عدلیہ کی ناانصافی کا شکار کمال مولیٰ مسجد

عدلیہ کی ناانصافی  کا شکار کمال مولیٰ مسجد

عدلیہ کی ناانصافی کا شکار کمال مولیٰ مسجد

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع کمال مولیٰ مسجد کے قریب سپریم کورٹ نے ابھی حال میں مسلمانوں کو نماز کی اجازت کیا دے دی کہ ہر طرف تعریف و توصیف کے شادیانے بجنے لگے لیکن اس فیصلے کو اس لیے گہرائی سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اسی چیف جسٹس سوریہ کانت نے دیا ہے جنھوں نے ملک کے نوجوانوں کو کاکروچ کہا تھا ۔ موصوف کی آر ایس ایس سے قربت جگ ظاہر ہے۔ ان کا اس مقدمہ کو کسی اور بینچ کے حوالے کرنے کے بجائے اپنے پاس رکھنا بجائے خود شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ سپریم کورٹ کے بقول یہ فیصلہ حتمی نہیں بلکہ عبوری انتظام ہے اس لیے اسے کسی بھی فریق کے حقوق یا دعوؤں کی تصدیق نہ تصور کیا جائے ۔ عدالت نے اس انتظام کا مقصد مقدمے کے آخری فیصلے تک امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنا بتایا تاکہ کسی بھی فریق کو تکلیف نہ ہو اور مسلم فریق پہلے کی طرح نماز بھی ادا کر سکے۔ان چکنی چپڑی باتوں میں لپیٹ کر عدالتِ عظمیٰ نے یہ احسان عظیم کیا کہ بھوج شالہ احاطے سے متصل ایک کھلی جگہ مسلم فریق کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے فراہم کرنے کا حکم دے دیا ۔
کمال مولیٰ مسجد سے متصل کھلے میں نماز پڑھنا پہلے والی حالت تو نہیں ہے ۔ اس طرح گویا ایک عبوری حکم کے ذریعہ مسلمانوں کو کمال مولیٰ مسجد سے باہر کردیا گیا ۔ اب اگرپہلے ہی مرحلے میں ڈنڈی مار دی گئی تو بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آگے چل کر چیف جسٹس کیا گل کھلائیں گے ؟ یہاں یہ تو کہا گیا کہ دونوں فریقوں کو احاطے کے اندر نماز اور پوجا کی اجازت دی جائے گی مگر ہندو فریق کو پوجا کے لیے اضافی وقت کی یقین دہانی بھی کی گئی اور مسلم فریق احاطے سے متصل جس کھلی جگہ میں جمعہ کی نماز پڑھے گا اسے بند کرنے کا فرمان بھی جاری کردیا گیا یعنی ممکن ہے آگے چل کر کمال مولیٰ مسجد پر غاصبانہ قبضہ کرنے کے بعد اس نئے مقام کو متبادل جگہ کے طور پر منتقل کردیا جائے۔ اس کے بعد بھوج شالا کی تشہیر کرکے معتقدین کو جمع کر کے ان کے چندے کی لوٹ مچائی جائے۔ کیونکہ فی زمانہ چندہ چوری سے بہترکوئی دھندا نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ کے اس عارضی فیصلےکو انصاف نہیں ناانصافی کے لیے ماحول سازی کہتے ہیں۔ چیف جسٹس کو اگر انصاف کرنا ہوتا تو یہ کہہ کر مقدمہ خارج کردیتے کہ ملک میں رائج قانون کے مطابق آزادی کے وقت جو عبادتگاہ جس کے پاس تھی اسی کے پاس رہے گی ۔ اس ایک مختصر جملے کے بجائے فضول کی لفاظی نیت میں کھوٹ کا اشارہ کرتی ہے۔

اس حکمنامہ نے بظاہر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا مگرحقیقت میں معاملہ اس ناعاقبت اندیشی کی جانب بڑھایا جارہا جس میں کمال مولیٰ مسجد کو بھوج شالہ اور سرسوتی کے نام سے منسوب مندر قرار دیاگیا تھا۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ بھوج شالہ ماں سرسوتی کا قدیم مندر ہے، جبکہ مسلم فریق اس کو کمال مولا مسجد بتاتا ہے۔ اس مقدمہ کی سماعت کے دوران مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ کے حکم نے برسوں سے برقرار اسٹیٹس کو ختم کردیا ہے اور اس سے مسلم برادری کے مذہبی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اندر مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت میں کہا کہ ہندوستان کئی تہوں پر مشتمل تاریخ رکھنے والا ملک ہے اور ماضی کے ہر تاریخی واقعے کی بنیاد پر موجودہ نظام کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کا مشہور قول دہراتے ہوئے کہا کہ “آنکھ کے بدلے آنکھ کی پالیسی اپنانے سے پوری دنیا اندھی ہو جائے گی۔” سنگھوی نے دلیل بھی دی کہ ممکن ہے کہ کچھ مقامات پر کبھی مندر رہے ہوں، لیکن صرف اسی بنیاد پر تاریخ کو پلٹ دینا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے اپنے مؤقف کے حق میں تاج محل سے متعلق ایک پرانے مقدمے کا بھی حوالہ دیا۔

منو سنگھوی کا یہ مدافعانہ انداز کیس کو کمزور کرتا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اندرمسلم فریق 11؍ویں صدی کی اس یادگا رکے بارے میں ناقابل تردید تاریخی شواہد اور دلائل پیش کرچکا ہے مگر بدقسمتی سے جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل بنچ نے ایودھیا جیسے فیصلہ کی نقل کرتے ہوئے ہندو فرنٹ فار جسٹس اور دیگر کی طرف سے دائر درخواستوں کوتسلیم کرکے اس مقام کو مندر قرار دے دیا۔مدھیہ پردیش کی عدالت عالیہ نے2003ء میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی طرف سے جاری کردہ اس حکم کو بھی منسوخ کردیا جس میں مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کی اجازت دی گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے مسلمانانِ دھار کو کسی اور مقام پر مسجد کی تعمیر کیلئے زمین الاٹ کرنے کی درخواست کرنے کا جو مشورہ دیا ، سپریم کورٹ بھی گھما پھرا کر وہی کررہا ہے۔ کمال مولیٰ مسجد آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی نگرانی میں ہے۔ اے ایس آئی نے یہ درمیانی راستہ نکالا تھا کہ ہندو برادری کو منگل کے دن پوجا کرےگی اور مسلمان جمعہ کے دن نماز پڑھیں گے۔

اے ایس آئی کی اس ناانصافی کو بنیاد بناکر ہندووں نے پورے احاطے پر دعویٰ ٹھونک دیا ۔ اس پرہائی کورٹ نے سائنسی سروے کا حکم دیا جس پر مسلمانوں کی اپیل کے بعد سپریم کورٹ نے عارضی طور پر روک لگادی ۔ بعد ازاں، سپریم کورٹ نے سروے رپورٹ کو سیل کرکے، فریقین کو کاپیاں فراہم کرنے اور حتمی سماعت پر ان کے اعتراضات پر غور کرنے کی ہائی کورٹ کو ہدایت دے دی ۔مسلمانوں نے دلیل دی تھی کہ خلجی دور کے تاریخی ریکارڈ اور معاصر دستاویز میں دھار میں کسی سرسوتی مندر کی تباہی کا ذکر نہیں ہے۔ مسلمانوں نے دھار ریاست کی طرف سے جاری اس گزٹ نوٹیفیکیشن کو بھی پیش کیا جس میں دھار کے حکمراں نے مسلمانوں کو اس مقام پر نماز کی اجازت دی تھی۔یہ نوٹیفیکیشن 1935ء میں جاری کیا گیاتھا،لیکن مرکزی حکومت نے اس نوٹیفیکیشن کے جواز پر سوال اٹھایا تھا۔ اس سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ1935 سے پہلے اور بعد میں یہ عبادتگاہ مسلمانوں کے استعمال میں تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے یہ دلیل دی گئی تھی کہ اس گزٹ نوٹیفیکیشن کو کبھی بھی حکومت نےکالعدم یامنسوخ نہیں کیا ۔

ہائی کورٹ نے ان شواہد کو پسِ پشت ڈال کر یہ فیصلہ سنا دیا کہ اس نے اس جگہ پر ہندو عبادت کے تسلسل کو نوٹ کیا جو خلافِ حقیقت ہے۔ عدالت کے اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ تاریخی لٹریچر کے مطابق یہ مقام راج بھوج سے منسلک اور سنسکرت سیکھنے کے ایک مرکز کے طور پر قائم رہی ہےاور وہ دھار میں دیوی سرسوستی کے لئے وقف مندر کے وجود کی نشاندہی کرتا ہے۔ اپنی اس من مانی کے لیے اس نے محکمۂ آثار قدیمہ کا سائنسی طریق کی تفتیش کو ہی ناقص اور فریق مخالف کے دعوے کو تقویت عطا کرنے والا بتا دیا ۔ مسلمانوں نے گزٹ کا حوالہ دے کر جب کہا کہ کمال مولیٰ مسجد میں 400؍ سال سے زائد عرصہ تک نماز ادا کی گئی اور اس کی حیثیت کو تبدیل کرنا مذہبی استعمال کی خلاف ورزی ہوگا نیز احاطے میں پانی کا کو مصلیان کے وضوگاہ بتایا ۔اس کے جواب ہندو فریق نے محکمۂ آثار قدیمہ کی 2؍ ہزار صفحات کی رپورٹ سے کندہ کاری کا حوالہ دیا اور وہاں سے 97؍ ہندو مورتیاں، سکے، اور ستون برآمد کئےجانے کی بات کہی ۔ ہندو فریق نے 2003ء کے ایڈمنسٹریٹیو آرڈر کو امتیازی بتاتے ہوئے کہا کہ اس نے روزانہ پوجا کا سلسلہ ختم کرکے ہفتے میں صرف ایک دن (منگل) کی قید لگا دی تھی۔

سوال یہ ہے مرکزی حکومت کے تحت کام کرنے والا اے ایس آئی ایک ایسے وقت میں مسلمانوں کی جانبداری کیسے کرے گا جبکہ 2003میں اٹل بہاری واجپائی وزیر اعظم تھے۔سر سنگھ چالک موہن بھاگوت بھی کہہ چکے ہیں کہ ہر مسجد کے نیچے شیولنگ ڈھونڈنا ضروری نہیں ہے۔ اس لیے عدالت کو اول تو تحفظِ عبادتگاہ قانون کےپیش نظراس مقدمات کو خارج کردینا چاہیے یا پھر تاریخی حقائق کی بنیاد پر غیر جانبدارانہ دو ٹوک فیصلہ کرنا چاہیے مگر افسوس کہ سپریم کورٹ نے متھرا (شاہی عیدگاہ)، سنبھل (شاہی جامع مسجد) اور کاشی (گیانواپی) تنازعات کو "سمادھان سماروہ” (لوک عدالت) کے ذریعے باہمی رضامندی سے حل کرنے کی تجویز پیش کر دی ۔ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ ہندو اور مسلم دونوں فریقوں نے ثالثی کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اور عدالتی قانونی چارہ جوئی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ عدالت کی نیت پرمسلمانوں کا اعتماد نہیں ہے۔ بابری مسجد کے فیصلے سے خوش ہندووں کوحتمی فیصلہ انہیں کے حق میں آنےکی امید ہے گا کیونکہ عدالتیں حکومت کے دباو میں فیصلہ سنائیں گی لیکن یہ حکومت اور اس کا دباو کب تک رہے گا؟ ایودھیا سے بدری ناتھ اور مہاکال سے مہاکمبھ تک چندہ چوری کے الزامات نے موجودہ حکومت پر ہندو اکثریت کا اعتماد متزلزل کردیا ہے اور قوی امکان ہے کہ وہ بہت جلد اس مصیبت سے پیچھا چھڑا لیں گے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے