جئے پور کی انہدامی کارروائی اور میڈیا کا رویہ

جئے پور کی انہدامی کارروائی اور میڈیا کا رویہ

جئے پور کی انہدامی کارروائی اور میڈیا کا رویہ

✍️افتخاراحمدقادری

جمہوریت میں میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ واقعات کو حقائق کے مطابق عوام کے سامنے پیش کرے، تمام پہلوؤں کو اجاگر کرے اور عوام کو ایسا متوازن شعور فراہم کرے جس کی بنیاد پر وہ درست رائے قائم کر سکیں لیکن جب خبر کے انتخاب میں توازن ختم ہو جائے، حقیقت کا ایک حصہ نمایاں کر دیا جائے اور دوسرا حصہ پس منظر میں دھکیل دیا جائے تب خبر خبر نہیں رہتی بلکہ ایک مخصوص بیانیہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں صرف واقعہ اہم نہیں ہوتا بلکہ اس سے زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ واقعے کو کس زاویے سے پیش کیا جا رہا ہے۔ جئے پور میں حالیہ دنوں سڑک چوڑی کرنے کی ایک کارروائی کے دوران تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے علاقے میں متعدد تعمیرات کو منہدم کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں مسلمانوں کی ایک مسجد موجود تھی جبکہ تین مندر بھی اسی زمرے میں آتے تھے اور باقی متاثر ہونے والی بیشتر املاک ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھیں لیکن جب اس کارروائی کی خبریں قومی سطح پر گردش کرنے لگیں تو ایک دلچسپ صورت حال سامنے آئی۔ متعدد ذرائع ابلاغ نے پوری کارروائی کے بجائے صرف مسجد کے انہدام کو نمایاں کیا یوں ایسا تاثر پیدا ہوا گویا کارروائی کا واحد نشانہ مسجد ہی تھی۔
اس معاملے کا جائزہ لیتے وقت ضروری ہے کہ جذبات کے بجائے حقیقت کی بنیاد پر گفتگو کی جائے۔ اگر واقعی کسی کارروائی میں مذہبی مقامات، مکانات اور دکانیں سبھی متاثر ہوئے ہوں تو خبر میں تمام حقائق کا ذکر ہونا چاہیے۔ اگر ایک مسجد منہدم ہوئی تو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ تین مندر بھی کارروائی کی زد میں آئے اور اگر متعدد مکانات متاثر ہوئے تو ان کا ذکر بھی خبر کا حصہ ہونا چاہیے۔ خبر کا تقاضا یہی ہے کہ پورا منظرنامہ عوام کے سامنے رکھا جائے نہ کہ صرف وہ حصہ جس سے سنسنی پیدا ہوتی ہو یا جس کے ذریعے مخصوص جذبات کو ابھارا جا سکتا ہو۔
بدقسمتی سے جدید میڈیا کے ایک بڑے حصے میں سنسنی خیزی نے صحافتی اصولوں کی جگہ لے لی ہے۔ آج خبر کی اہمیت اکثر اس بات سے طے کی جاتی ہے کہ وہ کتنے لوگوں کی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں کلک، ویوز اور شیئرز نے صحافت کے مزاج کو متاثر کیا ہے۔ چنانچہ ایسی سرخیاں زیادہ مقبول سمجھی جاتی ہیں جو جذبات کو بھڑکائیں، لوگوں کو حیران کریں یا معاشرے میں بحث و تنازع پیدا کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات پورے واقعے کے بجائے صرف ایک پہلو کو نمایاں کر دیا جاتا ہے۔ اس طرز عمل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ ایک طبقہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ صرف اس کی مذہبی یا سماجی شناخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اس خبر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے۔ نتیجتاً اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور عوام کی توجہ حقیقت کے بجائے جذباتی بحثوں میں الجھ جاتی ہے۔ جئے پور کی اس کارروائی کے حوالے سے بھی ضروری ہے کہ یہ پوچھا جائے کہ آیا انہدامی کارروائی قانونی بنیادوں پر کی گئی تھی یا نہیں؟ کیا متاثرہ افراد کو پہلے سے نوٹس دیا گیا تھا؟ کیا متبادل انتظامات کیے گئے تھے اور کیا شہری منصوبہ بندی کے تقاضے پورے کیے گئے تھے؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں زیر بحث آنے چاہییں۔ لیکن اگر تمام گفتگو صرف اس بات پر مرکوز ہو جائے کہ مسجد منہدم ہوئی یا مندر تو پھر اصل شہری اور انتظامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
میڈیا کا کردار صرف واقعات بیان کرنا نہیں بلکہ ان کی درست تفہیم بھی فراہم کرنا ہے۔ اگر کسی علاقے میں سڑک کی توسیع کے لیے کارروائی ہوتی ہے اور اس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی املاک متاثر ہوتی ہیں تو خبر کو اسی جامع تناظر میں پیش کیا جانا چاہیے۔ کسی ایک پہلو کو نمایاں کر کے باقی حقائق کو نظر انداز کرنا صحافتی دیانت کے اصولوں سے ہم آہنگ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہندوستان ایک کثیر مذہبی، ثقافتی اور متنوع سماج ہے۔ یہاں ہر خبر کے سماجی اثرات ہوتے ہیں۔ میڈیا کی ایک سرخی لاکھوں لوگوں کی رائے کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایسے میں ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اگر کسی واقعے کو مکمل پس منظر کے ساتھ پیش کیا جائے تو عوام بہتر انداز میں صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں لیکن اگر ادھوری تصویر دکھائی جائے تو شکوک و شبہات اور بداعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ آج عام شہری کے پاس معلومات کے متعدد ذرائع موجود ہیں۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، آن لائن پورٹلز اور مقامی رپورٹس کے ذریعے لوگ مختلف زاویوں سے واقعات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس لیے روایتی میڈیا پر یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی ساکھ کو برقرار رکھے اور حقائق کو غیر جانبداری کے ساتھ پیش کرے۔ اگر عوام کو بار بار یہ محسوس ہونے لگے کہ انہیں مکمل حقیقت نہیں بتائی جا رہی تو ذرائع ابلاغ پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے اور جب میڈیا پر اعتماد متزلزل ہو جائے تو جمہوری مکالمہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ جئے پور کا واقعہ ایک شہر یا ایک سڑک کی توسیع کا معاملہ نہیں بلکہ یہ اس وسیع تر بحث کا حصہ ہے جو آج کے دور میں خبر اور بیانیے کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔ خبر وہ ہوتی ہے جس میں تمام حقائق شامل ہوں جبکہ بیانیہ وہ ہوتا ہے جس میں حقائق کا انتخاب مخصوص مقصد کے تحت کیا جائے۔ ایک باشعور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر خبر کو مختلف زاویوں سے دیکھے سوالات اٹھائے اور مکمل تصویر جاننے کی کوشش کرے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جذباتی ردعمل کے بجائے حقیقت پسندانہ تجزیے کو فروغ دیں۔ اگر کسی کارروائی میں مسجد متاثر ہوئی ہے تو اس کا ذکر ضرور ہونا چاہیے لیکن اگر اسی کارروائی میں مندر اور عام شہریوں کے مکانات بھی متاثر ہوئے ہیں تو ان حقائق کو بھی برابر اہمیت ملنی چاہیے۔ انصاف اور دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ کسی بھی واقعے کو اس کے مکمل تناظر کے ساتھ بیان کیا جائے۔ آج جب اطلاعات کی رفتار غیر معمولی ہو چکی ہے تب سچائی کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ معاشرے کو ایسی صحافت کی ضرورت ہے جو تقسیم کے بجائے تفہیم، اشتعال کے بجائے شعور اور ادھوری تصویروں کے بجائے مکمل حقیقت سامنے لائے۔ جئے پور کا حالیہ واقعہ بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ کسی خبر کو قبول کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں کو جاننا ضروری ہےکیونکہ حقیقت اکثر سرخیوں سے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہوتی ہے۔
پورن پور، پیلی بھیت، مغربی اترپردیش
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے