مسلم معاشرہ میں مسنون نکاح کو رواج دینا وقت کی اہم ترین ضرورت.
مسجد قبا میں مولانا حافظ طاہر قاسمی کا خطاب
شادنگر،16اکٹوبر(پریس نوٹ) مولانا حافظ طاہر قاسمی بانی و ناظم دارالعلوم سبیل الہدی و مدرسہ نسواں جامعۃ الہدی نے مسجد قبا میں نماز جمعہ سے پہلے اپنے خطاب میں کہا: سلام ایک ایسا کامل اور فطری دین ہے جو انسان کو زندگی کے ہر شعبہ میں اعتدال، سادگی اور پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ انساني معاشرہ کی تشکیل اور بقا میں ’’نکاح‘‘کو بنیادي حیثیت حاصل ہے۔ یہ نہ صرف دو افراد بل کہ دو خاندانوں کے ملنے، پاکیزہ تعلق قائم کرنے اور عفت و عصمت کی حفاظت کا ایک شرعی اور مسنون ذریعہ ہے۔ تاہم، آج کے دور میں جہاں نکاح کو آسان ہونا چاہیے تھا، وہیں غیر شرعی رسوم و رواج، دکھاوے اور اسراف (فضول خرچی) کی وجہ سے اسے ایک انتہائی مشکل اور بوجھل عمل بنا دیا گیا ہے ،
مولانا نے کہا : اسلام میں نکاح محض ایک معاہدہ یا سماجی رسم نہیں بل کہ ایک عظیم عبادت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّتِ مبارکہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نکاح میری سنت ہے، اور جو میری سنت پر عمل نہ کرے اس کا مجھ سےتعلق نہیں اسلام نے اس نکاح کو سب سے زیادہ بابرکت قرار دیا ہے جس میں بوجھ اور اخراجات کم سے کم ہوں۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمانِ گرامی ہے: سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ اور بوجھ سب سے کم ہو، نکاح انسان کی نظر اور شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے اور معاشرے کو زنا، فحاشی اور بے حیائی سے پاک رکھتا ہے مگر افسوس کہ آج کے مسلم معاشرہ میں شادی بیاہ کے موقع پر اسلامی تعلیمات کے برعکس ہندوانہ رسوم، مغرب کی تقلید اور دکھاوے کا غلبہ دکھائی دیتا ہے لاکھوں روپے صرف ہال کی بکنگ، تزئین و آرائش اور سجاوٹ پر ضائع کر دیے جاتے ہیں۔ پکوانوں کی نمائش اور طعام کو ضائع کیا جاتا ہے
، دس بارہ قسم کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں، جن میں سے آدھا کھانا ضائع ہو کر کچرے دان کی نذر ہو جاتا ہے، جب کہ دوسری طرف بے شمار غریب و نادار لوگ ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں ، لڑکے والوں کی طرف سے جہیز، نقد رقم یا گاڑی اور دیگر سامان کے مطالبہ سے لڑکی کے غریب والدین کی راتوں کی نیند حرام ہوجاتی ہے، دعوت ناموں اور دیگر رسموں پر بے جا خرچ کیا جاتا ہے، بیش قیمت رقعے، ناچ گانا، ہلدی اور مہندی کی ہنگامہ خیز اور غیر شرعی محفلیں جن میں وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہوتا ہے ، مولانا نے کہا: اسلام میں کسی بھی موقع پر حد سے تجاوز اور مال کے بے جا ضیاع کو سخت ناپسند کیا گیا ہے ، قرآن مجید میں فرمایا گیا کہ فضول خرچی نہ کرو، بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ، ایک جگہ ارشاد فرمایا : کھاؤ اور پیو اور اسراف مت کرو یعنی کھانے پینے میں حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ،
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی بندے کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹ سکتے جب تک کہ اس سے مال کے بارے میں یہ سوال نہ کر لیا جائے کہ "کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ شادیوں میں اسراف اور نمائش کے معاشرہ پر نہایت مہلک اثرات مرتب ہو رہے ہیں ، غریب اور متوسط خاندانوں پر نکاح کرنا بوجھ ہورہاہے امیروں کی دیکھا دیکھی غریب اور متوسط طبقہ بھی قرض لے کر شادیاں کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور زندگی بھر مقروض رہتا ہے۔ لڑکیوں کی عمریں ڈھل جا رہی ہے، جہیز اور شادی کے بھاری اخراجات نہ اٹھا پانے کی وجہ سے لاکھوں باحیا اور شریف لڑکیاں اپنے والدین کے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں۔ جب جائز نکاح کو مشکل بنا دیا جائے تو معاشرہ میں فحاشی، زنا اور دیگر اخلاقی برائیاں جنم لیتی ہیں، اور بسا اوقات غریب لڑکیاں ناامیدی میں غلط راستوں پر نکل جاتی ہیں، معاشرہ کی ان برائیوں پر قابو پانے اور انہیں ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نکاحوں کو مساجد میں سادگی کے ساتھ انجام دیا جائے، تاکہ سنت زندہ ہو اور اخراجات صفر کے برابر ہوں۔
ولیمہ بھی سنت کے مطابق سادہ ہو، جس میں غریبوں، مسکینوں اور رشتہ داروں کو بلا تفریق شامل کیا جائے، نہ کہ صرف امیروں کا جمگھٹ ہو۔علماء کرام اور معاشرہ کے ذی اثر افراد کو جہیز اور نقد مطالبے کے خلاف سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔نوجوان نسل بھی آگے آئے اور یہ عزم کرے کہ وہ بغیر کسی شرط، جہیز اور دکھاوے کے، مسنون اور سادہ طریقہ سے نکاح کریں گے۔ نکاح کو آسان بنانا اور اسے سنّتِ نبویؐ کے مطابق انجام دینا ہی تمام تر برکات کا سرچشمہ ہے۔ اگر ہم واقعی معاشرے میں خوشحالی، سکون اور برکت چاہتے ہیں تو ہمیں رسول اللّٰہﷺ، صحابہ کرامؓ اور اولیاء عظامؒ کی سادہ زندگیوں کو مشعلِ راہ بنانا ہوگا۔ دکھاوے اور اسراف کو چھوڑ کر سادگی کو اپنانے ہی میں ہماری دینی اور دنیاوی کامیابی کی ضمانت ہے۔