گریٹر اسرائیل کاچورن بیچ کر اپنی عوام کو بیوقوف بنانا اور غیر ملکی دوروں پر اپنے ملک کے لوگوں کو جمع کرکے ان سے خطاب کرنا یا س دوران اعلیٰ ترین اعزاز لےکر اپنی پیٹھ تھپتھپاناسفارتکاری نہیں نوٹنکی ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرکے عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو ایک نیا رُخ دے دیا ۔ اس اقدام کا مقصد دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور اجتماعی روک تھام کے نظام کو مضبوط بنا کر علاقائی اور بین الاقوامی سطح امن و استحکام کو تقویت دینا بتایا جارہا ہے۔ یہ کوئی ہوا ہوائی میڈیائی تماشا نہیں ہے ۔ مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس کے دوران اس معاہدے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پہلے تو تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد باہمی دل چسپی کے متعدد علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا اورپھر اس تاریخی معاہدے پردستخط کئے۔ خلافت عثمانیہ میں سعودی عرب یعنی ماضی کی مملکت حجاز و نجد اور ترکیہ ایک ساتھ تھے مگر پھر مغرب نے قومیت کی بنیاد پر ان کو ایک دوسرے کا دشمن بنادیا۔ اسی لیے علامہ اقبال کو قومیت کی بابت کہنا پڑا؎ ؎
اس دور ميں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور
ساقی نے بنا کي روش لطف و ستم اور
مسلم نے بھی تعمير کيا اپنا حرم اور
تہذيب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
ان تازہ خداؤں ميں بڑا سب سے وطن ہے
جو پيرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہے
یوروپین یونین کا قیام اقوام مغرب کی جانب سے فلسفۂ قومیت سےبیزاری کا اعتراف تھا حالانکہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری تباہ کن جنگ کی بنیاد وہی قوم پرستی ہے۔ افسوس کہ مسلم ممالک بھی اس باطل نظریہ کے سحر میں گرفتار ہوکر ایک دوسرے کےدشمن بن گئے۔ امریکہ نے اسرائیل سے ڈرا کر ان ممالک میں اپنے فوجی اڈے قائم کیے اور آگے چل کر اس خوف کو ایران کی جانب موڑ دیا ۔ حماس کے رہنماوں کو شہید کرنے کی خاطر قطر پر حملہ کرکے اسرائیل نےاس مفروضے کی ٹانگ توڑ دی کہ امریکی فوجی اڈہ تحفظ کی ضمانت ہے۔ ایران نے اسرائیل سمیت امریکی اڈوں پر بمباری کرکے مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل دیا۔ مرکز توحید مکہ مکرمہ میں طے پانے والے قومیت کی بت شکن معاہدے کو اس تناظر میں دیکھنا چا ہیے ۔اس کارِ خیر کی ابتداء امسال جنوری میں پاکستان اور سعودی کے درمیان دفاعی معاہدے سے ہوئی ۔ اس میں ترکیہ کی شمولیت نے قوم پرستی کے بت کو پاش پاش کردیا۔ اس معاہدہ کسی عارضی ضرورت یا مصیبت ست چھٹکارہ پانے کے لیے نہیں کیا گیا بلکہ یہ تینوں ممالک کو جوڑنے والے تاریخی و اخلاقی روابط، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور ان کے درمیان قائم دفاعی تعاون اظہارہے۔ اس کے تحت سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان اجتماعی تحفظ کو مضبوط بنانے اور خطے و دنیا میں سکیورٹی، امن اور استحکام کے قیام میں اشتراک و تعاون کریں گے ۔ یہ بت شکن معاہدہ دراصل علامہ اقبال کے اس صدا کی بازگشت ہے؎
نظارہ ديرينہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوي خاک ميں اس بت کو ملا دے !
مکہ معاہدے کی روح تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی ہونے والا ہر مسلح حملہ کا تمام فریق ممالک پر حملہ تصور کیا جانا ہے۔یہ دراصل اجتماعی رد عمل کے اصول کو تقویت دینے اور خود مختاری کو نشانہ بنانے والے خطرات کا مل کر مقابلہ کرنے کے مشترکہ عزم کاعہدہے۔ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس اعلامیہ کے تعلق کےحوالے سے جنم لینے والی قیاس آرائیوں اور شکوک و شبہات کے ازالہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کئی برسوں سے جاری مذاکرات اور باہمی رابطوں کا نتیجہ ہے۔ اس کا مقصد امن و سلامتی سے متعلق مختلف چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سٹریٹجیک تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کرنا اقوام متحدہ کے چارٹر میں موجود دفع 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی مدافعت کے فطری حق کا تقاضہ ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد جارحیت کے کسی بھی اقدام کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت (ڈیٹرنس) کو مضبوط بنانا اور دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس کا ایک ہدف دفاعی و عسکری تعاون کے مختلف پہلوؤں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا اور تیاری کی سطح کو بلند کرنا بھی ہے تاکہ سکیورٹی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو تقویت ملے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی اور سفارتی توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ اسرائیل کے خلاف سعودی عرب کے لیے ترکی کاجدید دفاعی نظام اور پاکستان کی میزائل و جوہری ٹیکنالوجی ایک ’حفاظتی ڈھال ‘ہے۔ سفارتی سطح پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ ترکی غزہ جنگ کے خاتمے کی سفارتی کوششوں میں سرگرم رہا ہے۔یہ معاہدہ اس تناظر میں بھی اہم ہے کہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست ہے۔ فی الحال ترکی کے پاس امریکہ کے بعد نیٹو کی دوسری سب سے بڑی اورمضبوط فوج،ہے۔ جوہری صلاحیت کا حامل پاکستان، معاشی قوت کے لحاظ سے بڑا بھائی سمجھے جانے والے سعودی عرب کا یکجا ہوجانا ایک بڑا گیم چینجر ہے۔ امسال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے اور اب بعض ممالک کو سکیورٹی کی ضمانت کے احساس میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ ترکی کے آجانے سے ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ہے کیونکہ اب ترکی کا شمار دنیا میں اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک میں ترکی کی نمایاں حیثیت ہے۔ترک ساختہ جنگی ڈرونز نے یوکرین، شام، لیبیا سمیت دیگر ممالک میں جاری تنازعات کے دوران اہم کردار ادا کیا ہے۔ اپنی 80 فیصد دفاعی ضروریات خود پوری کرتا ہے۔ دفاعی سازوسامان یعنی اسلحہ بنانے والی اور عسکری خدمات فراہم کرنے والی دنیا کی سو بہترین کمپنیوں کی فہرست میں پانچ ترکی کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے۔
’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ فی الحال تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پایا ہے مگر اس میں خطے کاہر ایسا ملک شامل ہو سکتا ہے، جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور باہمی احترام، تعاون اور پرامن ذرائع سے اختلافات کے حل کے لیے آمادہ ہویعنی آگے چل کر ایران کے بھی اس میں شامل ہونے کے روشن امکانات ہیں۔ ایرانی مزاحمتی محور کے اس میں شامل ہوجانے کے بعد اس اتحاد سے مسلم دنیا کے اندر ایسی خود کفیل طاقت ابھرے گی کہ اس کی جانب کوئی آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھ سکے گا ۔ مدینہ منور تک عظیم اسرائیل میں شامل کرنے کا خواب دیکھنے والے خواب از خود بکھر جائیں گے ۔ایران کو اعتماد میں لینے کی خاطر پاکستان کےنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ اسحاق ڈار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے اہم خدوخال سے ایرانی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا اور بتایا کہ مکہ معاہدے کا مقصد اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مکہ معاہدے کے اہم نکات سے آگاہ کرنے پر شکریہ ادا کیا جبکہ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
کویتی وزیر خارجہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کو مبارکباد دی۔ دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا جبکہ کویت کے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔اس معاہدے نے اسرائیل کے ایوانوں میں بھی لرزہ طاری کردیا ہے۔ اسرائِیل کے سابق وزیرِ اعظم نے کچھ ماہ پہلے کہا تھا کہ اسرائیل کا اصل دُشمن وہ ’سُنی الائنس‘ ہے جو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مابین طے پا رہا ہے۔ نفتالی بینیٹ کے مطابق ایک نیا محور ابھر رہا ہے جس میں ترکی، قطر، اخوان المسلمین اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان شامل ہیں۔ نفتالی بینیٹ نے کہا تھا کہ یہ اتحاد اسرائیل کے خلاف دشمنی کو ہوا دے رہا ہے اور سعودی عرب پر اثر انداز ہونے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی رہنما جانتے ہیں کہ یہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص غزہ کے اندوہناک واقعات پر مسلمان ممالک کا فطری ردِعمل ہے۔مکہ معاہدے کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ کسی کو بھی خطے میں جارحیت اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کی طرف آنکھ اُٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسرائیل کے غزہ پر مظالم اور امریکہ کے ایران پر حملے نے قومیتوں میں منقسم ملت اسلامیہ میں جذبۂ اتحاد اجاگر کرگیا ہے بقول اقبال ؎
بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملّت میں گم ہو جا
نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی