہے، جسے اکثر سیاسی مباحث میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
دسویں شیڈول دو الگ اکائیوں کو تسلیم کرتا ہے۔
اوّل، اصل سیاسی جماعت، یعنی وہ جماعت جو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے، امیدواروں کو انتخابی ٹکٹ جاری کرتی ہے، منشور مرتب کرتی ہے اور اپنی تنظیمی شناخت رکھتی ہے۔
دوم، قانون ساز جماعت، جس سے مراد پارلیمنٹ یا اسمبلی کے اندر کسی سیاسی جماعت کے منتخب اراکین کا وہ گروہ ہے جو ایوان میں اس جماعت کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ دونوں تصورات باہم مربوط تو ہیں، لیکن ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ قانون ساز جماعت اپنی آئینی اور سیاسی شناخت بنیادی سیاسی جماعت سے حاصل کرتی ہے، اس کا کوئی آزاد یا خود مختار وجود نہیں ہوتا۔
اگر چند منتخب اراکین اپنی اصل سیاسی جماعت سے علیحدگی کا اعلان کریں، یا محض عددی اکثریت کی بنیاد پر خود کو ایک الگ گروہ قرار دیں، یا اس سے بھی آگے بڑھ کر خود کو اصل جماعت کا نمائندہ قرار دیں، جیسا کہ حالیہ واقعات میں دیکھا گیا ہے، تو موجودہ آئینی ڈھانچے میں اس کے لیے واضح قانونی بنیاد دکھائی نہیں دیتی۔
اسی اصول کو سپریم کورٹ نے سبھاش دیسائی بنام پرنسپل سیکریٹری، حکومتِ مہاراشٹرا (۲۰۲۳)میں واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایوان میں پارلیمانی قیادت، چیف وہپ اور قانون ساز جماعت کی شناخت کا تعین اصل سیاسی جماعت ہی کرتی ہے، نہ کہ کوئی علیحدہ گروہ۔
انحراف اور انضمام: دو مختلف آئینی تصورات
حالیہ سیاسی مباحث میں سب سے زیادہ مختلف تشریح دسویں شیڈول کے پیراگراف چار کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔
عام طور پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اگر کسی جماعت کے دو تہائی ارکان دوسری جماعت میں شامل ہو جائیں تو وہ خودبخود نااہلی سے محفوظ ہو جاتے ہیں، حالانکہ قانون اس سے کہیں زیادہ محدود اور مشروط استثنا فراہم کرتا ہے۔
پیراگراف چار دو لازمی شرائط عائد کرتا ہے۔
اوّل، اصل سیاسی جماعت کا کسی دوسری جماعت میں حقیقی اور تنظیمی انضمام۔
دوم، اس انضمام سے قانون ساز جماعت کے کم از کم دو تہائی ارکان کا اتفاق۔
گویا دو تہائی ارکان کی موجودگی بذاتِ خود انضمام نہیں بناتی بلکہ وہ صرف پہلے سے وقوع پذیر ہونے والے جماعتی انضمام کی توثیق کرتی ہے۔ اسی لیے متعدد آئینی ماہرین یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اگر اصل سیاسی جماعت برقرار رہے تو صرف ارکان کی اجتماعی علیحدگی کو انضمام قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ وہ آئینی اعتبار سے انحراف ہی شمار ہوگی۔
موجودہ سیاسی مباحث میں سب سے اہم آئینی سوال یہ ہے کہ دو تہائی منتخب نمائندوں کے اکٹھا ہو جانے کو خودبخود انضمام سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ آئین اس تصور کو اس انداز میں قبول نہیں کرتا۔
آئین یہ نہیں کہتا کہ دو تہائی ارکان خود کسی دوسری جماعت میں ضم ہو سکتے ہیں۔ آئین یہ کہتا ہے کہ اگر اصل سیاسی جماعت کسی دوسری جماعت میں ضم ہو جائے اور اس کے بعد قانون ساز جماعت کے کم از کم دو تہائی ارکان اس انضمام کی تائید کریں تو وہ نااہلی سے محفوظ رہیں گے۔ گویا انضمام جماعت کا ہوتا ہے، ارکان کا نہیں۔
ترنمول کانگریس میں حالیہ اختلافات نے اسی آئینی سوال کو عملی صورت دے دی ہے۔
حال ہی میں مغربی بنگال اسمبلی میں تقریباً اسی ارکان نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کی، جبکہ لوک سبھا میں بھی بڑی تعداد میں ارکان نے الگ پارلیمانی گروپ تشکیل دے کر اسے علیحدہ گروپ کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے اسپیکر سے ملاقات کی اور درخواست پیش کی۔
یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک علیحدہ گروہ اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر خود کو قانون ساز جماعت قرار دے سکتا ہے؟
سپریم کورٹ کے سبھاش دیسائی بنام پرنسپل سیکریٹری، حکومتِ مہاراشٹر (۲۰۲۳)کے فیصلے کی روشنی میں اس سوال کی تائید مشکل دکھائی دیتی ہے، کیونکہ قانون ساز جماعت کی آئینی حیثیت اصل سیاسی جماعت سے الگ نہیں ہو سکتی۔
اسی بنیاد پر کلکتہ ہائی کورٹ نے اسپیکر سے یہ سوال بھی کیا کہ پارٹی سے خارج کیے گئے ایک منحرف رکن کو قائدِ حزبِ اختلاف کس قانونی بنیاد پر تسلیم کیا گیا۔
یہ آئینی اختلاف محض کسی ایک عہدے کا نہیں بلکہ پارلیمانی جمہوریت کے اس بنیادی اصول سے متعلق ہے کہ اپوزیشن کی قیادت اسی سیاسی جماعت کے اختیار سے وجود میں آتی ہے جس کی وہ نمائندگی کرتی ہے۔
عام آدمی پارٹی کا مقدمہ
اسی نوعیت کا ایک اور آئینی سوال اس وقت پیدا ہوا جب راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے دس میں سے سات ارکان نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔
علیحدگی اختیار کرنے والے ارکان کا مؤقف تھا کہ چونکہ ان کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے، اس لیے وہ پیراگراف چار کے تحت نااہلی سے محفوظ ہیں۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارٹی کا تنظیمی انضمام سرے سے نہیں ہوا، اس لیے پیراگراف چار کے اطلاق کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
یہ مقدمہ اس لیے بھی خصوصی آئینی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اس میں پہلی مرتبہ راجیہ سبھا کے چیئرمین نے انضمام کو قبول کیا، حالانکہ اس فیصلے کی تفصیلی آئینی وجوہات ابھی تک عوامی سطح پر سامنے نہیں آئیں۔
عدالتی نظائر:
سپریم کورٹ نے ڈاکٹر مہاچندر پرساد سنگھ بنام چیئرمین، بہار قانون ساز کونسل (۲۰۰۴)میں بھی اس بات پر زور دیا کہ دسویں شیڈول کی تشریح اس کے بنیادی مقصد کو سامنے رکھ کر کی جائے، نہ کہ ایسی تشریح اختیار کی جائے جو انحراف کے امکانات کو وسعت دے۔
اسی طرح سبھاش دیسائی بنام پرنسپل سیکریٹری، حکومتِ مہاراشٹر (۲۰۲۳)میں عدالت نے واضح کیا کہ قانون ساز جماعت کو اصل سیاسی جماعت سے الگ تصور کرنا دسویں شیڈول کے بنیادی مقصد سے ہم آہنگ نہیں ہوگا۔
البتہ گریش چوڈنکر بنام اسپیکر، گوا اسمبلی (۲۰۲۲)میں بمبئی ہائی کورٹ نے نسبتاً وسیع تشریح اختیار کرتے ہوئے قرار دیا کہ بعض حالات میں دو تہائی ارکان کی اجتماعی شمولیت کو انضمام کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔ یہی عدالتی اختلاف آج ترنمول کانگریس اور عام آدمی پارٹی جیسے مقدمات کو آئینی طور پر مزید قابلِ غور بنا رہا ہے۔
اسپیکر کا کردار اور غیر جانبداری
انسدادِ انحراف قانون کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ نااہلی کا ابتدائی فیصلہ اسپیکر یا چیئرمین کرتے ہیں، حالانکہ وہ خود بھی کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے گزشتہ چند برسوں میں شیو سینا، کرناٹک، تلنگانہ، منی پور اور اب عام آدمی پارٹی جیسے مقدمات میں یہ سوال مسلسل زیرِ بحث رہا ہے کہ آیا موجودہ آئینی ڈھانچہ ایسے معاملات میں مکمل غیر جانبداری کے تقاضوں کو مؤثر انداز میں پورا کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے ۲۰۲۲ میں انہی تحفظات کے تناظر میں سفارش کی تھی کہ دسویں شیڈول کے مقدمات کسی آزاد آئینی ٹریبونل کے سپرد کیے جائیں تاکہ انصاف نہ صرف ہوتا ہوا نظر آئے بلکہ اس پر عوام کا اعتماد بھی مضبوط رہے۔ یہ سفارش اس احساس کی عکاس ہے کہ آئینی انصاف کے لیے غیر جانب دار ادارہ جاتی طریقۂ کار نہایت اہم ہے۔
ترنمول کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے حالیہ اختلافات نے واضح کر دیا ہے کہ دسویں شیڈول کو درپیش اہم ترین آئینی چیلنج اب محض انفرادی انحراف نہیں بلکہ اجتماعی جماعتی علیحدگیوں کی آئینی حیثیت ہے۔
آئین کی موجودہ ساخت اور سپریم کورٹ کے غالب رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دو تہائی ارکان کی موجودگی، بذاتِ خود، قانونی انضمام کے قیام کے لیے کافی نہیں سمجھی جاتی۔ اصل شرط سیاسی جماعت کا تنظیمی انضمام ہے، جبکہ قانون ساز جماعت اس انضمام کی صرف توثیق کر سکتی ہے۔اگر اس اصول سے صرفِ نظر کیا جائے تو انسدادِ انحراف کے قانونی نظام کی مؤثریت متاثر ہو سکتی ہے اور سیاسی مصلحت پر مبنی جماعتی تبدیلیوں کے لیے آئینی استثنا کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ اس قانون کا بنیادی مقصد عوامی مینڈیٹ اور جماعتی استحکام کا تحفظ ہے۔اس لیے مستقبل میں سپریم کورٹ کو غالباً ایک مرتبہ پھر اس بنیادی سوال کا حتمی جواب دینا ہوگا کہ کیا دو تہائی ارکان خود انضمام کر سکتے ہیں، یا انضمام ہمیشہ اصل سیاسی جماعت ہی کا ہوتا ہے۔ اسی سوال کا جواب ہندوستان میں انسدادِ انحراف کے قانون کی آئندہ سمت کا تعین کرے گا۔