کیا اپوزیشن کا اتحاد بھاجپا سے مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوگا؟

کیا اپوزیشن کا اتحاد بھاجپا سے مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوگا؟

کیا اپوزیشن کا اتحاد بھاجپا سے مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوگا؟

ازقلم:عبدالعزیز

2024ء سے پہلے اپوزیشن پارٹیوں کا ’’انڈیا‘‘ اور کئی ریاستوں میں اپوزیشن پارٹیاںمضبوط اور مستحکم تھیں جس کی وجہ سے بھاجپا کو لوک سبھا کے الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے میںہر طرح کے حربے اور ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود کامیابی نہیں ملی۔وہ 240سیٹوں پر سمٹ گئی۔ اس سے اپوزیشن پارٹیوں کا حوصلہ بہت بلند ہوا اور ایسا لگا کہ بھاجپا کا زوال ہوجائے گا۔ بھاجپا ایک ریاست کے سوا ساری ریاستوں کے اسمبلی الیکشن میں ایک ایک کرکے کامیاب ہوتی گئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ الیکشن کمشنر اور سپریم کورٹ کی مدد بھاجپا کے شامل حال رہی۔ ووٹ چوری کے معاملے کو بھی اعداد و شمار کی روشنی میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھرپور طریقے سے دکھانے کی کوشش کی، مگر ووٹ چوری اور سینہ زوری کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ مغربی بنگال تو آخری قلعہ تھا جس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ممتا بنرجی غیر معمولی لڑاکو ہیں وہ بھاجپا کو مغربی بنگال میں قدم جمانے نہیں دیں گی، لیکن بھاجپا کے دو لیڈران مودی اور شاہ گزشتہ پانچ سال سے مغربی بنگال پر نظر جمائے ہوئے تھے اور ایسی حکمت عملی اپنا رہے تھے کہ ممتا بنرجی کو خبرتک نہیں ہوئی۔ ان کا بنایا ہوا قلعہ بھی نہ صرف مسمار ہوگیا بلکہ ان کی ترنمول کانگریس پارٹی بھی تاش کے پتوں کی طرح بکھرگئی۔
ممتا بنرجی کی پارٹی میں زیادہ تر لوگ مادی فائدے اور لوٹ کھسوٹ کے لئے شامل تھے۔ آہستہ آہستہ ترنمول کانگریس لٹیروں کی پارٹی ہوگئی۔ ایسا نہیں تھا کہ پارٹی کی مکھیا ممتا بنرجی پارٹی کے لٹیروں سے بے خبر تھیں بلکہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ممتا بنرجی کی حکمرانی قانون کی حکمرانی نہیں تھی بلکہ وہ غنڈوں کے ذریعے حکمرانی کر رہی تھیں۔ پولس بے دست و پا تھی۔ خاکسار نے کئی مضامین میں اس کا ذکر تفصیل سے کیا ہے کہ کس طرح ممتا بنرجی چار پانچ افراد پر مشتمل چنڈال چوکڑی سے گھری ہوئی تھیں۔
ممتا بنرجی نے اپنے آمرانہ مزاج کی وجہ سے نہ صرف اپنی پارٹی کو کمزور کرتی رہیں بلکہ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کو بھی کمزور کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اروند کجریوال اور ممتا بنرجی نظریاتی لڑائی کے بجائے ’نرم ہندوتو‘ کی پالیسی پر عمل کرتے رہے۔ دونوں لیڈروں کی پارٹیوں کا حال فی الحال یکساں ہے۔ اروند کجریوال کی پارٹی بھی بکھرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ممتا بنرجی کی پارٹی کا حال بھی برا ہے۔ دونوں اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط بنانے کے بجائے کمزور کرتے رہے۔ اروند کجریوال اور ممتا بنرجی نے نتیش کمار کو ’انڈیا اتحاد‘ کا کنوینر بننے نہیں دیا جس کی وجہ سے وہ ناراض ہوکر ’این ڈی اے‘ میں دوبارہ شامل ہوگئے۔ اگر نتیش کمار انڈیا اتحاد کے کنوینر ہوتے تو بھاجپا کو لوک سبھا میں 200 سے بھی کم سیٹیں حاصل ہوتیں اور بہار بھی اپوزیشن اتحاد (مہا گٹھ بندھن) کے ہاتھ میں ہوتا۔
گزشتہ روز (8جون) دو سال بعد ’انڈیا اتحاد‘ کی پہلی میٹنگ دہلی میں منعقد ہوئی۔ اتحاد کو کمزور کرنے کے لئے دہلی میں بھاجپا نے دو کام کئے۔ ایک کام تو یہ کیا کہ ترنمول کانگریس کے 15ممبران پارلیمنٹ کو این ڈی اے کا حامی بنالیا۔ مرکزی حکومت کے ایک وزیر اوپیندر یادو کی رہائش گاہ پر ترنمول کانگریس کے لوک سبھا کے ممبروں کی میٹنگ کی تصویر بھی گودی میڈیا اور سوشل میڈیا پر دکھائی گئی تاکہ ممتا بنرجی اور انڈیا اتحاد کا حوصلہ پست ہو۔ دوسرا کام بھاجپا نے یہ کیا کہ سب سے پوش علاقے میں کئی بڑے بڑے پوسٹرز دیواروں پر چسپاں کئے جس میں ماضی میں انڈیا اتحاد کے اپوزیشن لیڈروں کے اقوال درج تھے۔ اس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ’انڈیا اتحاد‘ میں راہل گاندھی غیر مقبول ہیں۔ بھاجپا اگر کسی پارٹی اور لیڈر سے خائف ہے تو وہ پارٹی کانگریس ہے اور وہ لیڈر راہل گاندھی ہیں۔ راہل گاندھی بھاجپا اور آر ایس ایس سے نظریاتی طور پر پوری قوت اور صلاحیت سے لڑ رہے ہیں۔ ان کی مقبولیت بھی عوام و خواص میں روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ اس کے برعکس نریندر مودی کی مقبولیت میں کمی ہوتی جارہی ہے۔ ان کا ’وِشو گرو‘ بننا بھی ایک خواب تھا جو چکناچور ہوگیا۔
انڈیا اتحاد کے مضبوط ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہر ریاستی پارٹی کانگریس اور راہل گاندھی کی قیادت کو خوش دلی کے ساتھ تسلیم کرلے۔ گزشتہ روز اتحاد کی میٹنگ میں جو قراردادیں منظور کی گئیں اس سے کوئی خاص بات سامنے نہیں آئی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اتحاد کے سارے ارکان راہل گاندھی یا ملکارجن کھرگے کو انڈیا اتحاد کا کنوینر بنانے پر رضامند ہوجاتے۔ اس سے یہ ہوتا کہ نریندر مودی کے مقابل 2029ء میں ایک لیڈر نظر آئے گا۔ راہل گاندھی کی قیادت تسلیم کرلیتے تو زیادہ بہتر ہوتا لیکن اگر ان کی قیادت میں کسی پارٹی کو قباحت ہے تو ملکارجن کھرگے کو کنوینر تسلیم کرنے میں کیا قباحت ہوسکتی ہے۔ وہ دلتوں کے سب سے بزرگ لیڈر ہیں۔ ملک کی اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی (کانگریس) کے صدر ہیں۔ امید یہ ہے کہ دو مہینے بعد ’انڈیا اتحاد‘ کی جو میٹنگ حیدرآباد میں ہوگی وہاں انڈیا اتحاد کسی بڑے فیصلے پر متفق ہوجائے گا۔
نیٹ پیپر لیک اور دیگر امتحانات کے پیپر لیک بہت بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ملک کے نوجوانوں میں زبردست غم و غصے کی لہر پائی جارہی ہے جس کا مظاہرہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی طرف سے جنترمنتر پر 6جون کو بڑے پیمانے پر ہوا۔ اپوزیشن کی ایک نئی پارٹی بھی سامنے آئی ہے جو نوجوانوں کی پارٹی ہے، انڈیا اتحاد کو نوجوانوں کی اس پارٹی کا بھی خوش دلی کے ساتھ خیرمقدم کرنا چاہئے۔ نوجوانوں کی اس پارٹی کے سلسلے میں بہتوں کو شک و شبہ ہے کہ حکمراں جماعت اس پارٹی کے ساتھ معاندانہ سلوک کے بجائے ہمدردانہ سلوک کرتی نظر آرہی ہے۔ آسانی سے پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے کو ہوائی اڈہ سے باہر آنے دینا اور بغیر کسی چوں و چرا کے پولس کی طرف سے جنتر منتر میں احتجاجی مظاہرے کی اجازت دے دینا یقینا تعجب خیز ہے لیکن زیادہ شک و شبہ کرنا یا زیادہ گمان سے کام لینا زیادہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ حکمراں جماعت مغالطے میں بھی رہی ہو کہ زیادہ بھیڑ جنتر منتر میں جمع نہیں ہوگی، لہٰذا کاکروچ جنتا پارٹی کو مظاہرہ کرنے دیا جائے۔
دیکھنا یہ چاہئے کہ جنترمنتر میں جو احتجاجی مظاہرہ ہوا وہاں کس قسم کی باتیں ہوئیں۔ وہاں زیادہ تر وزیر تعلیم استعفے پر زور دیا گیا۔ ابھجیت دیپکے ہی نہیں بلکہ مظاہرے کے شرکاء کی بڑی تعداد یہ نعرہ بھی بلند کر رہی تھی کہ ’ہندو مسلم کی سیاست بندو کرو، ہم نہیں ڈریں گے، ہم نہیں ڈریںگے‘۔سونم وانگچوک کی تقریر بھی قابل قدر تھی۔ ان کا یہ پہلے سے اعلان تھا کہ ابھجیت دیپکے کو گرفتار کیا گیا تو وہ 40دنوں تک دھرنے پر بیٹھیں گے۔ مظاہرہ ختم ہونے سے پہلے مرکزی حکومت کو سات دنوں کا الٹی میٹم دیا گیا ہے کہ اگر وزیر تعلیم کا استعفیٰ نہیں ہوا تو پھر پورے ملک میں ہلّا بول مظاہرہ ہوگا۔ کانگریس کے نوجوان پہلے ہی سے مہنگائی، بے روزگاری اور پیپر لیک کے موضوعات پر مظاہرے کر رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ہر قسم کی رکاوٹیں بھی درپیش ہیں، پھر بھی کانگریس کے نوجوان اس مہم میں سرگرم عمل ہیں۔
نوجوان خواہ کاکروچ جنتا پارٹی کے ہوں یا کانگریس کے ہوں ان کا میدان میں آنا اور مزاحمت کے باوجود چلچلاتی دھوپ اور گرمی میں احتجاج کرنا قابل قدر ہے۔ نوجوانوں کو بڑی تعداد میں ہر ایک مظاہرہ میں شرکت کرنا چاہئے۔ بایاں بازو کے نوجوان بڑی تعداد میں جنتر منتر کے مظاہرے میں نظر آئے۔ حالانکہ انھوں نے کاکروچ جنتا پارٹی جوائن نہیں کیا۔ کسی پارٹی کو جوائن کرنا نہ کرنا الگ بات ہے لیکن مظاہرے سے الگ تھلگ رہنا کسی طرح بھی اچھی بات نہیں ہے۔ نوجوانوں کے ذریعے ہی انقلاب برپا ہوتا ہے۔ جس طرح سخت ترین گرمی میں جنترمنتر میں مظاہرہ ہوا اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے اور اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے فراخ دلی کے ساتھ حمایت ہونی چاہئے تاکہ کاکروچ جنتا پارٹی بھی انڈیا اتحاد کو تقویت دینے میں کسی تحفظ کا معاملہ نہ کرے بلکہ کھلے دل سے انڈیا اتحاد کا ساتھ دے تاکہ 2029ء کے جنرل الیکشن میں نوجوانوں کا اتحاد بھی انڈیا اتحاد کے لئے تقویت کا باعث ہو۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے