اسلامی سال نَو اور شہادت ِ فاروق ِ اعظمؓ

اسلامی سال نَو اور شہادت ِ فاروق ِ اعظمؓ

اسلامی سال نَو اور شہادت ِ فاروق ِ اعظمؓ

ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160

ماہ محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے جسے ہر مسلمان اچھی طرح جانتا ہے ، اس بات سے بھی ہر مسلمان اچھی واقف ہے کہ اسلامی تقویم و کیلنڈر ماہِ محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے اور ماہِ ذوالحجہ پر ختم ہوتا ہے ، اسلامی مؤرخین ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے نزدیک اسلامی تقویم و کیلنڈر کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، اسلام ،پیغمبر اسلام ،اسلامی غزوات و فتوحات ، اسلامی تاریخی واقعات اور صحابہ وتابعین کے عظیم الشان کارنامے اسلامی تقویم وکیلنڈر کے ساتھ محفوظ ہیں نیز اسلامی فرائض و عبادات اور بہت سے احکامات بھی اسی کیلنڈر سے جڑے ہوئے ہیں ،مثلا رمضان کے روزے ، قربانی وحج بیت اللہ کے ایام ،زکوٰۃ کی فرضیت اور اس کی ادائیگی کا وقت،عدت وفات وغیرہ ،یہی وجہ ہے کہ اہل علم نے اسلامی کیلنڈر اور اس کے تواریخ یاد رکھنے کو فرض کفایہ قرار دیا ہے ،حکیم الامت حضرت تھانویؒ مشہور تفسیر بیان القرآن میں اسلامی تقویم کے متعلق لکھتے ہیں کہ’’چونکہ احکام شرعیہ کا مدار حساب قمری پر ہے اس لئے اس کی حفاظت فرض علی الکفایہ ہے پس اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنامعمول بنالے جس سے حساب قمری ضائع ہوجائے تو سب گناہگار ہوں گے اور اگر وہ محفوظ رہے تو دوسرے حساب کا استعمال بھی مباح ہے لیکن خلاف سنتِ سلف ضرور ہے اور حساب قمری کا برتنا بوجہ اس کے فرض کفایہ ہونے کے لابُدَّ افضل واحسن ہے( بیان القرآن) ،الحمد للہ ایسے بہت سے مسلمان ہیں جو اسلامی تواریخ لکھنے اور اسے یاد رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ مدارس اسلامیہ وعربیہ میں تو اس کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے اگر یہ کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ اگر اس وقت جگہ جگہ اسلامی کیلنڈر نظر آتے ہیں تو یہ انہیں کی دین ہے ۔
ماہِ محرم الحرام اور اس کی پہلی تاریخ ایک تو اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے اور ذہنوں میں محفوظ رہتی ہے کہ یہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ اور اس کی پہلی تاریخ ہے اور عموما لوگ اسے یاد بھی رکھتے ہیں مگر اس لحاظ سے بھی یہ مہینہ اور اس کی پہلی تاریخ اہمیت کی حامل ہے کہ اس پہلے مہینہ کی پہلی تاریخ کو اسلام کے اس عظیم فرزند ،جانثار رسولؐ ، رفیق سفر وحضر ، پیکر ورع وتقویٰ ، عدل وانصاف کی شان، امت مسلمہ کی جان اور مسلمانوں کے محبوب ترین قائد خلیفہ دوم کی شہادت کا واقعہ پیش آہا ہے جس نے ۲۲لاکھ مربع زمین پر اسلامی شان وشوکت اور عدل وانصاف کا پرچم لہرایا تھا جسے تاریخ میں خلیفہ دوم فاروق اعظم عمر بن خطابؓ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، فاروق اعظم ؓ کی شہادت کا واقعہ یکم محرم ۴۲ھ میں پیش آیا ، فاروق اعظمؓ کا شمار رسول اللہؐ کے انتہائی بااعتماد رفیقوں ومشیروں میں ہوتا تھا،فاروق اعظم ؓ کا تعلق قبیلہ’’ ٔ قریش‘‘ سے تھا،نیز آپؓ کو رسول اللہؐ سے رشتے داری کا شرف حاصل تھا اس طور پر کے فاروق ؓ آپ ؐ کے خسر تھے اور نبی خاتمؐ داماد تھے۔
فاروق اعظمؓ کا نسب نویں پشت میں جاکر رسول اللہ ؐ سے ملتا ہے،آپ ؓکا لقب فاروق اور کنیت ابوحفص ہے ،لقب اور کنیت دونوں رسول اللہ ؐ کی طرف سے عطاکردہ ہیں،آپ ؓ کو ستائیس سال کی عمر میں اسلام لانے کاشرف حاصل ہوا ،اس وقت لگ بھگ انتالیس مرد اور گیارہ عورتیں مشرف بااسلام ہوچکے تھے،اسلام لانے سے پہلے جیسی شدت کفر میں تھی اسلام لانے کے بعد ویسی شدت اسلام میں ہوئی ،آپ ؓ کے اسلام قبول کرنے سے اسلام کو بڑی قوت اور مسلمانوں کو بڑی راحت حاصل ہوئی ، خود رسول اللہؐ نے آپ ؓ کو اللہ تعالیٰ سے مانگا تھا اسی وجہ سے فاروق اعظمؓ کو مراد رسول کہا جاتا ہے ، امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ فرماتے تھے کہ عمرؓ مُرادِ رسول ہیں اور دیگر صحابہؓ مُرِیدِ رسول ہیں ‘‘،ایک مرتبہ رسول اللہؐ نے بارگاہ الٰہی میں ان الفاظ سے دعا فرمائی : الھم أید الاسلام بأبی الحکم بن ہشام یا عمر بن خطاب اے اللہ! عمر بن ہشام یا عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت عطا فرما،یہ دعا قبول ہوئی اور دوسرے ہی دن فاروق اعظمؓ مشرب بہ اسلام ہو گئے، ایک روایت میں ہے کہ سیدنا خباب بن ارتؓ نے فاروق اعظم ؓ سے فرمایا :اے عمر! میرے دل نے گواہی دی تھی کہ یہ دعا ئے رسولؐ عمر بن خطاب کے حق میں قبول ہوگی، آپ ؓ کے قبول اسلام کے بعد پہلی مرتبہ مسلمانوں نے علی الاعلان کعبۃ اللہ میں نماز اداکی، آپ ؓ کو اللہ تعالیٰ نے بڑا رعب اور دبدبہ عطا کیا تھا،بڑے سے بڑا پہلوان بھی آپ ؓ کے سامنے تھر تھر انے لگتا تھا ،جس گلی سے آپ ؓ گزرتے شیطان اپنا راستہ بدل دیتا تھا،آپ ؓ کے اسلام لانے کے بعد اسلام کی شوکت میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا گیا، آپ ؓ کے قبول اسلام ،ہجرت مدینہ اور دور خلافت کے متعلق ابن مسعود ؓ فرماتے تھے کہ ’’عمر فاروق ؓ کا مسلمان ہونا فتح اسلام تھا،ان کی ہجرت نصرت الٰہی تھی اور ان کی خلافت اللہ کی رحمت تھی‘‘۔
ہجرت مدینہ کے بعد جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو فاروق اعظمؓ نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور غزوۂ بدر سے لے کر گزوۂ حنین تک تمام غزوات میں اہم ترین ذمہ داریاں اپنے ذمہ لے کر بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اسے پورا کیا، حق وباطل کا پہلا معرکہ’’ جنگ بدر‘‘ میں آپ نے اپنے ہاتھوں اپنے حقیقی ماموں عاص بن ہشام کو جہنم رسید کرکے دنیا کو بتادیا کہ وہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن اسلام کی مخالفت اور اس کے خلاف صف آرائی ہر گز برداشت نہیں کر سکتے ہیں ،ایک مرتبہ عمرہ اداکرنے کی رسول اللہ ؐ سے آپ ؓ نے اجازت طلب کی،تو آپ ؐ اجازت کے ساتھ ایسا کلمہ ارشاد فرمایا جس کے متعلق خود فاروق اعظمؓ فرمایا کرتے تھے کہ ’’اگر اس کلمہ کے عوض ساری دنیا بھی مجھے مل جائے تو میں خوش نہیں ہوں گا،آپؐ نے اجازت دینے کے بعد ان سے فرمایا’’ یااخی اشرکنا فی دعائک ولاتنسانامن دعائک (شعب الایمان للبیہقی: ۹۰۵۹)‘‘اے میرے بھائی اپنی دعا میں ہم کو بھی شریک رکھنا بھول نہ جانا،بہت سے مواقع وحی الٰہی آپ ؓ کی رائے کے تائید میں نازل ہوئی ،مثلاً قیدیان بدر کے متعلق،منافقوں کی نماز جنازہ کے بارے میں اور شراب حرام کئے جانے کے متعلق ، فاروق اعظمؓنے ہمیشہ سادہ زندگی بسر کی ،لباس سادہ پہنتے تھے اور سادہ غذا تناول فرماتے تھے،کثرت عبادت آپ کا محبوب مشغلہ تھا،کسی کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھ لیتے تو فورا تنبیہ فرماتے تھے، رسول اللہ ؐ کی وصال کے بعد جب صدیق اکبرؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو آپؓ نے خلیفہ اول کی پوری پوری اطاعت کی ، صدیق اکبرؓ کے ساتھ نہایت ادب کا معاملہ فرمایا کرتے تھے ،ان کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے،آپؓ نے ہمیشہ ان کے دست وبازو بن کر دین اسلام کی بڑی خدمت کی۔
خلیفہ اول صدیق اکبرؓ کی وفات کے بعد آپؓ مسند خلافت پر متمکن ہوئے اور نہایت قلیل مدت میں اسلامی ریاست کو دور دور تک پھیلادیا، آپؓ کے دور خلافت میں بڑے بڑے شہر اور ممالک فتح ہوکر ا سلام کے زیر حکومت آئے ،شام ،مصر ،عراق ،آذربائیجان ،فارس اور ایران ، تاریخ نگاروں نے لکھا ہے کہ فاروق اعظم ؓنے کل دس سال چار ماہ چند دن مسند خلافت پر فائز رہے اور اتنے عرصہ میں ۲۲۵۱۰۳۰ مربع میل علاقہ پر اسلامی حکومت قائم فرمادی،اتنے بڑے علاقہ کا خلیفہ اور حکمران مگر طرز زندگی انتہائی سادہ ، اپنی رعایا کی مکمل خبر گیری فرماتے تھے ، ان کے حالات سے واقفیت کے لئے راتوں میں گشت لگایا کرتے تھے ، آپ ؓ کے دور میںعدل وانصاف وامن وامان کی حکمرانی تھی ، مظلوم کو انصاف دلانے تک آپ ؓ چین نہیں پاتے تھے ،آپ ؓ کی دور خلافت کو بطور مثال پیش کرنے پر دشمن بھی مجبور ہیں،فاروق اعظمؓ ہمیشہ یہ دعا مانگا کرتے تھے ’’اے اللہ مجھے اپنے راستہ میں شہادت عطا فرما اور اپنے رسول ؐ کے شہر میں موت عطا فرما ‘‘ چنانچہ عشق ومحبت میں ڈوب کر مانگی گئی دعا کی قبولیت کا وقت آگیا ، ایک روز آپ ؓ مسجد نبوی میں نماز فجر پڑھا رہے تھے کہ مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابولؤ لو جو نمازیوں میں شامل تھا دوہرے خنجر سے آپ ؓ پر چھ وار کئے جن میں سے ایک ناف کے نیچے لگا ،اسی وقت آپ زمین پر گر پڑے ،سیدناعبدالرحمن بن عوف ؓ نے آگے بڑھ کر مختصر نماز پڑھائی ،سب سے پہلے آپ نے پوچھا میرا قاتل کون ہے ؟ ابن عباسؓ نے فرمایا ابولؤلؤ مجوسی ہے ،یہ سن کر آپؓ نے تکبیر ایسی بلند آواز سے کہی کے باہر تک آواز گئی ،پھر فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ایک کافر کے ہاتھ مجھے جام شہادت عطافرمائی،حملہ کے پانچویں دن یکم محرم الحرم ۲۴ھ، بروز اتوار ،۶۳ سال کی عمر میں آپ نے رحلت فرمائی ،سیدنا صہیب رومی ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور روضہ نبویؐ میں اپنے حبیب ؐ اور دوسرے اپنے دوست صدیق اکبرؓکے پہلو میں مدفون ہوئے ۔
یکم محرم الحرام کو فاروق اعظمؓ نے جام شہادت نوش فرما کر امت مسلمہ ، غلامان رسولؐ اور عظمت صحابہؓ واہل بیت اطہارؓ کے گیت گانے والوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلام کی گراں قدر دولت کے حصول کے بعد دشمنوں سے ہر دم اس کی حفاظت ضروری ہے،یہ وہ سرمایہ ہے جو آدمی کو آخرت میں نجات دلاتا ہے اور اسی پر اللہ اور اس کے رسول ؐ ؐ کی خوشنودی کا مدار ہے، فاروق اعظم ؓ کی شہادت یہ پیغام دیتی ہے کہ دشمن آگے اور پیچھے سے کسی وقت بھی اور کسی بھی شکل میں حملہ کر سکتا ہے مسلمان اس کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں ، دشمنان اسلام ہر زمانے میںاسلام کو دنیا سے مٹانے اور دولت ایمان کو مسلمانوں سے چھیننے کے لئے بھر پور کوشش کر تے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ا ، دشمن کبھی تو اکیلا آئے گا تو کبھی اکٹھا ہو کر حملہ کرے گا ،کبھی مادیت کے سہارے حملہ کرے گا تو کبھی حکومت پر براجمان ہو کر ، ہر حالت میں مسلمان کو ہمت سے کام لینا ہوگا اور امید کا دامن ہاتھ سے گرنے نہ دینا ہوگا ، مکمل بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر رکھنا ہوگا اور ایک مومن کی شان یہی ہے کہ وہ مادیت اور ظاہری اسباب پر بھروسہ نہیں بلکہ ذات الٰہی پر اعتماد رکھتا ہے یقینا مومن کی زندگی وموت اور اسکا جیناومرنا سب اللہ کے لئے ہوتا ہے ،اس کی حیات الٰہی کا انعام اور اس کی شہادت تحفہ ٔ الٰہی ہے، اسلام وایمان ،الٰہی بندگی اور رسول اللہؐ کی اطاعت بہت بڑی نعمت ہے ، ایک مسلمان کو یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنا ہے کہ تیرا سر تن سے جدا ہوتا ہے تو ہونے دے مگر ایمان سلامت رہنا چاہیے ، قربانی اپنے خواہشات کو دین کے تابع کرنے اور خود کو اس پر مٹانے کا نام ہے،قربانیوں ہی سے قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے،اسلام قدم قدم پر قربانی چاہتا ہے،نفس کی قربانی ،مال کی قربانی ،وقت کی قربانی اور خواہشات کی قربانی ، اور انہیں قربانیوں سے زندگی کی دائمی مسرتیں حاصل ہوتی ہیں اور دل کی ایمانی کھیتی لہلہا اٹھتی ہے،کامیاب قوموں کی زندگی ان کی قربانیوں میں پوشیدہ ہے ،جو قوم مرنے سے ڈر تی ہے وہ مردہ کہلاتی ہے اور جو قوم جوانمردی دکھاتے ہوئے مرتی ہے وہ مرکر بھی زندہ کہلاتی ہے ، صحابہ ؓ اور خاص کر فاروق اعظمؓ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے بتادیا کہ جس سن کا آغاز شہادت سے ہو اس تقویم کو ماننی والی قوم ہر گز مایوس نہیں ہوسکتی ہے ، اگر امت مسلمہ سربلندی چاہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نظر میں سر خرو ہونا چاہتی ہے تو اسے بھی ہر طرح کی قربانیاں دیتے رہنا ہوگا اور دین پر استقامت کے ذریعہ اس کی مدد ونصرت حاصل کرنی ہوگی ، یہ بات اچھی طرح دامن سے باندھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کی عزت وسر بلندی قربانی دینے اور اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی میں ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے