سبیل الرشاد بنگلور میں حاضری
بنگلور و میسور اور اوٹی کا ١٠ روزہ سفرنامہ
ازقلم:مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی
دار العلوم سبیل الرشاد پہنچنے سے پہلے محب مکرم حضرت مولانا نعیم کوثر رشادی صاحب ناظم مدرسہ قصد السبیل محبوب نگر سے فون پر شرف ہم کلامی حاصل کی، آپ نے مختصر وقت کو قیمتی بنانے کے لئے جو مفید مشورے عنایت فرمائے ، عمل کرکے زیادہ سے زیادہ دامنِ شوق کو بھرا ، دل بے تاب کے تسکین کا سامان کیا ، جامعہ کا باب الداخلہ بڑا پرکشش ہے ، دربان نے ہمارے ڈرائیور کی رہنمائی کی ، باپ اور بیٹے نے جلدی سے وضو کرکے مسجد میں دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کی، کیا لکھوں کہ لکھنے کے لیے دریا ہے اسدریاکو بکوزہ کرنا حق تلفی ہے ، جامعہ سبیل الرشاد میں داخل ہوتے ہی اپنائیت وخلوص نے سمیٹ لیا ، عمارتوں کی تعمیر میں سلیقہ مندی بلکہ انجینئرنگ کی کاریگری کی کارفرمائی نظرآ ئی۔ وسیع و عریض علاقہ کو بڑی خوبصورتی سے بنایا نہیں بلکہ سجایا گیا ہے ، ایک مثالی جامعہ کی یہی پہچان اور شان ہونی چاہیئے ، وضو خانے اور طہارت خانے کی صفائی کا کام چل رہا تھا ، مسجد تو واقعی بڑی دلکش ہے ، سیلار اور بالائی حصہ اور لمبی لمبی صفیں حسن انتظام اور حسن اہتمام کی گواہ ہیں ، مسجد کے قبلہ رخ باب الداخلہ کے بائیں
جانب معماران سبیل آسودہ خاک ہیں ، یعنی بڑے حضرت مولانا مفتی ابو السعود صاحب علیہ الرحمہ اور ان کے پہلو میں حضرت مفتی اشرف علی باقوی صاحب علیہ الرحمہ مدفون ہیں ۔
اللہ تعالیٰ آپ کی قبروں کو باغ جنت سے راستہ بنائے ۔ آپ کے لگاے ہوئے گلشن علم کو زمانے کے سرد و گرم ہواؤں اور مسموم فضاؤں سے بچائےرکھے ۔ آپ کے چمن کے رنگ برنگ پودے آج گلشن بنے ہوئے ہیں وہ سدا آباد وہ سدا معطر رہیں ۔آپ کے زیرِ تربیت پروان چڑھنے والے پھولوں سے خدا کی کاینات مہکتی رہے ۔ حضرت مفتی اشرف علی باقوی صاحب سے الفت و محبت کی دنیا آپ کی نرم گرفتاری و سلاست وادبیت اور اعلی درجے کی مہارت وقابلیت کے راہوں سے آباد ہوئی تھی۔آپ کی زبان کی چاشنی اور حلاوت کی طراوت اج تک بھی محسوس ہوتی ہے ، واقعہ یہ ہے کہ آپ کی سادگی وسادہ لباسی اور عام پیرہن وعوامی طرززندگی نے جہاں نظر وفکر میں ہلچل مچادی تھی اور اپنا اسیر بنالیا تھا ۔ وہیں زبان پر عبور اور بات کرنے کا سلیقہ ، ادبیت میں نکھری بولی ، مرصع و موزوں کلام سن کر ششدر رہ گیا تھا، پھلجڑیاں جھڑنا سنا تو تھا لیکن آپ کو دیکھا تویقین بھی ہوگیا کہ بول دل جیت لیتے ہیں ، ٣٠ سال قبل پہلی مرتبہ جب آپ حضرت مفتی صاحب کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا تھا اور پہلی مرتبہ ہی آپ کا اسیر ہوگیا تھا اور یہ تاثر وقت کے ساتھ سفر کرکے آگے بڑھتا ہی رہا ، پہلا دیدار مادر علمی دار العلوم سبیل السلام بارکس حیدرآباد میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس میں ہوا تھا ۔اور پھر میرے فکر ونظر کے معمار , میرے دیار عشق و محبت ندوۃ العلماء لکھنؤ میں بار بار آپ سے شرف باریابی حاصل ہوتی رہی۔۔ لطف کی بات یہ ہے کہ آپ کی سادگی میں زبان وبیان کی شیرینی بے قابو کردیتی تھی ، خطیب ایسا کہ جیسے زبان سے پھول جھڑرہے ہوں، کلیاں پھول بن کر مہک رہی ہوں، راقم الحروف کی جوانی کا جوش ، ادب و زبان کا شوق اس پر خطیب بےمثال ، زبان ہوشمند ، ۔ اقبال دانا نے سچ کہا تھا کہ
نگاہ بلند ،سخن دل نواز ، جان پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے
،
واللہ حضرت مفتی صاحب سے جو محبت تھی اور ہے اس میں ان کے قول و فعل کی یکسانیت، ظاہر وباطن میں اخلاص ، سفید پوشاک کی طرح صاف دل ، تکلف تصنع سے کوسوں دور جیسی عظیم صفات کو دخل ہے ۔ جن حضرات و قاریین کو یہ ایک انکشاف معلوم ہو رہا ہوتو وہ ” سلسبیل ” اور حضرت مفتی صاحب کی تصانیف اور تحریروں کو اٹھا کر پڑھ لیں ، اگر آپ میں زبان وبیان کا ذوق ہے ، اگر آپ کو ادب وکلام کی پرکھ ہے تو آپ راقم الحروف کے بیان کو فروتر ہی پائیں گے جب کہ دست قدرت نے ان میں علم وعمل، صلاحیت و صالحیت، قیادت و سیادت ، جوہر شناسی وقدر دانی ، اکابر کی مرتبہ شناسی ، اصاغر کی حوصلہ افزائی جیسی بے شمار خوبیوں اور کمالات سے مالامال کرکے پیدا کیا تھا , راقم الحروف چار شخصیات کے قلم وبیان کا گرویدہ تھا ، ایک حضرت الاستاذ حضرت مولانا رضوان القاسمی صاحب ،دوسرے خانوادہ مونگیر کے باکمال حضرت مولانا ولی رحمانی مونگیری صاحب، تیسری دل آویز شخصیت میرے مرشد حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمہ، اور چوتھی پربہار و دل کش شخصیت کا نام ہے امیر شریعت کرناٹک حضرت مفتی اشرف علی باقوی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔