ارشادِ ربانی ہے: ’’ اگر یہ لوگ اپنے عہد و پیمان کے بعد اپنی قَسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین پر طعن و تشنیع کریں تو تم کفر کے ان علمبرداروں سے جنگ کرو ، ان کی قَسموں کا کوئی اعتبار نہیں تاکہ یہ باز آجائیں ‘‘ امریکہ اور ایران کی جنگ عہد وپیمان کی داستانِ خونچکاں ہے ۔ ایسےمیں اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ عہد توڑنے کے بعد الٹا دین اسلام پر طعنہ زنی کرنے والو ں سے جنگ کی جائےتاکہ وہ ظلم کی روش چھوڑدیں ۔ امریکہ نے سب سے پہلی بدعہدی کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کے بعد ایران پر بلا جواز معاشی پابندی لگا دی ۔ اس کا خاتمہ 2015 کے ایک تاریخی معاہدے سے ہوا جس پرایران کے ساتھ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین، اور جرمنی نے دستخط کیے تھے ۔ ٹرمپ انتظامیہ نے 2018 میں اس معاہدے سے امریکہ کو الگ کرکےدوبارہ بدعہدی شروع کی مگر دوسری بار اقتدار سنبھالنے کے بعد ازخود اپریل 2025 میں ایران کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کردیا ۔ اس سے پہلے کہ کوئی امن معاہدہ ہوتا دورانِ گفتگو امریکہ نے جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کردیا ۔ یہ تیسری بدعہدی تھی۔ اس کے جواب میں ایران نے قطر میں موجود امریکی اڈے کو نشانہ بنایا ۔ اس کے دو دن بعد جنگ بندی شروع ہوئی اور بارہ دن بعد امن قائم ہوگیا ۔
امسال امریکہ کی پیشکش پر 6 تا28 فروری( 2026) کے درمیان امن مذاکرات کی تین نشستیں ہوئیں اور پھر چوتھی بدعہدی کرتے ہوئے امریکہ نے سرزمینِ اسرائیل سے اچانک حملہ کرکے رہبر معظم سید علی خامنہ ای کو اہل خانہ سمیت شہادت کےاعلیٰ مرتبے پر فائز کردیا۔ یہی ظلم عظیم کیا کم تھا کہ ایک اسکول پر بمباری کرکے ڈیڑھ سو سے زیادہ طالبات کو بھی شہید کردیا ۔ ایسی صورتحال میں جنگ نہ کی جائے تو کیا کیا جائے؟ ارشادِ قرآنی ہے:’’ کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسولؐ کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اِس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو‘‘ ایران کی جنگ اس فرمانِ ربانی کی اتباع تھی ۔ ایران کے اہل ایمان نے اپنی شجاعت و جرأت سے ثابت کردیا کہ وہ خدائے واحد القہار کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ معرکۂ حق و باطل کے نتائج کی بابت ارشادِ قرآنی ہے:’’ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا ‘‘۔
ایران اور امریکہ جنگ کے آغاز سے ٹھیک 111 دن کے بعد آج امن معاہدے پر دستخط کےساتھ وہ تمام بشارتیں بھی ایک ایک کرکے سچ ثابت ہوگئیں جن کا مندرجہ بالا آیت میں ذکر ہے۔ نصرتِ خداوندی نے بظاہر کمزور نظر آنے والی ایرانی فوج کے ذریعہ دنیا کی دو جوہری طاقتوں کو بیک وقت شکست فاش سے دوچار کردیا۔دشمنانِ اسلام کو ایسی سزا ملی کہ جو ان کے تصورِ خیال سے پرے تھی ۔ پانچ ہزار سال قبل کے زمانے میں پہنچانے کی دھمکی دینے والا فرعونِ وقت اپنوں اور پرایوں کے درمیان ذلیل ہوگیا۔ اس نے اپنی ذلت کا نزلہ اپنے ساتھی اسرائیل کو علی الاعلان رسوا کرکے اتار دیا۔ فرانس کے عالمی فورم میں ٹرمپ کہہ رہا ہے کہ اسرائیل کا وجود امریکہ کے مرہونِ منت ہے۔اس کے بروقت اقدام کی بدولت اسرائیل بہت بڑے نقصان سے بچ سکا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی مداخلت نہ ہوتی تو اسرائیل کا وجود مٹ ہوجاتا ۔ اس سے بڑی رسوائی کیا ہوسکتی ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر فون پر اپنے فیصلے تھوپ رہا ہے اور نتین یاہو کی زبان پر قفل لگا ہوا ہے۔ بنی اسرائیل کے تعلق سے جو پیشنگوئی قرآن مجید میں کی گئی ہے اس کے ایک ایک لفظ کی تعبیر و تفسیر ساری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ ارشادِ قرآنی ملاحظہ فرمائیں:
’’یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، زیادہ سے زیادہ بس کچھ ستا سکتے ہیں اگر یہ تم سے لڑیں گے تو مقابلہ میں پیٹھ دکھائیں گے، پھر ایسے بے بس ہوں گے کہ کہیں سے اِن کو مدد نہ ملے گی‘‘۔ اس بار جب ایران نے اپنی بمباری سے اسرائیل کے آہنی گنبد کو چھلنی کردیا تو امریکہ کے سوا سبھی ممالک نے اس سے منہ پھیر لیا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ خود ٹرمپ نے اسرائیل کو حملہ کرکے امن مذاکرات میں خلل ڈالنے سے روک دیا ۔ اس طرح اسرائیل یکہ و تنہا ہوکر رہ گیا ۔ آگے ارشادِ فرقانی ہے:’’ یہ جہاں بھی پائے گئے اِن پر ذلت کی مار ہی پڑی، کہیں اللہ کے ذمہ یا انسانوں کے ذمہ میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں، ان پر محتاجی و مغلوبی مسلط کر دی گئی ہے‘‘۔ اسرائیل کی ذلت و رسوائی کا سبب یوروپ و امریکہ کی پناہ کا کمزور پڑنا ہے۔ قرآن حکیم میں بنی اسرائیل کی محتاجی و مغلوبی کی یہ وجہ بتائی گئی ہے کہ :’’ اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے‘‘۔
نبیٔ آخرالزماں کے بعد پیغمبروں کو تو شہید نہیں کرسکتے اس لیے وہ کارِ رسالت کی ذمہ داری ادا کرنے والی سعید روحوں کی جان کے درپہ ہوگئے ۔ یکے بعد دیگرے اسلامی قیادت کو شہید کرکے اس کا جشن منانے والوں پر تو ذلت کی مار پڑی مگر اہل ایمان پریہ احسانِ ربانی دیکھیں کہ:’’(جنگ کے ذریعہ اللہ) بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا اور ان کے دلوں کا غم و غصہ کو نکال دے گا ۰۰۰ ‘‘۔یہ دنیا بھر کے اہل ایمان کی موجودہ قلبی کیفیت ہے ۔ ایران کے مسلمان وہ کارنامہ اس لیے انجام دے سکے کیونکہ یہ فرمانِ قرآنی ان کے پیش نظر تھا:’’ کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے ، حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو چھانٹا ہی نہیں ، جنہوں نے جہاد کیا اور اللہ ورسول اور مؤمنین کے سوا کسی کو دوست نہیں بنایا؟ ۰۰۰ ‘‘۔ اس آیت کریمہ کی روشنی میں صبر و استقامت کے ساتھ فرائض منصبی ادا کرنے والے اہل ایمان دنیا و آخرت میں سرفراز کیے جاتے ہیں۔