نہر ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) – تاریخی، جغرافیائی واقتصادی حیثیت(جنگ سے امن بحالی کے تناظر میں)

نہر ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) – تاریخی، جغرافیائی واقتصادی حیثیت(جنگ سے امن بحالی کے تناظر میں)

نہر ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) – تاریخی، جغرافیائی واقتصادی حیثیت

(جنگ سے امن بحالی کے تناظر میں)

 رفیع الدین حنیف قاسمی

استاذ حدیث وادب ادارہ کہف الایمان ٹرسٹ

بورابنڈہ ، حیدرآباد

…۔۔۔

اس وقت دنیا سخت اقتصادی حالات کا شکار ہے ، مہنگائی آسمان چھورہی ہے ، اشیاء خورد ونوش اور نقل وحرکت پر بڑا اثر ہے، ساری دنیا توانائی اور ایندھن کی قلت سے دو چار  ہے، جس نے معیشت اور اقتصادی حالات کو بے قابو کردیا ہے ، لوگ گیس کے بجائے لکڑی کے استعمال پر مجبورہوگئے ہیں۔
خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو ملانے والی پٹی جسے ”نہر ہرمز” یا ”مضیق ہرمز” ( Strait of Hormuz)کہا جاتا ہے ، یہ ایک آبی گزرگاہ ہے جو کرہ ارض کے حساس اور تزویراتی (Straregic)آبی راستوں میں سے شمار کی جاتی ہے ، حالیہ سال (28/فروری تا 18/ جون 2026)میں امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ نے اس بحری گذرگاہ کو عالمی سیاست، معیشت کا سب سے بڑا میدان کارزار بنادیا ہے ۔
نہر ہرمز کی تاریخی وجغرافیائی حیثیت
سب سے مستند اور تاریخی وجہ تسمیہ اس نہر ”ہرمز ” کا یہ ہے کہ اس ابنائے کہ دہانے پر واقع ایک اہم ایرانی جزیرے کا نام ہرمز ہے ،مسلم جغرافیہ داں یاقوت الحموی نے معجم البلدان میں علاقہ کا ذکر اسی تجارتی مرکز کی حیثیت سے کیا ہے، کچھ مورخین اس نام کا تعلق قدیم ایرانی ثقافت اور زبان سے بھی جوڑ کر بتلاتے ہیں، بعض کہتے ہیں فارسی اورزرشتی (پارسی) مراجع کے مطابق لفظ ”ہرمز” ”اہورامزدا” (Ahura Mazda)کی بدلی ہوئی شکل ہے جو قدیم فارسی میں ”عقل کل” یا ”خدا” کے لئے استعمال ہوتا ہے ، اسی طرح ساسانی سلطنت کے بعض بادشاہوں کا نام بھی ”ہرمز” تھا، جس کی وجہ سے اس خطے کا نام بھی ہرمز پڑا۔
جغرافیائی طور یہ کوئی مصنوعی نہر نہیں بلکہ ایک قدرتی آبنائے (Strait)ہے ، جس کے شمالی ساحل پر ایران اور جنوبی ساحل پر سطنت عمان اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں، اس کی چوڑائی اپنے تنگ ترین مقام پر صرف ٢١ناٹیکل میل (تقریبا : 33/کلومیٹر ہے )۔یہ سمندری راستہ اتنا گہرا ہے کہ بڑے تجارتی جہاز اس کے وسط میں ہی سفر کر سکتے ہیں یعنی بڑے آئل ٹینکر تقریبا ١٠ کلومیٹر چوڑے چینل میں ہی سفر کرسکتے ہیں، تاریخی طورہرمز صدیوں سے مشرق ومغرب کے درمیان تجارت کا محور رہی ہے ، عہد قدیم میں الیکزینڈر(سکندراعظم) کے دور سے لے کر اسلامی فتوحات تک یہ ابنائے ہرمز ہند اور چین سے آنے والے مسالوں، ریشم اور جواہرات کو بصرہ ، بغدا د اور وہاں سے یورپ  تک پہنچانے کا واحد راستہ رہی ہے ، مسلم جغرافیہ داں یاقوت الحموی نے اپنی کتاب ” معجم البلدان” میں ہرمز کو عمان اور فارس کے درمیان تجارت کا سب سے بڑا مرکز قرار دیا ہے ۔
استعماری دور (پرتگالی اوربرطانوی تسلط) کے دور میں اس کی تاریخی حیثیت نمایاں رہی ہے ، 1507ء میں پرتگالی سیاح الفونسوڈی البوکرک نے اس پر قبضہ کیا ؛ تاکہ ہند کی بحری تجارت پر قابض ہوسکے، بعد ازاں شاہ عباس صفوی نے انگریزوں (ایسٹ انڈیا کمپنی) کی مدد سے 1622ء میں پرتگالیوں کو یہاں سے نکالا، برطانوی سلطنت کے یہ ابنائے ہرمز ”شاہراہ ہند” (Route to India) کی حفاظت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی ۔
اقتصاد ی حیثیت اور عالمی معیشت پر ا س کا اثر
اقتصادی حیثیت سے بھی ابنائے ہرمز کو ”عالمی معیشت کی شہ رگ ” کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، بین الاقوامی توانائی ایجسنی (IEA)کے مطابق ، دنیا کا 20 فیصد سے زائد (تقریبا 20سے 21 ملین بیرل یومیہ) اسی ابنائے سے گذرتا ہے ۔یو ایس انرجی انفارمیشن کے مطابق2025میں تقریبا دو کروڑ بیرل تیل کی مصنوعات روزانہ ابنائے ہرہز سے گذرتی ہیں، جس کا تجارتی حجم تقریبا سالانہ چھ سو ارب ڈالر بنتا ہے ۔
اس ابنائے کی معاشی حیثیت بھی موجودہ حالات میں کلیدی رول ادا کرتی ہے ۔
1-توانائی کی ترسیل : سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران کا جو کہ خام تیل کا بڑا ذخیرہ اپنے پاس رکھتے ہیں، ان کا بیشتر تیل اسی آبی راہ سے گذر کر ایشیاء اور یورپی ممالک کو جاتا ہے ۔
اینالیٹکسفرم ورٹیکسا کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب روزانہ تقریبا 60 لاکھ بیرل خام تیل ابنائے ہرمز کے ذریعے برآمدکرتا ہے، جو کسی بھی پڑوسی ملک سے زیادہ ہے ۔
2۔ایل این جی : (LNG)پر اجارہ داری: قطر جو کہ دنیا کاسب سے بڑا مائع قدرتی گیس کا برآمد کنندہ ہے، اپنی تمام ایل این جی اسے راستی سے جاپان، جنوبی کوریا، انڈیا، پاکستان، افغانستان سمیت یوروپ کو بھیجتا ہے ، امریکی حکام کے مطابق قطر نے 2024میں نو ارب 30کروڑ مکعب گیس روزانہ کی بنیاد پربرآمد کیا ۔
3۔ایشیا کی توانائی انحصارپذیری : ہرمز سے گزرنے والے تیل کا ٧٥فیصد حصہ ایشیائی ممالک (خصوصا چین، انڈیا جاپان) خریدتے ہیں۔
4۔مشرق وسطی کھاد کی برآمدات: مشرق وسطی سے کھاد یوریا کی برآمدات کے لئے بھی ایک اہم آبی راستہ ہے جہاں قدرتی گیس کو پیداوری عمل میں بہت زیاد استعمال کیا جاتا ہے ، دنیا بھر میں کھاد کی تجارت کا تقریبا ایک تہائی حصہ عام پر ابنائے ہرمز سے گذرتا ہے ، ا س کے علاوہ ابنائے ہرمز مشرق وسطی میں خوراک ، ادویات اور تکنیلی سامان سمیت دیگر در آمدات کے لئے ایک اہم راستہ ہے ۔
موجودہ جنگی حالات اور نہر ہرمز کا رول
موجود سال 2026کی پہلی سہ ماہی عالمی تاریخ کے لئے ایک ہولناک ترین بحران کا باعث بنی ، 28/فروری 2026ء کو ایران کے خلاف فضائی مہم شروع کی گئی ، جس کو امریکہ نے ”آپریشن آف فیوری”(Operation Epic Fury)اوراسرائیل نے ” آپریشن رورنگ لائن” کا نا دیا، ان حملوں میں ایران کی فوجی تنصیبات، جوہری مراکز اور ایران کی اعلی قیادت آیة اللہ خامنی اور لاری جانی سمیت بڑے لیڈران کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
ایران نے اس کے رد عمل کے طور پر فوری جوابی کاروائی کرتے ہوئے خطے میں امریکی فوجوں اڈوں پر سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی بوچھاڑ کردی، اس کے ساتھ ایران نے اپنے سب سے بڑے ہتھیار ”نہر ہرمز کی مؤثربندش” کا روبہ عمل لایا،( اقوام متحدہ کے قوانین ممالک کو اپنی ساحلی پٹی سے 12 ناٹیکل میل ( 8.13)تک علائی سمندر کو کنٹرول کرنے اجازت دیتے ہیں اور سب سے تنگ مقام پر ابنائے ہرمز اوراسکا بحری راستہ مکمل طور پر ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہے )چنانچہ ایرانی پاسدارلان انقلاب (IRGC)نے یکم اور 2/مارچ 2026کو ہرمز کو تمام تجارتی بحری جہازوں کے لئے بند کرنے کا اعلان کردیا، ابنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی گئیں، اور کئی تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز (جیسےSkylight  اور Stena Imperative  ) پر ڈرون اور میزائیل حملے کئے، نتیجے میں انشورنس کمپنیوں نے خلیج فارس کے لئے ”وار رسک کور” ختم کردیا، جس سے عالمی جہاز رانی مکمل طور پر ٹھپ پڑ گئی۔ایرانی کاروائیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم یو اے این آئی کا کہنا ہے کہ تنازعے کے آغاز کے بعد سے دو اپریل 2026تک 24 تجارتی جہاز ایرانی حملوں کا نشانہ بنے جبکہ تین بال بال بچے، بی بی سی ویریفائی : تجزیئے کے مطابق 28/فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کی روزانہ ٹریفک تقریبا 95 فیصد کم ہوئی، اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں کا تقریبا ایک تہائی ایران سے تعلق رکھتا تھا۔
موجودہ اقتصادی بحران
موجودہ جنگ نے دنیا اقتصادی بحران کا شکار کردیا،  صرف چارہ مہینے کی اس جزوی بندش اور رکاوٹ نے دنیا میں 1970 جیسے حالات پیدا کردئے ہیں۔
1-تیل کی قیمتوں میں اضافہ : اس وقت خام تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ دیکھا گیا، کروڈآئیل کی قیمت اس وقت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے ، اور ماہرین اقتصادیات نے انتباہ دیا ہے کہ یہ کشیدگی مزید طول اختیار کرجاتی ہے تو ابنائے کی طویل بندش کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت فی بیرل 150 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے ۔
2 -یورپ کا گیس بحران: قطر سے ایل این جی کی سپلائی بند ہونے کے نتیجے میں یورپ میں گیس کی قیمتیں دگنی ہوسکتی ہیں، اس سے ہالینڈ، جرمنی اور برطانیہ کی اسٹیل اور کیمیکل کمپنیاں مفلوج ہو کر رہ گئیں ہیں ۔
3- عالمی سپلائی چین میں رکاوٹ : عالمی بحری کمپنیاں (جیسے : Maersk اور MSC) کو اپنے بحری جہاز ہرمز اور بحر احمر کے بجائے افریقہ کے اطراف ”راس امید”(Cape of Good Hope) کے طویل راستے پر بھیجنے پڑ رہے ہیں، جس میں مال برداری کی لاگت اور اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا، اور عالمی سطح پر مہنگائی (Inflation)کا طوفان کھڑا ہوگیا۔
4- بھارت اور ایشیا پر اثرات: بھارت اور ایشیا ء کے ممالک پر بھی نہر ہرمز کی بندش کی وجہ سے بڑا اقتصادی دھکا لگا، چونکہ ایشیا ء کے ممالک اپنی ضرورت کا 50 فیصد خام تیل اور 90 فیصد ایل این جی کی ضرورت اسی راستے سے پوری کرتے ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت
جس وقت بروز جمعرات 18/جون2026ھ کو احقر یہ تحریر نذر قلم کر رہا ہے ، ایک خوش آئند خبر جو کہ اس تاریخی سے قبل سے ہی گردش کر رہی تھی کہ نہر ہرمز کھل جائے گا ، جس کے لئے پڑوس ملک نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کروائی تھی، ایک فریم ورک معاہدہ (اسلام معاہدہ) طئے پاگیا ہے ، (16، 17، 18/ 2026ء) کے دروان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرنپ اور ایرانی حکام نے جنگ بندی اور نہر ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے ایک مفاہمت یاداشت پر دستخط کردئے ہیں، اس معاہد کی فیس تو فیس توثیق 19/جون ، 2026ء کو سوئزرلینڈ میں ہونے والی ہے ۔
اس معاہدہ میں چند ایک شرائط طئے پائے ہیں، ایران کو فوری طور پر تیل بیچنے کی اجازت دی جائے گی، جب کہ بدلے میں ایران اپنی جوہری پروگرام کو محدود کرے گا، اور نہر ہرمز میں جہاز رانی اور نقل وحرکت پر مکمل تحفظ فراہم کرے گا، ٹینکر ٹریکرز کے مطابق دوماہ کے تعطل کے بعد پہلی بار ایرانی خام تیل کے ٹینکرز آبنائے ہرمز سے پر امن طور پر گذرچکے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت جو کہ جنگ کے عروج کے دروان 120 ڈالر سے تجاوز کر چکے تھے ، اب سفارتی کامیابی کی امید پر78تا 82 ڈالر فی بیرل کی سطح پر واپس ہورہے ہیں۔
گذشتہ 48 گھنٹوں کے درمیان آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں واضح کمی دیکھی گئی ، امریکی اور ایرانی بحریہ کے درمیان ”ہاٹ لائن” فعال ہوچکی ہے ، تاکہ کسی بھی غلط فہمی سے بچایا جاسکے ۔
ابنائے ہرمز کی بارودی سرنگوں کو ہٹانے  کا کام بھی عمان اور بین الاقوامی بحری اداروں کی نگرانی ہنگامی بنیادوں پر جاری وساری ہے ، ٹینکر ٹریکر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز سودی عرب، عراق اور متحدہ عرب امارات کے رکے ہوئے کمرشیل جہازوں نے ابنائے ہرمز کی محفوظ بحری راستوں سے گذرنا شروع کردیا ہے ۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی وار رسک انشورنس کمپنیوں نے خلیج فارس کے لئے اپنے ”وار رسک پریمیم ” پر نظر ثانی کرنے شروع کردی ہے ، جس سے عالمی سپلائی چین پر مال برداری کے اخراجات میں بھی کمی واقع ہوسکتی ہے ۔
اگرچہ امریکہ اور اسرائل جنگ بندی کی طرف بڑھ رہی ہے ، لیکن اسرائیل کے اندرونی حلقوں میں ایران کے جوہری پروگرام کو یک طرفہ رعایتیں دینی کی بات کہی جارہی ہے ، تاہم امریکی دباؤ اور عالمی توانائی بحران کے باعث اسرائیل نے بھی فی الحال اپنی فضائی مہم (آپریشن رورونگ لائن) کو روک دیا ہے ، اور وہ جنیوا مذکرات کے نتائج کا منتظر ہے ۔
اگر کل (19/جون) سوئزرلینڈ کا اجلاس کامیاب رہتا ہے تو یہ 2026ء کے اس سب سے بڑے عالمی معاشی اور فوجی بحران کا باقاعدہ خاتمہ ثابت ہوگا، اور آبنائے ہرمز دوبارہ دنیا کے لئے کھل جائے گا، جسکے تاریخی ، اقتصادی، جغرافیائی اورسیاسی حیثیت ہمیشہ ہی ساری دنیا کے لئے ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے